ایس بی جون! تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں
ایس بی جون بھی انتقال کر گئے۔ ہمارا ان سے تعارف ان کے دو گانوں کی وجہ سے تھا جن میں سے ایک تو مشہور زمانہ ”تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے“ اور دوسرا ”گوری گھونگھٹ میں شرمائے“ تھا۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ کسی نے ہزار یا دس ہزار گیت گائے ہوں تو تب ہی وہ بڑا فنکار ہوتا ہے لیکن ہمارا خیال اس سے مختلف ہے۔ اگر کسی گلوکار کا ایک ہی گانا مشہور ہو جائے لیکن وہ معیار میں بہت اچھا ہو تو وہی ایک گیت ان کی فنی عظمت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
مثلاً امریکی گلوکارہ ”ماما کاس ایلیٹ“ کا گانا ”میک یور اون کائنڈ آف میوزک“ کے بغیر ٹی وی سیریز ”لوسٹ“ شاید اتنا متاثرکن نہ ہوتی جتنا کہ اس گانے کے استعمال کی وجہ سے ہوئی۔ اسی طرح ایکس مین سیریز کی فلم ”“ ڈیز آف فیوچر پاسٹ ”میں مشہور زمانہ“ پیٹر میکسیموف ”کا سلوموشن سین“ جم کرورے ”کے گانے“ اف آئی ہیڈ ٹائم ان اے باٹل ”کے بغیر متاثر کن نہ رہتا۔ یہ دونوں گانے ویسے بھی اپنے زمانے میں بہت مقبول رہے تھے لیکن یہاں ان دونوں کے استعمال نے منظر میں وہ چاشنی پیدا کردی تھی جو ان دونوں گانوں کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔
اسی طرح ایس بی جون کا پہلا گانا ہی ان کے فن کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے کافی تھا۔
اسی طرح ”بیگم عزیز“ نامی پاکستانی گلوکارہ کے صرف دو ہی گانے دستیاب ہیں جن میں سے ایک ”شکست ساز کا نغمہ ہے التجاء میری سنو گے نہ پھر صداء میری“ اور دوسرا عبدالحمید عدم کی عزل ”اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے“ ۔ ان دونوں گانوں کے علاوہ اس گلوکارہ کا اور کوئی گانا ہمیں نہیں ملا بلکہ ان کے بارے میں کوئی اور معلومات بھی نہیں ہیں کہ وہ کون تھیں، کیسے گانا شروع کیا، کیوں گلوکاری چھوڑ دی اور اب وہ کہاں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سے بیگم عزیز کی فنی عظمت پر کوئی حرف نہیں آتا بلکہ ان کی یہ دونوں غزلیں سنتے ہوئے یہی خیال آتا ہے کاش انہوں نے مزید گایا ہوتا تو وہ گلوکاری کے فن کی کتنی ہی بلندیوں کو چھو جاتیں۔
اسی طرح نیرہ نور نے ویسے تو بہت سارے گیت گائے ہیں جیسے کہ ”تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا“ اور ”ہر چند کہ سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو“ لیکن ہمیں تو ان کا نام سنتے ہی ذہن میں ”اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے“ گونجنے لگتا ہے۔ یہ غزل پہلے بھی ہمیں بہت پسند تھی لیکن میجر عزیز بھٹی شہید پر بنائے گئے ڈرامے میں جس طرح خوبصورتی سے اس غزل کو استعمال کیا گیا ہے، اس نے اس ڈرامے کے سامعین کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ یہی غزل ہندوستانی گلوکارہ ”کویتا کرشنا مورتی“ نے بھی ایک فلم کے لیے گائی ہے لیکن وہ نیرہ نور کی آواز کا پاسنگ بھی نہیں ہے۔ ہم کویتا کی آواز کو بھی خاصا پسند کرتے ہیں لیکن وہ نیرہ نور جیسا نہیں گا سکیں۔ یقین نہ آئے تو خود یوٹیوب پر سن لیجیے۔
ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ایس بی جون صاحب نے صرف ”تو جو نہیں ہے“ گایا ہوتا تو بھی ان کے فن کی عظمت، ان کی گائیکی کی پختگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
خداوند ان کی روح کو سکون دے۔


