جاوید میانداد: ’میرے والد کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ میں وکٹ جلدی گنوا دوں‘

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ نومبر 1974 کی بات ہے جب سندھ اور پنجاب کی انڈر 19 ٹیمیں لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں قومی انڈر 19 کرکٹ چیمپئین شپ کا فائنل کھیل رہی تھیں۔ پہلے دن سندھ کی ٹیم نو وکٹیں گنوا چکی تھی لیکن اس کے سترہ سالہ کپتان سنچری بنا کر بدستور وکٹ کر ڈٹے ہوئے تھے اور ناٹ آؤٹ تھے۔

اس نوجوان نے جس بولنگ اٹیک کے خلاف یہ سنچری سکور کی تھی اس میں عبدالقادر، مدثر نذر عارف نقاش اور علی ضیا بھی شامل تھے۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی جب سندھ کی ٹیم کی دوسری اننگز آئی تو یہی سترہ سالہ نوجوان ایک بار پھر پنجاب کے بولرز پر حاوی رہا بلکہ اس مرتبہ تو اُس نے ناقابل شکست ڈبل سنچری بنا ڈالی۔

یہ نوجوان جاوید میانداد تھے جنھیں دنیا نے ایک عظیم بیٹسمین کے طور پر دیکھا۔

’دہائی کی دریافت‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر عبدالحفیظ کاردار سٹیڈیم میں اپنے کمرے سے نوجوان جاوید میانداد کو بیٹنگ کرتا دیکھ رہے تھے۔انھوں نے میچ کے بعد میانداد کو اپنے پاس بلوایا اور ان سے مخاطب ہوئے ’بہت اچھا کھیلے، اسی طرح کھیلتے رہو۔‘

کاردار نے اس تعریف کو صرف وہیں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اگلے دن شائع ہونے والے اخبارات میں انھوں نے جاوید میانداد کو ’دہائی کی دریافت‘ قرار دیا۔

بے ضرر شرارتیں، غیرمعمولی ٹیلنٹ

12 جون 1957 کو کراچی میں پیدا ہونے والے جاوید میانداد نے ہوش سنبھالا تو والد میانداد نور محمد اور بڑے بھائی بشیر میانداد کو کرکٹ کے جنون میں مبتلا پایا اور پھر وہ خود اس کھیل کی محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ والد اور بھائی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

جاوید میانداد سکول میں پڑھائی سے زیادہ کرکٹ میں دلچسپی لیا کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ اپنا سکول بیگ کسی دوست کو یہ کہتے ہوئے تھماتے کہ ‘بعد میں لے لوں گا’ اور یہ کہہ کر میچ کھیلنے نکل جاتے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید، جاوید میانداد کے بچپن کےدوست ہیں۔ وہ جاوید میانداد کو ایک ایسے بچے کے طور پر جانتے ہیں جو اپنی بے ضرر شرارتوں کی وجہ سے مشہور رہا۔

ہارون رشید بی بی سی اُردو کے ساتھ پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں اور جاوید چرچ مشن سکول میں پڑھتے تھے، یہ وہی سکول ہے جہاں بانی پاکستان محمد علی جناح نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ جاوید کے سب سے بڑے بھائی بشیر میانداد ہمارے سکول کی ٹیم کے کپتان تھے۔ جاوید میانداد کے ایک اور بھائی حنیف میانداد نویں کلاس میں میرے ساتھ تھے جبکہ جاوید میانداد چھٹی کلاس میں تھے۔‘

ہارون رشید کا کہنا ہے ’جب بشیر میانداد سکول سے گئے تو میں سکول کی ٹیم کا کپتان بنا۔ بشیر بھائی نے مجھ سے کہا کہ میرے چھوٹے بھائی جاوید کو بھی دیکھ لینا، وہ بھی بہت اچھا کرکٹر ہے۔ جب سکول کی ٹیم بنانے کا وقت آیا تو میں نے اپنے ٹیچر سر پال سے بات کی۔ انھوں نے جب جاوید کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو بہت چھوٹا ہے اگر اسے کھلایا تو گیند لگنے کا خطرہ ہے۔ اسے اس سال ٹیم میں نہیں رکھتے۔‘

ہارون رشید کہتے ہیں ’ہم لوگ مشن روڈ پر سکول کے برابر والی بلڈنگ میں رہتے تھے جبکہ جاوید میانداد کی فیملی رنچھوڑ لائن میں سول ہسپتال کے قریب واقع بلڈنگ میں رہتی تھی۔ ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا تھا اور فیملی مراسم ہو گئے تھے۔‘

ہارون رشید بتاتے ہیں ’بچپن ہی سے جاوید غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ میں پہلے شاہین جمخانہ کی طرف سے کھیلتا تھا پھر میں نے مسلم جمخانہ میں شمولیت اختیار کی جہاں میانداد کھیلتے تھے۔ ابتدا میں تو وہ اتنے چھوٹے تھے کہ ان سے صرف فیلڈنگ کراتے تھے۔‘

ہارون رشید کہتے ہیں ’جب ہم ان کی بلڈنگ کی چھت پر کھیلا کرتے تھے تو پڑوسی ہمارے شور سے پریشان ہوتے تھے اور ہمیں منع کرتے تھے جس پر جاوید کو بہت غصہ آ جاتا اور وہ اس پڑوسی کے دروازے پر کوئی نہ کوئی چیز رکھ کر آ جاتے کہ یہ ہمیں کیوں منع کرتے ہیں۔‘

ہارون رشید کا کہنا ہے ’جب ہم پاکستانی ٹیم میں آ گئے تو اس وقت بھی جاوید کی شرارتوں میں کمی نہیں آئی بلکہ جب ہم جہاز میں سفر کر رہے ہوتے تو وہ کچھ ایسی آوازیں نکالا کرتے کہ قریب سے گزرنے والے سٹیورڈ اور پرسر یہ سمجھتے کہ کوئی کیڑا یا مینڈ ک ان کے کوٹ یا شرٹ میں آ گیا ہے اور وہ پریشان ہو کر کوٹ اور شرٹ اتار کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔‘

والد کی تربیت کا گہرا اثر

جاوید میانداد کے والد میانداد نور محمد پاکستان بننے سے پہلے پولیس میں انٹیلیجینس افسر تھے جن کی تعیناتی احمد آباد اور بڑودہ میں تھی۔ وہ کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے شوقین تھے اور اسی وجہ سے نواب آف پالن پور کی سرپرستی میں ہونے والے کھیلوں کے انتظامی معاملات میں وہ پیش پیش ہوتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد میانداد نور محمد کراچی کاٹن ایکسچنج سے وابستہ ہو گئے جبکہ کرکٹ کا شوق انھیں کراچی کے مسلم جم خانہ اور کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن میں لے گیا۔ انھوں نے احمد آباد کرکٹ کلب کے نام سے اپنا ذاتی کلب بھی بنایا تھا۔

جاوید میانداد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’میں گلی محلے میں کھیلنے والا سٹریٹ کرکٹر تھا۔ والد مسلم جمخانہ کے سیکرٹری تھے وہ مجھے اپنے ساتھ لے جاتے جہاں سینیئر کھلاڑی میچ کھیلا کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر مجھے فیلڈنگ کے لیے میدان میں اترنا پڑتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ میں مسلم جمخانہ کی ٹیم میں شامل ہو گیا۔ میرے کپتان مسرور مرزا تھے۔ جن کے محمد برادران سے بہت اچھے تعلقات تھے۔‘

جاوید میانداد کہتے ہیں ’میرے والد کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ میں اپنی وکٹ جلد گنوا دوں۔ یہی سوچ میرے والد کے دوست اے آر محمود کی بھی ہوتی تھی جو بہت اچھے کوچ تھے۔ انھوں نے مجھے سمجھایا کہ کون سا سٹروک کب کھیلنا ہے اور کب نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

وسیم اکرم: کالج کی ٹیم کا بارہواں کھلاڑی پاکستانی ٹیم کا فاسٹ بولر کیسے بنا؟

شارجہ کا یادگار چھکا: توصیف احمد سنگل نہ لیتے تو میانداد چھکا کیسے مارتے؟

جب عمران خان نے انڈیا کے خلاف جیت کو جاوید میانداد کے ریکارڈ پر ترجیح دی

’میں اپنے بڑے بھائی بشیر میانداد کو کریڈٹ دوں گا کہ انھوں نے کرکٹ کی گیند سے میرا خوف ختم کیا اور اعتماد سے بیٹنگ کرنے کی خوب پریکٹس کرائی۔ میری عمر اس وقت دس سال تھی اور میرے ہاتھ میں صرف بیٹ ہوا کرتا تھا پیڈ یا گلوز نہیں ہوتے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے ایک کرکٹ کلب بھی جوائن کیا جس کا نام ایک لاکھ کرکٹ کلب تھا۔ اس کلب کو برنس روڈ پر دواؤں کا کاروبار کرنے والے ہارون اور سخاوت چلاتے تھے۔‘

مشتاق محمد کا بلا تحفے میں

جاوید میانداد نے اپنی کتاب کٹنگ ایج میں لکھا ہے ’محمد برادران میں سے کوئی ایک بھائی مسلم جمخانہ میں آ کر ضرور کھیلتا اور جب ایسا ہوتا تو میری کوشش ہوتی کہ میں اپنی بیٹنگ سے انھیں متاثر کر سکوں۔‘

’مجھے یاد ہے کہ مشتاق محمد نے مجھے اپنا انگلینڈ میں بنا ہوا کرکٹ بیٹ تحفے میں دیا تھا جس سے وہ ٹیسٹ میچ بھی کھیلے تھے لیکن مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی تھی کہ انھوں نے میرے والد کو کہا تھا کہ یہ لڑکا ایک دن پاکستان سے ضرور کھیلے گا۔‘

’مجھے لگا یہ میرا پہلا ٹیسٹ ہے‘

سابق ٹیسٹ کرکٹر آصف اقبال 1975 میں ورلڈ کپ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جس میں اٹھارہ سالہ جاوید میانداد بھی شامل تھے تاہم آصف اقبال کا جاوید میانداد کے ساتھ پہلا باضابطہ رابطہ اکتوبر 1976 میں اس وقت ہوا جب یہ دونوں لاہور ٹیسٹ کھیل رہے تھے جو جاوید میانداد کا اولین ٹیسٹ بھی تھا۔

آصف اقبال کہتے ہیں ’55 رنز پر ہمارے چار بیٹسمین آؤٹ ہو چکے تھے اور پھر میری جاوید کے ساتھ 281 رنز کی پارٹنرشپ ہوئی تھی۔ ہم دونوں نے سنچریاں بنائی تھیں۔ جاوید میانداد، خالد عباداللہ کے بعد دوسرے پاکستانی بیٹسمین بنے تھے جنھوں نے اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری سکور کی۔ اس اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے جاوید مجھے جس طرح سمجھا رہے تھے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہا ہوں اور جاوید کئی ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہوں۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں ’وکٹوں کے درمیان دوڑنے کی بہترین انڈر سٹینڈنگ میری جاوید کے ساتھ رہی وہ کسی دوسرے بیٹسمین کے ساتھ نہیں ہوئی۔ 1978 میں انڈیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں بھی جاوید میانداد کے ساتھ دوڑ کر ہم نے اتنے رنز بنائے تھے جتنے چوکے چھکوں سے بھی نہیں بنے تھے۔‘

آصف اقبال کہتے ہیں ’میانداد میدان میں جس طرح کی شرارتیں کرتے تھے اس کی وجہ سے وہ شائقین میں بہت مقبول ہوگئے تھے۔ وہ فیلڈ میں ہر کھلاڑی کا حوصلہ بڑھاتے رہتے تھے۔ اسی طرح ڈریسنگ روم میں بھی وہ ہنسنے ہنسانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ ان کے آنے سے پہلے ڈریسنگ روم کا ماحول بہت زیادہ سنجیدہ ہوتا تھا ان کے آنے کے بعد اس میں خوشگوار تبدیلی آئی تھی۔‘

آصف اقبال نے بتایا ’جب میانداد انگلینڈ میں پہلی بار کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے آئے تھے تو انگریزوں کو انھیں میانداد کہنا ذرا مشکل ہوتا تھا لہذا وہ انھیں مم اینڈ ڈیڈ کہہ کر پکارتے تھے۔‘

دلیپ دوشی کو بہت تنگ کیا

انڈیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر سنیل گاوسکر جاوید میانداد کے بہت بڑے مداح ہیں۔ وہ نہ صرف ان کی کرکٹ کی صلاحیتوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کی بذلہ سنجی کو بھی ہمیشہ پسند کرتے رہے ہیں۔

سنیل گاوسکر کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ جاوید میانداد کے دلچسپ واقعات مختلف ٹی وی شوز اور نجی محفلوں میں انھی کی آواز میں سُنا کر حاضرین کو محظوظ کرتے ہیں جن میں انڈین سپنر دلیپ دوشی کے ساتھ میانداد کی جملہ بازی قابل ذکر ہے۔

سنیل گاوسکر نے اپنی کتاب idols میں جاوید میانداد کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے پہلی بار نوجوان جاوید میانداد کو 1975 کے عالمی کپ کے دوران لندن کے ہوٹل کی لابی میں دیکھا تھا جب انگریزی پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے انھیں چائنیز ریسٹورنٹ تک جانے میں دشواری ہو رہی تھی۔

گاوسکر کہتے ہیں کہ انڈین ٹیم نے 1979 کے دورۂ بھارت میں ظہیر عباس کو قابو کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی لیکن جاوید میانداد کے لیے اس طرح کی حکمت عملی وضع کرنا مشکل تھا کیونکہ وہ بہت ورسٹائل کرکٹر تھے۔

مزید پڑھیے

دروغے والا کا ارسلان ’ٹیکن کا پاکستانی بادشاہ‘

نسیم شاہ: ’والد نے کہا انگریز والا کھیل مت کھیلو‘

بلے بازوں کو آپریشن تھیٹر پہنچا دینے والے بے رحم ویسٹ انڈین فاسٹ بولرز

گاوسکر کہتے ہیں کہ وکٹوں کے درمیان دوڑنے اور باؤنڈری کی طرف جاتی گیند کو تیزی سے روکنے میں جاوید میانداد کو کمال مہارت حاصل تھی اسی لیے وہ ان سے مذاقاً کہا کرتے تھے کہ فیلڈ میں بجلی کے پاؤں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

تمہاری وجہ سے مجھ پر جرمانہ ہوگیا

جاوید میانداد کہتے ہیں ’بیٹنگ ہو یا فیلڈنگ میں ُچپ نہیں رہتا تھا اور بولتا رہتا تھا۔ آسٹریلوی ٹیم یہاں آئی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق بیٹنگ کے دوران آسٹریلوی کرکٹرز سے بات کرنے کی کوشش کی تو ڈیوڈ بون اور دوسرے کھلاڑیوں نے منھ پھیر لیے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ڈین جونز سے میری اچھی دوستی تھی۔ وہ ایک میچ پہلے تک مجھ سے بات کر رہے تھے لیکن پھر وہ بھی خاموش نظر آئے تو میں نے لاہور سے کراچی کی فلائٹ کے دوران ان سے پوچھا کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ تو ڈین جونز نے جواب دیا کہ جب میں نے تم سے بات کی تھی تو مجھ پر میری ٹیم نے جرمانہ عائد کر دیا کیونکہ ہم سب نے میٹنگ میں یہ طے کیا تھا کہ میانداد کی کسی بات کا جواب نہیں دینا ہے کیونکہ وہ ہماری توجہ ہٹا دیتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words