EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نیتن یاہو کا 12 سالہ اقتدار ختم، اسرائیل کی نئی حکومت نے حلف اٹھا لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آٹھ سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پانے والے حکومت سازی کے ایک غیر معمولی سمجھوتے کے تحت بینیٹ دو سال کے لیے وزیرِ اعظم ہوں گے۔
ویب ڈیسک — اسرائیل کی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت سے نئی حکومت بنا لی ہے جس کے بعد وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کی 12 برس سے جاری حکمرانی کے عہد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

اتوار کو پارلیمنٹ میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے دوران حزبِ اختلاف کی آٹھ جماعتوں کے اتحاد نے 120 ارکان پر مشتمل ایوان میں 59 کے مقابلے میں 60 ووٹ حاصل کیے۔

پارلیمنٹ میں اکثریت ظاہر کرنے کے بعد قدامت پسند مذہبی جماعت کے سربراہ نفتالی بینیٹ یہودی ریاست کے نئے سربراہ بن گئے ہیں۔

آٹھ سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پانے والے حکومت سازی کے ایک غیر معمولی سمجھوتے کے تحت بینیٹ دو سال کے لیے وزیرِ اعظم ہوں گے جس کے بعد آئندہ دو برس کے لیے یائر لیپڈ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

اختیارات میں شراکت کے سمجھوتے کا کوئی اور مقصد دکھائی نہیں دیتا سوائے اس بات کے کہ آٹھوں سیاسی جماعتیں نیتن یاہو کے ہنگامہ خیز عہد کا خاتمہ چاہتی تھیں۔

بینیٹ اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم تو بن گئے لیکن اتوار کو انہیں پارلیمنٹ میں شدید تلخ جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پیش رو قدامت پسند قانون سازوں نے ان کے خلاف ‘شرم کرو’ اور ‘جھوٹا’ کے نعرے لگائے۔

ہنگامہ آرائی کے بعد متعدد قانون سازوں کو ایوان سے باہر بھی نکالا گیا۔

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں اتوار کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی۔
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں اتوار کو نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اتوار کو ووٹنگ ہوئی۔

طنزیہ جملے کسے جانے اور ناراضگی کے اظہار پر بینیٹ نے کہا کہ ”ہم یوں ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟” اس موقع پر وزیٹرز گیلری میں بینیٹ کے بچے تشریف فرما تھے جو دل کے علامتی نشان بنا رہے تھے۔

بینیٹ نے کہا کہ ”مجھے فخر ہے کہ ایوان میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ہم نے ذمہ داری سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

یاد رہے کہ بینیٹ نیتن یاہو کے ایک سابق اتحادی رہے ہیں جنہوں نے 2019 سے 2020 کے دوران ان کی حکومت کے وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔

نیتن یاہو نے اس بات کی بھی کوشش کی تھی کہ انھیں ہٹانے والے آٹھ پارٹی اتحاد میں پھوٹ ڈال دی جائے۔ اب وہ اپوزیشن کے قائد کا کردار ادا کریں گے، جب کہ ان کو بدعنوانی کے الزامات پر مقدمے کا سامنا بھی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق 71 سالہ نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنا ہے تو ہم حزبِ اختلاف کی نشستوں پر اس وقت تک بیٹھ کر کام جاری رکھیں گے جب تک اس خطرناک حکومت کو ختم کر کے دوبارہ ملک کی باگ ڈور نہ سنبھال لیں۔

واضح رہے کہ رواں برس مارچ میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے بعد ووٹوں کے لحاظ سے یائر لیپڈ کی جماعت دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ یہ دو سال کے اندر اسرائیل میں کرائے جانے والے چوتھے غیر فیصلہ کن انتخابات تھے۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت یش عتید کے سربراہ یائر لیپڈ دوسری مدت کے لیے وزیرِ اعظم ہوں گے۔

اتوار کو انہوں نے ایوان میں خطاب کے دوران کہا کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس رویے کا مقابلہ کر پائیں گے۔ ہر دوسرا اسرائیلی شہری اس نامناسب رویے پر شرمسار ہے اور اس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ آپ کی جگہ نئے نمائندوں کو آنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔”

اسرائیل کی حمایت کے لیے ہمارا عزم غیر متزلزل ہے: بائیڈن

دوسری جانب نئے اسرائیلی رہنماؤں کو تہنیتی پیغام میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے وہ دونوں ملکوں کے مابین تمام شعبوں میں قریبی اور پائیدار تعلقات کو مضبوط بنانے کے منتظر ہیں۔

بائیڈن نے یورپ سے بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کی حمایت کے لیے امریکہ کا عزم غیر متزلزل رہے گا۔

ان کے بقول، "میری انتظامیہ اسرائیل اور فلسطینیوں اور وسیع تر خطے کے عوام کی سیکیورٹی، استحکام اور امن کے حصول کے لیے نئی اسرائیلی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔”

اتوار کے روز حکومت سازی کے اعلان کے بعد بائیڈن نے نئے اسرائیلی سربراہ سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر نے خطے کو درپیش چیلنجز اور موجود مواقع کے سلسلے میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ٹھوس کوشش کی جائے گی۔

دریں اثنا کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی نیا عہدہ سنبھالنے پر بینیٹ کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ”ایک ساتھ مل کر ہم کینیڈا اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو مزید تقویت دینے کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2570 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے