نعیم الحسن ببلو۔ تم نہیں تو تمہاری یادیں ہی سہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوں جوں زندگی گزر رہی ہے، زندگی کا اہم حصہ رہنے والے پیارے رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں، ان میں عزیز ترین رشتے، دوست، پسندیدہ شخصیات وغیرہ شامل ہیں، باقی زندگی ان کی یادوں میں ہی گزرے گی، ان میں ایک شخصیت معروف گلوکار نعیم الحسن ببلو بھی ہیں جو اتوار کو ہم سب کو چھوڑ کر اللہ کو پیارے ہو گئے

نعیم الحسن ببلو خوبصورت شخصیت کے مالک تھے، ہنس مکھ، محبت کرنے والا انسان، لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا ہی اس کا مشن تھا، 90 کی دہائی میں ملتان میں قیام پذیر تھا، ایک فنکشن میں ببلو کو سنا اس کی آواز نے اسی وقت گرویدہ بنا لیا، اس دور میں پاپ میوزک نوجوانوں میں بہت مقبول تھا، کسی محفل میں ببلو آ جاتا تو وہ رنگوں سے بھر جاتی، چاروں سو خوشبوئیں پھیل جاتیں، عوام کا مطالبہ صرف ببلو کو سننے کا ہوتا تھا

نعیم الحسن ببلو نے صرف ملتان میں ہی نہیں پاکستان بھر میں نام کمایا، بھارت میں بڑے فنکاروں کے سامنے بھی پرفارم کیا، نعیم الحسن ببلو کے فن کا قدردان ملتانی دوست ناصر محمود شیخ تھا جس نے ببلو کو یورپ کے مختلف ممالک میں پرفارم کرنے کا موقع فراہم کیا، یہ ببلو کا فن ہی تھا کہ وہاں کے لوگ جب بھی ناصر محمود شیخ کو ثقافتی طائفہ لانے کی دعوت دیتے تو فرمائش کرتے کہ ببلو کو ضرور لانا ہے

صحافت میں آنے کے بعد ببلو سے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا، جہاں فنکشن ہوتا وہاں جاتے تو ببلو بہت پیار سے جھک کر سلام کرتا، گلے ملتا اور مسکرا کر کہتا بسم اللہ سائیں۔ یہ اس کی عاجزی و انکساری ہی تھی جو اللہ نے اسے بہت عزت دی، ملتان چھوڑنے کے بعد نعیم الحسن ببلو کو پی ٹی وی پر سننے کا موقع ملتا اور طویل عرصہ تک اس سے کوئی ملاقات نہ ہو سکی

دسمبر 2020 ءمیں کورونا کی شدید لہر کے دوران بہت پرانے دیرینہ دوست علی شیخ کی بیٹی کی شادی آ گئی، جانا ضروری تھا اور گیا بھی، علی شیخ ویسے بہت مذہبی ہے، نماز، قرآن، روزہ، حج، زکوٰة کا پابند ہے، کئی عمرے کرچکا ہے، مگر ہم جیسے آوارہ مزاج دوستوں کی وجہ سے بیٹی کی مہندی کی رسم کا فنکشن وسیع کر دیا اور ملتانی فنکاروں کا بلایا جن میں خوبصورت گلوکارہ نینسی انجیلینا، گلوکار حیدر و دیگر شامل تھے، مہندی پر علی کے گھر پہنچے تو جمشید رضوانی ڈرائنگ روم میں لے گیا جہاں سب فنکار موجود تھے، ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو جمشید نے فنکاروں سے تعارف کرایا، نعیم الحسن ببلو نے ماسک لگایا ہوا تھا اور بہت زیادہ کمزور ہو گیا تھا، میں پہچان نہ سکا جب جمشید نے بتایا کہ نعیم الحسن ببلو ہیں تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور سماجی فاصلے کی پابندی توڑتے ہوئے میں نے ببلو کو گلے لگا لیا، کافی دیر تک گلے لگائے رکھا، میں نے کہا آپ تو عید کا چاند ہی ہو گئے دہائیوں بعد ملاقات ہو رہی ہے تو ببلو نے بتایا کہ میں نے بھی ملتان چھوڑ دیا تھا اب واپس آیا ہوں

کافی دیر ڈرائینگ روم میں بیٹھے باتیں کرتے رہے کیونکہ فنکار نے اپنے فن کا جادو کھانے کے بعد جگانا تھا، میں نعیم الحسن ببلو کو 90 ءکی دہائی میں واپس لے گیا، پرانے فنکشنز کی یادیں تازہ کرنے لگے، ان کو ایک فنکشن یاد کرایا جو ملتان کے بابر سنیما میں زکریا یونیورسٹی کے دوستوں نے کرایا تھا جس میں نعیم الحسن ببلو نے اپنے فن کا خوب اظہار کیا کہ نوجوان ناچتے ناچتے تھک گئے

اس فنکشن کے اہم حصے کا ذکر سنایا جب زکریا یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے اپنی کی سہیلیوں کی فرمائش پر سٹیج پر آ کر اس دور کا مشہور گانا گایا ”سوچیں گے تمہیں پیار کریں کہ نہیں“ ، یہ دو گانا تھا کسی کو توقع ہی نہیں تھی کہ نعیم الحسن ببلو ڈیوایٹ کریں گے، خاتون نے گانے کا اپنا حصہ گا لیا تو نعیم الحسن ببلو جو وائر لیس مائیک لئے ہال میں سب سے اوپر بیٹھے تھے وہ مرد کے حصے والے کو گاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے، یہ سین بالکل فلمی لگ رہا تھا اور پھر محفل عروج پر پہنچ گئی تھی

یہ واقعہ سن کر نعیم الحسن ببلو بہت خوش ہوا اور کہا شاہ جی کیا یاد تازہ کرائی ہے، یہ محفل واقعی بہت خوبصورت تھی کیونکہ اس میں اکثریت یونیورسٹی نوجوانوں کی تھی، مہندی کی تقریب میں کھانے کے بعد رسمیں شروع ہو گئیں جس کی وجہ سے میوزک کا پروگرام تاخیر کا شکار ہو رہا تھا اس بوریت سے بچنے کے لئے فنکاروں سے فرمائش کی کہ تھوڑا تھوڑا کچھ سنائیں جس پر نینسی نے گانے سنائے پھر ببلو نے فرمائش کردی کہ آپ بھی کچھ سنائیں جس پر میں نے فوک گیت ”گڑ نالوں عشق مٹھا ربا لگ نہ کسے نوں جاوے“ سنایا جس پر تمام فنکار اور دوست جمشید رضوانی، طاہر ندیم اور طاہر کلاسرا کورس میں تالیاں بجاتے رہے۔

اس میں ایک مصرعہ جب گایا تو میں نے اشارہ ببلو کی طرف کیا جس پر ببلو بہت خوش ہوا اور اٹھ کر مجھے گلے لگا لیا اور شکریہ ادا کیا، مصرعہ تھا، میری پاویں جند کڈ لے میرے یار نوں مندا نہ بولی، میری پاویں جند کڈ لے۔ آخر میں ببلو نے کہا کہ یار ہم فنکار لوگوں کو انٹرٹین کرتے ہیں آج آپ نے ہم فنکاروں کا خوب انٹرٹین کیا۔ آج یقین ہی نہیں آ رہا کہ ببلو ہمیں چھوڑ گیا۔ اچھا ببلو تم نہیں تو تمہاری یادیں ہی سہی، جو ہمیشہ یاد رہیں گی، اللہ تعالی نعیم الحسن ببلو کی مغفرت کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *