کیا عورت ہونا ذلیل اور کمتر ہونا ہے؟

پدرسری معاشرے میں عورت کے نام پر گالی، طعنہ دینا صرف مردانگی ہی نہیں گردانی جاتی بلکہ مخالفین کی تضحیک کے لئے سب سے مؤثر ہتھکنڈا سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں طے کردہ صنفی کردار بھی صرف اور صرف عورت کو ادنیٰ اور کم تر ظاہر کرتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اپنی…

Read more

2010 کا خوفناک سیلاب اور ہمسائے ایران کا سلوک

پاکستان کی تاریخ کے خوفناک ترین سیلاب 2010 سے تقریباً ایک سال پہلے میں راجن پور کے علاقے کوٹ مٹھن میں ایک غیر سرکاری سماجی تنظیم کے ہمراہ قدرتی آفات سے مقامی سطح پرنمٹنے کی بروقت تیاری کے حوالے سے ایک منصوبہ میں کام کررہا تھا۔ ہمارے منصوبے کا مرکزی خیال مقامی افراد کو اپنے…

Read more

جنسی ہراسانی۔ چائے کی پیالی پر طوفان

گزشتہ چند دنوں سے وفاقی خاتون محتسب برائے ہراسانی کے ایک بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر سب احباب نے ایک منڈلی جمائی ہوئی ہے، یقیناً جس پاور اسٹرکچر کے اس سماج میں ہم جی رہے ہیں، وہاں اس قسم کا ہنسی مذاق کرنا، ہم مردوں کا شیوہ بھی ہے اور تفریح طبع بھی۔ہاں اگر ہم لڑکی ہوتے۔ ۔اور پیدا ہونے سے لے کر بچپن اور پھر بچپن سے لے کر لڑکپن، اور پھر جوانی سے بڑھاپے تک ہم نے بھی محبت بھری معنی خیز گودیں اور بوس کنار اور چٹکیاں، تعریف بھرے معنی خیز جملے، بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک پر معنی خیز تبصرے، برقعہ، چادر تک اوڑھ کر بھی کہنیاں، مکے کھائے  ہوتے، چلنے سے لے کر بیٹھنے تک کہ انداز پہ تبصرے سُنے ہوتے اور ان پر اچھلتے قہقہے برداشت کیے ہوتے۔ گلی سے لے کر پارک اور بازار میں راستہ دیتے ہوئے ٹھرکیوں کی حرکتیں برداشت کی ہوتیں تو ہمیں اندازہ ہوتا۔ کہ لڑکی ہونا کیسا ہے؟

Read more

فیمینزم اور عورت مارچ۔ مردوں کو کیا ہوگیا ہے؟

اگر آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں تو آپ نے 8 مارچ کو پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہونے والے عورت مارچ حوالے سے بہت سی پوسٹس ضرور دیکھی ہوں گی۔ پاکستان بھر سے مختلف طبقہ ہائے فکرعورت مارچ کے حوالے سے پوسٹس کر رہے ہیں۔ یہ عورت مارچ کیا ہے اور کیوں ہوا؟

8 مارچ یعنی خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کی عورتوں نے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے ایک مارچ کیا۔ اس مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا گیا۔ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں خواتین نے عورت مارچ کے نام سے ریلیاں منعقد کیں۔

اسلام آباد میں پریس کلب سے سپر مارکیٹ تک نکالی گئی ریلی کو ’عورت آزادی مارچ‘ کا نام دیا گیا۔ ریلی میں سینکڑوں خواتین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کے حقوق کے نعرے درج تھے۔ اسی طرح لاہور میں پریس کلب شملہ پہاڑی سے براستہ اسمبلی ہال الحمرا آرٹ سنٹر تک سینکڑوں عورتوں نے مارچ کیا۔
عورت آزادی مارچ میں مرد بھی شامل تھے۔

Read more

پاکستانی عورتوں کا دن: 12 فروری

   12 فروری 1983 کا دن لاہور میں ایک تاریخ ساز سنگ میل بن کر طلوع ہوا۔ اس دن لاہور کی بیدار، باشعور اور متحرک عورتوں نے ضیاالحق کی رجعت پسند قانون سازیوں کا جنازہ نکال دیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ جاوید اقبال کی جعلی روشن خیالی کو بھی…

Read more