کینیڈا: ٹرک حملے میں چار پاکستانی نژاد افراد کے قتل کے بعد ‘اسلامو فوبیا’ موضوعِ بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس نے چار شہریوں کو ٹرک سے کچلنے والے ملزم نتھانیل ویلٹمن پر اقدامِ قتل کے چار الزامات عائد کیے ہیں۔

کینیڈین پولیس نے مقامی شہری کی جانب سے پاکستانی نژاد چار شہریوں پر ٹرک چڑھا کر قتل کرنے کے واقعے کو مذہبی منافرت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے چاروں شہریوں کو ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے قتل کیا ہے۔​ پاکستان نے کہا ہے کہ یہ واقعہ کینیڈین معاشرے کے لیے امتحان ہے۔

اتوار کی شب پیش آنے والے واقعے میں 20 سالہ نتھانیل ویلٹمن نے کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں فٹ پاتھ پر ٹرک چڑھا کر مسلم خاندان کے چار افراد کو ہلاک جب کہ ایک کو شدید زخمی کر دیا تھا۔

پولیس نے نتھانیل ویلٹمن پر قتل عمد کے چار الزامات عائد کیے ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق نتھانیل ویلٹمن لندن شہر کا ہی رہائشی ہے جس نے جان بوجھ کر رکاوٹ عبور کی اور چوراہے پر سگنل کے انتظار میں کھڑے خاندان کو اپنے ٹرک سے روند ڈالا۔

واقعے کے فوری بعد پولیس نے نتھانیل کو قریبی پارکنگ لاٹ سے گرفتار کر لیا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے میں قتل ہونے والوں میں ایک مرد اور تین خواتین شامل ہیں جن کی عمریں بالترتیب 77، 46، 44 اور 15 برس ہیں جب کہ ایک نو سال کا بچہ زخمی بھی ہوا ہے جسے تشویش ناک حالت میں اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

البتہ پولیس نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔

واقعے کی رپورٹ میں پولیس نے کہا ہے کہ ویلٹمن ہلاک ہونے والوں کے ناموں سے نا واقف تھا لیکن ملزم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے متاثرہ خاندان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا تھا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ پال ویٹ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ملزم کا منافرت میں یقین رکھنے والے کسی گروہ سے کوئی تعلق ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ وفاقی پولیس اور قانون کے نفاذ پر مامور محکمہ ان الزامات کی چھان بین کریں گے کہ آیا ملزم کا کسی دہشت گرد گروپ سے تو کوئی تعلق نہیں۔

اخباری نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پال ویٹ نے نفرت پر مبنی الزام کے حوالے سے کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے منگل کو اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کی لندن شہر کے حکام سے فون پر بات ہوئی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ہم اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم متاثرہ افراد کا غم بانٹنے کے لیے موجود ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں جسٹس ٹروڈو نے کہا کہ “لندن اور ملک بھر میں رہنے والی مسلمان برادری کو گوش گزار کردوں کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری کمیونٹیز میں اسلامو فوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ نفرت کا یہ واقعہ داخلی نوعیت کا اور حقیر قسم کا معاملہ ہے اور اسے لازمی طور پر روکا جائے۔”

‘واقعہ کینیڈین معاشرے کا امتحان ہے’

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ متاثرہ فیملی المناک سانحے کے باعث کرب کا شکار ہے جس کے ساتھ پہلا رابطہ ٹورانٹو میں ہمارے قونصل جنرل کا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو میتیں پاکستان بھجوانے کی پیشکش کی تھی لیکن وہ وہیں تدفین کے خواہش مند ہیں۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تین بے گناہ، بے قصور نسلیں اس واقعے سے متاثر ہوئی ہیں جب کہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس واقعے میں اسلاموفوبیا کا عنصر بھی موجود ہے۔

شاہ محمود قریشی کے بقول “میرے نزدیک یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، میں بطور وزیرِ خارجہ کینیڈین وزیرِ اعظم سے کہوں گا کہ یہ ان کے معاشرے کا امتحان ہے۔ وہ کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

‘وقت آگیا کہ لوگ اسلامو فوبیا کے رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں’

اتوار کو ہلاک ہونے والے چاروں پاکستانی نژاد کینیڈین شہریوں کے لواحقین کی جانب سے جاری ایک بیان میں ہلاک افراد کے نام درج ہیں۔ 46 برس کے سلمان افضل، ان کی 44 سالہ اہلیہ مدیحہ، 15 برس کی بیٹی یمنہ اور 74 برس کی دادی (جن کا نام نہیں بتایا گیا) شامل ہیں جب کہ اسپتال میں زیرِ علاج بچے کا نام فیاض بتایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سبھی ہمسایے سلمان خاندان کو جانتے تھے۔ وہ مسلمان، کینیڈین اور پاکستانی تھے۔ ان کا تعلق مختلف پیشوں سے تھا اور انہوں نے محنت سے اپنا نام کمایا تھا۔

بیان کے مطابق ”سلمان کے بچوں کا شمار اسکول کے ہونہار طلبہ میں ہوتا تھا اور وہ دین دار ہونے کی شناخت رکھتے تھے۔”

متاثرہ خاندان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ “یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے جس میں جان بوجھ کر ایک کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ لوگ نفرت اور اسلامو فوبیا کے رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔”

لندن شہر کے میئر ایڈ ہولڈر کا کہنا ہے کہ یہ ”اجتماعی قتل کا واقعہ ہے جس میں ایک مسلم خاندان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ ایک ناقابلِ بیان اور نفرت کی بنا پر سرزد ہونے والا واقعہ ہے۔

دریں اثنا شہر کے پولیس سربراہ اسٹیفن ولیمز نے کہا ہے کہ “کمیونٹی میں رواداری کا فقدان ہے۔ یہی سبب ہے کہ نفرت کی بنا پر ایسے واقعات نمودار ہونے لگے ہیں۔”

کینیڈا کو تمام مذاہب کے ماننے والے تارکینِ وطن کا خیر مقدم کرنے والا ملک خیال کیا جاتا ہے لیکن وہاں اس سے قبل بھی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کا واقعہ رپورٹ ہو چکا ہے۔

دو ہزار سترہ میں ایک فرانسیسی زبان بولنے والے دائیں بازو کے قوم پرست شخص نے کیوبک شہر کی ایک مسجد میں گھس کر فائرنگ کی تھی اور اس واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2234 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *