EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بی پڑوسن (شین فرخ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، میں طاہرہ خان کے ساتھ ایک مشاورتی پروگرام کے لئے کوئٹہ گئی ہوئی تھی۔ ہم سرینا ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ ایک صبح ناشتے کے لئے باہر نکلے تو ایک میز پر فراز اکیلے بیٹھے نظر آئے، غالب کی طرح ہمارے بھی ہاتھ پاؤں خوشی سے پھول گئے، ساحر اور فیض کے بعد ہم ان ہی کی شاعری کے دیوانے تھے لیکن کبھی ذاتی طور پر ملاقات کی نوبت نہیں آئی تھی حالانکہ وہ ہمارے دوستوں کے دوست تھے۔ ہم ان کی میز کے پاس جا کے کھڑے ہو گئے، کچھ سمجھ نہیں آیا، اپنا تعارف کیسے کرائیں، پھر بے ساختہ منہ سے نکلا ”میں شین کی پڑوسن ہوں“ ۔

فراز میرا یہ جملہ سن کر جس قدر محظوظ ہوئے اور جو مسکراہٹ ان کے چہرے پر آئی، اسے میں آج بھی آنکھیں بند کر کے دیکھ سکتی ہوں۔ بہت عرصہ بعد ایسے ہی شین فرخ کی ایک کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھی تو ایک جملے پر نگاہیں ٹھہر گئیں ”میں اور فراز کار میں جا رہے تھے۔ کھڑکی سے دیکھا تو آسمان پر چودھویں کا چاند چمک رہا تھا“ ۔

شین سارے فیمنسٹوں اور ترقی پسندوں کی دوست تھیں۔ میری بھی تھیں لیکن ہماری قربت کی سب سے بڑی وجہ ہمارا پڑوسی ہونا تھا۔ 1973 میں جب روز نامہ مساوات سے میں نے عملی صحافت کا آغاز کیا تو کراچی پریس کلب میں ان صحافی خواتین سے تعارف ہوا جنہیں پہلے میں صرف ایک قاری کی حیثیت سے جانتی تھی۔ مسرت جبیں، شمیم اختر، شین فرخ، زبیدہ مصطفے ٰ، زاہدہ حنا اور دیگر۔ اس زمانے میں صحافیوں میں جو اتحاد اور یک جہتی نظر آتی تھی، وہ تو اب خواب و خیال ہو چکی ہے۔ اخبار خواتین ہمارے لئے خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ پاکستان میں خواتین کا پہلا ہفت روزہ تھا۔ اسی لئے اس میں کام کرنے والی خواتین بھی ہمارے لئے بے حد اہمیت رکھتی تھیں۔ خانم کی ڈائری سب ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ شین فرخ کا کالم ”آپ کے مسائل“ بہت پسند کیا جاتا تھا۔

اسی زمانے میں بھٹو نے ویج بورڈ کے ذریعے صحافیوں کی تنخواہیں بڑھائیں اور پرانے صحافیوں کو پلاٹ بھی دیے اور یوں احفاظ اور شین جیسے بہت سے بے گھر صحافیوں کو اپنے سر پہ اپنی چھت نصیب ہوئی۔ انہوں نے اور ان جیسے بہت سے دوسرے صحافیوں نے تنکا تنکا جوڑ کر اپنا آشیانہ بنایا۔ زیادہ تر صحافیوں نے بینک سے قرضہ لے کر گھر بنایا، احفاظ قرضہ لینے کے سخت مخالف تھے، اس لئے انہوں نے اپنا چار سو گز کا پلاٹ بیچ کر صحافی کالونی کے آخری حصے میں ایک سو بیس گز کا پلاٹ خرید کر بقیہ رقم سے اپنا چھوٹا سا گھروندہ بنایا اور شین کی پڑوسن ہونے کا اعزاز ہمارے لئے برقرار رہنے دیا۔

شین مجھ سے کہا کرتی تھی کہ لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ احفاظ اور میرے لئے صحافی کالونی میں اپنے گھر اتنی اہمیت کیوں رکھتے ہیں، ان گھروں کی ایک ایک اینٹ ہم نے خود رکھی ہے۔ ہم اپنے گھر چھوڑ کے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ احفاظ کی بیماری کے دوران بیٹی کا اصرار تھا اور شین کی بیماری کے دوران دوستوں کا اصرار تھا کہ اپنے گھر چھوڑ کر ان کے قریب آجائیں، احفاظ کو تو آخری دنوں میں بیٹی فیفے اپنے پاس لانے میں کامیاب ہو گئی تھی مگر شین اپنی ہٹ کی پکی نکلی اور اس نے آخری سانسیں اپنے گھر میں ہی لیں۔

اس گھر میں جو اس نے تنکا تنکا جوڑ کر بنایا تھا۔ وہ گھر جس میں اس نے دوستوں کے ساتھ یاد گار لمحات گزارے تھے، اس گھر میں ہونے والی دعوتیں دوست بھلا کیسے بھلا سکتے ہیں، ان دعوتوں میں کبھی جون ایلیا، زاہدہ حنا، خوش بخت شجاعت، کبھی کشور ناہید اور شمیم کاظمی، کبھی ناہید صدیقی کبھی فہمیدہ ریاض، افتخار عارف، پروین شاکر، انیس اور ڈاکٹر ہارون، سبط حسن کی بیٹی نوشابہ اور نواسی دانش اور دوسرے غرض یہ کہ شین کے ان گنت صحافی، ادیب، مصور، شاعر اور فیمنسٹ دوست جمع ہوتے تھے۔ شین اور اس کا گھر صرف دوستوں کا نہیں بلکہ دوستوں کے بچوں کی یادوں کا بھی حصہ بنا رہے گا۔ شین اپنے گھر کو ٹرسٹ بنا گئی ہے، شین فرخ ٹرسٹ شین کے خوابوں، خیالوں اور آدرشوں کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

1984، 85 میں جب ہم صحافی کالونی میں اپنے چھوٹے سے گھر میں منتقل ہوئے تو انور سمیع، حبیب غوری، چھاپرا، یوسف دادا اور شین فرخ نے سینیئر پڑوسیوں کی حیثیت سے ہمارا خیر مقدم کیا اور ہمارا خیال رکھا۔ شین اکثر شام کو اپنے کتے کے ساتھ ٹہلتی ہوئی ہمارے گھر آجاتی تھی اور کبھی میں پیدل اس کے گھر چلی جایا کرتی تھی۔ آ نے والے برسوں میں جب محلہ بہت گنجان ہو گیا اور کراچی کے حالات بہت خوفناک ہو گئے تو ہم دونوں پیدل آنے جانے کی بجائے گاڑی ڈرائیو کر کے ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگے۔

گھر کا ذکر بہت ہو گیا، اب کچھ شین کی شخصیت کا بھی ذکر ہو جائے۔ تو صاحبو، اس عورت دشمن معاشرے میں ایک تنہا عورت کا جینا اور ڈٹ کر جینا کوئی معمولی بات نہیں۔ یقیناً شین ایک غیر معمولی عورت تھی جس نے اس معاشرے کے عورت کے لئے مقرر کردہ معیارات سے ہٹ کر اپنی مرضی سے زندگی گزاری۔ اشفاق احمد نے کبھی لکھا تھا کہ سیلف میڈ انسان کی شخصیت ”چب کھڑیبی“ ہوتی ہے، اس میں بہت ڈینٹ پڑے ہوتے ہیں۔ تو وہ سیلف میڈ انسان اگر عورت ہو اور تنہا عورت ہو تو اس سماج نے اس کی شخصیت میں کتنے ڈینٹ ڈالنے کی کوشش کی ہو گی لیکن شین ڈٹی رہی، اس نے بہت وقار کے ساتھ اپنی شرائط پر زندگی گزاری۔ باتیں اور یادیں بہت سی ہیں، ان کا ذکر پھر کبھی سہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے