نفسیاتی تنقید


کسی فن پارے کی تخلیق سے پہلے ہی تخلیق کار کے ذہن میں اس فن پارے کی تنقید آجاتی ہے وہ اس فن پارے کو نقاد کی صورت سوچتا ہے اپنے خیالات و افکار کو کمال سنجیدگی سے زیب قرطاس کرتا ہے اسی طرح خود تخلیق کار اپنے فن پاروں کی ترامیم اور اصافتوں سے مزین کرتا ہے اس موضوع کے پیچھے چھپے ہوئے میرے نقطہ نظر کو پا لے گا یا اس کے اندر میرا اصل موضوع جاننے کی سکت بھی ہو گی یاں وہ بغیر اس موضوع اور نقطہ نظر کو مسخر کرنے کے لیے ہی اسے پڑھے گا یا اس سے استفادہ کرے گا۔

قاری سے متعلق تمام امور کو سوچنے اور جاننے کے بعد موضوع کا انتخاب کرے گا اور زبان کا انتخاب کرے گا کہ کس زبان میں وہ اپنی تحریر پیش کرے گا۔ نفسیاتی تنقید ایسی تنقید جس میں ادیب کی ذہنی کیفیات کا مطالعہ کیا جانا اور اس ادیب کے زندگی میں عمومی رویے اور نفسی کیفیات کا ادراک ہوتا ہے۔

نفسیاتی تنقید کی اساس فرائڈ کا نظریہ لا شعور بناور تحلیل نف سی کو دنیائے ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ سگمینٹڈ فرائڈ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ایک مخصوص ذہنی عمل ہسٹریا کا سبب ہے یعنی فرد کی ایسی نا آسودہ خواہشات جو لاشعور میں دبی رہتی ہیں جسمانی علامتوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں اس علم نفسیات کو اتنی ترقی دی کہ اس علم کو سائنس کا درجہ حاصل ہو گیا ورنہ اس سے قبل نفسیات فلسفہ کی ایک شاخ تھی جسے مشاہدہ نفس یا مطالعہ باطن بھی کہا جاتا تھا فرائڈ کا کہنا ہے کہ اس نے شاعروں اور فلسفیوں سے جو باتیں سیکھیں انہی کا تجرباتی ثبوت پیش کیا ہے۔

ادیب کے بارے میں فرائڈ کا یہ نظریہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور آرزووئیں اس دنیا میں پوری نہیں کر پاتا انہیں ایک ادیب اپنی ہیجانی تدبیر یا خواب اور تخیل کے زیر اثر اس کی تصعید کرتا ہے۔ اور اس طرح جذبات اور جبلت کو پست سطح دے اٹھا کر بلند سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے ادب کا یہ اثر ہوتا ہے کہ قاری جب ان خواہشات کو علامات کی صورت میں دیکھتا ہے تو اس کے جذبات کی تسکین ہو جاتی ہے فرائڈ کی تصنیف ’تعبیر خواب‘ (Interpretation of Dreams) 1899 میں شائع ہوئی یہ پہلی کتاب ہے جس نے تحلیل نفسی اور نفسیات میں رشتہ قائم کیا اس کتاب میں فرائڈ نے خوابوں سے متعلق اپنے نظریات بیان کیے ہیں۔

فرائڈ کے اس انکشاف سے سے پہلے چوتھی صدی قبل مسیح میں بقراط نے یہ انکشاف کیا تھا کہ چند امراض کا خوابوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ارسطو نے دلائل سے ثابت کیا تھا کہ خوابوں کا تعلق انسانی قوانین سے ہے اس خیال میں طبیب کو مریض کے خواب سے آگاہی ہونی چاہیے کیونکہ خواب مریض کی علامتوں کو قبل از وقت ظاہر کر دیتے ہیں۔ انسانی جذبات، محسوسات، تجربات اور خیالات کا ایسا فنی اظہار ہے جن سے دوسروں کے یہاں بھی بعض تاثرات پیدا ہو سکتے ہیں اور چونکہ اس اظہار کا ذریعہ تحریری یا تکلمی زبان ہے۔

اس لیے اس کی فنکارانہ پیش کش میں زبان کی بعض خصوصیات کو بھی ضرور شامل کیا جاتا ہے۔ ادیب کے بارے میں فرائڈ کا یہ نظریہ ہے کہ وہ خواہشیں اور آرزوویں جو زندگی میں پوری نہیں ہوتیں انہیں ایک ادیب اپنی ہیجانی تدبیر سے خواب یا تخیل کی صورت میں ادا کر کے ان کی تصعید کتا ہے اور اس طرح جذبے یا جبلت کو پست سطح سے اٹھا کر بلند سطح پر پہنچا دیتا ہے۔

انسانی زندگی میں جنسی الجھنوں کے علاوہ اور بھی بے شمار الجھنیں ہیں جو کسی فنی اظہار کا محرک بنتی ہیں تصور ارتفاع اور ارسطو کے اس تصور تزکیہ کی طرف لے جاتا ہے جو زیادہ بہتر طور پر نفسیاتی ترجمانی کرتا ہے ادبی نقطہ نظر سے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی پر مبنی تنقید کی سب سے بڑی خامی یہ ہے ڈرامہ یا ناول میں کردار کو ’ٹائپ‘ میں تبدیل کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ فرد کی جذباتی کشمکش اور اس کی شخصیت کے نمو کا تصور بے معنی ہو جاتا ہے حالانکہ یہی تصور عمدہ ادبی تخلیق کی بنیاد ہے۔ علم نفسیات کی بہت سی اصطلاحات کو استعمال کرنے مثلاً شعور، لاشعور، تحتالشعور، احساس کمتری، احساس برتری وغیرہ۔

ادب شاعری اور فن کا مطالعہ نفسیاتی نقطہ نظر سے کیا ہے کارل یونگ اور الفریڈ ایڈلر نے فرائڈ کے جنسی نظریہ سے اختلاف کیا ہے یونگ نے لاشعور کا جو نظریہ پیش کیا ہے اس کی رو سے لاشعور شکست خوردہ جنسی آرزووں اور محرومیوں کی آماجگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اجتماعی تہذیبی اور جمالیاتی قدروں اور تصورات کا قیمتی خزانہ بھی ہے اس لیے کہ انسانی لاشعور شخصی ہونے کے علاوہ اجتماعی اور نسلی نوعیت کا بھی ہے یونگ کے خیال میں لاشعور عظیم تخلیقی قوتوں کا سر چشمہ ہے جب فنکار اپنی داخلی شخصیت کا عرفان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی تخلیق ازلی اور ابدی حسن اور معنویت سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنے اندر چھپی ہوئی نفسیاتی کمزوریوں اور خامیوں اور داخلی کشمکش کے اظہار کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس اظہار سے بڑی حد تک انہیں اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔

اردو تنقید میں ابتدا سے ہی نفسیاتی رجحان موجود رہا ہے نفسیاتی اصولوں کا ادب اور تنقید پر اطلاق کرنے والے پہلے ادیب مرزا ہادی رسوا ہیں ان کے ادبی مراسلات انتہائی دقیع ہیں مرزا رسوا کے تنقیدی مراسلات کے نام کتابی شکل میں طبع کرائے گئے ہیں۔ علم نفسیات کی جدید معلومات کی روشنی میں ادب کو سمجھنے کی اولین کوشش ہے رسوا نے ان مراسلات میں احساس، شعور، تخیل، تشبیہ اور استعارے کے نفسیاتی پہلووں سے بحث کی ہے یہ بات رسوا کی گہری بصیرت کی مظہر ہے کہ اردو میں فرائڈ کی تعلیمات ہونے سے قبل ہی انہوں نے نہ صرف شعور کے غیر طبعی اجرا کی اہمیت کا احساس تھا بلکہ وہ ملزوم ذہنی سے بھی واقف تھے۔ رسوا حاسہ کو شعور کا وسیلہ قرار دیتے تھے حاسہ سے حاصل ہونے والی کیفیات کو تین مدارج میں تقسیم کیا ہے شعور، وجدان اور ارادہ۔

فرائڈ 1865 میں پیدا یہودی زندگی کے تحفظ کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ گھومتے رہے فرائڈ بھی اپنی تہذیب سے پہلو تہی نہیں کر سکتا تھا نتیجتاً اخلاقی اور کھوکھلے معیار نہیں ہوں گے ۔ فرائڈ جنسی حقیقت کے ناقابل تردید پہلو کو طشت ازبام کر کے ملمع چڑھی ہوئی متداول اخلاقی قدروں کی نا طاقتی کو اجاگر کی تو دوسری طرف کرکیگارڈ عیسائی پسائیت کو سنبھالا دینے کے لیے رجائی قدم اٹھاتا ہے اس نے عذابوں میں دبی انسانیت کو عیسائیت کے دامن میں پناہ لینے کی تبلیغ کی اور اس وسیلے سے انسان اپنے ازلی گناہ اور اس کے شدید احساس سے نجات حاصل کر لیتا ہے کرکیگارڈ نے بھیانسان کو بنیادی طور پر گناہگار قرار دیا فرائڈ اہل مغرب کے مذہبی اور اخلاقی قدروں سے دوری کی وجہ بتاتے ہیں کہ فرائڈ نے بتایا کہ عالمی جبلی کہا ہے کہ مذہبی اور اخلاقی قدروں کا دباو اس کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے اس نے جب اہل مغرب پر نئے جہنم کے دروازے وا کر دیے فرئڈ کی جنسی تحقیق تخرباتی باتوں پر قائم تھی جس میں انسان نے پہلی دفعہ اپنا چہرہ صاف طور پر دیکھا تھا اس نے جب اپنے ضمیر اور تحت الشعور میں جھانک کر دیکھا تو صداقت وہاں دکھائی نہیں دی جس کی ترقی یافتہ تہذیب نے نوک پلک درست کی تھی صداقت دراصل وہ تھی جس کی طرف فرائڈ نے توجہ دلائی تھی نفسیات اور تحلیل نفسی ایک نیا علم ہے جو انسانی ذہن شعور کا تجزیہ کرتا ہے ذہن کوایک اکائی نہیں مانتا بلکہ اسے تین حصوں میں تقسیم رتا ہے اور ہر حصے کا اپنا مخصوص عمل ہے

1۔ شعور consciousness
2۔ لاشعور Unconsciousness
3۔ تحت الشعورSub consciousness

مارکس اور فرائڈ دونوں نے ہی دنیائے ادب کو متاثر ہی نہیں کیا بلکہ بڑی حد تک اس کی قلب ماہیت کر دی۔ مارکس کا تعلق سر تا سر خارج سے تھا جب کہ فرائڈ نے فرد کی اندرونی شخصیت کی طرف توجہ دی مارکس کے ذہن میں شریاتی تاریخ کی بنیادوں پر قائم کردہ فلاحی ریاست کا ایک ہیولیتھا۔ فرائڈ کے مطمح نظر اور اس کا جبلی نظام تھا۔ تمام عمر اس یوٹوپیا کو تجسیمی صورت عطا کرنے میں سر گرداں رہق جنس جس میں مشترک تھی مارکس نے جنس کی بجائے تمام تر اقتصادی عوامل پیداواری رابطے اور تاریخی قوتوں کو تفویض کیا۔ فرائڈ نے اپنے تجربات کی اساس انسانی سائیکی پر رکھی تھی۔ اس کی تحقیقات نے ادیبوں کے لیے تحت الشعور بحرذخار کے دہانے کھول دیے۔

فرائڈ کے مطمح نظر ذہن کارفرما تھیں ادب کی تخلیق بھی ایک ذہنی عمل ہے اور ذہن کی ایک خاص اہمیت ہے جس کو لاشعور کہا جاتا ہے نفسیات نے علامت استعارہ پیکر کو تخلیقی زبان کا خاصہ بنا کر رواجی زبان سے انحراف کی جرات کی فرائڈ نے اپنی فکر کی اساس اپنے انسان کے داخلی کردار پر رکھی کیونکہ تخلیقی عمل میں شخصیت اور ذات کے مابین باریک سا جو رابطہ ہے یونگ نے اس پر روشنی ڈالی ہے اور کئی تخلیقی مسائل کا حل پیش کرنے کی سعی کی ہے تخلیق کے عمل میں ذہن کی گرہوں کی نیم بیداری کے خوابوں اور لا شعوری تجربات ماماضیہہ اور مجہول عدم تکمیل کی خواہشات ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

فرائڈ کے مطابق نام نہاد اخلاقی و مذہبی احرامات اور سماجی ضابطہ بندیوں کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل پر گہرا اثر ڈالتی ہیں فرائڈ کے نزدیک جہاں ایک تخلیقی جنسی دباو پیدا ہونے والے اعصابی احتلال اور ذہنی الجھنوں کا مظہر ہوتی ہے وہیں وہ یہ حکم لگا تا ہے کہ فنی و ادبی اظہار بذات خود جنسی تسکین کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔

فرائڈ نے انسانی سائیکی کو ایک مرکزی اہمیت تفویض کی اپنی شعور اور لا شعور کو بھی اسی میں شامل کرتا ہے۔ اپنی ابتدائی اور غیر ترقی یافتہ حالت میں شعور کے لیے فرائڈId کی اصطلاح تجویز کرتا ہے۔ Id میں کئی قسم کے جبلی خواہشیں اور آرزووئیں اور ان کی آسودگی خصوصاً اور جنسی تکمیل کے لیے سرگرم رہتی ہے۔ انسان ان فطری اور جبلی ہیجانات سے روح گردانی نہیں کر سکتا بلکہ ان ہیجانات کی تشفی کے لیے برابر کوشاں رہتا ہے۔

اس سے کشمکش بھی پیدا ہوتی ہے اور سماج ایک مضبوط دیوار کی طرح سامنے اکھڑا ہوتا ہے۔ خارجی دنیا حصول لذت کے خواب کی تکمیل تک پہنچنے دیتی اپنی ابتدا مین باہمی تصادم کی صورت شدید رہتی ہے مگر آہستہ آہستہ سماج کی بالاتری سمجھ میں آنے لگی ہے۔ داخلی مفاہمت کا راستہ پیدا ہو جاتا ہے حقیقت کی اسی روشناسی کے ساتھ Ego۔ کی پیدائش عمل میں آتی ہے۔ Ego میں حقیقت میں اصول پر کار بند رہتا ہے اور Id کو بھی اس کے طابع رکھتا ہے۔

id کے ہیجانی رجحانات میں ٹھہراو پیدا ہو جا تا ہے بعض اوقات Ego پر جب id کا طوفان بدتمیزی بیدار ہو جاتا ہے تو ایسے نتائج پیدا ہوتے ہین۔ فرائڈ دہن کی اکائی کو تسلیم نہیں کرتا ہے بلکہ وہ اس سمندر کی سطح پر تیرتی ہوئی برف کی سل جس کے اوپر کا حصہ شعور اور خو ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ تھوڑا تھوڑا واضح ہوتا ہے وہ تحت الشعور اور جو بڑا حصہ اندر غرقاب ہے وہ لا شعور ہے اور ہماری لاشعوری مجہول خواہشات بار بار شعور میں داخل ہونے کے لیے بے تاب رہتی مگر تحت الشعور ان پر احتساب سے کام لیتا ہے اور پھر واپس لاشعور کے بحر دخار میں ڈوب جاتی ہے لیکن یہی خواہشات نیند کے عالم میں خوابوں کے ذریعے شعور تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں لا شعور عدم تکمیل آرزووں اور نا پسندیدہ دبی کچلی ہوئی خواہشوں کا مسکن ہے۔

شعور اور لا شعور کے درمیان مجادلہ والی کیفیت بنی رہتی ہے۔ کبھی کبھی احتساب اتنا سخت ہوتا ہے کہ ارتفاع کے ذریعے بھی ان خواہشات کا اظہار نہیں ہو پاتا۔ جس کے باوجود کئی نفسیاتی بیماریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ فرائڈ یہ نظریہ قائم کرتا ہے کہ محض مجہول خواہشات کا اظہار بالواسطہ طریقے سے بھی عمل میں آ سکتا ہے۔ وہ علامتوں کو بھی ایسا وسیلہ مانتا ہے جس سے کچلی ہوئی خواہشات برقعہ پوش ہو کر تحت الشعور کو عبور کر لیتا ہے اور اس طرح آدمی آسودگی پا لیتا ہے۔ اس عمل کو ارتفاع کہتے ہیں فرائڈ لیبڈو کا جنسی قوت اور فنکار کا زبردست محرک اور سر چشمہ تسلیم کرتا ہے۔ اس کا خیال ہے اقتصادیت مذہب ادب اور تمدن کو پس پشت لیبڈو کار فرما ہے۔

Facebook Comments HS