ڈیجیٹل دُنیا اور ہمارے بچے بچیاں

ماہر عمرانیات کرہ ارض پہ انسانی سماج اور معاشرے کے ارتقائی سفر کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، ابتدائی انسانی زندگی غار اور شکار کا دور کہا جاتا ہے، جہاں انسان صرف مرد و عورت کے جوڑوں کی صورت میں زندگی گزارتا تھا، اولاد پیدا ہونے اور افراد بڑھ جانے کے کے بعد باقاعدہ خاندان، قبیلے، گروہ، برادری جیسے ادارے تشکیل پانے لگے اور انسان نے شکار کے ساتھ اناج، پھل، سبزیوں کو بھی بطور خوراک استعمال کرنا شروع

Read more

پاکستان میں اینٹی امریکہ بیانیہ کا چورن کب سے شروع ہوا؟

برطانوی سامراج کی نوے سالہ حکومت سے کے بعد 1947 میں برصغیر میں مسلم قومیت کے نعرے پہ قائم ہونے والی مملکت پاکستان میں کبھی بھی اینٹی امریکہ نہ سوچ تھی، البتہ کمیونسٹ و سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد دوسری جنگ عظیم کے بعد تاج برطانیہ کی سلطنت کے محدود ہونے کا ادراک کر چکے تھے نیز یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام کا نیا ٹھیکیدار امریکہ کی شکل میں خطے میں اپنا اثر رسوخ بڑھاتا جا رہا ہے ایسے میں

Read more

زین قریشی اور سلمان نعیم کی سرائیکی جپھی

وطن عزیز پاکستان میں گزشتہ کئی مہینوں سے سیاسی تناؤ اور محاذ آرائی و الزام تراشی کی تلخ سیاست نے اس بری طرح سے ہمارے سوشل فیبرک کو داغدار کیا ہے کہ پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہر حلقہ ایک میدان جنگ بنا ہوا تھا، اور ایسے میں سرائیکی علاقے ملتان میں اس سیاسی تناؤ اور حبس کے ماحول میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی آیا ہے۔ ملتان کی سرزمین میں صوبائی حلقہ 127 جہاں سابقہ وزیر خارجہ مخدوم

Read more

چھوٹی ڈیوڑھی اور بڑی ڈیوڑھی کا قصہ

( نوٹ: چھوٹی ڈیوڑھی اور بڑی ڈیوڑھی کی اصطلاحات کا لطف ملتانی سرائیکی ہی اٹھا سکتے ) یہ کہانی ہے چھوٹی ڈیوڑھی اور بڑی ڈیوڑھی کی صاحب عالم طبعاً عاشق مزاج تھے، محبوباؤں کے جم غفیر ہوتے ہوئے بسائے تو انہوں نے صرف دو گھر ہی تھے جو چھوٹی ڈیوڑھی اور بڑھی ڈیوڑھی کے نام سے معروف تھے، ساری پرجا اور ملازمین جانتے تھے کہ صاحب عالم چھوٹی اور بڑی ڈیوڑھیوں کی باریوں سے انتظام خانہ چلاتے ہیں، اس لئے

Read more

پاکستانی عورتوں کا دن: 12 فروری

   12 فروری 1983 کا دن لاہور میں ایک تاریخ ساز سنگ میل بن کر طلوع ہوا۔ اس دن لاہور کی بیدار، باشعور اور متحرک عورتوں نے ضیاالحق کی رجعت پسند قانون سازیوں کا جنازہ نکال دیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس پنجاب ہائی کورٹ جاوید اقبال کی جعلی روشن خیالی کو بھی بے نقاب کیا۔ پاکستانی خواتین کے حقوق کی جدو جہد کے حوالے سے  12 فروری کی کڑی آج سے 36 سال پہلے کے ایک واقعے

Read more

عصمت دری کی وجہ بھی عورت ہے

وزیراعظم عمران خان کیونکہ بہت تیزی سے کپتانی سے سیاسی قیادت تک پہنچے ہیں، عموماً ان کی تقاریر اور بیانات ان کی ”بنی ہوئی علمیت“ اور ”تیار شدہ دانشوریت“ کا اظہار ہوتے ہیں۔ مذہب سے لے کر سیاست اور عالمی مسائل سے لے کر گلی محلے کی پنچایت تک ہر معاملے میں ہر فن مولا ہونے کا زعم میں ان سے ایسی باتیں بھی سر زد ہوجاتی ہیں، جو برصغیر کے مخصوص پاور اسٹرکچر سماج کی سوچ اور نفسیات کی

Read more

جسٹن ٹروڈو، مٹی کا دیا، آنگن اور پاکستان کی سیاسی اشرافیہ

گزشتہ دنوں کینیڈا کے شہر لندن میں ایک بے رحم ڈرائیور نے جس طرح ایک ہی خاندان کے چار پاکستانی مسلم افراد کو کچل دیا۔ یہ ایک ایسا دل دہلانے دینے والا واقعہ تھا جس نے ہر باضمیر و حساس انسان، ہر مہذب فرد کو دکھی کر دیا۔ کیونکہ یہ واقعہ کینیڈا کے ایک شہر مین وقوع پذیر ہوا، تو مقامی افراد اور مقامی حکام کے علاوہ کینیڈین حکومت کے ذمہ داران حتیٰ کہ وزیراعظم تک عوامی صفوں میں کھڑے ہو کر تعزیت کرتے نظر آئے۔

Read more

کیا عورت ہونا ذلیل اور کمتر ہونا ہے؟

پدرسری معاشرے میں عورت کے نام پر گالی، طعنہ دینا صرف مردانگی ہی نہیں گردانی جاتی بلکہ مخالفین کی تضحیک کے لئے سب سے مؤثر ہتھکنڈا سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں طے کردہ صنفی کردار بھی صرف اور صرف عورت کو ادنیٰ اور کم تر ظاہر کرتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اپنی مردانگی کو ثابت کرنے کے لئےعورت کے نام پر تضحیک کرنا بہت ضروری ہے۔ عورت کے کاموں اور شخصیت کی تعریف کرنے کے بجائے، ان

Read more

2010 کا خوفناک سیلاب اور ہمسائے ایران کا سلوک

پاکستان کی تاریخ کے خوفناک ترین سیلاب 2010 سے تقریباً ایک سال پہلے میں راجن پور کے علاقے کوٹ مٹھن میں ایک غیر سرکاری سماجی تنظیم کے ہمراہ قدرتی آفات سے مقامی سطح پرنمٹنے کی بروقت تیاری کے حوالے سے ایک منصوبہ میں کام کررہا تھا۔ ہمارے منصوبے کا مرکزی خیال مقامی افراد کو اپنے وسائل میں رہتے ہوئے سیلاب سے قبل از وقت تیاری، سیلاب کی پیشگی اطلاع، سیلاب آنے کی صورت میں مقامی آبادی کا انخلا، بچاؤ، بحالی،

Read more

جنسی ہراسانی۔ چائے کی پیالی پر طوفان

گزشتہ چند دنوں سے وفاقی خاتون محتسب برائے ہراسانی کے ایک بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر سب احباب نے ایک منڈلی جمائی ہوئی ہے، یقیناً جس پاور اسٹرکچر کے اس سماج میں ہم جی رہے ہیں، وہاں اس قسم کا ہنسی مذاق کرنا، ہم مردوں کا شیوہ بھی ہے اور تفریح طبع بھی۔ہاں اگر ہم لڑکی ہوتے۔ ۔اور پیدا ہونے سے لے کر بچپن اور پھر بچپن سے لے کر لڑکپن، اور پھر جوانی سے بڑھاپے تک ہم نے بھی محبت بھری معنی خیز گودیں اور بوس کنار اور چٹکیاں، تعریف بھرے معنی خیز جملے، بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک پر معنی خیز تبصرے، برقعہ، چادر تک اوڑھ کر بھی کہنیاں، مکے کھائے  ہوتے، چلنے سے لے کر بیٹھنے تک کہ انداز پہ تبصرے سُنے ہوتے اور ان پر اچھلتے قہقہے برداشت کیے ہوتے۔ گلی سے لے کر پارک اور بازار میں راستہ دیتے ہوئے ٹھرکیوں کی حرکتیں برداشت کی ہوتیں تو ہمیں اندازہ ہوتا۔ کہ لڑکی ہونا کیسا ہے؟

Read more

فیمینزم اور عورت مارچ۔ مردوں کو کیا ہوگیا ہے؟

اگر آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں تو آپ نے 8 مارچ کو پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہونے والے عورت مارچ حوالے سے بہت سی پوسٹس ضرور دیکھی ہوں گی۔ پاکستان بھر سے مختلف طبقہ ہائے فکرعورت مارچ کے حوالے سے پوسٹس کر رہے ہیں۔ یہ عورت مارچ کیا ہے اور کیوں ہوا؟

8 مارچ یعنی خواتین کے عالمی دن پر پاکستان کی عورتوں نے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے ایک مارچ کیا۔ اس مارچ کو عورت مارچ کا نام دیا گیا۔ پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں خواتین نے عورت مارچ کے نام سے ریلیاں منعقد کیں۔

اسلام آباد میں پریس کلب سے سپر مارکیٹ تک نکالی گئی ریلی کو ’عورت آزادی مارچ‘ کا نام دیا گیا۔ ریلی میں سینکڑوں خواتین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کے حقوق کے نعرے درج تھے۔ اسی طرح لاہور میں پریس کلب شملہ پہاڑی سے براستہ اسمبلی ہال الحمرا آرٹ سنٹر تک سینکڑوں عورتوں نے مارچ کیا۔
عورت آزادی مارچ میں مرد بھی شامل تھے۔

Read more