ہم اور ہمارے دہرے معیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک حقیقی موٹیویشنل اسپیکر ڈی جے کیوس ماگپے کہتے ہیں کہ ”دوہرے معیار کے حامل افراد غنڈے ہیں جو ہمیشہ شکار پر رہتے ہیں۔“

دوہرے معیار کے لوگ اپنا وقار تو خراب کرتے ہی ہیں لیکن اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی اس گند میں کھیلنے کی عادت ڈال دیتے ہیں۔ اگر آپ نے پتہ کرنا ہو کہ آپ کے اردگرد کے لوگ کتنا دوہرا معیار رکھتے ہیں ہیں یا کتنے منافق ہیں تو آپ ان کو اس طریقے سے چیک کریں گے کہ آپ ان پر بھروسا کریں گے۔

دوہرے معیار کی بھی کئی قسم آ جاتی ہیں۔ ان میں کچھ کا ذکر کرو تو ایک یہ کہ جب ایک فرد کسی ایک سے بات سن کر کسی دوسرے تک پہنچاتا ہے، اسے چغلی کرنا بھی کہتے ہیں اور منافق بھی۔ دوسری یہ کہ جو اپنے کام میں دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ یہ دونوں قسمیں بہت خطرناک ہیں۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی قسمیں ہیں جن کا ذکر میں نہیں کروں گا صرف ان دو اقسام کی بنا پر ہی میں اپنی قوم کی عکاسی کروں گا۔

اپنے کردار میں دوہرا معیار رکھنے والے لوگ معاشرے میں بہت خطرناک ثابت ہوتے ہیں وہ کئی لوگوں کا گھر اجاڑ دیتے ہیں اور کئی لوگوں کا نقصان کر دیتے ہیں کئی لوگوں کے کردار کو خراب کر دیتے ہیں اور کئی لوگوں کی جان کے جانے کے ذمہ دار بھی بنتے ہیں۔

یہاں پر میں ایک فلم کا ذکر کروں گا جس کا نام (اینمی ایٹ دی گیٹس) تھا۔ اس فلم کے ایک حصے میں ایک بچے کو دکھایا جاتا ہے جس کا تعلق روس سے ہوتا ہے یہ بچہ جرمنی اور روس کے فوجیوں کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اس بچے کا نام ’ساشا‘ تھا۔ جنگ عظیم دوم میں یہ بچہ روس اور جرمنی کے فوجیوں کی مدد کرتا تھا ان کو ایک دوسرے کے ٹھکانے بتاتا تھا۔ میجر کالنگ ایک جرمن افسر تھا جو کہ سنائپر ڈویژن میں تھا۔ جنگ کی ان دنوں میں روسی سنائپر واسیلی کے چرچے تھے اور جرمن فوج میں اس کا ڈر بھی تھا۔

میجر کالنگ کو واسیلی کے قتل کا مشن ملا تھا۔ اس دوران میجر کالنگ نے ساشا کو پایا اور اس نے واسیلی کا پتا لگانے کے لیے ساشا کا خوب استعمال کیا۔ ادھر ساشا بھی میجر کالنگ کی لوکیشن ایک پولیٹیکل افسر کو بتاتا رہا جو کہ روس کا تھا۔ دونوں اطراف اس بات کا پتا لگ چکا تھا کہ ساشا دونوں ملکوں کی فوجوں کی لوکیشن بتا رہا ہے۔ بہت جتن کے بعد جب میجر کالنگ ساشا کے دوہرے معیار کی وجہ سے ناکام رہا تو اس نے ساشا کو قتل کر دیا۔

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساشا نے دوہرا معیار کیوں اپنایا کیا اسے اپنے ملک سے پیار نہیں تھا یا کوئی اور وجہ تھی؟

فلم دیکھنے کے بعد دو وجوہات کا پتا چلتا ہے ایک تو لالچ ہے اور دوسرا خوف۔ ساشا کو میجر کالنگ کا خوف بھی تھا اور دوسرے نمبر پر ساشا سے بات اگلوانے کے لیے میجر کالنگ کھانے پینے کی چیزیں اور چاکلیٹ وغیرہ دیتا تھا۔

اگر ہم اس دوہرے معیار کی قسم کو اپنے معاشرے میں دیکھیں تو یہ بہت ہی عام ہے ہمیں ہر طرف ہر گلی ہر محلے یہی چیز نظر آئے گی۔ گلی کی نکر پر بیٹھے دو یا چار فرد پورے محلے کی چغلیاں کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ خود چاہے بالکل ویلے اور نکمے ہوں لیکن ان کو پورے محلے کے ساتھ مسئلہ ہوتا ہے۔ اور گھروں میں بیٹھی عورتیں بھی پورے محلے کی ماؤں بہنوں میں نقص نکالتی ہوئی نظر آئیں گی۔

اس کے علاوہ دوسری قسم اپنے کام یا پیشے میں دوہرا معیار دکھانا ہے۔

پاکستان میں یہ والی قسم بہت ہی عام ہے۔ دفتر میں جھاڑو لگانے والے سے لے کر ملک کے وزیراعظم تک اس کا شکار ہیں۔

نجی کاروباری کاموں میں یہ دوہرا رویہ عام ہے لیکن سب سے زیادہ اس دوہرے رویے کا استعمال سرکاری دفاتر میں کیا جاتا ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ، کھادوں میں ملاوٹ، مال بیچنے میں دو نمبری اور ایسا کوئی بھی کام اور ڈھونڈ لے، آپ کو دوہرا مزاج لازماً ملے گا۔

میرا ایک بہت قریبی دوست ہے۔ ہماری آپس میں ہر قسم کے موضوع پر گفتگو ہوتی ہے۔ میں اور وہ دن رات اسی ملکی نظام کو کوستے ہیں۔ وہ اداروں کو بہت برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ ایک دن میں نے اس کے ہاتھ میں ایک رسید دیکھی جس پر اس کے والد کی کمپنی کی ٹیکس کی معلومات تھی۔ حالانکہ اس کے والد کی کوئی کمپنی نہیں ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا چکر ہے۔ تو اس نے بتایا کہ ہمیں ہر سال اچھا خاصہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک ایف۔ بی۔ آر کے بندے سے ملاقات ہوئی اور اس نے میرے والد صاحب کے نام پر ایک کمپنی رجسٹرڈ کردی اور اس طرح ہمارا ٹیکس والا کام چند ہزار میں ہو گیا۔

اب ہمیں ٹیکس بالکل تھوڑا سا دینا پڑتا ہے۔ میں بہت حیران ہوا اور میں نے جب اپنے دوست کی طرف دیکھا کہ یہ تو وہ بندہ ہے جو میرے ساتھ بیٹھ کر گلا پھاڑ پھاڑ کے انہی اداروں کو گالیاں دیتا ہے اور اب یہی بندہ انہی اداروں میں بیٹھتے منافق لوگوں کے ساتھ مل گیا ہے۔ یہ تو پھر ایک ریشنل بندہ ہے ان کا کیا جو یہ باتیں بھی نہیں کرتے۔

چنانچہ پورا ملکی نظام اور سماج دونوں ہی دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ اور وہاں خوشحالی یا ترقی کیسے آئے جہاں قدم قدم پر ایک دوسرے کے ساتھ فراڈ کیا جائے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *