EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

مردہ احمدی بھی ناقبول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے باعث تمام اقلیتی برادری کے لیے اپنی سر زمین مزید تنگ ہوتے جا رہی ہے۔ ہندو اور کرسچن برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے ساتھ زبردستی مذہب تبدیل کر کے نکاح کرنا بہت عام ہو چکا ہے۔ مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں اقلیتیں بھی درجہ بندی کے حساب سے جانی جاتی ہیں یعنی ہندوں اور کرسچن برادری کے بعد احمدی برادری پاکستان کی وہ اقلیت ہے جس کا شمار سب سے آخری و بدترین درجہ میں کیا جاتا ہے کیونکہ ان پر ظلم کرنا مذہبی فریضہ بن چکا ہے۔ احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد، ان کے گھر اور عباد گاہیں تو پہلے سے محفوظ نہیں تھی مگر اب مردہ احمدیوں کے لیے بھی پاکستان میں دفن ہونا مشکل ہو چکا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں سے نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب انہیں قبرستان میں دفن ہوتا ہوا بھی نہیں دیکھا جا رہا ۔ یہ واقعہ پچھلے دنوں شیخوپورہ میں پیش آیا جہاں شرپسند عناصر کے ہجوم نے احمدی خاتون کے جنازے پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب مقامی قبرستان میں احمدی خاتون کی میت کو دفنایا جا رہا تھا اور تدفین کے وقت مومنین مسلمانوں کی جانب سے احمدی خاتون کی تدفین پر اعتراض کیا اور میت دفنانے سے روکنے کی کوشش کی اور احمدی عورت کی میت میں آنے والے احمدیوں پر ڈنڈے مار کر حملہ کر دیا گیا۔

بے شک یہ ایک نفرت کی آخری حد ہے اور اب وہ بھی دن دور نہیں جب ایسی خبریں بھی سننے کو ملیں گی کہ پاکستان میں مسلمان ڈاکٹر نے اپنا ایمان بچاتے ہوئے بیمار احمدی کا علاج کرنے سے انکار کر دیا یا مسلمان ایمبولینس ڈرائیور نے اپنا ایمان بچاتے ہوئے مردہ احمدی کو اپنی گاڑی میں رکھنے سے انکار کر دیا۔

یہ سب دیکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں بسنے والے لاکھوں احمدی یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد خوفزدہ ہو کر اپنا مذہب تبدیل کر کے درست والے مسلمان بن جائیں گے یا نہیں؟

ایک اور واقعہ حالیہ دنوں یہ بھی پیش آیا جس میں حکومتی منسٹر جناب شہزاد اکبر صاحب پر ان ہی کی پارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی نذیر چوہان نے الزام لگایا کہ ان کا تعلق قادیانی/احمدی عقیدے سے ہے۔ اس الزام کی وجہ سے شہزاد اکبر کی زندگی کو خطرہ پڑ گیا جس کی وجہ سے ان کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی جبکہ شہزاد اکبر نے بہت بار واضح بھی کر دیا تھا کہ وہ ایک سچے مسلمان ہیں اور ان کا احمدیہ جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اپنا مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیرمین جناب طاہر اشرفی سے حاصل کر کے اپنے سوشل میڈیا پر شائع بھی کر دیا ہے۔

کیا حکومت وقت کو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک مسلمان منسٹر ان مذہبی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تو اس ملک میں غریب اقلیتوں اور بالخصوص بدترین درجہ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی گروپ احمدی کس خوف میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے