گھوٹکی ٹرین حادثے میں ہلاک مسافروں کی تعداد 56 ہو گئی، ٹریک جزوی بحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترجمان ریلوے اعجاز شاہ کے مطابق حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت 56 مسافر ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو افراد کی شناخت ہونا باقی ہے۔ 
لاہور — پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی اسٹیشن کے قریب پیر کی صبح پیش آنے والے ٹرین حادثے کی جگہ سے امدادی کام مکمل ہو گیا ہے جس کے بعد ریلوے ٹریک جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے۔ البتہ ٹرینوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہے۔

ترجمان ریلوے اعجاز شاہ کے مطابق حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت 56 مسافر ہلاک ہوئے ہیں جن میں نو افراد کی شناخت ہونا باقی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان ریلوے نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور اب ٹریک کو ٹھیک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کی صبح اَپ ٹریک کی بحالی کے بعد پہلی ٹرین بہاؤالدین زکریا ایکسپریس ڈہرکی سے چلا دی گئی ہے، لیکن ڈاؤن ٹریک پر کام جاری ہے جسے جلد مکمل کر کے ٹرین کا آپریشن معمول پر لایا جائے گا۔

حادثے سے متعلق تحقیقات کے حوالے سے اعجاز شاہ نے بتایا کہ وفاقی وزیرِ ریلوے اعظم خان سواتی کی زیرِ نگرانی انکوائری ہو رہی ہے جب کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ آئندہ 24 گھنٹوں میں آنے کی توقع ہے۔

ان کے بقول، چیف ایگزیکٹو آفیسر ریلوے نثار احمد میمن، فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز فرخ تیمور غلزئی اور چیئرمین ریلویز حبیب الرحمان گیلانی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرین حادثہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے اس وقت پیش آیا جب کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی دس سے زائد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ اسی دوران مخالف سمت سے آنے والی سرسید ایکسپریس ان بوگیوں سے جا ٹکرائی۔

واقعے کے بعد ریلوے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ سکھر سے ریلیف ٹرین کے جائے حادثہ پر پہنچتے ہی امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی گئی تھی جب کہ امدادی کاموں میں فوج کے اہلکاروں، ریلوے، مقامی پولیس اور ایدھی کے ساتھ مقامی انتظامیہ اور شہریوں نے بھی حصہ لیا تھا۔

ترجمان کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو گھوٹکی، پنوں عاقل، سکھر، ڈہرکی اور رحیم یار خان کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

‘پاکستان ریلوے لواحقین کو پندرہ لاکھ روپے ادا کرے گا’

ترجمان ریلوے کا اہنے بیان میں کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کو پالیسی کے مطابق 15 لاکھ روپے فی کس ادا کرے گا جب کہ زخمی ہونے والے مسافروں کو معمولی اور شدید نوعیت کے زخموں کے پیشِ نظر پچاس ہزار سے تین لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

ریلوے انتظامیہ نے متاثرین کے کوائف جمع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ترجمان ریلویز کے مطابق جلد امدادی رقوم کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے جب کہ زخمیوں کی معلومات کے لیے معلوماتی ڈیسک (انفارمیشن ڈیسک) بنایا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2274 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *