EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

سنسرشپ میں پاکستان کا دم گھٹ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کچھ مہربانوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ مجھے ٹیلی ویژن کی سکریں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہ مجھے سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں دو دہائیوں سے جیو نیوز پر "کیپیٹل ٹاک” کی میزبانی کر رہا تھا۔ پچھلے مہینے میرے اس ٹاک شو میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ مجھے پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اردو اخبار جنگ میں اپنا کالم لکھنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔ اب مجھے بغاوت کے الزامات کا سامنا ہے۔ قانون کے تحت اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ میرا واضح جرم ایک تقریر کرنا تھا جو میں نے گذشتہ ماہ صحافی اسد طور کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ایک مظاہرے میں کی تھی۔

25 مئی کی رات، تین نامعلوم افراد اسد طور کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور اس کو باندھ کر اس پر تشدد کیا۔ یہ اسلام آباد میں صحافیوں پر حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین واقعہ تھا۔ ہم ایسے کچھ حملوں کے بارے میں جانتے ہیں لیکن زیادہ تر واقعات کی اطلاع تک نہیں ملی ہے۔ طور نے خود پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے فیصلے کی قیمت ادا کی۔ کچھ ہی لمحوں میں اس پر شہرت کے حصول کے لئے جعلی زخم بنانے کا الزام لگایا گیا۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ صحافی بیرون ملک سیاسی پناہ کے حصول کے لئے خود پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان ریمارکس سے طور کے موقف کی تائید کرنے والے صحافی ناراض ہوگئے۔

میرے نزدیک صحافیوں پر حملوں کا معاملہ ایک ذاتی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ اپریل 2014 میں مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں مجھے چھ گولیاں لگیں۔ زندہ بچ جانے کے بعد مجھ پر جعلی حملے کا الزام لگایا گیا تھا۔ گزشتہ مہینے میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر صحافیوں پر حملے بند نہیں ہوئے تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ میں نے کسی فرد یا کسی ادارے کا نام نہیں لیا لیکن میرا لہجہ سخت تھا۔ مجھ پر فوری طور پر پاکستان کی اعلی عسکری قیادت کو بدنام کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ایک سوچی سمجھی مہم کی مدد سے مجھے سوشل میڈیا پر غدار کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اور پھر کسی قدر جلد بازی کرتے ہوئے میرے خلاف ملک بھر میں مقدمات درج کرانے کی لہر شروع ہو گئی۔ میرے ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے مجھے مطلع کیا کہ میں اپنے شو کی میزبانی نہیں کروں گا۔ انہوں نے بغیر کسی عدالتی حکم یا شو کاز نوٹس دکھائے یہ کارروائی کی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور بین الاقوامی کمیشن آف جیورسٹ نے میڈیا مالکان پر "تنقیدی آوازوں کو بند کرنے کے لئے دباؤ´ڈالنے کی مذمت کی ہے۔ پاکستانی کی صحافتی تنظیموں نے عدالتوں میں میرا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انہوں نے مجھ سے اپنے موقف کی وضاحت کرنے کو کہا کیوں کہ میں نے ان کے پلیٹ فارم پر بات کی تھی۔ میں نے واضح کیا کہ میں نے اپنی تقریر میں کبھی کسی کا نام نہیں لیا اور میں فوج کی حیثیت سے ایک ادارہ کی حیثیت سے احترام کرتا ہوں لیکن یہ کہ میں صحافیوں کے خلاف حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ میں نے یہاں تک کہا کہ اگر میرے سخت لہجے سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ تاہم میں نے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا کہ صحافیوں پر حملوں کا خاتمہ ضرور ہونا چاہئے۔

2007 میں، اس وقت کے فوجی آمر، جنرل پرویز مشرف نے جب ہنگامی حالت نافذ کی تھی تو مجھ پر کئی مہینوں تک پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کی تنقید کرنے کے بعد 2012 میں میری کار کے نیچے رکھا ایک بم برآمد ہوا تھا۔ 2014 میں قاتلانہ حملے میں میں موت کی سرحد چھو کر واپس آیا تھا۔ تب سے میں اپنے جسم میں دو گولیاں لئے پھرتا ہوں۔ اس کے بعد مجھے توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ، لیکن مجھے عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا۔

مجھ پر بغاوت کا الزام لگانے کی کوشش پاکستان میں اختلاف رائے کے خلاف منظم جنگ کا ایک حصہ ہے۔ بغاوت کا یہ قانون ماضی میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاست دانوں اور ماہرین تعلیم کے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ اس قانون کی عبارت دانستہ طور پر مبہم رکھی گئی ہے اور اس کی غیر متعین اصطلاحات اس کے غلط استعمال میں مدد دیتی ہیں۔ آپ پر محض فیس بک پوسٹ کو "پسند” کرنے، کارٹون بنانے یا تقریر کرنے پر بغاوت کے الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں۔ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے دو ممبران کو اس وقت بغاوت کے الزامات کا سامنا ہے۔ میاں جاوید لطیف کو حال ہی میں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کا ایک اور رکن علی وزیر پچھلے چھ ماہ سے کال کوٹھری میں بند ہے۔

بغاوت کا قانون – قانون تعزیرات کی دفعہ 124 دراصل انیسویں صدی میں برطانوی استعمار کے نوآبادیاتی جبر کی یادگار ہے۔ یہ قانون ہندوستان کی آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کو گرفتار کرنے کے لئے بھی استعنال کیا گیا تھا ، جنھوں نے اس قانون کے بارئ میں یہ معروف رائے دی تھی کہ اسے "شہری کی آزادی کو دبانے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔” میرے ملک پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح ایک آئین پسند وکیل تھے۔ انہوں نے بغاوت کے الزام میں گرفتار صحافیوں کا عدالت میں دفاع کیا اور وہ یہ مقدمہ جیت گئے تھے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی حب الوطنی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی حکومتوں نے برطانوی سامراج کی اس بوسیدہ روایت کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ ہندوستان میں مودی حکومت نے ماہرین تعلیم ، وکلا ، کارکنوں اور طلباء کو نشانہ بنانے کے لئے بغاوت کے قانون کا اطلاق کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی اور بدعنوانی کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی ہے۔ اور پاکستان میں پچھلے برس اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

پرانے کالے قوانین کے ساتھ ساتھ نئے قوانین بھی گھڑے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے حال ہی میں پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ تشکیل دینے کے لئے ایک قانون کی تجویز پیش کی تھی۔ اس مسودہ قانون میں میڈیا ٹریبونلز کو یہ فیصلہ کرنے کے لئے متعارف کرایا گیا کہ کسی نوٹس، سماعت یا حق دفاع کے بغیر، صحافیوں کو تین سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو پاکستانی میڈیا پر مکمل خاموشی طاری ہو جائے گی۔

صحافیوں ، وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان سب نے یک زبان ہو کر اس مسودہ قانون کی مذمت کی۔ تمدنی قوتوں کے اتحاد کا یہ مظاہرہ امید کی کرن پیش کرتا ہے۔ اگر ہم سب اونچی آواز میں اور بغیر کسی خوف کے بات کرتے رہے تو مجھے یقین ہے کہ ہماری بات سنی جائے گی۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اسی طرح برطانوی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی تھی اور اب ہم اس نوآبادیاتی ذہنیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے جو آج ہمیں خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ

https://www.washingtonpost.com/opinions/2021/06/15/hamid-mir-assails-censorship-in-pakistan/

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے