جسٹن ٹروڈو، مٹی کا دیا، آنگن اور پاکستان کی سیاسی اشرافیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں کینیڈا کے شہر لندن میں ایک بے رحم ڈرائیور نے جس طرح ایک ہی خاندان کے چار پاکستانی مسلم افراد کو کچل دیا۔ یہ ایک ایسا دل دہلانے دینے والا واقعہ تھا جس نے ہر باضمیر و حساس انسان، ہر مہذب فرد کو دکھی کر دیا۔ کیونکہ یہ واقعہ کینیڈا کے ایک شہر مین وقوع پذیر ہوا، تو مقامی افراد اور مقامی حکام کے علاوہ کینیڈین حکومت کے ذمہ داران حتیٰ کہ وزیراعظم تک عوامی صفوں میں کھڑے ہو کر تعزیت کرتے نظر آئے۔

یہ ایک ایسے انسانی سماج کے رویے کا اظہار جو انسان کی عزت و تو قیر کو ووٹر کے پیمانے یا قوم و مسلک کے دین کے معیار پہ نہیں پرکھتا، بلکہ اپنی سماجی زندگی میں شامل ایک ایسے فرد جانتا ہے جو ان کی اقتصادی و معاشی ترقی سے لے کر سیاسی و ثقافتی ترقی میں ان کا ساتھی اور حصہ دار ہے۔

کسی بھی غیر مسلم ملک میں یا یورپی سماج میں یہ چلن عام ہے، کیونکہ وہ اپنے شہری کی قدروقیمت کو اہمیت و احترام کو مقدم جانتے ہیں، غیر مسلم معاشروں اور بیشتر یورپی ممالک کو اس صورت حال تک پہنچنے میں صدیوں کا سفر لگا ہے۔

میگنا کارٹا سے لے کر یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس تک کا سفر ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے، اور آج امریکہ، کینیڈا، یورپی معاشرے میں رہنے والے افراد و انسان اس کے ثمرات سے بہرہ ور ہو رہے ہیں

سماجی ماہرین ان سب ثمرات کے حصول کی وجوہات مختلف بیان کرتے ہیں جس میں صنعتی انقلاب سے لیکر، نیشن اسٹیٹ تصور اور مذہب کو ریاست سے جدا کرنا، بادشاہت و آمریت کی جگہ جمہوریت جیسے نظام وغیرہ وغیرہ بیان کی جاتی ہیں

یہ تمام موضوعات اس وقت ہمارے زیر بحث نہیں ہیں، اس تحریر میں دو حوالوں سے بات کرنا چاہوں گا

1۔ ترقی یافتہ مہذب ممالک میں سے بہت ممالک فرد کی جس آزادی اور احترام کا معیار اپنے ہاں رکھتے ہیں، اس پہ اپنے حلیف، دوست قوموں، مملکتوں کے ہاں آنکھیں کیوں موند لیتے ہیں؟

بلکہ اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں، مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے انسان کش اقدامات کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پہ اپنی سر پرستی میں کرواتی ہیں

2۔ برصغیر کے پاک و ہند کے سماج میں مروجہ جمہوریت کا پودا برطانوی سامراج نے اپنی پالتو اشرافیہ کے ذریعے لگوایا، اور لاٹ صاحبوں کی نرسریوں میں لگنے والی جمہوری پنیری سے بار آور ہونے والے سیاسی قد آور درخت اب پاکستان ہندوستان میں حکومت اور اپوزیشن کا کھیل کھیلتے ہیں۔

سیاسی لاٹ صاحبوں نے اپنی رعایا اور پرجا کو اپنا ووٹر کبھی نہیں جانا، اور رعایا بھی ووٹ اپنا حق سمجھ کر نہیں دیتی بلکہ بڑے نواب صاحب، راجہ صاحب کو خراج ادا کرتی ہے جیسے اس کے بڑے کرتے رہے۔

اس لئے یہاں پہ ہونے والا ہر ترقیاتی کام ریاستی و حکومتی ذمہ داری کی ادائیگی نہیں بلکہ احسان سمجھا جاتا ہے

اور اگر پرجا و رعایا پہ کوئی مصیبت و آفت آ جائے تو مہاراج اپنے ہرکاروں کے ذریعے مدد و خیرات کر کے اپنی ضمیر کی خلش مٹانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

روٹی پلانٹ، سستے تندور، لنگر خانے، مسافر خانے کھلوا کے سیاسی جمہوری لاٹ صاحب بھی پرجا کو مزید پوجا کے لئے زندہ رکھتے ہیں۔

اس لئے اپنے کسی وزیراعظم کو جسٹن ٹروڈو نہ سمجھ لیجیے گا

اپنا مٹی کا دیا توڑ نہ لینا ناصر
جب کبھی چاند کو آنگن میں اترتا دیکھو

پاکستان میں مختلف ادوار میں برسر اقتدار اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ بھی اسی مخصوص سیاسی ماحول کی پروردہ اور پرچارک ہے کہ جہاں عوام کو رعایا سمجھ کر حسان اور خیرات تو کی جاتی ہے۔ مگر حقوق نہیں دیے جاتے

وہ معاشرے جہاں انسانوں کے حقوق انسان ہونے کی بنا پہ پورے کیے جائیں، مہذب اور شائستہ معاشرے کہلانے کے حقدار ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *