لافٹر بک: ایک تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مصنفین جنہیں ہم ذاتی حیثیت سے جانتے ہوں ان کی کتب پر تبصرہ کرنا میرے نزدیک ذرا مشکل کام ہے۔

ناصر محمود شیخ کی پہلی کتاب ”بکھرے خواب“ اپنے نام کی طرح قاری کی سوچوں کو بھی ایک بار بکھیر کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اب مصنف نے ”لافٹر بک“ لکھ کر ایک ایسی یکسوئی مہیا کی کہ قاری سب کچھ بھول بھال کر کسی ایک نقطے کو پڑھتے اور سمجھتے ہوئے بے اختیار ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے۔

بکھرے خواب جیسی سنجیدہ کتاب کے بعد لافٹر بک لکھنا بھی حیرت انگیز کارنامہ ہی ہے کیونکہ ناصر محمود شیخ کی طبیعت کی حساسیت کو سمجھنے والے اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ سنجیدہ کام کرنے والا کا مزاح کو اکٹھا کرنا بھی ایک کمال ہے۔ ویسے بھی ہمارا معاشرہ ”تمھیں اٹکھیلیاں سوجھی ہم بے زار بیٹھے ہیں“ کے مصداق دکھ کو بھی اتنی شدت سے مناتا ہے کہ وہ کئی اوروں سے باقی ماندہ زندگی بھی چھین لیتا ہے۔

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد خیال گزرا کہ اگر اس کا نام ”بیوی نامہ“ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ اور ہاتھوں ہاتھ پہلا ایڈیشن مظلوم شوہر خرید لیتے۔ اگر پاکستان میں بیویوں کی کوئی آرگنائزیشن یا متحدہ ادارہ ہوتا تو یقیناً اب تک مصنف عدالت اور کچہری کے چکر کاٹ رہے ہوتے۔

یہ کتاب لکھ کر ناصر شیخ صاحب نے پاکستان کی فلم انڈسٹری پر ایک بڑا احسان کیا ہے کیونکہ ہماری انڈسٹری میں اب لکھنے والوں کے پاس مزاح کے سین لکھنے کے لئے قحط الرجال پایا جاتا ہے اور واٹس ایپ پر فارورڈ ہونے لطیفوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو اتفاق یا غلطی سے کوئی پاکستانی فلم ”کراچی سے لاہور تک“ یا ”میں پنجاب نہیں جاؤں گی“ جیسی دیکھنا نصیب ہوں تو اس میں ہنسانے کی ناکام کوششوں کے لئے جن فارورڈ لطیفوں کا سہارا لیا جا رہا ہوتا ہے وہ اس سے قبل کئی بار آپ کے واٹس ایپ کی زینت بن چکے ہوتے ہیں۔ اب کم از کم فلمی کہانی لکھنے والوں کو اپنا واٹس ایپ دیکھنے کی بجائے اس کتاب ”لافٹر بک“ سے مدد مل جایا کرے گی۔

اس کتاب کے حوالے سے کافی سینئر لوگوں نے اپنی آراء کا اظہار کیا لیکن سوائے ایک کے کسی کے بیانیے میں طنز یا مزاح نامی ہر شے نا پید تھی سبھی نے مزاح کی اہمیت پر روشنی ڈالنے تک اپنے قلم کو محدود رکھا۔ اس بابت صرف رضی الدین رضی نے ”این او سی لے کر قہقہہ لگانے والا معاشرہ“ لکھ کر جہاد کیا۔

موضوعاتی طور پر کتاب میں یکجا کی جانے والی تحریروں یا لطیفوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا تھا۔
پہلے حصے میں صرف بیویوں سے متعلقہ لطیفے اکٹھے رکھے جاتے،
دوسرے حصے میں جنرل مزاح، تیسرے حصے میں اقوال زریں جیسا طنز اور چوتھا حصہ تصاویری مزاح۔
کتاب کی طباعت بہت اچھے کاغذ پر کی گئی ہے اور قیمت 500 روپے رکھی گئی ہے۔

کتاب کی ابتدا کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ فضا کے حوالے سے کچھ یوں کی گئی ہے ”ایک لمبا سانس لیں اور رب کریم کا شکریہ ادا کریں کیونکہ دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز پر پڑے لاکھوں انسان پورا زور لگا کر بھی ایک سانس کی طاقت نہیں رکھتے۔“

صفحہ نمبر 108 پر معاشرے کی عمومی صورتحال پر ایک بہت گہرا اور کاٹ دار طنز ان الفاظ میں کیا گیا ہے ”آپ لاکھ موٹیویشنل تقاریر سن لیں لیکن جو انرجی کسی رشتے دار کے دیے ہوئے طعنے سے ملتی ہے وہ کوئی اور چیز دے ہی نہیں سکتی۔“

ہم میں سے جو نفسا نفسی کا شکار ہو کر اپنے شکم کی آگ بجھانے اور کچن کو چلانے کی کوشش میں دن رات محنت کر رہے ہیں انہیں کم از کم تھوڑی دیر رک بریک لینی چاہیے اور بریک میں چائے پانی کے ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ میں یہ کتاب ہو تو چہرے کے 70 مسلز کی اچھی ایکسرسائز ہو جائے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments