اج آکھاں وارث شاہ نوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گجرات شہر کی تقریباً پانچ لاکھ کی آبادی ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شہری آبادی میں طالبات کے لیے کوئی بھی علیحدہ سرکاری کالج نہیں۔ اس حوالے سے گجرات سٹی کی طالبات کو سستی اور معیاری تعلیم کے بنیادی حق سے حکومت پنجاب نے ایک عرصے سے محروم رکھا ہوا ہے۔ 2005 سے پہلے دو کالجز گورنمنٹ مرغزار کالج برائے خواتین اور گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج برائے خواتین فوارہ چوک، گجرات۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیر انتظام تھے۔

لیکن اس وقت کی مقامی سیاست کے آشیر باد سے پنجاب حکومت نے ان سرکاری تعلیمی اداروں کو ایک ترمیمی بل کے ذریعے یونیورسٹی آف گجرات کی جھولی میں ڈال دیا اور مقامی سیاست نے اپنے سینے پر یونیورسٹی کے قیام کا تمغہ سجا لیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے آئندہ انٹر اور گریجوایشن کی سطح پر گجرات شہر کی بچیاں، پنجاب سرکار کی دیگر تمام قصبوں اور شہروں میں فراہم کردہ سستی اور معیاری سرکاری تعلیم کی سہولت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں گی۔

موجودہ دور میں کسی ایک خطے کے عوام کے ساتھ ایسا سلوک اور عمل سراسر انسانی حقوق کی پائمالی گردانا جاتا ہے۔ ہم جہاں ریاست مدینہ اور خواتین کے حقوق کی باتیں کرتے ہوئے تھکتے نہیں، وہاں عملی طور پر ہمارا کردار ان عربی بدؤں جیسا ہے جو بچیوں کی پیدائش کے فوراً بعد انھیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔ قارئین اور سول سوسائٹی کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یونیورسٹی کے زیر انتظام چلنے والے مذکورہ اداروں میں بچیاں سرکاری کالجز کی نسبت تقریباً تین گنا زیادہ فیس ادا کرنے پر مجبور ہیں اور گجرات شہر کی لیبر کلاس اور کم آمدن والے والدین اپنی بچیاں انھی کالجز میں پڑھانے پر مجبوراً آمادہ ہیں کیونکہ ان کے سامنے شہر کے اندر کسی سرکاری کالج برائے خواتین کی آپشن موجود نہیں۔

جب تک یو۔ او۔ جی کا مرکزی کیمپس نہیں بنا تھا تب تک کسی حد تک یہ منطق سمجھ میں آتی تھی کہ یونیورسٹی کو چلانے کے لیے نظریہ ضرورت کے تحت ان اداروں کو وقتی طور پر یونیوسٹی آف گجرات کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ لیکن اب کافی سال ہو چکے، یونیورسٹی کا اپنا شاندار وسیع و عریض کیمپس بن چکا ہے۔ ویسے بھی یونیورسٹی کی معاشی بدحالی کی وجہ سے یہ کیمپسز یونیورسٹی پر معاشی بوجھ بن چکے ہیں۔ اس کا بڑا ثبوت ان اداروں کی خستہ حالی ہے۔

ان ذیلی اداروں کی لائبریریاں تک بند ہو چکی ہیں۔ فوارہ چوک کالج برائے خواتین کی پرانی عمارت کو انجنیئرز طالبات کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ شنید بھی ہے کہ یونیورسٹی آف گجرات معاشی اعتبار سے اس قدر بد حال ہو چکی ہے کہ اب وہ ان ذیلی کیمپسز میں اور یونیورسٹی کے مین کیمپس میں اپنے بھرتی کیے ہوئے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی ڈاؤن سائزنگ کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ سیکرٹری ایجوکیشن (ایچ۔

ای۔ ڈی ) پنجاب کے ایک مراسلے (نمبر SO (SNE) 101۔ 2 / 2021۔ 7۔ 04۔ 2021 ) کے جواب میں جو مراسلہ ( نمبر UOG (E۔ ll) / 60 / 1441 dated 26۔ 5۔ 2021 ) ڈپٹی رجسٹرار یونیورسٹی آف گجرات کی جانب سے بنام سیکرٹری ایچ۔ ای۔ ڈی پنجاب کو لکھا گیا ہے۔ اس میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایچ۔ ای۔ ڈی نے کالج کیڈر کے اساتذہ کو ان اداروں سے واپس بلا لیا تو مجبوراً یو۔ او۔ جی کو ان اداروں سے انٹر کی کلاسز ختم کرنی پڑیں گی کیونکہ یونیورسٹی کا کام انٹر کلاسز کو چلانا نہیں۔

انٹر کی کلاسز کے ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کالجز میں انٹر کی کلاسز کو پڑھانے کے لیے جو اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں انھیں بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ یاد رہے کہ ان کالجز میں ( ایچ۔ ای۔ ڈی اور یونیورسٹی) کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کو جو تنخواہیں دی جاتی ہیں وہ ان اداروں کے یونیورسٹی کی تحویل میں جانے کے بعد بھی ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ادا کر رہا ہے۔ دوسری طرف ایچ۔ ای۔ ڈی پنجاب اور یونی ورسٹی آف گجرات دونوں اس قدر معاشی بحران کا شکار ہیں کہ کوئی بھی ان اداروں کو لینے کے لیے تیار نہیں۔

اس صورت حال میں گجرات شہر کی غریب طالبات ان دو بڑے سفید ہاتھیوں کے درمیان رولنگ اسٹون بنی ہوئیں ان کی مکتی کا انتظار کر رہی ہیں کہ شاید اس طرح ان کے لیے سستی تعلیم کے دروازے کھل جائیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ رشوت اور بدعنوانی کے ناسور نے وطن عزیز کے ہر ادارے کو سفید ہاتھی بنا دیا ہے۔ کون کس کو ٹھیک کرے گا؟ اس مقام پر یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس سوال کا مختصر اور جامع جواب یہی ہے کہ تعلیم تبدیلی کا نام ہے۔ جس دن تعلیم ہماری پہلی ترجیح بن جائے گی اس دن ہمیں حکومت سازی کے لیے تبدیلی کے نعروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ محض باتوں کی بجائے عملی کردار سامنے آئیں گے۔ یہ ایک دن کا کام نہیں یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ ابتدا تو کیجیے۔

بہر حال گجرات شہر میں بڑھتے ہوئے موجودہ تعلیمی بحران کا مناسب حل موجودہ صورت حال میں یہی ہے کہ خواتین کے دو ادارے جو یونیورسٹی کی تحویل میں ہیں وہ پنجاب حکومت واپس لے تاکہ گجرات شہر کی بچیوں کو ان کے بنیادی شہری حق یعنی سستی اور معیاری سرکاری تعلیم سے مستفید ہونے کا موقع ملے سکے۔ اور دوسری طرف دو کالجز یعنی سائنس کالج جی۔ ٹی روڈ اور سرسید کالج ریلوے روڈ کو یونیورسٹی کی تحویل میں دیا جائے تاکہ یو۔ او۔ جی کے ان مذکورہ چار ذیلی کیمپسز میں بھرتی ہونے والے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کا مستقبل بھی محفوظ ہو۔ اس طرح کرنے سے نہ صرف ایچ۔ ای۔ ڈی اور یونیورسٹی کے الگ الگ اداروں سے شہر میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے والی متوازن تقابلی فضا کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ تعلیم کے معاشی بوجھ کو بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

سبھی جانتے ہیں کہ گجرات ایک بڑا صنعتی شہر ہے جہاں کی بزنس کمیونٹی تو اپنی بچیوں کو یونیورسٹی اور پرائیویٹ سیکٹر کی مہنگی تعلیم دلوا سکتی ہے۔ لیکن مزدور کلاس اور ملازمین کی بچیاں انٹر اور بی۔ ایس کی سطح پر ان اداروں سے مہنگی تعلیم کے حصول کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات شہر اور مضافات کی زیادہ تر بچیاں بی۔ ایس پروگرامز کے لیے شہر کے واحد اکلوتے مردانہ سرکاری کالج یعنی زمیندار کالج میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اور زمیندار کالج میں طلبہ و طالبات کا اس قدر رش ہے کہ ساٹھ طلبہ کی گنجائش والے کلاس رومز میں 120 سے زائد طلبہ و طالبات بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

مدینہ کی ریاست کے سارے والدین ابھی ذہنی طور پر اتنے آزاد خیال نہیں ہوئے کہ وہ یہ چاہیں کہ ان کی بچیاں اپنے میل کلاس فیلوز کے ساتھ کندھا جوڑ کر بیٹھیں۔ مدینہ کی ریاست بنا لیجیے یا یورپ کی مادر پدر آزاد معاشرت کو اپنا لیجیے۔ گومگو کی کیفیت سے تخلیقی اذہان نہیں، شاہ دولہ کے چوہے جنم لیتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments