بیروزگاری اور سرمایہ کاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


بیروزگاری، بیروزگاری اور بیروزگاری بچپن سے یہ الفاظ سننا شروع ہوئے اور آج کے دن آ گئے مگر معاشرے میں یہ راگ الاپنے والے آج بھی موجود ہیں بلکہ تعداد میں پہلے سے بہت بڑھ گئے ہیں۔ بہت سے نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لے کر گھر بیٹھ رہتے ہیں اور وجہ یہ کہ مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہیں۔ ویسے یہ عذر بالکل درست ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 5.7 تک پہنچ چکی ہے اور آنے والے وقتوں میں شاید اس سے بھی زیادہ ہو گی۔

پاکستان میں نئی فیکٹریاں نہیں بن رہی، جب فیکٹریاں نہیں تو نئی نوکریاں کہاں سے پیدا ہوں گی؟

ایک نئی فیکٹری بننے سے ہزاروں آسامیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں مینوفیکچرنگ/پروڈکشن، پیکنگ، پرنٹنگ، اکاوئنٹس، مارکیٹنگ، پراڈکٹ ٹرانسپورٹیشن اور دیگر بہت سے ڈیپارٹمنٹس میں ورکرز سے لے کر منیجنگ ڈائریکٹر تک مختلف آسامیاں پیدا ہوتی ہیں۔

نئی فیکٹریاں کیوں نہیں تعمیر ہو رہیں؟

اگر آپ ایک طائرانہ جائزہ لیں تو آپ کو بے شمار وجوہات ملیں گی، بے شمار مسائل نظر آئیں گے مگر میں یہاں چند ایک کا ذکر کروں گا۔

سب سے پہلے تو سرمایہ کار اور کاروباری حضرات کی فیکٹری سازی میں عدم دلچسپی۔

ہمارے پاکستان میں زیادہ تر کاروباری حضرات صرف ایک بات پر دھیان دیتے ہیں کہ ان کی جیب میں کتنا پیسہ آ رہا ہے بس اس سے آگے وہ سوچتے ہی نہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے کیسے آ رہا ہے اور اس منافع کے چکر میں کہیں ملک کی درآمدات میں اضافہ تو نہیں ہو رہا۔ کیوں کہ زیادہ درآمدات کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے منفی کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے برعکس اگر پاکستان میں ایک اچھی پراڈکٹ تیار کی جائے اور بیرون ملک اس پراڈکٹ کو فروخت کیا جائے تو ان کے پراڈکٹس کی قیمت بھی مناسب ملے گی اور پاکستان کے زر مبادلہ میں اضافہ بھی یقینی ہے۔ زر مبادلہ سے ملک کو حاصل ہونے والے فائدہ کو اگر اتنی اہمیت نہ دیں پھر بھی سرمایہ کار کی جیب میں بھی بہت پیسہ جائے گا۔ اگر آپ کا معاہدہ بیرون ملک نہیں ہو پاتا تو بھی آپ پاکستان کی مارکیٹ میں اپنا پراڈکٹ بیچ کر اچھا خاصہ منافع بنا سکتے ہیں کیوں کہ پاکستان اس وقت ایک ابھرتی ہوئی صارفین کی منڈی ہے۔

آخر کیوں سرمایہ کار اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرتے بلکہ دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں؟

اسکی وجہ ہماری حکومتی پالیسیاں ہیں جہاں ہر پانچ سال بعد نئی صنعتی پالیسی نافذ ہو جاتی ہے، کیا ہم زیادہ عرصہ کے لئے کوئی جامع پالیسی تشکیل نہیں دے سکتے؟ آپ دیکھتے ہیں کہ ہر پانچ سال بعد آنے والی حکومت پچھلی حکومت کے منظور شدہ بہت سے منصوبوں کو یا تو بالکل ختم کر دیتی ہے یا ان کو اتنا طویل کر دیا جاتا ہے کہ ان کی قیمت بولی کے وقت کی قیمت سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اور پھر اسی منصوبہ کو ہم کئی گنا زیادہ سرمایہ سے مکمل کرتے ہیں۔ اور ایسا ہمارے پیارے وطن میں کئی دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے۔ ایسی منڈیوں پر سرمایہ کار کا اعتماد نہیں رہتا جہاں اسے اپنے پراجیکٹس کا بروقت مکمل ہونا مشکل نظر آئے کیوں کہ اس وجہ سے اس کی سرمایہ کاری کی رقم کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ ان کو ٹیکس میں چھوٹ دے، اور سب سے اہم کہ اس کو فیکٹری بنانے کے لئے مناسب قیمت میں اچھی زمین ملے جہاں آمد و رفت کی آسانی بھی ہو۔ سرمایہ کاروں کی ان ضروریات کو دیکھتے ہوئے ماضی میں مختلف انڈسٹریل زونز بنائے گئے ہیں۔ ان میں سر فہرست فیصل آباد اور شیخوپورہ کا انڈسٹریل زون ہیں، ان زونز میں حکومت نے سرمایہ کاروں کو ٹیکس کے حوالے سے بھی خاصی مراعات دی ہیں۔ امید ہے کہ آ نے والے وقتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور پاکستان میں صنعت کی ترقی کے لئے بہتر اقدامات اٹھائے جائے گے اور پاکستان میں بیروزگاری کی شرح کم ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زریاب بھٹی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *