EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کی دیکھ بھال صرف عورت کی ذمہ داری کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت پرانی بات ہے، لالی ایک انگریزی روزنامے میں اور میں ایک اردو روزنامے میں کام کرتے تھے ایک روز وہ دفتر نہیں آئی اور اگلے روز اس نے بتایا کہ کام والی نے چھٹی کی تھی اس لئے اسے گھر رکنا پڑا اور پھر اس نے ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے پوچھا تھا ”آخر جب بھی ملازمہ چھٹی کرے یا بچہ بیمار پڑے تو ہمیشہ بیوی کو ہی دفتر سے چھٹی کیوں کرنی پڑتی ہے؟“ میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ لیکن اب لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں، بوڑھوں، بیماروں اور معذوروں کی دیکھ بھال معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں طبی دیکھ بھال، سماجی خدمات، بچپن میں یا معذوری کی صورت میں سماجی تحفظ (آرٹیکل 25 ) تعلیم سب کے لئے (آرٹیکل 26 ) کا حق بھی شامل ہے۔

ہوتا یہ رہا ہے کہ ان کاموں کو اہل خانہ، احباب اور رشتہ داروں ہی کی ذمہ داری سمجھا گیا ہے، اور ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز، نرسیں، اساتذہ، گھریلو ملازمائیں معاوضہ لے کر اس ذمہ داری میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ گویا معاشرے یا ریاست کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس حوالے سے ”کیئر ڈائمنڈ“ یا ”دیکھ بھال کی تکون“ کا تصور سامنے آیا ہے یعنی ریاست، مارکیٹ اور فیملی کے علاوہ دیگر ایکٹرز بھی شہریوں کے لئے رفاہی یا فلاحی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی روشن مثال عبدالستار ایدھی تھے۔ یعنی کیئر ڈائمنڈ میں سول سوسائٹی کے کام کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس وقت مجھے صالحہ آپا یاد آ رہی ہیں۔ پوری عمر ملازمت بھی کی اور بائیں بازو کی سیاست میں بھی حصہ لیتی رہیں۔ بڑھاپا آیا تو ساتھ بیماریاں بھی آئیں۔ دونوں بیٹیاں کینیڈا منتقل ہو چکی تھیں، وہ بلاتی رہیں، پہلے تو مزاحمت کرتی رہیں لیکن بالآخر پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا۔ ان کے اعزاز میں ہم نے ایچ آر سی پی میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام بھی کیا تھا۔ تب بھی میں نے یہی سوال اٹھایا تھا کہ وہ لوگ جو تمام عمر ریاست اور اس کے شہریوں کی بھلائی کے لئے کام کرتے رہتے ہیں، بڑھاپے میں انہیں اپنے بائیولوجیکل بچوں کی طرف ہی کیوں لوٹنا پڑتا ہے۔

جب کہ یہ لوگ تو ہر انسان کے دکھ درد پر تڑپ اٹھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ عمر بھر تو انہوں نے غریبوں اور مظلوموں سے محبت کی ہوتی ہے اور ان ہی کے لئے کام کیا ہوتا ہے تو پھر بڑھاپے میں ریاست ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کیوں نہیں سنبھال سکتی۔ یہی بات بچوں کے بارے میں بھی صحیح ہے کہ ریاست اور سماج میں رہنے والے لوگوں کے بچوں کے لئے بنیادی ضروریات اور تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اسلامی فلاحی ریاست اور سوشلسٹ ریاست دونوں اس ذمہ داری کو تسلیم کرتی ہیں مگر سرمایہ دارانہ اور نیو لبرل نظام ایسی کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

لگتا یوں ہے کہ بات اب صنعتی دور کے آغاز میں سامنے آنے والی سرمایہ داری اور سوشلزم سے آگے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت دنیا کو جو ٹیکنالوجیکل، اقتصادی اور ماحولیاتی چیلنجز درپیش ہیں، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اب بات کیئرنگ اکانومیز یا پارٹنرزم یعنی دیکھ بھال اور شراکتی معیشتوں کی ہو نے لگی ہے جن میں انسانی بقا اور انسانی ترقی پر زور دیا جاتا ہے۔ پہلے ہی خودکار مشینوں کی وجہ سے لوگ بے روزگار ہو رہے تھے، کووڈ 19  نے اور قیامت ڈھا دی۔ اب ضرورت ایک واضح اقتصادی نقشہ اور پالیسیاں بنانے کی ہے۔ خاندانوں کے اندر وسائل مختص کرنا، عورتوں کے کاموں کو نتیجہ خیز یا پیداواری سمجھنے کی بجائے تولیدی یا پیدائشی کام سمجھنا، عورتوں کے مرتبے کو کم تر گرداننا جیسے موضوعات پر بات شروع ہو گئی ہے۔

اب سول سوسائٹی سماجی تحفظ یا سوشل سیکیورٹی پروٹیکشن پر بہت زور دے رہی ہے۔ اس سے مراد صحت، پنشن اور بے روزگاری سے تحفظ کا نظام ہے۔ اس میں ضرورت مندوں کی مالی امداد، زچگی، معذوری، حادثے کی صورت میں کام کرنے والوں کی مدد و اعانت، بے روزگاری الاؤنس اور بوڑھوں کے لئے پنشن وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کے آئین میں پرنسپلز آف پالیسی کا آرٹیکل 38 C بھی ریاست سے یہی مطالبہ کرتا ہے۔

نینسی فولبر ایک فیمنسٹ نظریہ دان ہیں۔ ان کے کام میں ”اکنامکس آف کیئرنگ“ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بقول ان کے ہمیں عورت ہونا اچھا لگتا ہے مگر اس کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ صنفی اختلافات کا اثر دوسرے معاملات پر بھی پڑتا ہے اور یہ مزید اختلافات کو جنم بھی دیتے ہیں۔ نسائیت اور مردانگی کا مفہوم سمجھنے کی پریشانی میں آپ کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ دیکھ بھال والی معیشتوں کی طرح سوشلزم میں بھی واضح طور پر نسائیت کی جھلک نظر آتی ہے، اسی لئے اکثر مرد سوشلزم سے خوف کھاتے ہیں۔

جب کہ فیمنزم میں کچھ لڑکوں والی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اسی لئے کچھ عورتیں اسے پسند نہیں کرتیں۔ ہے نا مشکل بات؟ چلئے فرض کرتے ہیں کہ سوشلزم اور فیمنزم میں جنسی اختلاط ہوتا ہے اور دونوں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو پالتے پوستے اور بڑا ہوتے دیکھتے ہیں۔ تو جناب پولٹیکل اکانومی، نفسیات اور فیمنزم کے مقام انقطاع یا انٹر سیکشن سے جو کچھ برامد ہوتا ہے اسے آپ کیئرنگ اکانومیز یا دیکھ بھال والی معیشتیں کہہ سکتے ہیں۔

اگر ہمارے معاشروں میں با معاوضہ کیئر ورک کا شعبہ مضبوط ہو جائے تو عورتوں کو ماؤں اور بیویوں کی حیثیت سے بھی اپنی پسند کا کام کرنے کا موقع ملے گا۔ انہیں کام کا دہرا تہرا بوجھ نہیں اٹھانا پڑے گا۔ اور صنفی مساوات کو فروغ ملے گا جو ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے