EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

تحریک انصاف حکومت کا تیسرا بجٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا تیسرا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ یہ بجٹ 8 ہزار 487 ارب روپے پر مشتمل ہے جس میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، جبکہ وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافہ، پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور کم سے کم تنخواہ 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔ اس بجٹ میں نو سو ارب سے زائد سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں اس کے ساتھ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے کی ترقی کے لیے مختلف مراعات اور ٹیکس چھوٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں مختلف پیداواری شعبوں کو ٹیکس کی مد میں چھوٹ دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے پیداواری شعبے کو مراعات دے کر ملکی معاشی پیداوار کو بڑھانا ہے تاکہ اگلے مالی سال میں 4.8 فیصد کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ ٹیکسوں میں چھوٹ سے پیداواری شعبے میں سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے جس سے معیشت کو فروغ ملے گا اور ملک میں نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں بھی یہ عمل مددگار ثابت ہو گا۔ شکر ہے کہ حکومت کو اب معاشی گروتھ میں اضافے کی اہمیت کا خیال آ گیا، تحریک انصاف کی حکومت میں عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے۔

حکومت بیروزگاری میں اضافے کی تمام تر ذمہ داری کورونا کی وبا پر ڈال رہی ہے حالانکہ یہ افتاد پچھلے سال آئی جبکہ کاروبار میں خوفناک مندی کا سلسلہ موجودہ حکومت کی ابتدا سے ہی شروع ہو چکا تھا اور بے تحاشا افراد کا روزگار کورونا سے قبل ہی چھن چکا تھا۔ جب اس حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملکی معاشی شرح نمو پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد کے قریب تھی لیکن محض تین سال میں وہ گرتے گرتے ایک اعشاریہ نو فیصد رہ گئی۔ شرح نمو میں اس قدر تیز رفتار تنزلی کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور اس کا لا محالہ نتیجہ روزگار کے مواقع سکڑنے کی صورت ہی نکلنا تھا، اور شرح نمو کے اس تنزل کا اعتراف خود وزیر خزانہ شوکت ترین بھی کر چکے ہیں۔ اب بھی جو شرح نمو تین فیصد بیان کی جا رہی ہے وہ آزاد ماہرین معیشت کے مطابق حقیقت پر مبنی نہیں۔

معاشی شرح نمو میں تیز رفتار تنزل کی بڑی وجہ پہلے بھی ہم کئی بار بیان کر چکے ہیں یعنی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے سوچے سمجھے بغیر کی گئی درآمدات میں کمی اس کی وجہ بنی۔ بلا شبہ پچھلے دو حکومتی ادوار میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جتنا بڑھ چکا تھا اس میں کمی لانا نا گزیر تھا لیکن اس میں کمی کے لیے برآمدات میں اضافے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بغیر سوچے سمجھے ہر قسم کی درآمدات میں کمی کر دی۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے کے نام پر ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی مشنری کی درآمد بھی مکمل روک دی جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی تو آ گئی لیکن اس حکمت عملی سے ترقیاتی منصوبوں پر بھی اثر ہوا اور اس کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال حکومتی معاشی ٹیم کے لیے قابل غور ہونی چاہیے تھی اور نئے بجٹ میں اس کے ازالے کی کوشش خوش آئند ہے۔ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص رقم میں اضافہ واقعتاً بیروزگاری کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ کی رقم نو سو ارب کے ساتھ اگر صوبوں کا ترقیاتی بجٹ ملا لیا جائے تو یہ بہت بڑی رقم بنتی ہے اور اگر یہ بجٹ خرچ بھی ہو جائے تو واقعتاً ملک میں بہت بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقیاتی بجٹ کی پوری رقم استعمال نہیں ہوتی جس کی ایک وجہ نا اہلی ہے تو دوسرا نیب جیسے اداروں کا خوف۔

حکومت کے لیے ایک اور درد سر بجلی کا شعبہ ہے جس کا گردشی قرض ہر سال خطیر رقم نگل جاتا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ گزشتہ دنوں آئی پی پیز سے متعلق ایک رپورٹ کا بڑا چرچہ تھا جس کے مطابق بجلی بنانے کی نجی کمپنیوں سے ایسے معاہدے کیے گئے جنہوں نے وفاقی حکومت کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں اور وہ مہنگی بجلی خریدنے کی پابند ہے۔ اس پر مستزاد ملک میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری چکاری ہے جس کی قیمت ایمانداری سے بل دینے والوں اور حکومت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ اس وقت بجلی کا گردشی قرض ڈھائی ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ جب تک حکومت اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالتی آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ممکن نہیں۔

حکومت نے اگلے مالی سال میں موجودہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ ہدف اگلے مالی سال میں 5800 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ایک تو یہ ہدف بہت زیادہ ہے جس کا حصول موجودہ حالات میں نا ممکن نظر آتا ہے دوسرا ملک کے مجموعی محصولات میں زیادہ حصہ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں آتا ہے جو سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور پٹرولیم ڈیویلپمنٹ لیوی کی شکل میں خزانے میں جمع ہوتے ہیں لہذا صاف نظر آتا ہے کہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا جس کا نتیجہ مہنگائی اور عام آدمی کی زندگیوں میں مزید مشکلات کی صورت نکلے گا۔

بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے پڑیں گے جس کے لیے طویل مدتی اور سخت فیصلوں کی ضرورت ہے جس میں ترجیحی بنیادوں پر خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں جیسے پی آئی اے اور اسٹیل مل وغیرہ کی نجکاری ہونی چاہیے۔ ان اداروں میں غیر ضروری ملازمین کی بھرمار ہے اور یہ ٹیکس دہندگان کی خون پسینے کی کمائی سے عیش کر رہے ہیں۔ قومی خزانہ سے صرف اسٹیل مل پر ہر سال سینکڑوں ارب خرچ ہوتے ہیں اور یہی حال پی آئی اے ’ریلوے اور دیگر سرکاری اداروں کا ہے جو ہر سال قومی خزانہ سے کئی سو ارب ہڑپ کر جاتے ہیں۔

خسارے میں چلنے والے ایسے تمام اداروں کی نجکاری فی الفور ضروری ہے۔ کوئی حکومت لیکن یہ فیصلہ نہیں کر پاتی کیونکہ اپوزیشن وقتی مفاد کی خاطر اسے سیاسی ایشو بنا لیتی ہے جیسا کہ تحریک انصاف نے پچھلے دور حکومت میں کیا۔ ہر حکومت ڈرتی ہے کہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی تو امن و امان کا مسئلہ بنے گا جو اقتدار کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کیے بغیر ملکی معیشت کو پٹری پر نہیں ڈالا جا سکتا اور آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہوں گے۔ قرضوں کے سہارے ملک کو طویل عرصہ تک نہیں چلایا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے