EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

پاکستانی معیشت: ’22 نہیں اب 31 بااثر خاندان سیاہ سفید کے مالک ہیں‘

فاروق عادل - کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی خبرناموں میں اکثر سٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھے جانے یا مارکیٹ گر جانے کی خبریں ہوتی ہیں جس سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ معیشت بہتر یا گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔

خود اکثر و بیشتر حکومتوں کی جانب سے بھی سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو اپنی بہتر معاشی پالیسیوں کا ثمر قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی سے نہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال بہتر ہوتی نظر آتی ہے اور نہ ہی عوام کی زندگیاں؟

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق اور امین حسین نے اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک حیران کن نتیجے پر پہنچے ہیں۔

ڈاکٹر ندیم اور ان کے ساتھی نے ایک مقالہ تحریر کیا ہے: ‘A Small Club: Distribution, Power and Networks in Financial Markets of Pakistan’

محققین نے اس مقالے میں سرکاری اداروں سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں سٹاک مارکیٹ کی سال 2018 کی ساخت کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ چند بااثر کاروباری ادارے اسے کس طرح کنٹرول کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: ‘کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پابند کرتا ہے کہ وہ ٹرسٹی کی حیثیت سے تمام سرمایہ کاروں کے مفادات کی حفاظت کریں خواہ وہ بڑے سرمایہ کار ہوں یا چھوٹے لیکن ان ڈائریکٹرز کا تعلق چونکہ سپانسر خاندانوں (بڑے کاروباری اداروں) سے ہوتا ہے اور وہ بیک وقت مختلف بورڈز میں خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے وہ سپانسرز کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، نہ کہ چھوٹے اور اقلیتی سرمایہ کاروں کے مفاد کا۔’

اس طرح کاروبار پر ملک کے بااثر خاندانوں کی اجارہ داری برقرار رہتی ہے۔

’31 خاندانوں کی اجارہ داری’

اس تحقیق کے نتائج نصف صدی پرانے ایک انکشاف کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ ملک کے پہلے فوجی حکمراں ایوب خان کے دور حکومت کے 10 برس مکمل ہونے پر جب ان کے 10 سالہ عرصہ اقتدار کا جشن ‘اصلاحات اور ترقی کا عظیم عشرہ’ ملک گیر سطح پر منایا گیا تو اس کا اختتام ایک ‘دھماکہ خیز انکشاف’ پر ہوا۔

ایوب حکومت کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہر نے اپنی کتاب ‘ایوب خان: فوجی راج کے پہلے 10 سال’ میں لکھا ہے کہ حکومت کے چیف اکنامسٹ ڈاکٹر محبوب الحق نے انکشاف کیا کہ قومی معیشت اس وقت 22 خاندانوں کی گرفت میں ہے۔ یہ انکشاف قومی زندگی میں ایک دھماکے کی طرح سنا گیا اور سیاسی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے، جن کا نمایاں ترین پہلو یہ تھا کہ یہ معاملہ حکومت مخالف تحریک میں بنیادی ایجنڈے کی حیثیت اختیار کر گیا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی حالیہ تحقیق اسی تسلسل کی کہانی بیان کرتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان 50 برسوں کے دوران ملک کے کاروباری منظرنامے پر نو مزید خاندانوں کا اضافہ ہوا۔

پائئڈ کی اس رپورٹ کے مصنفین کے مطابق یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان میں سٹاک مارکیٹ چھوٹی ہے جس میں آئی پی اوز بھی بہت کم ہیں اور مارکیٹ غیر مستحکم ہے۔

سٹاک مارکیٹ، پاکستان، معیشت

مصنفین لکھتے ہیں: ‘اس تحقیق سے ان تصورات کی تصدیق ہو گئی اور یہ حقیقت سامنے آئی کہ سٹاک مارکیٹ پر 31 خاندانوں کی اجارہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 50 برس پہلے ڈاکٹر محبوب الحق نے جن 22 خاندانوں کی اجارہ داری کا انکشاف کیا تھا، وہی رجحان اب بڑھ کر 31 خاندانوں میں تبدیل ہو چکا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں بیشتر دولت بھی ان ہی کے ہاتھوں میں محدود ہے۔‘

اشرافیہ کا ایک محدود ‘کلب’

رپورٹ میں اس صورت حال کو اشرافیہ کا ایک محدود ‘کلب’ قرار دیا گیا ہے کیوں کہ رپورٹ کے مطابق سٹاک مارکیٹ حقیقت میں چند بڑے سرمایہ کاروں کی گرفت میں آ چکی ہے یعنی اس میں نئے لوگوں کے لیے مواقع محدود ہو چکے ہیں۔

مصنفین گذشتہ نصف صدی کے کاروباری اتار چڑھاؤ اور اس میں رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی ساخت کے جائزے کے بعد اس حیران کن نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں متحرک ملک کی بیشتر کاروباری کمپنیاں اپنے ڈائریکٹرز کے ذریعے باہم منسلک ہیں۔

تحقیق کے مطابق ان کمپنیوں میں خود مختار ڈائریکٹرز کی آسامیاں 220 تھیں جن میں سے صرف دو خود مختار ڈائریکٹرز ایک فرم کے حصے میں آتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 14 فیصد ڈائریکٹرز دو بورڈ آف ڈائریکٹرز میں، چھ فیصد تین بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جبکہ تین فیصد ڈائریکٹرز چار سے پانچ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بیک وقت کام کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں چار ایسے ممتاز کاروباری اور ٹیکنوکریٹس کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جو بیک وقت 17 کمپنیوں میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

ڈائریکٹر شپ کے ذریعے قریبی نیٹ ورک میں منسلک ان اکثریتی کمپنیوں کے مقابلے میں صرف 15 ایسی کمپنیاں سامنے آئیں جو اس نیٹ ورک میں شامل نہ تھیں۔

اسی طرح بعض دیگر اعداد و شمار بھی توجہ طلب ہیں۔ تحقیق کے مطابق صرف 297 ڈائریکٹرز کارپوریٹ منظر رکھتے ہیں، 148 کی تعیناتی حکومت نے کی، 32 ڈائریکٹرز سابق بیوروکریٹ اور 22 فوج کے سابق اعلیٰ افسران ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان ڈائریکٹرز میں سے اکثریت کا تعلق کراچی سے اور دوسرے نمبر پر لاہور سے ہے، اسی طرح اس میں خواتین کی نمائندگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے جو ‘قوانین کی کھلی خلاف ورزی’ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے درمیان رابطوں کا یہ مضبوط جال اطلاعات کے آزادانہ تبادلے کے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے جس سے اس کاروباری کلب کی معیشت مسلسل فروغ پاتی رہتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو جاتا ہے کہ حکومت کے قوانین کی موجودگی میں چند کاروباری ادارے پورے ملک کے کاروبار کو ایک محدود کلب میں سمیٹ کر رکھ دیں؟

ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اس سوال کے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں بیشتر معاشی پالیسیاں طاقتور طبقات کے دباؤ میں بنائی جاتی ہیں اور اس مقصد کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہو تو حکومت اور سرکاری ادارے تمام تر مالی بوجھ عوام پر منتقل کر کے کسی نئی قانون سازی میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مطابق پاکستان کے 22 کروڑ افراد کے معاشی مفادات کے خلاف چند طبقات کا ایک گٹھ جوڑ ہے۔

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ کلب معیشت کے مختلف شعبوں کے بااثر افراد پر مشتمل ہے جس میں بڑے تاجر، درآمد و برآمد کنندگان، ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ، بعض مذہبی طبقات، اقتصادی ٹیکنوکریٹس اور نجکاری کے نام پر کوڑیوں کے مول قومی اثاثوں پر قبضہ جمانے والے شامل ہیں جنھیں بعض اوقات فیصلوں کی صورت میں اعلیٰ عدالتوں کی کُمک بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

سٹاک مارکیٹ کے طریقہ کاروبار کے بارے میں ایک سوال پر ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اس پر چونکہ چند درجن بڑے بروکرز کی اجارہ داری ہوتی ہے، اس لیے یہ لوگ وقتاً فوقتاً قیمتیں بڑھا کر یا گھٹا کر بحران پیدا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے خسارے کا شکار ہو کر چھوٹے سرمایہ کاروں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے اور وہ اقتصادی طور پر کمزور ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اس سلسلے میں 15 مارچ 2005 کی مثال پیش کرتے ہیں جب چند ہفتوں کے دوران ہی کراچی سٹاک ایکسچینج کے حصص کی مجموعی مالیت میں تقریباً 800 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی تھی۔

ایک ٹاسک فورس نے اس بحران کی تحقیقات کیں جس سے معلوم ہوا کہ اس بحران کی ذمہ داری کسی نہ کسی حد تک بروکرز پر عائد ہوتی ہے لیکن اس بحران کے ذمہ داروں کو سزا سے بچانے کے لیے رپورٹ کو دبا دیا گیا اور تقریباً ایک سال کے بعد اس کی تحقیقات ایک امریکی فرانزک کمپنی کے سپرد کر دی گئیں، لیکن اس کا دائرہ کار ہی اتنا محدود کر دیا گیا کہ وہ کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ بحران کے ذمہ داران صاف بچ نکلے۔

سنہ 2005 کا یہ بحران سٹاک مارکیٹ کا کوئی آخری بحران نہیں تھا بلکہ اس کے بعد بھی کئی بحران آئے لیکن اس کے ذمہ داران ہمیشہ کی طرح بچ نکلے کیونکہ ان بروکرز کا شمار معاشرے کے طاقت ور ترین طبقات میں ہوتا تھا۔

ڈاکٹر صدیقی کے مطابق ان لوگوں کی طاقت کا اندازہ اس مثال سے کیا جا سکتا ہے کہ اسی طرح جنرل مشرف کے زمانے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کئی ہزار ارب روپے کا ناجائز منافع کمایا جس کا انکشاف سابق قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس بھگوان داس نے اپنی غیر معمولی رپورٹ میں کیا تھا۔

بارہ جولائی 2009 کو پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس بھگوان داس کی زیر صدارت کمیٹی کے 114 اجلاس ہوئے جن میں سے وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے نمائندے نے صرف تین اجلاسوں میں شرکت کی۔

یہ رپورٹ جب سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تو اس میں بھی اس پہلو کو نمایاں کیا گیا۔ ممتاز قانون دان اکرم شیخ نے رپورٹ کے اس پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: ‘اس سے حکومت وقت کے ساتھ ایک خاموش مفاہمت کا انکشاف ہوتا ہے جس کے تحت حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین کے ذریعے لوٹ مار کے سلسلے میں سب کچھ پیٹرولیم کمپنیوں کی مرضی پر چھوڑ رکھا تھا۔’

ڈاکٹر صدیقی کے مطابق اس مقاملے کو تبصرہ کر کے داخل دفتر کر دیا گیا کہ یہ سب کچھ نیک نیتی سے کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر صدیقی کے مطابق 1993 سے اب تک ان طاقت ور طبقات کو ٹیکس ایمینسٹی دی جا چکی ہے جس کی مدد سے یہ لوگ معمولی ٹیکس ادا کر کے کالا دھن اور لوٹی ہوئی دولت کو سفید کر چکے ہیں اور پاکستان میں یہ ایک ایسا معمول بن چکا ہے، ہر حکومت جس پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔

حال ہی میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ کورونا بحران کے دوران پاکستانی حکمرانوں نے کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے فیصلے کرنے کے بجائے تمام تر فیصلے طاقتور طبقات کے مفاد میں کیے جس سے معیشت کی نمو کے راستے بند ہو گئے۔

ماہرین معیشت کے مطابق پاکستانی معیشت کا یہی وہ بنیادی عارضہ ہے جس کی وجہ سے عوام کی حالت زار ویسی کی ویسی ہے یا ان کا معیار زندگی پست ہوتا چلا جا رہا ہے جب قومی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ایک محدود طبقے کی جیب میں چلا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں ممتاز ماہر اقتصادیات پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت کہتی ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں اجارہ داری کا رجحان غالب ہے، نوے کی دہائی میں اگر یہ رجحان اگر 70 سے 75 فیصد تھا تو اب یہ بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس سے کارٹیل وجود میں آگئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں چینی اور سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والا بحران اسی صورت حال کا شاخسانہ ہے۔

اسی قسم کے حالات ہیں جن کی روشنی میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں قومی معیشت کی درست تصویر پیش نہیں کرتیں۔ یوں گویا سرمایہ کاری ان مہاجر پرندوں کی شکل اختیار کر چکی ہے جو نسبتاً سازگار حالات میں مختصر وقت کے لیے پاکستان کا رخ کرتی ہے اور جلد ہی اڑ کر باہر چلی جاتی ہے۔

تاہم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ بروکرز کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مارکیٹ پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ بروکریج فرم ڈارسن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک دل آویز نے سٹاک مارکیٹ میں چند گروپوں اور بڑے بروکرز کی اجارہ داری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا لیکن اب مارکیٹ میں بہت گہرائی آ چکی ہے، اس لیے اب ایسا ممکن نہیں۔

اُنھوں نے کہا اب مارکیٹ میں میوچل فنڈز، غیر ملکی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی ایک کثیر تعداد شامل ہے جن کے ہوتے ہوئے مارکیٹ پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں اس وقت کارٹیلائیزیشن کی بات بے بنیاد ہے اور مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ اور اس میں سرمایہ کاروں کی تعداد کے پیشِ نظر ممکن نہیں کہ چند افراد اور گروپ اسے اپنی مرضی کے مطابق چلا سکیں۔

اس سلسلے میں ممتاز ماہر اقتصادیات پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت کہتی ہیں کہ سٹاک مارکیٹ میں اجارہ داری کا رجحان غالب ہے، نوے کی دہائی میں اگر یہ رجحان اگر 70 سے 75 فیصد تھا تو اب یہ بڑھ کر 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس سے کارٹیل وجود میں آگئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں چینی اور سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والا بحران اسی صورت حال کا شاخسانہ ہے۔

اسی قسم کے حالات ہیں جن کی روشنی میں ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں قومی معیشت کی درست تصویر پیش نہیں کرتیں۔ یوں گویا سرمایہ کاری ان مہاجر پرندوں کی شکل اختیار کر چکی ہے جو نسبتاً سازگار حالات میں مختصر وقت کے لیے پاکستان کا رخ کرتی ہے اور جلد ہی اڑ کر باہر چلی جاتی ہے۔

تاہم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ بروکرز کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مارکیٹ پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں ہے۔

پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رجسٹرڈ بروکریج فرم ڈارسن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک دل آویز نے سٹاک مارکیٹ میں چند گروپوں اور بڑے بروکرز کی اجارہ داری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا لیکن اب مارکیٹ میں بہت گہرائی آ چکی ہے، اس لیے اب ایسا ممکن نہیں۔

اُنھوں نے کہا اب مارکیٹ میں میوچل فنڈز، غیر ملکی اور بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی ایک کثیر تعداد شامل ہے جن کے ہوتے ہوئے مارکیٹ پر اثر انداز ہونا ممکن نہیں۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں اس وقت کارٹیلائیزیشن کی بات بے بنیاد ہے اور مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ اور اس میں سرمایہ کاروں کی تعداد کے پیشِ نظر ممکن نہیں کہ چند افراد اور گروپ اسے اپنی مرضی کے مطابق چلا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •