EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

موسمی تغیرات اور ہماری ذمے داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلوبل کلائمیٹ انڈکس نے اپنی 2020 کی شایع شدہ رپورٹ میں ماحولیاتی تغیرات کا شکار ہونے والے ممالک میں پاکستان کو پانچویں نمبر پر شامل کیا ہے۔ حالیہ صورت حال اس امر کی غمازی کرتی ہے کے آنے والے سالوں میں پاکستان جیسے ممالک کے پاس موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ملک کے شمال میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جن سے جھیلوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب میدانی علاقوں میں پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ وہیں موسموں کے تغیرات اور حیاتی نظام میں پایا جانے والے تنوع بھی خطرے سے دو چار ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر خطرناک اور زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور بہتر ماحولیاتی ترقی کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جن میں 2030 تک روایتی فوسل فیول جس میں کوئلہ اور تیل شامل ہے سے حاصل ہونے والی توانائی کو 60 فیصد تک قابل تجدید توانائی پر منتقل کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

وہیں % 30 ٹرانسپورٹ کی بھی منتقلی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی پر کام جاری ہے۔ 2014 میں شروع کی جانے والی شجر کاری مہم، اکو ٹورازم اور ایسے دیگر معاشی اقدامات شامل ہیں جو قدرتی وسائل پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر پورے کیے جا سکیں۔ موسمی تغیرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کیے گے اقدامات میں گرین بنکنگ جیسے منصوبے شامل ہیں۔ جن کا مقصد ان خطرات سے نمٹنے کے لئے سرمایہ کاری مہیا کرنا ہے۔ 500 ملین ڈالرز کے Green Eurobond۔ کا اجرا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے جس کی ذمے داری UNFCCC کے رکن ممالک پر عائد ہے۔

1992 کا یہ معاہدہ جو ماحولیاتی تنزلی کی روک تھام کے لیے کیا گیا تھا اس امر پر اصرار کرتا نظر اتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو موسم سے متعلقہ اہم خطرات سے نمٹنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک مالی معاونت فراہم کریں گے۔ 2013 میں ہونے والا پیرس معاہدہ اس کی ایک کڑی ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کی مدد سے 100 بلین ڈالرز کا ایک امدادی فنڈ بنانے کا عزم کیا گیا تھا مگر اتنا عرصہ گزارنے کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ماحولیاتی فنڈز سے ملنے والی رقم کا ایک خطیر حصہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا پاکستان جیسے ممالک کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہی جن کا اخراج ایک تحقیق کے مطابق ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک سے خارج کی جانے والی زہریلی گیسوں کے نتیجے میں ہونے والی گلوبل وارمنگ سے یہ ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں مگر اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے Adaptation کی شکل میں ملنے والی امداد نہ ہونے کے مترادف ہے۔

اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں اس مصرف کے لیے صرف 19 % امداد دی گئی جو کے ناکافی ہے اور صورتحال برقرار رہنے کی شکل میں زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ جس کا اگلا نتیجہ عالمی بینک کے مطابق یہ ہوگا کے 100 ملین لوگ 2030 میں خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ جہاں مالی امداد میں کمی کا عنصر اہم ہے وہیں ترقی یافتہ ممالک کا جانب سے امداد کے بجائے قرضہ جات دینے کا رجحان ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی مسائل میں اضافے کا رجحان بن رہا ہے جو قرضوں اور سود کے لامتناہی سلسلے میں پھنستے جا رہے ہیں۔

کوڈ۔ 19 سے اس صورتحال میں مزید ابتری آئی ہے۔ 2020 کے معاشی جائزے کے مطابق پاکستان کو 2010 میں 3.8 ملین ڈالرز کی امداد جنگلات کی کٹائی اور اس سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی الودگی سے نمٹنے کے لیے دی گئی تھی کی جانب سے 2019 میں 35 ملین Green Climate Fund ڈالرز زراعت، لائیو اسٹاک، قابل تجدید توانائی اور قدرتی وسائل کے انتظام اور انصرام میں دیا گیا۔ مگر موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ان سے پیدا کردہ مسائل کے حل کے لئے یہ رقم مطلوبہ مقدار سے کم ہے۔

2017 کی Asian Development Bank کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس ضمن میں 15 ملین ڈالرز کی امداد دی گئی جبکہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے ضرورت 14۔ 7 بلین ڈالرز سالانہ کی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ 2021 نومبر میں ہونے والے کانفرنس آف پارٹیز (COP) کے اجلاس میں جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے مقرر کردہ اہداف پر عملدرآمد کرایا جائے وہیں ترقی پذیر ممالک کو اس سلسلے میں ملنے والی امداد میں اضافہ اور سرکاری اور نجی دونوں شعبوں سے سرمایہ کاری کے حصول کے لئے نئی راہیں تلاش کرنا ہونگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ اختر شیخ کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے