بحریہ ٹاؤن کراچی کو کس نے جلایا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سالوں کے بعد سندھ ایک مرتبہ پھر پھٹ پڑا ہے۔ کل لاڑکانہ سمیت سندھ میں ملیر، رتو دیرو، میرو خان، ٹھٹھہ، گھارو، پڈعیدن، مورو، مٹھیانی، محراب پور، نوابشاہ، قاضی احمد، سکرنڈ، گمبٹ، فیض گنج، جامشورو، دادو، کڑیو گھنور، شاھپور جھانیاں، کندھ کوٹ، کنری اور دیگر شہروں میں شٹر بند ہڑتال ہے۔ ہڑتال جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین سنان قریشی کی گرفتاری اور 6 جون کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے سامنے احتجاج کرنے پر سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں پر دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے اور سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف کی جا رہی ہے۔ پورا صوبہ تتر بتر ہے پر نیشنل میڈیا ایسے ہی خاموش ہے جیسے بنگال کے آخری دنوں میں تھا۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سندھی بحریہ ٹاؤن اور دیگر میگا پراجیکٹ بنانے کے لیے سندھی گوٹھوں کو بلڈوز کرنے کے خلاف بڑے پیمانے پے احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک بات بالکل کلیئر ہونی چاہیے کہ احتجاج بحریہ ٹاؤن کے خلاف یا کسی ترقی کے خلاف نہیں بلکہ سندھ کے عوام قطعی طور پر اس کالونائیزیشن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جو صدیوں سے قائم سینکڑوں سندھی گوڻھوں کو بلڈوز کر کے بحریہ ٹاؤن اپنے مقررہ حدود کو کراس کرتا جا رہا اور اس میں آصف زرداری کی مکمل آشیرواد حاصل ہونے کی وجہ سے سندھ حکومت مع پولیس فورس اس کو مکمل سپورٹ کر رہی ہے۔

ملک ریاض۔ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور پیپلز پارٹی تو سپریم کورٹ کے ان احکامات کو بھی ہوا میں اچھال چکی ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی حد سولہ ہزار ایکڑ پر مشتمل ہو گی۔ اس وقت بحریہ ٹاؤن اس سے دو گنا زیادہ زمین پر اپنا پھیلاؤ بڑھا چکا ہے جس میں اس کو علاقے کے سردار ملک اسد کی بھی مکمل مدد حاصل ہے۔ مگر ملک ریاض شاید سندھ کا مزاج سمجھ نہ سکا۔ اس کا یہ فارمولا کہ ریٹ لگاؤ ہر کوئی بکے گا سندھ میں چل نہ سکا اس علاقے کا ایک فقیر منش ماما فیضو گبول ملک ریاض کے حلق مین کانٹا بن کے اٹک گیا۔

اس کے بعد احتجاج ہوتے رہے۔ پریس کانفرنس۔ سیمینار۔ چھوٹے چھوٹے مظاہرے۔ سیمینار ہوتے رہے مگر کسی نے نہ سنا اور نہ ہی اردو میڈیا نے کبھی خبر دی۔ آخر کار سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ، سندھ اسمبلی کے سابقہ اسپیکر اور سائیں جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ کی قیادت میں قائم سندھ ایکشن کمیٹی نے 6 جون کو بحریہ ٹاؤن کے سامنے پر امن احتجاج کی کال دی جس پر لاکھوں لوگ وہاں جمع ہوئے۔ لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جامشورو سے بحریہ ٹاؤن تک پورے موٹر وے پر صرف احتجاج کرنے والوں کی ہی گاڑیاں تھیں اور موٹر وے مکمل طور پر بند تھا جبکہ کراچی سے احتجاج میں آنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کالونائیزیشن کے خلاف سندھ بھر میں ہی نہیں پر 6 جون کو ہی نیویارک، ہیوسٹن اور لنڈن میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے

احتجاجی دھرنا موٹر وے پر تھا اور بحریہ ٹاؤن اور مظاہرین کے بیچ میں خار دار تاریں۔ کنٹینروں کی دیوار اور پولیس اور بحریہ کے ہتھیار بندوں کی دیوار تھی۔ جلسہ مکمل طور پر پرامن تھا اور جب اپنی پیک پر پہنچا تو کنٹینروں کے اس پار سے شور۔ مار دھاڑ، ہوائی فائرنگ اور پھر گیٹ کو آگ لگنے کے منظر سامنے آئے۔ جلسہ کے منتظمین لاؤڈ اسپیکر پر ان شر پسندوں سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کرتے رہے اور پولیس کو بھی بار بار کہا گیا کہ ان شر پسندوں کو گرفتار کیا جائے مگر وہ جس کام سے لائے گئے تھے ان کو سہولت کاری مہیا کی گئی اور پھر اس کو جواز بنا کر احتجاجی اسٹیج۔ عورتوں کے پنڈال اور مجمع پر آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کی بارش کی گئی۔ موبائل فون کا زمانہ ہے، ہر کسی کے ہاتھ میں کیمرہ ہے، ایسے میں کئی فوٹیجز سامنے آئی ہیں جس میں پولیس والے چہرے پر ڈھاٹا باندھے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں

حیرت کی بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگ احتجاج کرتے ہوئے کسی کو نظر نہ آئے پر بحریہ ٹاؤن کے فائیبر سے بنے گیٹ کی آگ پوری پاکستان کی میڈیا کو نظر آئی اور انھوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ لوگ دہشت گرد ہیں۔ سندھی ایک لاکھ جمع ہو کر پر امن احتجاج کریں اور احتجاج کامیاب ہوتا ہوا نظر آئے تو سازشیں کر کے اپنے فائیبر کے گیٹ کو کیمیکل سے آگ لگا کر دہشت گرد بھی ان لوگوں کو قرار دیا جائے جن کی دھرتی پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تو پھر بھی سندھ ایکشن کمیٹی کا کارنامہ اور ان کے پر امن ہونے کا ثبوت ہے کہ اس اتنے بڑے معاملے میں کوئی ایک بھی فرد جاں بحق نہ ہوا۔

یہ بھی کمال ہے کہ کہ آج ایم کیو ایم کے رہنما بحریہ ٹاؤن کے گیٹ پر پہنچ گئے اور حسب عادت سندھیوں کے خلاف پریس کانفرنس کی اور گیٹ کو جلانے کا رونا روتے رہے کہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سندھ ٹی وی کے صحافی میرجت ذوالفقار نے با آواز بلند ان کو کہا کہ آپ کی پارٹی کے رہنما تو دو سو پچاس لوگوں کو بلدیہ فیکٹری میں زندہ جلا چکے ہیں آپ کس منہ سے ایک گیٹ جلنے کی مذمت کرنے آئے۔

بہرحال وفاقی حکومت پیپلز پارٹی اور ملک ریاض کی مشترکہ قبضہ گیری اور حیدر آباد اور کراچی کے درمیان بننے والی میگا کالونائیزیشن کا نوٹس لے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کی نگرانی میں بحریہ ٹاؤن کی زمین کی حد بندی کی جائے اور بوگس الاٹمنٹ کرنے والے سرکاری افسران پر نیب کے کیسز کیے جائے۔ ملک ریاض کو سولہ ہزار ایکڑ پر لاک کیا جائے۔ جلال شاہ۔ ڈاکٹر قادر مگسی۔ کرم وسان۔ ایاز لطیف پلیجو۔ زین شاہ۔ سجاد چانڈیو۔ سنان قریشی۔ ریاض چانڈیو۔ مظہر مغل۔ خالق جونیجو۔ گل حسن کلمتی اور دیگر رہنماؤں پر قائم جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔ سندھ میں بہت غصہ پایا جا رہا ہے ایسا نہ ہو کہ غصہ کی آگ پر کوئی تیل چھڑک دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *