جسمانی سزا کی ممانعت، بل منظور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکرمی! یہ جولائی کی ایک جھلساتی ہوئی سہ پہر کا ذکر ہے۔ کسی اسکول میں داخل ہوتے ہی مین گیٹ پر دو پھول جیسے بچوں کو کڑی دھوپ میں تپتے دیکھا۔ شدید دھوپ کے باعث ان کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ ان سے استفسار کیا تو بتانے لگے کہ ہمیں ہوم ورک نہ کرنے کی سزا ملی ہے۔ اسی طرح چند بچے ننگے ہاتھوں سے زمین میں گھڑے کھود رہے تھے انہیں یہ تعجب خیز سزا کلاس میں شور مچانے پر مل رہی تھی۔ مجھے اس بات پر شدید افسوس ہوا کہ ہمارے ہاں سزا سے مراد صرف جسمانی اذیت پہنچانے کو ہی کیوں لی جاتی ہے؟ حالانکہ سزا اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے۔

آپ میڈیا پر دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے اکثر سرکاری، غیر سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس میں طلبہ پر اساتذہ کے ہاتھوں تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بعض اساتذہ کی جانب سے سزا کی زیادتی کے سبب اکثر طلبا جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی بچے سزا کے خوف سے ابتدائی سطح پر ہی تعلیم کو خیرباد کر چکے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سزا کے نام پر ذہنی و جسمانی اذیت پہنچانا اور ڈنڈوں کا بے دریغ استعمال غیر اخلاقی اور غیر انسانی رویے ہیں۔ مسلسل سزا سے بچوں میں سزا کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ بچوں میں باغیانہ رجحانات جنم سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی سزا و جزا سے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تعلیمی اداروں اور کام والی جگہوں میں سزا کی ممانعت کے حوالے سے ماہ فروری میں قومی اسمبلی میں ایک بل ”علاقہ دارالحکومت اسلام آباد امتناع جسمانی سزا بل 2020“ کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ بل کا متن کچھ یوں ہے کہ بچوں کو تھپڑ مارنا، چابک، چھڑی، جوتے یا لکڑی سے پٹائی کرنا، بچے کو ٹھڈا مارنا، جھنجوڑنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا، بچوں کو تکلیف دہ حالتوں میں رکھنا، دھمکانا، خوفزدہ کرنا اہانت، الغرض کسی بھی نوعیت کی تکلیف پہنچانا سزا تصور کی گئی ہے۔ بچوں پر تشدد کے مرتکب افراد کی ملازمت میں تنزلی، معطلی اور جبری ریٹائر کیا جائے گا اور ایسے افراد مستقبل میں کسی ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے۔

اس بل کے تحت جہاں اساتذہ کو خبردار کیا گیا ہے وہیں طلبہ کو کھلی چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک بچہ روزانہ لیٹ سے آتا ہے، اکثر غیر حاضر رہتا ہے، ہوم ورک نہیں کرتا ہے، نقل مارتا ہے، ٹسٹ میں فیل ہوتا ہے، کلاس میں بدمزگی پیدا کرتا ہے یا اساتذہ سے بدتمیزی کرتا ہے تو ایسی صورت میں موجودہ قانون کے مطابق ٹیچر سزا دینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ تو آخر ٹیچر ایسا کیا کرے کہ جس سے کلاس میں موجود تمام بچے پڑھائی کی جانب راغب ہوں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا جہاں اساتذہ کو کسی بھی قسم کی سزا سے روکا گیا ہے وہیں طلبہ کو سکول کے رولز اور اساتذہ کا احترام کے حوالے سے بھی قانون بنایا جاتا۔ قانون کی پاسداری نہ کرنے والے طلبہ کو سکول سے خارج کرنے، تعلیمی اسناد کی منسوخی یا بھاری جرمانے کی ادائیگی کی بل بھی پاس کر لیتے۔ تاکہ انصاف کا میزان مساوی ہوتا مگر یہاں تو الٹا گنگا بہتی ہے۔

بچوں پر جسمانی سزا کے متعلق علامہ ابن خلدون فرماتے ہیں کہ بچے کی پہلی غلطی پر اسے سزا دینے کے بجائے نظر انداز کیا جائے، دوسری مرتبہ غلطی دہرانے پر اسے علٰیحدہ کر کے سمجھایا جائے۔ اگر بچہ اپنی غلط حرکات سے باز نہ آئے تو اسے کلاس میں سب کے سامنے تین چھڑیاں ماری جائے۔ چین، جاپان اور سنگاپور جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی مختلف سزائیں مختص کی گئی ہیں۔ اسلامی احکامات کے مطابق اگر بچہ دس سال کی عمر میں دینی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی برتے تو اسے کوڈے مارنے کی حکم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اساتذہ اور والدین کی سختی ہی بچوں کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے۔

بچوں کے لیے ایسی سزائیں دی جا سکتی ہیں جو ان کی تعلیمی کارکردگی کے لیے موثر ثابت ہوں۔ جیسے استاد کی جانب سے بچے کو شاباش کا نہ ملنا، بریک کا بند کرنا، چھٹی کے بعد روک کر ان سے اضافی کام لینا اور اسکول کے چھوٹے چھوٹے کام کرانا بھی سزا ہے۔ اسی نوعیت کی سزاؤں سے بچہ تعلیم سے اچاٹ ہونے کے بجائے حصول تعلیم کی جانب راغب ہو سکتا ہے اور انہیں مستقبل میں ذمہ دار شہری بننے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا بچوں کی مثبت کردار سازی کے لیے تعلیمی اداروں میں مار پیٹ کی بجائے مشفقانہ کلچر کو فروغ دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اقبال حسین اقبال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *