EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

افغان امن میں مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہی کو سمجھا جائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک افغان مذاکرات کے لئے اسلام آباد آئے ہوئے افغان حکومت کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں امن کی ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی تو ہم ایسی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ افغانستان میں سب فریقین کو مل کر امن قائم کرنا ہوگا۔ پاکستان پر الزام تراشی سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے افغان امن میں حائل مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی سرکاری پوزیشن واضح کی ہے لیکن اسے حالات کی ستم ظریفی یا گزشتہ تین دہائیوں کے دوران افغانستان کے حوالے سے پاکستانی پالیسیوں کا نتیجہ۔ ۔ جو بھی سمجھ لیا جائے، اس کا ذمہ دار پاکستان کوہی سمجھا جائے گا۔ یہ الزام، صرف افغان حکومت ہی عائد نہیں کرے گی بلکہ امریکہ اور دیگر متعلقہ فریق بھی پاکستان کو اگر افغانستان میں قیام امن کی کنجی قرار دیتے ہوئے اسے اعزاز دیتے ہیں تو وہاں حالات خراب ہونے پر پاکستان ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ امریکہ کی سربراہی میں عالمی اتحاد نے افغانستان سے انخلا کا اعلان کرکے اپنے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ اب وہ یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ہی افغان طالبان کو کسی مناسب سمجھوتہ تک لانے اور عبوری حکومت کے قیام پر آمادہ کرسکتا ہے۔ دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغان طالبان کو فتوحات حاصل ہورہی ہیں۔ انہوں نے متعدد نئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور بیرونی افواج کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے مذاکرات اور معاہدہ کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن بھی مستحکم کی ہے۔

ان حالات میں طالبان ایک بار پر ملک پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ موجودہ افغان حکومت اور دیگر طاقت ور عناصر طالبان کی مکمل سیاسی خود مختاری کو ملک میں شروع ہونے والی سیاسی اصلاحات اور اقتدار میں سب گروہوں کی شراکت کے حوالے سے خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان پاکستان کی پشت پناہی کی وجہ سے منہ زور ہیں اور بین الافغان مذاکرات میں سنجیدہ رویہ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس نظریہ کے مطابق افغان طالبان کا خیال ہے کہ ایک بار غیر ملکی فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد وہ عسکری لحاظ سے اتنے طاقت ور ہوں گے کہ کوئی دوسرا گروہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ کسی حد تک افغان طالبان یہ طرز عمل اختیار کرنے میں درست بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ اندازہ بھی جائز ہوگا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کابل کی حفاظت کے قابل نہیں ہوں گی اور وہ بھرپور حملہ کر کے دارالحکومت پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ایک بار پھر وہ اسلامی افغان امارات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ اندازہ اگر درست بھی ہو تو بھی اس پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔ افغان سیکورٹی فورسز ایک فعال فوج ہے جسے اہم ملکوں کی طرف سے تربیت اور عسکری ساز و سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔ طالبان کو کابل پر قبضہ کے لئے شدید جد و جہد کرنا ہوگی۔ یہ جد و جہد طویل خانہ جنگی کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ ماضی سے سبق لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ اس طرح افغانستان میں بدامنی اور تشدد کا ایک نیا طویل دور شروع ہوسکتا ہے۔

پاکستان کو شاید اس صورت حال کا اندازہ ہے۔ دنیا کے ساتھ وابستہ مفادات، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور اندرونی طور پر عسکری گروہوں کے عزائم کے تناظر میں اسلام آباد کی یہی خواہش ہوگی کہ افغانستان میں قیام امن کا عبوری دور باہمی افہام و تفہیم سے طے ہوجائے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان کی حکمت عملی کے بارے میں جو تاثر سامنے آتا ہے اس میں اس کا پلڑا طالبان کی طرف جھکا ہؤا دکھائی دیتا ہے۔ کابل میں صدر اشرف غنی کی حکومت اس صورت حال میں پاکستان پر براہ راست جانبداری کا الزام عائد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی پشت پناہی اور کراس بارڈر جنگی کارروائیوں کے ذریعے اتحادی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن ملک میں پائیدار نظام قائم کرنا افغان گروہوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ شاہ محمود قریشی نے پاک افغان ڈائیلاگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہی بات دہرائی ہے اور امن منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے درمیان بداعتمادی اور تلخی کی شدت کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے افغان حکومت کے خیرسگالی کے دورے پر آئے ہوئے وفد سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں امن کے حوالے سے پیدا ہونے والی مشکلات کی ساری ذمہ داری بظاہر اشرف غنی کی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ وہاں کے حالات سے پاکستان کے بری الذمہ ہونے کا اعلان بھی بظاہر یہ اصرار ہے کہ اصل مسئلہ اشرف غنی اور ان کا رویہ ہے۔ اس معاملہ میں یہ نکتہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ باتیں میڈیا کی عدم موجودگی میں ہونے والے دو طرفہ مذاکرات کے دوران نہیں کی گئیں بلکہ ایک پبلک تقریر میں بیان ہوئی ہیں۔ اس طرح پاکستانی حکومت نے افغان حکومت پر شدید بدگمانی اور اس کی نیت پر شبہ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ کے یہ الفاظ قابل غور ہیں: ’صدر اشرف غنی افغان وفد کے ہمراہ جلد ہی واشنگٹن جانے والے ہیں۔ اس دورہ کے لئے میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں لیکن اگر اس دورہ کا مقصد پاکستان پر نئی الزام تراشی کرنا ہے اور افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا ہے تو انہیں جاننا چاہئے کہ اس سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہم پر بہت الزام تراشی ہو چکی۔ اب ہم کوئی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ اب کوئی بھی اس قسم کی الزام تراشی کو قبول نہیں کرے گا‘۔

پاکستان، امریکہ طالبان معاہدہ میں اپنے کردار کو اہم ترین سفارتی کامیابی قرار دیتا ہے۔ امریکی عہدیداروں کی طرف سے اس بارے میں جب کوئی ایک جملہ کہا جاتا ہے تو اسے پاکستانی قیادت کے خلوص اور عالمی امن میں پاکستان کی ضرورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں امریکی اسٹریٹیجک ترجیحات تبدیل ہونے اور پاکستان اور چین کے درمیان خاص طور سے سی پیک معاہدہ کے ذریعے تعلقات میں وسعت کے بعد امریکہ کے لئے افغانستان سے قطع نظر پاکستان کی کوئی خاص اہمیت بھی نہیں ہے۔ ٹرمپ کے دور میں پاکستان کی ہمہ قسم امداد بند کرکے امریکہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا ثبوت بھی فراہم کردیا گیا ہے۔ امریکہ کا کوئی صدر اپنے عہدے کی مدت کے دوران بھارت کا دورہ کرنے سے گریز نہیں کرسکتا لیکن پرویز مشرف کے دور میں صدر بل کلنٹن کے بعد سے کوئی امریکی صدر پاکستان نہیں آیا۔ کلنٹن نے بھی اپنے دورے میں پرویز مشرف کی حکومت کے ساتھ ترش رویہ اختیار کیا تھا۔ اسے بظاہر پاکستان میں جمہوری حکومت کے خاتمہ پر امریکی ’ ناراضی‘ کہا گیا تھا لیکن درحقیقت یہ بدلتی ہوئی امریکی ترجیحات کا اشارہ تھا۔

صدر جو بائیڈن نے صدر منتخب ہونے کے بعد سے اب تک وزیر اعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرنے اور خطے کے حالات پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ البتہ فوجی قیادت سے رابطوں میں افغان امن کے حوالے سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ افغانستان ہی اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات قائم رکھنے کی بنیادی کڑی ہے۔ ان حالات میں اگر افغانستان میں حالات خراب ہوتے ہیں یا طالبان کابل پر قبضہ کرکے اسلامی امارات قائم کرلیتے ہیں اور ان بنیادی شہری حقوق کو پامال کرتے ہیں جو طالبان کی حکومت ختم کرنے کے بعد اتحادی افواج کے تعاون سے افغان عوام اور خاص طور سے افغان خواتین کو دیے گئے ہیں تو اس کا ذمہ دار بلاشبہ پاکستان ہی کو سمجھا جائے گا۔ پھر وزیر خارجہ کے یہ کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ہم حالات کی خرابی کی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان متعدد حوالوں سے امریکی سفارتی اعانت کا محتاج ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزرنے کے باوجود امریکہ بدستور دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ صدر بائیڈن نے حالیہ دورہ یورپ کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اپنی بالادستی قائم رکھنے کا مکمل ارادہ رکھتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں خاص طور سے خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے کردار کی بات بھی کی ہے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ طالبان کی حمایت کرتے ہوئے اور یہ توقع باندھتے ہوئے بھی کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اشرف غنی جیسے عناصر کو نیچا دکھانے میں کامیاب ہو جائیں گے، پاکستانی حکومت بنیادی شہری حقوق کے حوالے سے مغربی رویہ سے گریز کا حوصلہ نہیں کرسکتی۔ اور اس سوال پر افغان طالبان کے مؤقف کی تائید نہیں کرے گی۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا پاکستانی قیادت افغان طالبان کو یہ بنیادی اصول ماننے پر مجبور کرسکتی ہے؟ اس کا جواب آسان نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے سرحد پار سے مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے اس مسئلہ کو پاکستان میں افغان مہاجرین سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سب افغان مہاجرین عزت و احترام سے اپنے وطن لوٹ جائیں گے، پھر پاکستان سرحد پار سے کسی بھی قسم کی مداخلت کا پوری طرح ذمہ دار ہوگا۔ اس بیان میں درحقیقت کراس بارڈر مداخلت کا اقرار موجود ہے جو پاکستانی مؤقف کو کمزور کرتا ہے۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ گنجلک اور پیچیدہ ہے۔ پاکستان کو دوحہ مذاکرات کا ’سپانسر‘ بنتے وقت اپنا یہ مؤقف مذاکرات کا بنیادی نکتہ بنوانا چاہئے تھا۔ تب ہی اب وہ یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہوتا کہ اگر معاہدہ کے مطابق مہاجرین واپس نہ گئے تو سرحد پار مداخلت بھی بند نہیں ہوگی۔ اب یہ بات دہرانے سے پاکستان کے بارے میں یہی مانا جائے گا کہ وہ افغانستان میں طالبان کی پوزیشن مستحکم کرکے اپنےدیرینہ سیاسی و تزویراتی عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ خوش آئند صورت حال نہیں ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1918 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے