ماہواری اور ٹرنر سنڈروم: زندگی کی نمو کا سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“آپ ماہواری کا پیچھا کب چھوڑیں گی؟”

کسی مہربان نے استہزائیہ انداز میں مسکراہٹ ہماری طرف اچھالتے ہوئے پوچھا

“جب تک آپ ماہواری اور اس سے جڑے مسائل سجھنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ جان لیجیے کہ ماہواری ہے تو آپ ہیں، ماہواری نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ اس قانون سے کوئی ماورا نہیں”

کہیں پچھلے جنم میں ہمارا تعلق لٹھ ماروں کے قبیلے سے تو نہیں تھا؟ جواب دینے کے بعد خود ہی بے اختیار ہو کے سوچا۔

سوچیے تو اگر بیٹی سولہ سترہ برس کی ہو جائے اور ایسے میں زوجہ تشویشناک انداز میں شوہر کے کان میں سرگوشی کریں کہ بیٹی کی زندگی کے اگلے مدارج سوال طلب ہیں تو ایسے میں دونوں میاں بیوی کے ہاتھوں کے توتے اڑیں گے یا نہیں ؟

یہی گنے چنے وہ چند مناظر ہیں جن میں ماں کے ساتھ ساتھ پریشان حال باپ بھی شرم و حیا پس پشت ڈال کر گائناکالوجسٹ کے دروازے پہ جا کھڑا ہوتا ہے۔

بلوغت بچے کی ہو یا بچی کی، بالکل اسی طرح اہم ہے جیسے شیرخوار اپنا پہلا قدم اٹھانا سیکھے، یا پہلا لفظ ادا کرے۔ زندگی کا ہر گزرتا دن مختلف روپ لے کر نمودار ہوتا ہے اور بچے اگلی منزلوں کے مسافر بنتے ہیں۔ بچیوں کی زندگی میں یہ دور بچپن کی سرحدیں عبور کرتا بلوغت کی تبدیلیوں تک جا پہنچتا ہے اور تکمیل کا نشان ماہواری کی آمد بنتی ہے۔

ماہواری کے شروع ہونے کی عمر اوسطاً تیرہ برس سمجھی جاتی ہے لیکن اگر پندرہ برس کی عمر تک ماہواری شروع نہ ہو تو الارم بج اٹھتا ہے اور شناخت کا سوال اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ زندگی کا سفر آگے بڑھ نہیں سکتا اگر ماہواری کا نظام چالو نہ ہو۔ ہر نئی زندگی کی نمو عورت کے جسم سے جڑی ہے اور ماہواری اس نمو کا بنیادی عنصر ہے۔

ماہواری نہ آنے کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ کروموسومز سے جڑی ہے۔ کروموسومز ہر انسان کی جنیاتی کوڈنگ جو فیصلہ کرتی ہے کہ جنم لینے والے کی آنکھیں بھوری ہوں گی یا نیلی، شکل ننھیال پہ جائے گی یا ددھیال پہ، قدوقامت چچا پہ ہو گی یا ماموں پہ، حتی کہ عادات کا سرا بھی کسی ایسے پڑدادا یا پڑنانا سے جڑ سکتا ہے جن کی شکل تو دور کی بات ہے، نام تک نہ کا علم نہ ہو۔

سمجھ لیجیے کہ ہم وہ ہیں جو صدیوں کے پھیر میں نسل در نسل منتقل ہوتی جنیاتی کوڈنگ کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ تئیس کروموسومز ماں اور تئیس کروموسومز باپ کی طرف سے لے کر پیدا ہونے والا انسان یا ایک قیدی جو پہلے سے طے شدہ مرتب سکیم پر چلنے کا پابند ہے۔

ایسے میں اگر اس جنیاتی کوڈنگ کی منتقلی میں بال برابر بھی کمی بیشی ہو جائے تو انسان کی طبعی ہیت ہی بدل جاتی ہے۔

جنسی کروموسومز XX لڑکی اور XY لڑکے کو بنیادی شناخت عطا کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچی ایک X کے ساتھ پیدا ہو تو اس بچی کی زندگی کے کافی پہلو ادھورے رہ جائیں گے۔

Henry-Hubert-Turner-1892-1970

اوکلاہوما یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ہنری ٹرنر نے 1938 میں دریافت کیا کہ ایک X کروموسوم کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی میں کون کون سی علامات پائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ٹرنر کی اس ریسرچ اور ان کی خدمات کے اعتراف میں اس بیماری کو ٹرنر سنڈروم کا نام دیا گیا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق دو ہزار سے پانچ ہزار بچیوں میں سے ایک بچی ٹرنر سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حمل کے پہلے تین ماہ میں ہونے والے اسقاط زیادہ تر ٹرنر سنڈروم کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں کہ قدرت کا دفاعی نظام ادھورے بچے کو دنیا میں آنے سے روک دیتا ہے۔

پیدائش پہ کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جو ٹرنر سنڈروم کی موجودگی ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں ہاتھ پاؤں کی سوجن، چھوٹی پھولی ہوئی گردن، کان اپنی معمول کی جگہ سے تھوڑا نیچے اور چوڑی چھاتی شامل ہیں۔

بچپن میں دل کے امراض، تھائی رائیڈ ہارمون کی کمی، قوت سماعت میں خلل، سیکھنے کے عمل میں دشواری، ذیابیطس، گردوں کے مسائل ، ہڈیوں کا بھربھرا پن اور فریکچرز عام ہیں۔

اگر بچپن میں تشخیص نہ ہو سکے تو بلوغت کی عمر پہ ماہواری کا نہ آنا ایک اہم ترین اشارہ ہے۔ زیادہ تر بچیاں اسی عمر میں ہسپتال تک پہنچتی ہیں۔

الٹراساؤنڈ پہ رحم کی موجودگی تو واضح ہوتی ہے لیکن بیضہ دانی یا اووری کی موجودگی مشکوک ٹھہرتی ہے۔ اگلا قدم ہارمونز چیک کرنے کا ہے جس سے صورت حال کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔ آخری مرحلہ کروموسومز کی تفصیل جاننا ہے۔

والدین کے لئے یہ تشخیص قبول کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتی ہے لیکن بچی کے لئے تو پوری زندگی ایک سوال بن جاتی ہے۔ بیضے دانی میں بننے والا ہارمون “ایسٹروجن” عورت کی بقا کی ضمانت ہے۔ نفسیاتی کیفیات سے لے کر جسمانی ساخت و صحت کے تمام امور ایسٹروجن کے ذریعے طے پاتے ہیں۔ اور جب جسم میں ایسٹروجن ہی نہ ہو تو؟

ایسی بچیوں کو نفسیاتی و جسمانی معاونت کی ضرورت تمام عمر رہتی ہے۔ ہارمونز کی گولیاں، دل، گردوں اور ہڈیوں کا باقاعدگی سے معائنہ تو ڈاکٹر کرتے ہی ہیں لیکن خاندانی سپورٹ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

ہارمونز کھانے سے ماہواری کا نظام شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک دوائیں استعمال میں رہیں۔ ازدواجی تعلقات میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ کمی صرف ایک ہی رہتی ہے کہ بیضے کے نہ ہونے سے آنگن میں ننھے بچوں کی قلقاریاں سنی نہیں جا سکتیں۔

ٹرنر سنڈروم کے ساتھ جنم لینے والی بچیاں اپنی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق رکھتی ہیں۔ ایک ایسی معذوری کے ساتھ جنم لینا جو کسی کا بھی مقدر ہو سکتی ہے، سے کسی بھی انسان کو زندگی کی دوڑ سے نکالا نہیں جا سکتا۔

اب آپ کو جان لینا چاہیے کہ ماہواری عورت کی زندگی کا اہم سنگ میل تو ہے ہی لیکن نظام قدرت نے زندگی کی نمو بھی اسی میں رکھی ہے۔ پھر اس کے متعلق بات کرنے پہ شرم کیسی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *