مفتی عزیز الرحمان تنہا قصور وار نہیں ہے!
نوجوان طالب علم کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے لاہور کے مفتی عزیز الرحمان کو میانوالی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم مقدمہ درج ہونے کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لئے مفرور تھا۔ گزشتہ روز ہی لاہور پولیس نے بتایا تھا کہ متعدد جگہ چھاپہ مارنے کے باوجود ملزم گرفتار نہیں ہوا۔ تاہم آج سی آئی اے نے عزیز الرحمان کو میانوالی کی ایک مسجد سے گرفتار کر لیا۔ اسے لاہور لاکر تفتیش اور قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے ایک ٹویٹ میں اس معاملہ کو ٹیسٹ کیس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس معاملے کی سائنٹیفک پیشہ وارانہ تحقیقات کریں گے اور ملزم کے خلاف مقدمہ قائم کر کے عدالت سے اسے سزا دلوائیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو ایسے جنسی درندوں سے بچانا چاہتے ہیں اور مستقبل میں معاشرے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں‘ ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے پولیس سربراہ کا یہ بیان اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو سنجیدگی سے لینے اور ایسے جرائم میں ملوث ہونے والے افراد کو ان کے سماجی رتبہ سے قطع نظر قانون کے مطابق سزا دلوانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی آئی جی پولیس کے بیان کے حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کی جا سکتی ہے کہ پولیس نے اس کارروائی کا آغاز سوشل میڈیا پر یکے بعد دیگرے متعدد ویڈیو عام ہونے اور ملزم کی طرف سے ’وضاحتی ویڈیو‘ جاری ہونے کے کئی روز بعد کیا تھا۔ جرم پتہ لگتے ہی پولیس فوری طور سے ایکشن میں نہیں آئی تھی۔ اسی طرح انعام غنی کے ٹویٹ کے اس پہلو سے بھی مکمل اتفاق ممکن نہیں کہ کسی ایک معاملہ میں ملوث ایک شخص کو سزا دلوانے سے اس قوم کے بچے محفوظ ہوجائیں گے یا معاشرہ کی تطہیر کا فرض پورا کر لیا جائے گا۔ یہ گرفتاری اور پولیس کا عزم بلا شبہ درست سمت میں ایک مناسب قدم ہے لیکن اس حوالے سے سماجی رویوں میں تبدیلی اور معاشرہ کی ہر سطح پر احساس ذمہ داری اجاگر کرنا بھی بے حد ضروری ہوگا۔ یہ سمجھ لینا فاش غلطی ہوگی کہ اتفاقاً ایک واقعہ کو سوشل میڈیا پر شہرت ملنے کے بعد ہونے والی کارروائی سے معاشرہ سے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس حوالے سے ایک طرف پولیس نظام کو فعال، موثر اور مستعد کرنے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف جنسی جرائم کے بارے میں عمومی رویہ کو تبدیل کرنا بھی اہم ہوگا۔ کوئی ایک واقعہ ضرور کسی جرم کے بارے میں آگاہی کے حوالے سے سبق آموز ہو سکتا ہے لیکن ایک شخص کو سزا دلوانے یا اس واقعہ کو سماجی تنہائی میں رونما ہونے والا اکا دکا سانحہ سمجھ لینا بھی اتنا ہی نقصان دہ ہوگا جتنا ایسے معاملات میں بوجوہ درگزر کرنے یا چشم پوشی کے طرز عمل سے ہوتا ہے۔ ایسے جرائم پروان چڑھنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ گھر ہو، مدارس ہوں یا اسکول یا سماج میں بچوں اور بالغوں کے درمیان میل جول کے دوسرے ادارے و مواقع، وہاں بوجوہ سائے میں ابھرنے والی ایک مخصوص ثقافت کے بارے میں نہ تو بات کی جاتی ہے، نہ اس بارے میں شعور پیدا کیا جاتا ہے۔ اور اگر کوئی نحیف آواز شکایت کرنے کی کوشش بھی کرے تو ظلم کا شکار ہونے والے کو ہی درگزر سے کام لینے کا مشورہ دے کر خاموش کروانے کے لئے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح ایک افسوسناک سماجی مسئلہ پر بات کرنے، سبق سیکھنے، اصلاح کا پہلو تلاش کرنے اور ایک تکلیف دہ علت کے خاتمہ کی تحریک منظم کرنے کی بجائے، اس گھناؤنی اور مجرمانہ ثقافت کی آبیاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے اگر زیر غور مفتی عزیز الرحمان کیس کو ہی دیکھا جائے تو شکایت کنندہ کو اسی وقت ہمدردی حاصل ہو سکی تھی جب اس نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ویڈیو ایک یو ٹیوب چینل کے ذریعے عام کرنے کا حوصلہ کیا۔ یہ قیاس کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ ایک مدرس کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے نوجوان کے لئے یہ فیصلہ کرنا اور خود اپنے آپ کو دنیا کے سامنے اس تکلیف دہ صورت میں پیش کرنا کس قدر مشکل اور کربناک ہوگا۔ اس سے یہ سمجھنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے معاشرہ یا اس کے ادارے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے نوجوان کی بات پر اس وقت تک اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جب تک وہ اس کا ’دستاویزی ثبوت‘ سامنے نہیں لایا بلکہ اسے سوشل میڈیا پر نشر کر کے خود ہی اپنی سماجی اہانت کا اہتمام کرنے پر مجبور ہوا۔ آئی جی پنجاب ضرور اب اس واقعہ میں ملوث شخص کو نشان عبرت بنانے کی بات کر رہے ہیں لیکن ان کے زیر انتظام پولیس بھی سوشل میڈیا پر ویڈیو نشر ہونے کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ اور عوامی غم و غصہ ہی کی وجہ سے متحرک ہوئی تھی۔
ملک اور پنجاب میں پولیس کلچر اس قابل نہیں ہے کہ یہ نوجوان سوشل میڈیا سے مدد لینے کی بجائے براہ راست پولیس افسر کے پاس جاتا اور اس کی شکایت پر اس جرم میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ عزیز الرحمان کی گرفتاری اور اس کے خلاف مقدمہ ایک ہفتے سے زائد مدت تک یہ معاملہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر زیر بحث رہنے کے بعد ہی ممکن ہوسکا تھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اگر مستقبل میں واقعی معاشرہ کو محفوظ اور اپنے کم سن بچوں کو سماجی لحاظ سے طاقت ور کرداروں کے مجرمانہ افعال سے محفوظ کرنے کی کوئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے محکمہ میں اس شعور کو عام کرنا ہوگا کہ جنسی جرائم کا شکار ہونے والے شکایت کنندہ کو احترام دینے اور ان کی بات پر اعتبار کرنے کا رویہ فروغ پائے۔ ابھی چند روز پہلے ہی قصور میں ایک پولیس افسر نے اپنی کم سن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے لئے آنے والے ایک باپ کو تھانے کی صفائی کا حکم دے کر اس مزاج کی نشاندہی کی تھی جس کی وجہ نہ تو ایسے جرائم منظر عام پر آتے ہیں اور نہ ہی ظلم کا شکار ہونے والے پولیس کے پاس شکایت کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے ساری ذمہ داری صرف پولیس کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ سماج سدھار کے لئے قائم ایک اہم محکمہ ہونے کے باوجود پولیس بھی اس معاشرے کا ہی کا حصہ ہے جہاں جنسی جرائم کو سماجی تلذذ کے لئے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان کی بیخ کنی کے لئے کوئی ٹھوس، عملی، سماجی، علمی، سیاسی یا دینی تحریک دیکھنے میں نہیں آتی۔ زیر بحث معاملہ کا یہی پہلو تکلیف دہ اور قابل توجہ ہے۔ اصل تفصیلات تو پولیس تفتیش کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہیں کہ یہ معاملہ کب سے متعلقہ افراد کے علم میں تھا لیکن کوئی ٹھوس اقدام کرنے کی بجائے شکایت کنندہ کو ہی ہراساں کرنے یا سمجھانے بجھانے کی کوشش کی گئی۔ ان عناصر میں متعلقہ مدرسہ کی انتظامیہ سے لے کر وفاق المدارس کے وہ عہدیدار سبھی شامل ہیں جنہوں نے معلومات سامنے آنے اور شکایت سننے کے فوری بعد اس گھناؤنے فعل میں ملوث شخص کو تحفظ فراہم کیا۔ جب معاملہ مزید کھلا تو اس پر اکتفا کیا گیا کہ مفتی صاحب کو نوکری سے نکال کر مدرسے کا مکان خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔
حالانکہ ایک بچے کے خلاف جنسی دست درازی کرنے والے کسی استاد کو فوری طور سے پولیس کے حوالے کرنے اور اس کے جرم کا نشانہ بننے والے دیگر طالب علموں کی حفاظت کے لئے کام کرنے کی ضرورت تھی۔ اصول قانون کے تحت صرف جرم کرنے والا ہی قصور وار نہیں ہوتا بلکہ اس کی پردہ پوشی کرنے والے کو بھی شریک جرم ہی سمجھا جائے گا۔ مفتی عزیز الرحمان کے معاملہ میں تفتیش کے دوران پولیس کو اس پہلو پر غور کرتے ہوئے ان تمام افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیے جو مختلف مراحل پر اس جرم سے آگاہ تھے لیکن اس کے بارے میں پولیس کو شکایت کرنے اور معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ مدرسہ میں تعلیم پانے والے ان تمام طالب علموں سے بھی استفسار کرنے کی ضرورت ہے جو عزیز الرحمان سے تعلیم پاتے رہے تھے۔ جنسی جرم کے عادی شخص کے ہاتھ کسی بھی معصوم تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں بھی یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کیا صرف ایک نوجوان ہی عزیز الرحمان کی زیادتی کا نشانہ بنا تھا یا کچھ دوسرے بچوں کو بھی ایسی ہی شکایت ہے۔ ان دو پہلوؤں پر کام کرنے سے ہی مستقبل میں جنسی ہوس میں ملوث افراد کو کسی ناجائز حرکت سے روکنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔
مدرسہ کی انتظامیہ اور دیگر افراد کی لاتعلقی کے علاوہ اس معاملہ میں ملک کے دینی رہنماؤں کی خاموشی اور بے اعتنائی بھی تکلیف دہ امر ہے۔ خاص طور سے اس حقیقت کی روشنی میں کہ ملزم عزیز الرحمان سیاسی طور سے بھی متحرک تھا اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کا عہدے دار بھی رہا ہے۔ معاملہ کھلنے پر اگرچہ جمیعت علمائے اسلام (ف) لاہور کے سیکرٹری جنرل نے ضرور عزیز الرحمان کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہہ کر کہ ’تحقیقات مکمل ہونے تک رکنیت معطل رہے گی‘ اسے معاف کرنے کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ بلکہ بیان سے یہی تاثر ملتا ہے جیسے عزیز الرحمان کی بے گناہی کا ثبوت بھی سامنے آ سکتا ہے۔ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہے کہ جرم ثابت ہونے تک کسی کو قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کی داعی جے یو آئی کو اس معاملہ کے سیاسی اور سماجی پہلو کا بھی اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ جماعت کی اعلیٰ ترین قیادت کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ خبر سامنے آنے کے بعد فوری طور سے اس معاملہ سے لاتعلق ہونے کا اعلان کرتے اور اپنے عہدے دار کو حکم دیا جاتا کہ وہ پولیس و عدالت کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کریں نہ کہ ایک ناقص ویڈیو بیان کو شافی مان کر معاملہ رفع دفع کیا جاتا۔
اسی طرح درسگاہوں میں جنسی زیادتی چونکہ ایک سنگین مسئلہ ہے، اس لئے ایک ٹھوس واقعہ سامنے آنے کے بعد قومی منظر نامہ پر متحرک اور فعال علمائے کرام کا اخلاقی و دینی فرض تھا کہ وہ اس ذہنیت اور جرم کے خلاف آواز بلند کرتے۔ تاہم چند بیانات کے علاوہ اہم دینی لیڈروں اور جماعتوں نے جس طرح خاموشی اختیار کی ہے، وہ ان معنوں میں مجرمانہ ذہنیت ہے کہ اس میں ایک دینی مدرسہ میں ہونے والے ایک قبیح فعل کی پردہ پوشی کا اہتمام کیا گیا ہے۔


