گلگت کے آخری بدھ مت حکمران شری بدت کی کہانی


شری بدت گلگت کا آخری مقامی بدھ مت بادشاہ تھا عام طور پر اس سے آدم خور بادشاہ بھی کہا جاتا ہے جس کا اصلی نام چندر شری دیوا وکرمادتیہ تھا۔

بقول پروفیسر احمد حسن دانی گلگت کے حکمران کی آخری معلوم تاریخ نوشتہ جات کے مطابق 749 صدی عیسوی ہے جس کی تصدیق ہنزہ راک شلالیھ ( ہنزہ کے مقدس چٹانوں ہلڈکوش) کے نوشتہ سے ہوتی ہے۔

گلگت کے لیجنڈ بادشاہ، شری بدت کا دور حکومت 749 صدی عیسوی کا ہے شری بدت گلگت کا ایک حکمران شہزادہ تھا اور اس کی حکومت ہنزہ نگر چلاس داریل، ہراموش، استور گریز، پونیال، یاسین غذر اور چترال تک پھیلی ہوئی تھی اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں کئی علاقوں پر مختلف گورنرز حکومت کرتے تھے۔

صدیاں گزرنے کے باوجود شری بدت کی کہانی آج بھی زندہ ہے مگر یہ حقیقت سے زیادہ افسانہ لگتی ہے لیکن اساطیری یا فسانہ سمجھی جانے والی ان کہانیوں کا مطالعہ کرنا لازمی ہے جن پر نہ صرف خواندگی سے قبل کے لوگ یقین رکھتے تھے بلکہ آج بھی گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے لوگ شری بدت سے منسوب آدم خوری کی کہانی کو بنا تحقیق کے سچ مانتے ہیں چونکہ ان نوجوانوں نے اپنے دادا دادی سے شری بدت کی کہانیاں سنی تھی لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آبا و اجداد سے سنی ہوئی ہر کہانی سچی ہو۔

زمانہ قدیم سے ہی جیو مائتھولوجیکل کہانیوں کا اظہار شاعرانہ استعاروں اور فسانوں یا مافوق الفطری تصورات میں ہوا ہے۔ جیو مائتھولوجی میں فروغ کے باوجود اسے اب بھی کچھ ماہرین تعلیم ’چھلکے‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

حقیقت میں انسانیت کی قدیم روایات اور کہانیوں میں بہت سی معلومات موجود ہیں مگر یہ ایک المیہ ہے کہ بیرونی استبدادی دور میں اس خطے کی تاریخ غلامی کے اندھیروں میں گم ہو گئی ہے لیکن پھر بھی کچھ تاریخی حقائق افسانوں کی شکل میں آج بھی موجود ہیں اور ان میں سے بدھ مت دور کا ایک مشہور افسانہ شری بدت کا ہے۔

کرنل شمبرگ کے بقول ”شری بدت آخری حکمران (گلگت) نے ہندو ہونے کا اعزاز شری بدت کے نام سے حاصل کیا تھا وہ ایک حقیقی شخص تھا لیکن اپنی نام نہاد نسبت بندی کی وجہ سے وہ افسانوی بن گیا ہے“ ۔

گلگت میں مقیم برطانوی پولیٹیکل ایجنٹوں کے جانشینوں میں پہلا شخص میجر جان بڈولف تھا، جس نے قبائل ہندو کش، نامی کتاب ​​شائع کیا جس میں انہوں نے زور دے کر کہا:

”شری بدت کے سپرد کردہ مافوق الفطرت صفات کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ہے کہ شری بدت ایک حقیقی شخصیت تھے۔ شری کی اصطلاح کے بارے میں بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندو شہزادوں کو بھی عزت کے طور پر شری کا لقب دیا جاتا ہے“ ۔

شری بدت نام کی نسبت سے کچھ محققین کا خیال ہے کہ شری بدت ہندو تھا لیکن یہ دلیل جدید ذہن کو زیادہ قائل نہیں کرتی ہے۔

بقول کارل جٹیمار 4 th صدی عیسوی کے دوران اس خطے میں بڑی تعداد میں بودھی خانقاہوں اور سٹوپاز کی تعمیر کی گئی اور آہستہ آہستہ گلگت بدھ مت کی ایک اہم نشست بن گیا۔ اس وقت گلگت بلتستان کے بلور حکمران بدھ مت کے پیروکار تھے اور اس زمانے میں لوگ بھی بدھ مذہب کے ہی پیروکار تھے

اس طرح گلگت بدھ مت اور بدھ بھکشوؤں کا مرکز بن گیا۔

نپورہ بسین گلگت میں واقع بدھا کا مجسمہ، ہنزل کا سٹوپا، گلگت کی قدیم بدھ مت لائبریری سمیت گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بدھ مت کے انمٹ نشانات اور باقیات اس دلیل کی تصدیق کرتے ہیں۔

گلگت کے لیجنڈ حکمران شری بدت کی کہانی کے متعلق گلگت بلتستان میں مختلف طرح کی روایت پائی جاتی ہیں جنھیں زیادہ تر مغربی محققین اور مہم جووں نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے جن میں ڈاکٹر جی ڈبلیو لیٹنر، کیپٹن ایچ سی مارش، جان کلارک، میجر جان بڈولف، کرنل ریجینالڈ شمبرگ، کرنل ڈیوڈ لوریمر، افسر ایچ ایل ہیٹن اور کیلیفورنیا یونیورسٹی امریکہ سے شری بدت پر پی PhD کرنے والے سکالر John Mock کے علاوہ منشی غلام محمد اور پروفیسر احمد حسن دانی بھی شامل ہیں۔

گلگت میں برٹش پولیٹیکل آفس کے چیف کلرک منشی غلام محمد نے، تاریخی شناخت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے شری بدت کی کہانی کا ایک ورژن ”تاریخی لوک داستان گلگت بلتستان“ کے نام سے شائع کیا ہے۔

غلام محمد شری بدت کے متعلق ایک دلچسپ اور سادہ کہانی پیش کرتا ہے جس کے مطابق شری بدت کا قلعہ گلگت پولو گراؤنڈ سے قریب 200 گز مشرق میں واقع تھا۔ شری بدت کی بیٹی اور اس کے وزیر نے آذر جمشید کے ساتھ مل کر اس سے مارنے کی سازش کی تھی۔ ماہ نومبر میں ایک رات اس کے محل کو دشمنوں نے گھیر لیا اور قلعے کے چاروں طرف بڑی آگ لگانے میں کامیاب ہو گئے چنانچہ شری بدت کے پاس اپنی سازشی بیٹی کو سزا دینے کے لئے وقت نہیں تھا اس لئے وہ فوراً ہی ہوا میں کود پڑا اور وادی اشکومن میں واقع چھٹور کھنڈ کی طرف ہوا میں اڑتا ہوا گیا چونکہ وہ جادوئی طاقت کا مالک تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس نے یش پور (گلگت سے 12 میل مغرب کے قریب ویران گاؤں ) میں آرام کیا، جہاں اس نے کسی سے درخواست کی کہ وہ اس کے لیے ایک گلاس ٹھنڈا پانی لے کر آئے۔ اس گاؤں میں انگور کی بھرپور پیداوار ہوتی تھی، اور وہاں کے باشندے ان سے شراب بناتے تھے۔ وہاں موجود شخص نے شری بدت کے پاس شراب کا پیالہ لایا، جس نے غصے سے یہ کہتے ہوئے پینے سے انکار کر دیا کہ وہ آگ سے بچنے کے بعد وہاں آیا ہے جس نے اس کی جان کو بہت نقصان پہنچا تھا چنانچہ اس نے شراب نہیں بلکہ ٹھنڈا پانی مانگا تھا۔

لیکن کسی نے بھی اسے پانی نہیں پہنچایا، اور اس طرح اس گاؤں کے لوگوں کے سلوک سے سخت ناخوش ہونے کے بعد اس نے اس جگہ پر لعنت بھیج دی کہ یہ بالکل تباہ و برباد ہو جائے گا تاکہ دوبارہ وہاں انگور پیدا نہ ہوں۔ اگلے سال یہ ہوا کہ گلیشیر جس سے گاؤں کے لئے پانی کی فراہمی ہوتی تھی وہ پگھل گیا اور اس کے بعد وہ گاؤں ہمیشہ کے لئے تباہ ہوا۔

یش پور گاؤں سے شری بدت وادی اشکومن چٹور کھنڈ گئے اور خود کو وہاں ایک بڑے گلیشیر کے نیچے چھپا لیا، جہاں ابھی بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان کا ٹھکانہ ہے۔

بقول غلام محمد ”لوگوں کا پختہ یقین ہے کہ وہ ایک دن گلگت میں دوبارہ حاضر ہوں گے اور وہ ان پر دوبارہ حکمرانی کی تجدید کریں گے۔ اس کی بادشاہی دوبارہ بحال ہونے کی ڈر کی وجہ سے لوگ ہر سال نومبر میں شری بدت کی حکومت کے خاتمے کی سالگرہ پوری رات اپنے گھروں میں بڑی آگ جلانے کے عادی ہوئے ہیں تاکہ اگر اس کا سفر بدستور جاری رہا تو اپنے بھوت کو دور رکھیں۔

اس رات کوئی بھی سونے کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ وہ بڑی آگ پر رقص اور گانے گاتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔ لیکن شری بدت کے باورچی خانے کے ملازم کا ایک خاندان موجود ہے اور گلگت میں رہائش پذیر یہ واحد خاندان ہے جو شری بدت کے خیر خواہ ہے جو اس تقریب میں حصہ نہیں لیتے ہیں کیوں کہ وہ اب بھی اپنے آقا کے ساتھ وفادار ہیں، اور ان کو یقین ہے کہ وہ خود ہی لوٹ آئے گا ”۔

دوسری طرف ایک اور مقامی روایت کے مطابق شری بدت نے اپنی سازشی بیٹی کو ایک لوہے کے قلعے میں بند کر دیا تھا چونکہ اس نے اپنے منہ بولے باپ جو شری بدت کا وزیر تھا کے ساتھ مل کر اپنے باپ سے غداری کیا تھا۔

Facebook Comments HS