موسمی تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موسمی تبدیلی آخر ہے کیا کسے کہتے ہیں موسمی تبدیلی اور اس کے نقصانات کیا ہیں، سیدھے لفظوں میں بارشوں میں کمی زیادہ دیر تک گرمی کا رہنا مختصر سردی خشک سالی سیلاب اور اس کی وجہ کیا ہے درختوں کو کاٹنا کاربن ڈائی کی مقدار میں اضافہ میتھائن کی مقدار میں اضافہ آبی بخارات میں اضافہ بارشوں کا نا ہونا بھی شامل ہے اور اگر بارش ہونا شروع ہو تو ضرورت سے زیادہ ہو جائیں کہ جس سے تباہی ہو جائے موسمی تبدیلی کے اثرات جن ممالک پر ہوتی ہیں ان کی تعداد 196 ہے اور پاکستان کا نمبر 40 واں ہے جس پر موسمی تبدیلی کا اثر ہوا ہ.

پاکستان میں لاکھوں کسانوں کا دار و مدار بارشوں پر ہوتا ہے، ذرا غور کریں اگر یہ بارشیں نہ ہوں تو کسانوں کے علاوہ پاکستانی عوام کو کتنا نقصان ہوگا، فصلیں نہ ہونے سے خوراک میں کمی ہو سکتی ہے زمین بنجر ہو سکتی ہے ملکی اکانومی پر برا اثر پڑے گا اس موسمی تبدیلی کی حوالے سے پاکستان 40 ویں نمبر پر آنے والا ملک ہے جس میں ہر سال تقریباً 600 یا اس سے بھی زائد لوگ بری فضا میں سانس لے کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، 2017 کے اوائل میں لاہور شہر میں تقریباً دو ہفتے فوگ یعنی دھویں سے پورا شہر متاثر ہوا سارا شہر دن کے وقت بھی شامل کا منظر پیش کرتا تھا اور شہری ماسک پہننے پر مجبور ہو گئے اور لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے

شہر کی بڑی چھوٹی عمارتوں پر گرد جم گئی پورے شہر کو بہت تکلیف اٹھانا پڑی اس کے علاوہ کراچی 21 اگست 2017 کو چند گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ 50 ملی لیٹر بارش ہوئی اور 17 لوگوں نے اپنی جان گنوائی اور ٹھیک 8 دن بعد پھر بارش ہوئی اور 130 ملی لیٹر ریکارڈ کی گئی جس سے بہت تباہی ہوئی، کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں، زندگی مفلوج ہو گئی لوگوں کا لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہو گیا ہر چیز پانی کی نظر ہو گئی اور موسم کی اس تبدیلی نے چند گھنٹوں میں سارا شہر تبدیل کر دیا اور مزید 23 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اور اگر دو سال پیچھے چلے جائیں تو 2015 ء میں کراچی شہر میں شدید گرمی کی وجہ سے سینکڑوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے

پورا شہر گرمی کی لپیٹ میں تھا ہر دوسرے دن مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا اگر 2016 ء کو دیکھیں تو تھر میں خشک سالی نے انسانوں کی زندگی اجیرن بنا کر دی تھی اور بہت ساری جانوں کا ضیاع ہوا تھا اگر آپ 2010 ء کے سیلاب کی تباہی کا اندازہ لگائیں تو تقریباً دو کروڑ لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے اور یہ سیلاب پاکستان کی تاریخ کا کبھی نہ بھولنے والا سیلاب تھا جس سے جانوں کے نقصان کے علاوہ اربوں روپے کا بھی نقصان ہوا تھا اس کے علاوہ ان گنت واقعات پوری دنیا میں رونما ہو رہے ہیں

صرف بیجنگ میں لوگ دھوئیں کی وجہ سے اپنی عمر میں 5 کی کمی کروا بیٹھے ہیں، دوبئی میں تو دھواں مسلسل رہتا ہے اس کے علاوہ بنگلہ دیش انڈیا وغیرہ میں دھوئیں کی وجہ سے لاکھوں لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور اسی وجہ سے اپنی زندگیاں گنوا بیٹھتے ہیں، پاکستان میں بھی کبھی کسی نے موسمی تبدیلی پر بات نہیں کی کوئی غور و فکر نہیں کیا تھا مگر عمران خان کی حکومت نے نہ صرف پاکستان میں موسمی تبدیلی پر بات کی بلکہ دنیا کے ہر فورم پر موسمی تبدیلی کے بارے میں اپنا موقف ریکارڈ کروایا اور اس مہم کا آغاز کے پی کے سے کیا اور تقریباً 15 لاکھ پودے لگائے گئے اور انشاء اللہ 2023 ء تک 10 بلین درخت لگائے جائیں گے

عمران خان اور اس کی حکومت موسمی تبدیلی پر بہت زیادہ کام کر رہی ہے جس طرح کے پی کے میں درخت لگائے گئے ہیں اسی طرح پورے پاکستان میں لگائے جائیں گے کیونکہ یہی حل ہے موسمی تبدیلی کا اپنے محلے شہر صوبے اور ملک کو موسمی تبدیلی سے محفوظ رکھنے اور تباہی سے بچانے کے لئے ہمیں میدان عمل میں آنا ہوگا اور حکومت کے اس نیک عمل میں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، ہر پاکستانی اپنے حصے کا ایک درخت اپنا فرض سمجھ کر لگانا شروع کرے تو بہت جلد پاکستان اپنے ملک اور اپنے پاکستانیوں کو موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا سکتا ہے اور یہی اس کا واحد حل ہے۔ آئیں ہم سب مل کر حکومت کا ساتھ دیں اور اپنے حصے کا درخت لگائیں تاکہ پاکستان کو موسمی تبدیلی کے ہر خطرے سے محفوظ کیا جائے۔

اپنے حصے کا درخت لگائیں
پاکستان کو محفوظ بنائیں
پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 102 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *