ایمانویل میکخواں: فرانس کے صدر کو سرکاری دورے پر تھپڑ مارا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

صدر میکخواں

EPA
یہ واقعہ فرانسیسی صدر کی جانب سے ہوٹل سکول کے دورے کے بعد پیش آیا

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں کو جنوب مشرقی فرانس کے سرکاری دورے پر ایک شہری کی جانب سے تھپڑ مارا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ منگل کو صدر میکخواں ویلانس شہر کے ایک علاقے میں موجود تھے جب ان کی جانب سے شہریوں کو روکنے کے لیے قائم ایک رکاوٹ کے قریب جانے پر یہ واقعہ پیش آیا۔

یہاں ایک شہری نے انھیں تھپڑ رسید کیا اور اس کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار میکخواں کو بچانے کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ یہ اہلکار فرانسیسی صدر کو وہاں سے واپس کھینچ لیتے ہیں۔

فرانس میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعے کے بعد دو شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جس وقت صدر میکخواں کو تھپڑ مارا گیا، اسی دوران ’ڈاؤن ود میکرون ازم‘ (یعنی میکخواں کا دور ختم) کا نعرہ بھی لگایا گیا تھا۔

ملک کے مختلف سیاستدانوں کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔

https://twitter.com/AlexpLille/status/1402237903376367627

فرانسیسی وزیراعظم یان كاستيكس نے واقعے کے بعد قومی اسمبلی میں بتایا کہ جہوریت کا مطلب بحث اور جائز اختلاف ہے لیکن ’اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تشدد، لفظی جارحیت یا جسمانی حملے کیے جائیں۔‘

اس تھپڑ کے بعد انتہائی بائیں بازو کے سیاسی رہنما یان لوک نے ٹویٹ میں ’صدر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار‘ کیا۔

صدر میکخواں اس وقت فرانس کے ایک سرکاری دورے پر ہیں جہاں انھوں نے اس علاقے میں ایک ہوٹل سکول کا جائزہ لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ منگل کو جاری رہے گا اور اس میں 25 سے 30 سال عمر کے لوگوں کے لیے ایک پیشہ ورانہ انسٹی ٹیوٹ کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب فرانس میں بارز اور ریستورانوں کو ان ڈور ڈائننگ کے لیے سات ماہ بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے تھے۔

فرانس میں بدھ سے رات کے کرفیو کا وقت 9 بجے سے 11 بجے تک ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19427 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp