فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل کے درمیان جاوید چوہدری کے پروگرام میں ہونے والی بدمزگی اور ہاتھا پائی کا ذمہ دار کون؟

تابندہ کوکب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان کا خبروں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہونا کوئی نئی بات نہیں اور وہ اپنے دبنگ انداز کے باعث مخالفین کو منھ توڑ جواب دینے کے لیے مشہور ہیں۔

تاہم گذشتہ روز ایسا ہی کچھ سچ مچ ہوا جب پاکستان کے ایک نجی چینل کے پرائم ٹائم شو پر انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کو لفظی تکرار کے بعد تھپڑ رسید کر ڈالا۔

یہ پروگرام نشر ہونے کے بعد اس کے مختصر کلپ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے اور صارفین نے جہاں اس جھگڑے کی مذمت کی تو وہیں کچھ لوگوں نے اس واقعے پر طنزیہ تبصرے کیے اور میمز بھی بنائیں۔

شو میں کیا ہوا؟

بدھ کی شب نشر ہونے والے ٹاک شو میں بات بجلی کی کمی سے شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے ٹرین حادثے تک آ پہنچی۔

فردوس عاشق اعوان نے سندھ کے وزیر اعلی کے جائے حادثہ پر نہ جانے پر تنقید کی تو قادر مندوخیل نے کہا وفاقی وزیرِ ریلوے بھی تو نہیں پہنچے۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے کی حکومتوں کو ‘کرپٹ’ گردانتے رہے۔

تاہم بات اس وقت بڑھ گئی جب قادر مندوخیل نے حکومت کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ذاتی طور پر ‘کرپٹ’ کہہ دیا اور طعنہ دیا کہ ‘کرپشن ہی کی وجہ سے ان سے وزرات لے لی گئی’۔

اس کے بعد دونوں رہنماؤں میں مزید تلخ کلامی ہوئی اور فردوس عاشق اعوان نے مڑ کر شو کے میزبان جاوید چوہدری کو کہا، جو خاموشی سے یہ منظر تک رہے تھے، ‘چوہدری صاحب، آپ نے یہ تماشا لگوایا ہے۔’

وائرل ہونے والے کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قادر مندو خیل کچھ کہتے ہیں جس پر فردوس عاشق اعوان سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ پھر دونوں اپنی اپنی نشتوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس کے بعد پھر سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوتی ہے اور پھر ایک ’بیپ‘ کی آواز آتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس موقعے پر نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔

https://twitter.com/Dr_FirdousPTI/status/1402741922888826881

فردوس عاشق اعوان کا قانونی کارروائی کا عندیہ

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا: ‘ٹاک شو کے دوران پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کی جانب دھمکیاں دی گئیں۔ قادر مندوخیل نے بدزبانی اور بدکلامی کرتے ہوئے میرے مرحوم والد اور مجھے گالیاں دیں۔ اپنے دفاع میں مجھے انتہائی قدم اٹھانا پڑا! قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد قادر مندوخیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔’

چونکہ اس کلپ میں صرف فردوس عاشق اعوان کی جانب سے عدم برداشت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اس لیے تحریک انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ تصویر کا محض ایک رخ ہے۔

ٹوئٹر پر ان کا مزید کہنا تھا ‘جاوید چوہدری صاحب کے ٹی وی شو میں پیپلزپارٹی کے قادر مندوخیل کے ساتھ ہونے والی بحث میں تصویر کا ایک رخ دکھایا جارہا ہے۔ قادر مندوخیل کی غلیظ زبان اور گالیوں کو اس ویڈیو کا حصہ نہ بنا کر یکطرفہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مکالمے سے ہٹ کر مندوخیل کی جانب سے ان کے والد اور انھیں غلیظ گالیاں دی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘ایسے بدتہذیب افراد کا سیاست اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ لوگ سیاست اور معاشرے کے چہرے پر بدنما دھبے ہیں۔’

انھوں نے ایکسپریس ٹی وی سے درخواست ہے کہ معاملے کی مکمل ویڈیو سامنے لائیں۔

قادر مندوخیل کا ردعمل

پیپلز پارٹی کے رہنما قادر مندوخیل کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ فردوس عاشق اعوان اپنے سامنے کسی کو بولنے نہیں دیتیں تاہم وہ پہلی مرتبہ ان کے ساتھ کسی ٹاک شو میں شریک ہوئے تھے۔

ان کے بقول انھوں نے کوئی ایسی نازیبا بات نہیں کی تھی جس پر فردوس صاحبہ تیش میں آ جاتیں۔

’وہ آدھا گھنٹا بولتی رہیں، میں خاموش رہا لیکن جب میں بولنے لگا تو وہ بیچ میں ٹوکنے لگیں کہ آپ کیا بولیں گے آپ تو سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس میں پر میں نے ان سے کہا کرپٹ تو آپ ہیں۔ آپ کو آپ کی حکومت نے کرپشن پر عہدے سے الگ کیا۔ اس پر وہ گالم گلوچ پر آگئیں۔‘

قادر مندوخیل کا کہنا تھا ’میں گالم گلوچ برداشت کرتا رہا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئیں، میرا گریبان پکڑا اور مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد مجھے کپ (پیالی) مارنے کی کوشش کی۔ میں بچنے کی کوشش کر رہا تھا اور وہ میرے پیچھے بھاگیں تو میں نے دروازہ بند کر کے جان بچائی۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’میری تربیت ایسی نہیں کہ میں خاتون پر ہاتھ اٹھاؤں۔ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسی حرکت کر سکتی ہیں۔‘

اپنے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا ’موسٹ ویلکم! میں خود سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، میڈیا لاز میں پی ایچ ڈی ہوں، پاکستان کا پہلا انسانی حقوق ایرواڈ یافتہ ہوں۔ میرا بے داغ ماضی ہے۔ وہ قانونی کارروائی کرنا چاہتی ہیں تو انھیں نہ صرف شکست ہوگی بلکہ الٹا ان کے لیے اور عذاب بنے کا جب میں کارروائی کروں گا۔‘

سوشل میڈیا پر رد عمل

سوشل میڈیا پر ایک طرف تو فردوس عاشق اعوان کے ایکشن سے بھرپور میمز گردش کر رہے ہیں وہیں مذمتی اور حمایتی کمنٹس کا بھی انبار ہے۔ ان کے مخالفین ان پر عورت ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کر ہے ہیں تو ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے بدکلامی کرنے والوں کو منھ توڑ جواب دینا بھی ضروری ہے۔

ایک صارف کرن جہانگیر کا فردوس عاشق اعوان کو ٹیگ کر کے کہنا تھا کہ ’ آپ نے اچھا کام کیا۔ یہ مرد عورت کو خاموش کروانے کے لیے بد زبانی اور فحش گوئی کرتے ہیں۔‘

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما تنقید اور مخالفت برداشت ہی نہیں کر سکتے۔

اسامہ خلجی کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کے ارکان کا سارا موقف ہی دوسروں پر بدعنوانی کا الزام عائد کرنے پر مبنی ہے لیکن اگر کوئی یہی کام ان کے ساتھ کرے تو اسے ٹیلی وژن پر تھپڑ ریسد کر دیتے ہیں۔‘

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بات کو اس نہج پر پہنچے سے روکا جا سکتا تھا۔

ایک صارف عثمان سرفراز ملک کا کہنا تھا کہ ’سارا قصور شو کے میزبان جاوید چوہدری کا ہے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ گفتگو تلخ ہو رہی ہے لیکن وہ صرف دیکھتے رہے۔‘

ایک صارف نے شو کے میزبان کی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’اس سارے قصے میں صرف ایک شخص لطف اندوز ہو رہا تھا، جس نے لڑائی روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔‘

کئی صارفین اس صورتحال کو ملک میں جاری گرمی کی شدید لہر کا شاخسانہ قرار دیتے نظر ائے۔

یہ بھی پڑھیے

فردوس عاشق اعوان کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو ڈانٹ، پنجاب کے چیف سیکریٹری کی مذمت

فردوس عاشق اعوان کی جگہ عاصم سلیم باجوہ تعینات، شبلی فراز نئے وزیر اطلاعات

فیاض چوہان وزیراعظم کو پسند تھے تو تبدیل کیوں ہوئے؟

شو کے میزبان کو کیا کرنا چاہیے تھا؟

دونوں سیاستدان جب تلخ کلامی کر رہے تھے تو پروگرام کے میزبان جاوید چوہدری پہلے تو خاموشی سے دونوں کو دیکھتے رہے پھر وقفے وقفے سے انھیں ٹوکنے کی بھی کوشش کی۔ تاہم زیادہ تر وہ دونوں کی لڑائی کو بے بسی کی تصویر بنے دیکھتے رہے۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی مبشر زیدی کا کہنا تھا ’ چونکہ بیشتر اینکرز روزانہ بے معنی سیاسی موضوعات پر بات کرتے ہیں اور عوام سے متعلق معاشرتی امور پر گفتگو سے پرہیز کرتے ہیں اسے لیے فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل کے مابین تلخ کلامی جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔‘

سینیئر خاتون صحافی اور اینکر پرسن نسیم زہرہ کا کہنا تھا جہاں تک صحافتی اقدار کی بات ہے تو یہ سو فیصد اینکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات کو اس نہج تک پہنچنے ہی نہ دے۔

ان کا کہنا تھا ‘میں اپنی بات کروں تو میں نے سخت اصول بنا رکھے ہیں جونہی مجھے لگتا ہے کہ تُو تُو میں میں شروع ہوجائے، الفاظ تک غلط ہو جائیں۔ لہجہ ہی غلط ھو جائے تو میں سختی کے ساتھ اسے روکتی ہوں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘چینل اور پروگرام کی ٹیم چاہتی ہے کہ شو کی ریٹنگ اچھی ہوں، اکثر بات ہوتی ہے کہ تھوڑا سا تو جانے دیں۔ لیکن میرے ساتھ کام کرنے والے سمجھتے ہیں کہ صرف ریٹنگ کے لیے ایسی چیز نیں ہونے دی جا سکتی۔’

ان کا مزید کہنا تھا ‘ہمیں پتا ہے کہ غصے میں انسان کیسی حرکتیں کرتا ہے لیکن ایکسپوز کرنے کے اور بھی طریقے ہیں یہ سب میری نظر میں مناسب نہیں۔‘

نسیم زہرہ کا کہنا تھا ‘میری نظر میں یہ بات بہت واضح ہے کہ یہ سب ہماری ذمہ داری ہے۔ اینکر لوگوں کی سوچ کے پائلٹ ہوتے ہیں۔ آپ لوگوں کی سوچ سمجھ اور احساس کو پائلٹ کر رہے ہوتے ہیں۔’

‘یہ سو فیصد اینکر کی ذمہ داری ہے کہ آپ روکیں۔’

سینئر صحافی ایم ضیا الدین بھی اس رائے سے متفق نظر آئے۔ انھوں بی بی سی کو بتایا کہ ‘یہ اینکر کا کام ہوتا ہے کہ وہ پروگرام کو مینیج کریں مگر عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب آپ دو مخالفین کو پروگرام میں بلاتے ہیں تو اینکر کی کوشش ہوتی ہے کہ انھیں لڑوایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پروگرام کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے، (لڑائی) کا کلپ وائرل ہوجاتا ہے۔ ‘

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ‘یہاں پر لوگ سمجھتے یہ ہیں کہ آپ کا کلپ اگر وائرل ہوگیا ہے تو یہ بہترین پرفارمنس ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا ‘جو سٹینڈرڈ پروسیجر ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ کسی قسم کا بحران ہو تو فوراً اینکر پرسن اشارہ دیتا ہے کیمرہ مین کو اور وہ فوراً اسے روک دیتے ہیں۔ عام طور پر یہی ہونا چاہیے کہ جب تک یہ کرائسس ختم نہ ہو جائے اسے روکے رکھا جائے۔ کیونکہ یہ (میڈیم) ویژوئل ہے تو یہ سب ایک منظر بن جاتا ہے۔ اس میں صحافتی تنظیموں کے تمام اخلاقی معیار کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ‘

ان کے بقوا ‘اینکر کو فوراً پروگرام روک دینا چاہیے تھا۔ وہ کیمرہ مین کو اشارہ کرتے کہ اس کو بند کر دو۔’

ایم ضیا الدین کے مطابق ‘ہمارے ہاں سیاسی یا اہم موضوعات کی سمجھ بوجھ لوگوں میں کم ہوتی ہے تو یہاں جھگڑوں کے مناظر زیادہ مقبول ہو جاتے ہیں۔’

بی بی سی نے جاوید چوہدری کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp