توہین مذہب کے قوانین: مکالمہ کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل مکرمی وجاہت مسعود صاحب کا ایک ویڈیو کالم ”کیا ریاست کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟“ سننے کا موقع ملا۔ اس کے آخر میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا کہ اگر کسی ریاست میں ایک مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دے دیا جائے تو اس ریاست میں دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں سے برابر کا سلوک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے عقائد سرکاری مذہب کے مطابق نہیں ہوں گے۔

اس کالم میں اس سے ایک قدم آگے جا کر ”توہین مذہب“ کے تصور کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہر مذہب یا عقیدہ یا مسلک کے کچھ بنیادی نظریات ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف بلکہ متصادم ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ اس کالم میں جائزہ لیا جائے گا، ایک مسلک کے بنیادی عقائد کو دوسرے مذہب کی نظروں سے دیکھا جائے تو وہ ”توہین مذہب“ کے زمرے میں آئیں گے۔ اس کے علاوہ ”توہین“ کی اصطلاح بھی ابہام کا پہلو رکھتی ہے۔

حال ہی میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں صحابہ رضی اللہ عنہم اور اہل بیت کی توہین کو بلاسفیمی قرار دے کر اس کی سزا موت یا عمر قید مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے عملی اطلاق پر بھی یہ سوال اٹھے گا کہ ”توہین“ کا مطلب کیا ہے؟

پاکستان میں ایسا لٹریچر بھی شائع ہوا ہے جس کی رو سے اگر ایک شخص اپنی مونچھیں کتروائے اور اس کی بیوی کہے کہ یہ کیا یہ آدمیوں والی شکل ہے؟ یا یہ کہا کہ یہ کیا منحوسوں والی شکل بنائی ہے۔ تو یہ توہین ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ عورت مرتد ہو جائے گی۔ اور اگر توبہ بھی کر لے تو اس کا نکاح دوبارہ پڑھانا پڑھے گا۔ [کفریہ الفاظ اور ان کے احکامات مصنفہ عبد الشکور قاسمی صفحہ 50]

ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسلک کی کتب میں مقدس ترین ہستیوں کی بلند شان کے بارے میں جو تعریفی عبارت درج ہوتی ہے، دوسرا فرقہ اسے توہین بلکہ کفر قرار دے دیتا ہے۔ اس کالم میں تفصیلات اس لئے درج نہیں کی جاتیں کیونکہ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔ اس لئے ایک مثال پیش کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے بانی مولانا قاسم نانوتوی صاحب کی کتاب تحذیر الناس کی بعض عبارات پر بریلوی احباب کے قائد احمد رضا خان صاحب نے نہ صرف شدید اعتراضات کیے بلکہ اپنی کتاب حسام الحرمین میں ان کی بنا پر کفر کا فتوی بھی دیا اور اس کتاب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علماء کی طرف سے صادر کیے گئے کفر کے فتوے بھی شائع کیے۔

جب ہم تاریخی حقائق کا جائزہ لیتے ہیں تو خاص طور پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کے آخر میں اور آپ کی شہادت کے فوری بعد ایسا پرفتن وقت تھا جس کے بارے میں ہر فرقہ کا اپنا موقف ہے۔ اس دور میں وہ افسوسناک وقت بھی آیا جب کبار صحابہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لئے صف آراء بھی ہوئے۔ اور اس دور کے تاریخی حقائق کے بارے میں ایک فرقہ کے بیان کو دوسرا فرقہ توہین آمیز قرار دے سکتا ہے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات قائم کرنے کی ایک تاریخ ہے۔ اس پس منظر میں جائز طور پر یہ خدشات سر اٹھاتے ہیں کہ ان تاریخی واقعات کے بارے میں اپنے موقف کے اظہار کو بھی توہین صحابہ قرار دے کر مقدمات قائم کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

خلافت اور امامت کے مسئلہ پر اہل تشیع اور اہل تسنن احباب کے اپنے اپنے نظریات ہیں اور ہر شہری کی طرح انہیں اپنے نظریات اور عقائد کا پورا حق حاصل ہے۔ اگر اس سوچ کو معیار بنایا جائے تو ان احباب پر محض اپنے عقائد کے اظہار کی وجہ سے توہین مذہب کا مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ اور اس بات پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے کیا خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں ریاست کے مذہب سے آگے قدم بڑھا کر ریاست کا فرقہ بھی مقرر کرنا پڑے گا۔

اور اس سلسلہ میں یہ اکثر یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے کہ اگر پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ اکثریت کے نظریات کے خلاف موقف کے اظہار کو توہین مذہب قرار دے تو پھر یہی حق دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دینا پڑے گا اور جس طرح ہندوستان میں ہندو احباب کی اکثریت ہے دنیا کے کئی ممالک میں مسیحی احباب اکثریت میں ہیں۔

اسلام کی بنیاد توحید ہے اور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق کسی قسم کا شرک گناہ عظیم ہے۔ اور مسیحی احباب یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں۔ دوسری طرف قران شریف کی سورۃ مریم میں مسیحی احباب کے ان نظریات کو مکمل طور پر اور سختی سے رد کیا گیا ہے۔ اگر کسی ایسے ملک میں جس میں مسیحی احباب اکثریت میں ہیں یہ قانون بنا کراس قسم کے نظریات کے اظہار کو توہین مذہب قرار دے کر اس کی سزا عمر قید یا سزائے موت مقرر کر دی جائے تو ظاہر ایسے قانون سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب ہو گی۔ اور اگر اس قسم کا سلسلہ جاری رکھا جائے تو پوری دنیا میں کسی کی بھی مذہبی آزادی سلامت نہیں رہے گی۔

قرآن مجید میں بت پرستی کی شدید ترین مذمت کی گئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندو مذہب سے وابستہ احباب مختلف دیوتاؤں اور دیویوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ ان کا مذہب ہے اور ہر انسان کی طرح انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا حق ہے۔ بھارت میں ہندو مذہب سے وابستہ لوگوں کی اکثریت ہے۔ اگر بھارت میں یہ قانون بنا دیا جائے کہ ہم اس قسم کے نظریات کی اشاعت اور ان کے اظہار کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ اس میں ہمارے مذہب کی توہین کی گئی ہے تو اس سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی بری طرح مجروح ہو گی۔ اور اس پر احتجاج کیا جائے گا۔

لیکن اسی طرح مسلمان ممالک میں بھی ہر مذہب اور مسلک سے وابستہ شہریوں کو مکمل طور پر مذہبی آزادی دینی پڑے گی۔ خاص طور پر ”توہین مذہب“ کی آڑ میں بلاسفیمی کی سزائیں نافذ کی گئیں تو اس سے دنیا بھر میں ایسا رد عمل پیدا ہو سکتا ہے جس کے جن کو واپس بوتل میں ڈالنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔ مختصر طور پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ بھارت اور بعض یورپی ممالک میں انتہا پسند عناصر کی طرف سے ایسی پابندیوں کا مطالبہ سر اٹھا رہا ہے اور ان ممالک میں کروڑوں مسلمان آباد ہیں۔ اس لئے پاکستان میں کی جانے والی کسی قانون سازی کو عالمی منظر سے الگ کر نہیں پرکھا جا سکتا۔ بہتر ہوگا اگر پاکستان میں ایک وسیع مکالمہ کی صورت میں ان قوانین اور ان کے اطلاق کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *