یونیورسٹی کیسے برباد ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا مسافر: میں نے بیرون ممالک کئی یونیورسٹیوں میں پڑھایا ہے اور جن پاکستانی طلبا سے مجھے واسطہ پڑا ہے، انہیں میں نے محنتی اور ذہین پایا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں اتنا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود پیچھے ہیں؟

دوسرا مسافر: اس کی کئی وجوہات ہیں ؛ فنڈز کی کمی، فرسودہ کورسز، پرانا نظام جو طلبا کے صلاحیتوں کو نکھارنے کی بجائے نقصان پہنچاتا ہے، غیرمعیاری اساتذہ، پرائمری اور ہائی سکول کی رواجی تعلیم وغیرہ وغیرہ مگر ایک بڑی وجہ یونیورسٹی کے انتظامی امور پر سفارشی لوگوں کی تعیناتی ہے جن میں تعلیمی سمجھ بوجھ کی کمی ہے۔ ان افراد کا بنیادی کام تعلیمی مسائل کو حل کرنا اور نظام میں ترقی لانا ہے مگر بدقسمتی سے وہ خود سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔

پہلا مسافر: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

دوسرا مسافر: میں تمہیں اس کی ایک زندہ و جاوید مثال سناتا ہوں۔ ہوائی یونیورسٹی قائم ہوئی تو وہاں کا پہلا وائس چانسلر ایسے شخص کو لگایا گیا جس کا یونیورسٹی سے دور کا بھی تعلق نہ رہا تھا، مگر لگانے والوں نے اسے یونیورسٹی نہیں بلکہ ہوا سے واسطہ رکھنے پر لگایا تھا۔ ان کی بڑی کوالیفکیشن یہ تھی کہ ائیر مارشل کا رینک تھا اور دوسرا ایر سے تعلق یہ تھا کہ جہاز اڑاتے رہے تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ تیسرا تعلق بھی تھا کہ دماغ میں ہوا بھری تھی کہ خود کو عقل کل سمجھتے تھے اور ماتحتوں کو بے عزت کرنے کو وصف جانتے تھے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ اگر نظام عدل سے ناواقف سفارشی قاضی کسی عدالت میں لگا دیا جائے تو نظام کا کیا ہوگا، تو بس یہی حال یونیورسٹی کا ہوا۔

موصوف ریٹائر ہونے سے قبل محکمہ جنگی ہوائی کے اس ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ لگے تھے جو تعلیم کے لیے افسران کو اندرون و بیرون ملک چنتا اور بھیجتا ہے۔ انہوں نے زمینی شعبوں کے افسران کی نشستیں کم کردیں کہ انہیں تعلیم کی کیا ضرورت ہے؟ تعلیم دشمن جانے جاتے تھے۔ ہمارے ایک دوست نے جس کی نوکری افسران کے ریکارڈ کے محکمہ میں تھی، دیکھا کہ موصوف کی اپنی تعلیم بی۔ اے سیکنڈ ڈویژن تھی۔ تعلیم سے دشمنی کی وجہ شاید اپنی تعلیمی کارکردگی کا خیال بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے سابقہ ریکارڈ اور تعلق داری کی بنا پر ریٹائرمنٹ کے بعد یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر متعین ہوئے۔

پہلا مسافر: مگر میں نے سنا تھا کہ انہیں بہادری کا تمغہ ملا تھا۔

دوسرا مسافر: یہی تو مسئلہ ہے کہ یونیورسٹی چلانے کے لیے بہادری کے تمغے کی نہیں بلکہ تعلیمی تمغے والوں کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار کو جاننا چاہیے آج زمانہ سپیشلائزیشن کا ہے کہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اب ان حضرت کا ایک جنگی قسم کا قصہ بھی سن لو۔

ایک صبح میں اپنے ایک ساتھی کے پاس بیٹھا تھا جو کہ انتظامیہ میں کام کرتا تھا۔ اس کو ایک فون آیا اور گفتگو کچھ ایسی ہوئی۔

” سر، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا۔
” دیکھیے سر، مرنے والا سرکاری ملازم بھی تھا۔ ہمیں اس کا پوسٹ مارٹم کروانا پڑے گا“ ۔
فون پر دوسری طرف سے کچھ کہا گیا۔

” سر، بالکل ٹھیک ہے کہ اس کی فیملی یہ کہہ سکتی ہے کہ پوسٹ مارٹم نہ کریں۔ مگر اس کی موت کی وجہ کوئی بھی ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کے بغیر نہیں لکھے گا۔ اس کی پنشن اور واجبات اس کے بغیر ادا نہیں ہوں گے“ ۔

آگے سے لمبی بات ہوتی رہی اور وہ درمیان میں سر سر کہتا رہا۔ اس کے چہرے سے جھنجھلاہٹ ظاہر تھی مگر وہ یقیناً کسی بنا پر کال بند نہیں کر سکتا تھا۔

آگے سے لمبی بات چلتی رہی۔

اللہ اللہ کر کے کال ختم ہوئی۔ میرے سوالیہ چہرے کو دیکھ کر اس نے معاملہ کھولا۔ کل رات وائس چانسلر صاحب شکار پر گئے تھے۔ اپنے ساتھ ایک لاسکر جو کہ ان کے پرانے محکمے میں گریڈ چار کا سرکاری ملازم تھا اسے خرگوشوں وغیرہ کو جھاڑیوں سے نکالنے کے لیے ساتھ لے گئے تھے۔ اسی شکار کے درمیان ان کے بقول غلطی سے وہ ملازم گولی کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا۔ یہ کم از کم قتل خطا کا کیس تو بنتا تھا۔ صاحب اختیار نے مرنے والے کے خاندان کو پیسے اور دباو کے زیر اثر چپ کروا لیا تھا۔ اب چاہتے یہ تھے کہ پوسٹ مارٹم نہ ہو، سمجھ سکتے ہیں کہ قدرتی موت کہلوانے کی کوشش تھی۔

کوئی کیا بولتا کہ مرنے والا خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔ حضرت اپنی نوکری پر براجمان رہے اور تعلیم و اساتذہ کی بے توقیری میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔

پہلا مسافر: ایک آدمی ادارے کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے؟

دوسرا مسافر: بھائی، کسی بیوقوف کی صلاحیتوں کو کبھی کم نہ جانو اور خصوصاً ایسا بیوقوف جو متکبر بھی ہو، وہ ایسی تباہیاں لا سکتا ہے کہ دانا سوچ بھی نہیں سکتے۔ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوتا، وہ کلیدی حیثیتوں پر اپنے جیسوں کو لائے گا، ایسے جو جی حضوری پر چلیں گے کیونکہ قابلیت پر وہ ایسی نوکری نہ پاتے۔ بات سمجھانے کے لیے ایک اور قصہ سناتا ہوں۔

وائس چانسلر کے بعد انہی کے ساتھ کی پرواز کے حامل رجسٹرار کے عہدے پر لائے گئے۔ جب وجہ افتخار مشین چلانا ہو تو ایسوں کی اکثریت عموماً انسان کو سمجھنے اور خصوصاً پڑھے لکھے انسانوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں بلکہ تعلیم یافتہ کے لیے اکثر حقارت کا اظہار کرتے ہیں۔ محترم اپنے آپ کو زمانے کے مجدد جانتے تھے اور یونیورسٹی میں نئی نئی جہتیں لانے لگے۔ پڑھانے والوں پر اعتماد نہ تھا، مختلف طریقہ کار شروع کروا دیے، کاغذات کی بھرمار تھی، صبح یہ کاغذ بھریے، دوپہر کو یہ کاغذ مکمل کیجیئے۔ اجازت ناموں کی بھرمار ہو گئی۔ تعلیم روزنامچوں اور بہی کھاتوں کا شکار ہوئی اور یونیورسٹی پٹوار خانہ بن کر رہ گئی۔ یونیورسٹی سے کہیں دور کا بھی تعلق نہیں رہا تھا سو رجسٹرار کے کام کو رجسٹر کا کام سمجھا۔

ایک میرا شاگرد تھا جس نے ماسٹرز اسی یونیورسٹی سے کیا۔ اس کی پہلی پوزیشن تھی مگر اس کو گولڈ میڈل اس لیے نہ دیا گیا کہ اس کے تھیسس کے شروع ہونے کا کاغذ وقت پر نہیں جمع کروایا گیا تھا۔ طالب علم سر پیٹتا رہا کہ یہ میرا کام نہ تھا، میں تو دیے گئے تحقیق کے موضوع پر کام کرتا رہا، یہ فارم جمع کروانا میری ذمہ داری نہ تھی، مجھے کس جرم کی سزا میں گولڈ میڈل سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مگر رجسٹرار صاحب انسانوں کی مختلف نسل سے تھے، کامن سینس اور بعض مقامات پر سینس کو بھی عام انسانوں کی چیز سمجھ کر اس سے دور رہتے تھے سو بالکل نہ مانے اور اس طالب علم کو اس کے اعزاز سے محروم رکھا گیا۔

پہلا مسافر: اگر معاملات ایسے ہو گئے تھے تو کیا اساتذہ نے اس پر احتجاج نہ کیا؟

دوسرا مسافر: استادوں نے جان لیا کہ بندر کے ہاتھ آرسی ہے۔ زیادہ تر  نے چپ میں عافیت جانی مگر کچھ سر پھرے آن کھڑے ہوئے۔ ایک سرپھرا پروفیسر تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا تھا اور شخص ایسا کہ آدمی اس پر فدا ہو جائے۔ وہ ان دنوں الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے، میرا ایک اور یونیورسٹی میں ان کا ساتھ رہا تھا۔ ایک قصہ ان کا بھی سناتا ہوں۔

ایک دن ان کا فون آیا کہ اگلے ہفتے ہمارے ماسٹرز کے طالبعلموں کے تھیسز کے عنوانات کی پریزینٹیشن ہیں، قواعد کے مطابق ایک یونیورسٹی سے باہر کے پی ایچ ڈی کو بھی ان کو سننا اور اپنی رائے دینی ہوتی ہے، سو آپ اس کے لیے آئیں۔ سہ پہر کا وقت رکھا ہے کہ آپ کے اپنے کام کا حرج نہ ہو۔ میں تو ان پر پہلے ہی نثار تھا، کہا کہ آپ کا حکم ہے تو سر کے بل بھی آنا پڑا تو آؤں گا، سو اپنی رضامندی اگلے ہفتے کے لیے دے دی۔ اس دن سے ایک دن قبل ان کا فون آیا کہ کل آپ وقت پر آئیے گا اور اپنے صبر کا پیمانہ پورا بھر کر ساتھ لائیے گا۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے۔ کہنے لگے کچھ نہیں، آپ قصہ گو ہیں، آپ کے لیے قصہ حاتم طائی کے مطابق ایک قصہ تیار کیا ہے کہ آپ بھی کہہ پائیں کہ ایک دفعہ دیکھا ہے، دوسری دفعہ نہ ہی دیکھوں۔ کچھ بھی ہو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا اور بس بیٹھے رہنا ہے۔ کل ملاقات ہوتی ہے۔

عجب سوچ میں ڈال گئے۔ یا اللہ، یہ ماجرا کیا ہے؟

اگلے دن مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہیڈ آف الیکٹریکل انجینئرنگ کے دفتر میں پہنچا۔ ان کے دفتر میں ان کے ساتھ ایک سفید باریش شخص بیٹھا تھا۔ بال سلیقے سے بنے تھے، نازک فریم کی عینک جس کے اندر سے آنکھوں کی چمک نظر آتی تھی۔ تعارف کروایا کہ یہ پروفیسر اعجاز منصور قریشی ہیں، انہوں نے اپنی پہلی ڈگری کالج آف ایروناٹیکل انجینئرنگ سے ایویانکس میں حاصل کی تھی۔ پچیس سے زائد طلبا کو پی۔ ایچ۔ ڈی کروا چکے ہیں اور تین سو سے زائد تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔

ہم سے ہاتھ ملا کر کہنے لگے، آپ کا ذکر بہت سنا ہے۔ ہمارے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس موقع کی مناسبت سے لطیفے اور اشعار ہوتے ہیں۔ آپ کے ساتھ گزرے وقت کو بہت یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پروفیسر صاحب کی زرہ نوازی ہے، انہوں نے کہا ہے تو موقع کی مناسبت سے غالب کا ایک مصرع پیش کرتا ہوں ”ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے“ ۔ قریشی صاحب ہنس پڑے، کہنے لگے پہلے آپ کے متعلق سنا تھا، اب یقین بھی آ گیا۔

ہم اٹھ کر اس کمرے میں چلے گئے جہاں طالب علموں نے پریزینٹیشن دینی تھی۔ ذہن میں خیال بھی تھا کہ دیکھیے کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ اب جو اصحاب سوچ میں ہیں کہ ابھی تو طالب علم نے کام بھی شروع نہیں کیا تو تھیسس کے عنوان کے نام پر طالب علم کو کیوں پروفیسروں کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کر دینا چاہیے؟

اصل میں تحقیق کا میدان ایسا ہے کہ استاد کو بھی علم نہیں ہوتا ہے کہ معاملہ کس طرف جا نکلے، بہاو کہاں جا کر رکے گا، کدھر راستہ بدلنا پڑے، کب منزل یک دم سامنے آ جائے۔ طالب علم پر تو تحقیق کے سفر کا انحصار ہوتا ہی ہے، رہبر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ انگلی سے پکڑ کر لے جانے کا معاملہ نہیں بلکہ استاد راستے کی اجمالی نشاندہی کرتا ہے، راستے کے پیچ و خم کا بتا دیتا ہے، کہاں راہ گم کر جانے کا خطرہ ہے اس کا اشارہ دیتا ہے، مقام مقصود کے خد و خال بتا دیتا ہے۔

اب طالب علم کی عقل و زور پر ہے کہ منزل کے کس درجے تک پہنچ پاتا ہے۔ سو ماسٹرز کا تھیسز شروع کرنے سے پہلے طالب علم کو بتانا ہوتا ہے کہ اس نے موضوع سے متعلق کیا منزل چنی ہے، اس منزل تک پہنچنے کے لیے ممکن راہوں کا پتہ کرنے کی کتنی کوشش کی ہے اور ان راہوں میں سے کس راہ پر چلنے کا خیال ہے اور کیوں؟ آغاز تھیسس کے موقع پر اساتذہ طالب علم کے اس مجوزہ راہ کو جانچتے ہیں اور راہ کے خطرات اور رکاوٹوں کی پیشین گوئی کر کے بہتر تجاویز دیتے ہیں۔ مثال اس نقشے کی سی ہے جو ابھی کاغذ پر لکیروں سے بنا ہے اور بنیاد کھودنے سے قبل تجربہ کار اس نقشے پر اپنی رائے دے کر بہتری کے طرف رہنمائی کر سکتے ہیں۔

پہلا مسافر: بہت خوب، آپ نے اچھی مثال سے واضح کیا ہے۔ آگے قصہ سنائیے کہ کیا ہوا؟

دوسرا مسافر: صاحب، طالب علم روسٹرم پر آ کر ابھی اپنے نوٹس اور کاغذات سیدھا کر رہا تھا اور ہم چار اساتذہ سامنے بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک کوٹ پینٹ ٹائی لگائے بابو صاحب کمرے میں داخل ہوئے اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔

”قبلہ، آپ کون ہیں؟“ ہیڈ آف الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ نے استفسار کیا۔
جی، میں رجسٹرار آفس سے آیا ہوں۔
آپ کس لیے یہاں تشریف لائے ہیں؟
میں پریزینٹیشن کو سننے آیا ہوں۔
کیا آپ انجینیئر ہیں؟ کیا آپ کو موضوع کی کچھ سمجھ ہے؟
جی، میں نے تو بزنس سٹڈیز پڑھی ہیں۔ مجھے تو اس موضوع کا کچھ علم نہیں ہے۔
محترم، پھر آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ یو آر نوٹ ویلکم ہیئر۔
جی، مجھے تو رجسٹرار صاحب نے ڈیوٹی پر بھیجا ہے اور میں تو یہ پریزینٹیشن سن کر ہی جاؤں گا۔

جناب، آپ نے شاید میری بات سنی نہیں ہے۔ آپ کوالیفائیڈ نہیں ہیں کہ ان موضوعات کو سمجھ سکیں یا ان کے معیار پر اپنی رائے دے سکیں۔ اس کے علاوہ آپ کو الیکٹریکل انجیئنرنگ ڈیپارٹمنٹ نے بلایا بھی نہیں ہے، بلکہ آپ بن بلائے مہمان ہیں۔ نیز یہاں جو چار پی ایچ ڈی بیٹھے ہیں، انہوں نے سالہا سال پڑھایا ہے، ان کی نگرانی میں طالب علموں نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ آپ کا یہاں ہونا ان اساتذہ پر بے اعتباری کا اظہار کرتا ہے اور ہمیں یہ قابل قبول نہیں، اس لیے آپ یہاں سے تشریف لے جائیں۔ پروفیسر صاحب کے آواز میں غصہ اور جھنجھلاہٹ دونوں شامل تھے۔ مگر وہ صاحب سننے کو تیار نہ تھے۔ کہنے لگے مجھے تو رجسٹرار صاحب نے بھیجا ہے اور میں نہیں جا رہا ۔

میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ کہیں معاملہ دست و گریبان تک تو نہ جا پہنچے گا۔ ویسے ان صاحب کی پھولوں کے ڈیزائن والی ٹائی اچھی تھی۔ ایک بے کار خیال ذہن میں آ رہا تھا کہ اگر کوئی اس ٹائی کو کھینچے تو کیا پھولوں کے کانٹے ان کے گلے میں چبھ سکتے ہیں۔

پہلا مسافر: آپ مزاح کو چھوڑیے، ایسا معاملہ تو کبھی کسی یونیورسٹی میں دیکھا نہ سنا۔

دوسرا مسافر : معاملہ کافی گرم ہو گیا تھا اور مجھے اب سمجھ آ رہی تھی کہ مجھے کیوں پہلے اشارہ دیا گیا تھا۔ ہیڈ آف ڈیپاتٹمنٹ نے روسٹرم پر کھڑے طالب علم کی طرف دیکھا جو اس تمام معاملے کو حیرت و پریشانی سے دیکھ رہا تھا اور اسے کہا۔

”بیٹا، آپ کی آج کی پریزینٹیشن کینسل ہو گئی ہے۔ آپ کو اگلی تاریخ بتا دی جائے گی“ ۔
طالب علم نے اپنے کاغذ سنبھالنے میں انتہائی پھرتی دکھائی اور پلک جھپکتے کمرے سے باہر تھا۔

رجسٹرار آفس کے بابو کو پروفیسر صاحب نے کہا، ”جناب، آپ اب بے شک تشریف رکھے رکھیں، ہم چلتے ہیں“ ۔ یہ کہہ کر مجھ سے مخاطب ہوئے، آئیے آپ ہمارے ساتھ آئیں، آپ کو چائے پلاتے ہیں۔

ہم کمرے سے باہر نکل آئے۔ رجسٹرار آفس کے بابو نے کوئی چارہ نہ پاکر اپنی کرسی چھوڑی اور باہر نکل آئے۔ وہ آنکھوں سے اوجھل ہوئے ہی تھے تو وہیں آس پاس کھڑے طالب علم کو آواز لگی۔

”آ جاو میاں، اب آپ کی پریزینٹیشن سنتے ہیں“ ۔

پریزینٹیشن ہوئی۔ میں نے اور دوسرے اساتذہ نے اپنی رائے لکھ کر دی اور معاملہ وقتی طور پر اختتام پذیر ہوا۔ اگلے ہفتے علم ہوا کہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے ہیڈ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ یہ علم نہیں کہ یہ عہدہ انہوں نے چھوڑا تھا یا انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔

پہلا مسافر: اچھا، ہم نے یہ بھی سنا تھا کہ یونیورسٹی میں فنگر پرنٹ کی مشینیں لگائی گئیں اور اس بنا پر کچھ پروفیسروں کی تنخواہیں بھی روکی گئیں۔

دوسرا مسافر : قبلہ، یونیورسٹی کی معلمی آٹھ سے چار کی نوکری نہیں ہوتی، یہ بات معلموں کے ہی علم میں ہوتی ہے کوئی بابو اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ پروفیسر اعجاز قریشی، اللہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے کہ وہ کچھ عرصہ قبل انتقال کر گئے، ان کا معمول تھا کہ فجر کی نماز پڑھ کر اپنے پی ایچ ڈی طالبعلموں کا کام دیکھنا شروع کر دیتے تھے، اور ساتھ ساتھ رہنمائی کی ای میلز بھی لکھتے جاتے تھے۔ وہ دن میں آٹھ گھنٹوں سے کہیں زیادہ کام کرتے تھے بلکہ ویک اینڈ بھی ان کا تعلیم سے متعلقہ کاموں میں گزرتا تھا۔

یونیورسٹی میں ان کی تنخواہ بھی بند ہونے کی افواہ سننے میں آئی تھی کہ وہ انگوٹھے کا نشان نہیں لگاتے۔ اب وہ کیا حاضری کا نشان لگاتے کہ ان کا سارا وقت تو تحقیق اور پڑھانے میں ہی لگتا تھا۔ پچیس سے زیادہ طالب علموں کو پی۔ ایچ۔ ڈی کرانے والے محقق کو اختیار کی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش تھی، کیا کوئی بات کرے۔

سو جناب اب آپ کو سمجھ آ رہی ہوگی کہ جب کلیدی شاخوں پر نا اہل بٹھا دیے جائیں تو یونیورسٹیاں اور چمن سب اجڑتے ہیں اور یاد رکھیے گا کہ اساتذہ کی بے توقیری قوم کی تنزلی کا پیش خیمہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 60 posts and counting.See all posts by atif-mansoor

2 thoughts on “یونیورسٹی کیسے برباد ہوتی ہے؟

  • 20/06/2021 at 8:40 pm
    Permalink

    I HOPE WE DO NOT COME ACROSS SUCH PEOPLE IN OUR LIFE ANY MORE.

    Reply
  • 21/06/2021 at 12:02 am
    Permalink

    That is very sad that requirement of attendence of faculty is being questioned. Plz bear in mind, one of reasons of low quality education is that our professors dont come to classes on time or skip classes. Case in point islamic university etc. One can also name more. Plz dont malign requirements of attendence of holier than thau professors.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *