ساقی فاروقی اور منصور آفاق کی قلم کلامی
( 2004 کی لکھی ہوئی تحریر ہم سب کے لئے)
ساقی فاروقی لندن میں رہتے ہیں اور میں لندن سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور برمنگھم میں مقیم ہوں مگر زندگی اتنی زیادہ مصروف ہے کہ پچھلے پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ میں ساقی فاروقی کے لئے یہ ڈیڑھ سو کلو میٹر کا راستہ طے کر سکا ہوں۔ ان سے صاحب سلامت، علیک سلیک اور میل ملاقات کا واحد وسیلہ ٹیلی فون ہے۔ کبھی وہ میرے فون کی گھنٹی بجا دیتے ہیں اور کبھی میں ان کے فون کی گھنٹی سے ان کی وہسکی بھری نیند کا کارک اڑا دیتا ہوں۔ گھنٹی بہرحال کسی طرف بھی شور کرے مجھے ان کی بلوغت بھری آواز میں بولتی ہوئی ”عین“ کے ساتھ اپنے لئے ”بدمعاش“ کا لفظ سننا پڑتا ہے۔ یہ ساقی صاحب کا اپنے سے کم عمر کے شخص کو مخاطب کرنے کا مخصوص انداز ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کی صحت کی خرابی کی وجہ سے اس لفظ کی ادائیگی میں بھی ”چہکار“ آتی جا رہی ہے اور یہ وقوعہ ہفتے میں تقریباً دو چار بار ضرور وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ دونوں طرف بجتی ہوئی گھنٹیوں کا شور اردو ادب کے گلی کوچوں میں اب تو اتنا رسوا ہو گیا ہے کہ اخباروں میں ایڈیٹر کی ڈاک کا کالم بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔
دراصل مجھے برسوں سے قلم کی نوک کے ساتھ پگڑیوں کے بل کھولنے کی عادت ہے۔ میں ہفتے میں ایک بار اپنے کالم (دیوار پہ دستک) میں کسی نہ کسی ”ادبی بدمعاش“ کے گریبان پر زور دار ہاتھ ڈال دیتا ہوں اور جس کی بھی دستار زمین پر گرتی ہے اسی کو پردے کے پیچھے سے ساقی فاروقی جھانکتا ہوا نظر آنے لگتا ہے۔ (بیچارے ساقی صاحب) اپنے 75 فیصد دوستوں کو تو اپنے ”ہدایت نامہ“ سے اپنا دشمن بنا چکے ہیں۔ باقی 25 فیصد یقیناً دیوار پر میری مسلسل دستکوں سے ہو جائیں گے۔ لیکن نقصان میں صرف ساقی فاروقی ہی نہیں، میں بھی ہوں۔ مجھے بھی ان کی وجہ سے کئی طرح کے نقصان ہوئے ہیں۔ یہ سب بڑا نقصان یعنی نقصان عظیم تو یہ ہوا ہے کہ جسمانی اعتبار سے میں ان سے زیادہ قد آور ہوں، مگر جب اردو ادب کی کسی گلی کی نکڑ پر ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے اپنا قد ان سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے، مگر میرا حوصلہ دیکھئے کہ میں پھر بھی ان کے ساتھ چلتا جا رہا ہوں۔ شانہ بہ شانہ۔ یہ اور بات ہے کہ کہیں کہیں مجھے پنجوں کے بل چلنے کی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس اذیت کا سب سے زیادہ تجربہ مجھے اس وقت ہوا جب میں نے ساقی فاروقی کو اپنے شعری مجموعی ”نیند کی نوٹ بک“ کا مسودہ نظرثانی کے لئے بھجوایا اور خوشی بھی ہوئی کہ میری طرح کہیں کہیں شاید ساقی فاروقی بھی اسی اذیت سے دوچار ہوئے (شاید کا لفظ محض ساقی فاروقی کی مونچھ کو اونچا رکھنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے) ۔ ”نیند کی نوٹ بک“ پر ہونے والے اس علمی مباحثے میں مجھ پر یہ عجیب انکشاف ہوا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے ”تو بھی گریجوایٹ ہے، میں بھی گریجوایٹ“ مگر عمر، تجربے اور ریاضت کے اعتبار سے ساقی فاروقی کی زرہ بکتر زیادہ نادر تھی۔ (نادر کا لفظ یہاں نوادرات سے ہے)۔
”نیند کی نوٹ بک“ کا مسودہ جب میرے پاس واپس آیا تو اس کے لفافے میں ساقی فاروقی کا ایک خط اور ہر دوسرے تیسرے صفحے کے ہاتھ پر کوئی نہ کوئی مشورہ دھرا تھا۔ کچھ خوبصورت تھے، کچھ میک اپ زدہ تھے اور کچھ کی آنکھیں ٹھیک نہیں تھیں۔ (آشوب چشم کے مرض پر ساقی صاحب سے پہلی معذرت) ۔
اس کاغذی کارروائی کا آغاز ساقی فاروقی کے خط سے کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس کا ایک ایک لفظ اتنا سوچ سمجھ کر لکھا ہے کہ ہاتھ سے لکھے ہوئے کئی جملوں پر ٹپ ایکس لگی ہوئی تھی۔ شاید میرے بارے میں ساقی صاحب کو اپنی رائے ایک لمحے میں کئی کئی بار بدلنی پڑی ہے۔ یہ ہے تو بڑی غیر فطری سی بات مگر پتہ نہیں کیوں مجھے اپنی تعریف اچھی نہیں لگی۔ حالانکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ ساقی صاحب اپنے کہے ہوئے کا پہرا دیتے ہیں۔ اس لئے ایسی بات کرتے ہی نہیں جس پر انہیں آنے والے کل میں شرمندگی ہو۔ سو، سارے احترام اور ساری عزتیں ساقی صاحب کے لئے مگر میں ان کی اس ”فکر“ کا وارث نہیں ہو سکتا جو اپنی تعریف کی تلاش میں 1938 ء سے بھٹکتی پھر رہی ہے۔ (ساقی صاحب! دوسری معذرت) ۔ بہرحال خط کا فائنل پروف یہ تھا:
”پیارے منصور آفاق
آٹھ دس دن میں تمہاری سو ( 100) غزلوں سے گزرا ہوں اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ:
1 تم میری توقع سے کہیں بہتر شاعر ہو۔
2 تمہارے سوچنے کا انداز نرالا ہے۔
3 تم میں خیال، احساس اور بیان کی ندرت ہے۔
4 تم میں ایک ایسی تازگی ہے جو تمہارے ہم عمر، ہم عصروں میں کم کم نظر آتی ہے۔
5 تمہارے یہاں انگریزی الفاظ ایسے ہیں جو اب ہمارے روزمرہ کا حصہ ہیں۔ ان کی وجہ سے بھی زبان میں فرسودہ خیالی نہیں ہے۔ تم اسی فیصد انگریزی الفاظ کو ”اردوانے“ میں کامیاب ہو گئے ہو مگر بقیہ بیس فیصد مزید توجہ چاہتے ہیں۔ اگر مترادفات میں کوئی اردو/ ہندی لفظ ہو تو اسے لکھنے سے ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔ میں تم سے یہ نہیں کہہ رہا کہ ”بلب“ کی جگہ ”شمع“ یا ”دیا“ لکھ دو۔ اس لئے کہ بلب سے ذہن میں جو شبیہ ابھرتی ہے وہ ہمیں بیسویں / اکیسویں صدی کے تجربے کی یاد دلاتی ہے اور یہی تمہارا مقصود بھی ہوتا ہے۔ ”
6 تم چونکانے کے چکر میں زبان کے پینترے نہیں دکھاتے یا معنی کو قربان نہیں کرتے اور یہ بڑی خوبی ہے۔
7 میں نے اتنی تعریف کبھی اپنی نہیں کی جتنی تمہاری کر دی ہے۔
گڈلک! تمہارا ساقی فاروقی ”
خط پڑھتے ہی میں نے سوچا کہ اس نوٹ بک میں کسی اور زبان کا کوئی ایسا لفظ بھی در آیا ہے جس کا مترادف اردو یا ہندی موجود تھا اور مسودے کے دوسرے ہی صفحے پر ساقی صاحب کے گورکھ پوری قلم کی تیز دھار نے اس شعر کے پہلے مصرعے کو کاٹ کاٹ رکھا تھا:
اٹھو بیڈ سے چلو گاڑی نکالو
فقط دو سو کلو میٹر پہ میں ہوں
اور ان کے قلم سے پہلا مصرعہ یوں لکھا ہوا تھا (اٹھو بستر سے اور گاڑی نکالو) ۔ مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ میں ساقی صاحب کی اس بات سے اتفاق نہیں کر سکا کیونکہ میرے نزدیک بیڈ کا مترادف بستر نہیں ہو سکتا۔ بیڈ کا لفظ سن کر ذہن میں پلنگ، بستر اور لحاظ کا ایک مکمل پیکیج آتا ہے (ساقی صاحب! تیسری معذرت) ۔
اس سے اگلے صفحے پر یہ شعر نشان زدہ تھا:
ادھ جلے سے سگریٹ کے ایک ایک ٹکڑے میں
لاکھ لاکھ سالوں کا انتظار لگتا ہے
اور نیچے یہ مشورہ درج تھا کہ ”اسے بھی تمہیں دوبارہ کہنا چاہیے۔ سگریٹوں کا ایک ایک ٹکڑا تو سکتا ہے مگر ایک ہی سگریٹ کا نہیں۔“ سالوں ”کا لفظ اچھا نہیں۔ اردو میں اس کا کچھ اور مفہوم بھی ہے۔“ سالوں ”کی بجائے دوسرے مصرعے میں“ برسوں ”کا لفظ لگا دو۔“
میں یہاں بھی ان سے اختلاف رکھتا ہوں۔ زبان کے اعتبار سے یہ غلط نہیں۔ ہم روزمرہ استعمال میں ”سگریٹ کا پیکٹ“ بولتے ہیں سگریٹوں کا پیکٹ نہیں حالانکہ اس پیکٹ میں دس یا بیس سگریٹ ہوتے ہیں۔ گویا سگریٹ اسم جنس کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ پھر غالب نے کہا تھا ”چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط۔“ غالب کو غالباً ”تصویر بتاں“ نہیں ”تصاویر بتاں“ کہنا چاہیے تھا، کیونکہ اس نے آگے خط نہیں خطوط لگایا ہے۔ آتش نے بھی کہا تھا کہ ”ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے“ غالباً اسے بھی آج کی زبان کے مطابق ”راہ میں ہیں“ کہنا چاہیے تھا اور اگر غالب اور آتش جیسے بڑے لوگ یہ غلطی کرتے ہیں تو مجھے ان کے نقش قدم پر چلنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ جہاں تک لفظ ”سالوں“ کی بات ہے تو میں اسے کسی اور طرح دیکھتا ہوں۔ میرے خیال میں ”ابے سالے“ کی تہذیب اب تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ اب پاکستان اور یہاں برطانیہ میں اس لفظ کو سن کر کسی کے دماغ میں کوئی ذم کا پہلو نہیں آتا۔ ممکن ہے یو پی، سی پی والوں کے لئے یہ لفظ گالی ہو مگر ہمارے نزدیک (یعنی ہم پاکستانیوں کے نزدیک) گالی نہیں ہے۔ پھر ”برسوں“ کا لفظ ”سالوں“ کے لفظ کے مقابلے میں تھوڑا سا کرخت بھی ہے اور میرے خیال میں شعر کے ماحول کو ڈسٹرب کرتا ہے۔ ساقی صاحب! آپ تو شعری جمالیات سے پوری طرح واقف ہیں۔ جانتے ہیں کہ شعری جمالیات کا تعلق لفظوں کے بارے ایک طویل عرصے میں ترتیب پانے والی انسانی سائیکی سے ہوتا ہے اور میری سائیکی کی تہذیب میں میانوالی کے درمیان سے گزرتے ہوئے دریائے سندھ کی روانی کا شور ”چشمہ جھیل“ سے شروع ہونے والے تھل کے صحرا میں رات کو کیکروں کے پیلے پھول کھلنے کی آواز، کچھی کے سر سبز و شاداب میدان میں صبح دم چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کی سسکاریاں اور نمکسار کے بے آب و گیاہ پہاڑوں پر چٹختی ہوئی دھوپ کی چیخ شامل ہے (چوتھی معذرت) ۔
اس کے بعد یہ شعر تحریف زدہ تھا:
کیوں بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا؟
اس میں ”کیوں“ کی جگہ ”وہ“ لفظ لگانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ مشورہ خوبصورت تھا، سو قبول کر لیا (ساقی صاحب! پہلا شکریہ) ۔
اگلے صفحے پر اس شعر کے پہلے مصرعے کے پہلے دو لفظوں کے اردگرد ایک مستطیل کھینچ گئی تھی:
دولت حسن! مرا ٹاٹ کا معمولی بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
اس مستطیل کے اوپر لکھا تھا ”تو وہ ریشم کہ“ یقیناً اس تبدیلی سے مصرعہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔ ”تو وہ ریشم کہ مرا ٹاٹ کا معمولی بدن“ (ساقی صاحب! دوسرا شکریہ) ۔
اس کے بعد اس شعر کے اوپر ایک بڑا سا کراس کا نشان لگا ہوا تھا بالکل صلیب کی طرح:
کیسا یہ ”گے ادب“ کا افتی مباحثہ تھا
ہر مرد گفتگو میں تلخی پہن کے نکلا
اور شعر کے نیچے انگریزی میں بڑا موٹا موٹا کر کے لکھا ہوا تھا
No, No, No! He is not important enough.
میں ساقی صاحب کی اس بات سے بھی اختلاف رکھتا ہوں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ شاعری میں اہم آدمی ہی کا ذکر کیا جائے۔ خود ساقی صاحب نے جان محمد خان اور حاجی بھائی پانی والے پر قم باذنی کہہ کر انہیں زندہ کر دیا ہے۔ ساقی صاحب کے کچھ لکھنے سے پہلے تو دونوں سے کسی کی کوئی علیک سلیک نہیں تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میرے خیال میں اردو زبان میں ”گے ادب“ کو لانے والا شاعر افتی ہے اور اس کے لئے اسے جو قیمت ادا کرنی پڑی ہے وہ شاید کوئی اور ادا نہ کر سکے۔ جسم کی صلیب پر مصلوب ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ ”گے“ ہونا اور بات ہے مگر اپنی زبان سے اپنے آپ کو ”گے“ کہنا اور ”گے ازم“ کا پرچار کرنا کسی ایشیائی اور مسلمان آدمی کے لئے کتنا بے رحم عمل ہے، اس کا احساس ”گے“ ہونے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن پستی کی آخری سطح سے کیا طلوع ہو رہا ہے، اس کی خبر اردو ادب کو افتی نے دی ہے۔ عجیب بات ہے کہ اختلاف کے باوجود میں ساقی صاحب کی یہ بات ماننا بھی چاہ رہا ہوں۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو اس شعر میں وہ مسیحائی موجود نہیں جو ”جان محمد خان“ اور ”حاجی بھائی پانی والا“ میں دکھائی دیتی ہے ہے۔ دوسری وجہ۔ شاید میری مشرقی سائیکی اور میرے عقائد ہیں جو ساقی صاحب کی دشمنی کا ساتھ دے رہے ہیں (ساقی صاحب! آدھی معذرت آدھا شکریہ) ۔
اس کے بعد انہوں نے اس شعر کے قتل نامے پر اپنی مہر لگا رکھی تھی:
آسماں کے حرا پہ اترا ہے
اک محمد ﷺ خدا پہ اترا ہے
اور مہر کے اوپر یہ حکم درج تھا۔ کہ ”فوراً کاٹ دو۔ مولوی تمہیں پریشان کریں گے۔“ افسوس میں یہ بات بھی نہیں مان سکتا۔ یہ تو نعت کا شعر ہے۔ مولوی اس شعر پر مجھے داد دیں گے۔ اس میں کوئی غلط بات نہیں کہی گئی۔ یہ بالکل اسی طرح کی بات ہے جیسے کہتے ہیں ”شاعر پر شعر اترا ہے“ ۔ اس سے نہ تو خدا کا مرتبہ کم ہوتا ہے اور نہ ہی یہ خلاف واقعہ ہے۔ مقام کعبہ قوسین آسمان کا حرا ہی تو ہے (ساقی صاحب! ساڑھے پانچویں معذرت) ۔
اور نیچے تحریر تھا کہ ”اونٹوں کی قطار سبز کیوں ہے؟ کچھ اور کرو۔“ کوئی ”یا“ ایک ”لگا دو اور“ آبشار ”مؤنث ہے، تم نے اسے مذکر باندھ دیا ہے۔“
اس میں کوئی شک نہیں ساقی صاحب ٹھیک کہتے ہیں ”آبشار“ کو اہل زبان مؤنث ہی باندھتے ہیں اور کیا فرق پڑ جاتا ہے کہ میں ”اگر پانیوں پر گر رہا تھا آبشار“ کی بجائے ”پانیوں پر گر رہی تھی آبشار“ باندھ دیتا۔ پھر میں نے نیچے یہ نوٹ بھی لکھا ہے کہ میں نے ایسا دانستہ کیا ہے۔ مگر بات دانستہ کی جائے یا غیر دانستہ، اس میں کوئی منطق تو ہونی چاہیے۔ اب یہ تو کوئی بات نہیں کہ ہمارے علاقے میں آبشار کا لفظ مذکر بولا جاتا ہے اس لئے میں نے اس لفظ کو مذکر باندھ دیا ہے۔ میں میانوالی کا ہوں، دہلی یا لکھنؤ کا تو نہیں کہ میری زبان سند ٹھہرے۔ پھر یہ بھی وہ ٹھیک کہتے ہیں کہ اونٹ سبز کیوں ہیں، سرخ یا سیاہ کیوں نہیں۔ بھورے بھی ہو سکتے تھے۔ یقیناً سبز رنگ کی کوئی وجہ ہو گی۔ ہر رنگ کا اپنا فلسفہ ہوتا ہے۔ اس کے پس منظر میں بہت سی باتیں موجود ہوتی ہیں، جیسا کہ اب نیلا رنگ وسعت اور طاقت کی علامت ہے کیونکہ نیلا آسمان کا رنگ ہے، روح کا رنگ ہے، سمندر کا رنگ ہے، جنس کا رنگ ہے۔ اسی طرح سبز رنگ کے بھی کئی مفہوم ہیں۔ یہ لفظ یہاں ایک وسیع علامت ہے، عرب کے صحرا سے وادی سندھ میں آتے ہوئے اونٹوں کی دریا پار کرتی پاکیزہ قطاروں سے ابھرتے ہوئے نظریات کی (ساقی صاحب! ساتویں معذرت۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ جاہل مطلق ساڑھے پانچویں معذرت سے یک دم ساتویں معذرت پر کیسے پہنچ گیا ہے! کیا اردو کی طرح یہ ریاضی میں بھی کمزور ہے؟ نہیں ساقی صاحب! اتنا بنیا تو میں ہوں۔ دراصل یہ معذرت کچھ زیادہ تھی، سو ایک سے کام نہیں چل رہا تھا، میں نے ڈیڑھ کر دی) ۔
اس شعر میں ”بوسۂ سرگرم“ پر حدود آرڈیننس جاری کیا گیا تھا:
جل گئی تھی مری آغوش گلوں سے منصور
رات وہ بوسۂ سرگرم کی سازش کیا تھی
اور پہلوئے شعر، یہ غیر منکوحہ مشورہ سو رہا تھا ”اس شعر میں شاید تم ’بوسۂ گرم‘ لکھنا چاہتے تھے۔ ’سرگرم‘ کا یہ استعمال اجنبی ہے، کوئی اور لفظ لکھ لو۔ مثلاً ’محبوب‘ ۔“
نہیں ساقی صاحب! میں ”بوسۂ سرگرم“ ہی لکھنا چاہتا تھا، سو لکھا۔ اصل میں اردو زبان میں بوسہ ”کے لفظ میں وہ ویری ایشن نہیں آ سکیں جو آنی چاہیے تھیں کیونکہ ہماری تہذیبی قدروں میں بوس و کنار کا شاعری میں اظہار کبھی پسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی ہم لوگ“ بوسوں ”کی مختلف معنویت سے آشنا ہیں۔ مغرب میں مختلف موقعوں پر نہ صرف بوسہ کا سٹائل بد جاتا ہے بلکہ ان کا مفہوم بھی۔ بھائی اور بہن کے درمیان بوسہ یہاں پوری طرح پاکیزہ ہے مگر مرد کا مرد کو بوسہ کسی طرح بھی پاکیزگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا جبکہ عرب تہذیب میں مرد کا مرد کو بوسہ ہر آلائش سے پاک ہے۔ ہاں تو میں“ بوسۂ سرگرم ”کی بات کر رہا تھا۔ یہاں“ سرگرم ”کا استعمال میں نے جذبوں سے بھرے ہوئے متحرک اور پرجوش بوسے کے مفہوم کی تلاش میں کیا ہے (ساقی صاحب! آٹھویں معذرت) ۔
اس شعر کے دوسرے مصرعے کے سامنے ایک بڑا سا بھاری بھرکم ”بولارڈ“ (Bollard) رکھا ہوا تھا:
منصور اس گلی میں تو آتی نہیں ہے دھوپ
گھر ڈھونڈ کوئی مین سڑک پر کسی جگہ
اور کنارے پر مشورے کا یہ بورڈ آویزاں تھا ”یہ آدھی انگریزی اور آدھی اردو کا مرکب نہیں چلے گا، اسے بدلو۔“
میں ساقی صاحب کو کیسے سمجھاؤں کہ یہ تو روزمرہ ہے۔ یہ مرکب میں نے نہیں بنایا، عوام نے بنایا اور عوام کی زبان زندہ رہا کرتی ہے۔ یہی ”مرکب“ اردو زبان کا مستقبل ہے، سو اس سڑک کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ اصولاً تو انہیں اس شعر پر اعتراض ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ سٹیٹمنٹ ہے اسی لئے میں نے اسے بدل کر یوں کر دیا ہے :
منصور اس مکاں سے تو آتی نہیں ہے آنچ
پھر ڈھونڈ کوئی دھوپ سڑک پر کسی جگہ
(ساقی صاحب! نویں معذرت) ۔
”حرکت“ کے لفظ کی حرکت اس شعر میں معتوب قرار پائی:
حرکت ہر ایک شے کی معطل دکھائی دے
جاگا ہوا نگر بھی مجھے شل دکھائی دے
اور اس پر یہ دو چار کلو گرام کا حاشیہ درج کیا گیا کہ ”حرکت کا لفظ فعلن سے فعلن نہیں۔ مصرعہ بے وزن ہو گیا ہے۔ اگر تم“ حرکت ”(جیسے“ یہ کیا حرکت ہے ”) والے معنی میں لکھتے تو وزن فعلن ٹھیک ہوتا۔“
مجھے یہاں بھی ساقی صاحب کی یہ وزنی حاشیہ آرائی اچھی نہیں لگی کیونکہ میرے خیال میں اس لفظ کے دونوں وزن درست ہیں۔ اگرچہ آغا صادق کی ساقی صاحب کے سامنے کوئی حیثیت تو نہیں ہے مگر انہوں نے اپنی کتاب ”نکات فن“ میں لکھا ہے کہ اساتذہ نے اس لفظ کو دونوں طرح استعمال کیا ہے اور مصحفی کا یہ شعر تو خود مجھے بھی یاد ہے کہ:
فلک نے جو اپنے تئیں دور کھینچا
یہ حرکت ہوئی ناگوارا زمیں پر
(اگر یہ مصحفی نے کہا بھی ہے تو ”یہ کیا حرکت“ کے معنوں میں کہا ہے) ۔ اور حالی: ع ”کہ حرکت میں ہوتی ہے برکت خدا کی۔“
اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی زبان میں اس کا تلفظ فعلن ہی ہے مگر بے شمار لفظ عربی سے اردو زبان میں در آنے کے بعد اپنے تلفظ بدل چکے ہیں، صرف ایک ”حرکت“ پر کیا موقوف (ساقی صاحب! دسویں معذرت) ۔
اس غزل پر خاصی چشم توجہ کی گئی مگر تر نوالہ ثابت نہیں ہوئی، سو اس کی قسمت کا فیصلہ کچھ یوں کیا گیا: ”اس کی ردیف میرے حلق سے نہیں گزری۔ ساری غزل ہی نکال دو۔“
قبر سے تاریک تر جیون گلی چشم توجہ
روشنی اے روشنی اے روشنی چشم توجہ
چھپ نہیں سکتا خدا اگلی صدی تک آدمی سے
ہے ابھی افلاک پر کچھ سرسری چشم توجہ
وقت رخصت دیر تک جاتی ہوئی بس کا تعاقب
دھول میں پھر کھو گئی اشکوں بھری چشم توجہ
آپ جیسی ایک لڑکی پر لکھی ہے نظم میں نے
اک ذرا سی چاہیے بس آپ کی چشم توجہ
وہ اندھیرا تھا کہ میلوں دور چلتی گاڑیوں کی
روشنی کے ساتھ فوراً چل پڑی چشم توجہ
بیل بجی مدھم سروں میں در ہوا وا دھیرے دھیرے
اس کو دیکھا اور پھر پتھرا گئی چشم توجہ
اپنے چہرے پر سیاہی تھوپ دے منصور صاحب
اس کی ساری نیگرو کی سمت تھی چشم توجہ
اس ”چشم توجہ“ پر میری جان قربان۔ مجھے اس میں کوئی ایسی بات نہیں دکھائی دے رہی کہ میں اسے گورکھ پور کی قربان گاہ پہ رکھ دوں۔ مگر جب دیوتا تراشے جاتے ہیں تو کچھ نہ کچھ بھینٹ چڑھانا ہی پڑتا ہے۔ چلو یہ غزل نکال ہی دیتے ہیں (ساقی صاحب! ابھی تک تیسرا شکریہ مکمل نہیں ہوا۔ معاملہ پونے تین پر ہی رکا ہوا ہے اور اس غزل کو نکالتے ہوئے میرا موڈ بہت خراب ہے) ۔
اس غزل کا مقدر ملاحظہ فرمایئے کہ ساقی صاحب نے چینی کی پلیٹ کی طرح شیلف سے نکال کر فرش پر دے ماری۔ یقیناً شکیب جلالی کی طرح اس کی نقرئی کھنک سے محفوظ ہوئے ہوں گے۔ اس کے ٹوٹے ٹکڑوں کی جو آواز مجھ تک پہنچی وہ درج کرتا ہوں : ”جوابیں، خرابیں، خوابیں تو بالکل نہیں چلے گا۔ جابیں بھی۔ میرا خیال ہے غزل نکال دو۔“
باندھ کر رکھ آسمانوں کی طنابیں شیلف میں
ٹھیک رہتی ہیں ثوابوں کی کتابیں شیلف میں
سوچتے ہیں، کس طرح تھے تیرے پیکر کے خطوط
ایک انگیا، تین شرٹیں، دو جرابیں شیلف میں
آتی صدیوں کے لئے کچھ تو مرے کاٹج میں ہو
میں نے آنکھوں سے چرا کے رکھ دیں خوابیں شیلف میں
میز پر تیرے بدن کی نرم آتش چاہیے
رہنے دے اپنی کہن سالہ شرابیں شیلف میں
بس اسٹاپوں پہ چپ ہیں دکھ کتابیں کھول کر
فائلیں ہیں راستوں میں اور جابیں شیلف میں
کچھ سوالوں کی بلند آہنگ سچائی کی خیر
سب دبے لہجے کی رکھ دی ہیں جوابیں سیلف میں
وقت کی دیمک ترے کچھ حاشیوں کے ساتھ ساتھ
درج ہیں تاریخ کی ساری خرابیں، شیلف میں
میرا خیال ہے یہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس سے اردو زبان میں وسعت آئے گی۔ بے شک اردو زبان کے اپنے کچھ قواعد ہیں جن کے تحت الفاظ وجود میں آتے ہیں اور آپ ان قواعد سے باہر نکل کر کچھ نہیں کر سکتے۔ میں نے اپنے آپ کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی مر اندر سے کسی نے کہا کہ قواعد کو توڑا بھی جا سکتا ہے، ان میں ترمیم بھی ممکن ہے۔ یہ قواعد کوئی میگنا کارٹا (mangna carta) نہیں کہ ان میں تبدیلی لسانی اعتبار سے انسانی حقوق پر اثر انداز ہو رہی ہو۔
اردو زبان کے زیادہ تر قواعد عربی اور فارسی زبان سے آئے ہیں۔ ہم نے آج تک ان قواعد کو انہی زبانوں کے حوالے سے برتا ہے۔ انہیں اردو کے قواعد بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اردو میں چونکہ عربی اور فارسی کے علاوہ بہت سی دوسری زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں اس لئے اس امر کی ضرورت تھی کہ ان قواعد کو اردو زبان کے مطابق ڈھال لیا جاتا، کہ وہ قواعد اردو زبان کے تمام الفاظ کا احاطہ کر سکتے۔ جس طرح اردو میں دو لفظوں کے درمیان زیر یا واؤ کا استعمال اسی صورت ہوتا ہے جب دونوں لفظ ایک ہی زبان سے تعلق رکھتے ہوں یا ایک عربی کا اور ایک فارسی کا ہو جیسے ”حکمت و دانش“ یا ”حکمت خداوندی“ ۔ ہندی اور فارسی زبان کے الفاظ کے درمیان اگر زیر یا واؤ استعمال کی جائے تو اسے غلط شمار کیا جاتا ہے۔ دو متغائر زبانوں عربی اور فارسی کے الفاظ میں عطف و اضافت شاید اس لئے جائز ٹھہری کہ عرب فارس پر حکمران رہے۔ بیچارے ہندی تو محکوم تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر دو لفظوں کے درمیان رابطے کے لئے ایک قاعدہ اردو زبان کا ہے تو پھر اس قاعدے کو اردو زبان کے تمام الفاظ پر لاگو ہونا چاہیے۔ کسی زمانے میں اساتذہ کے نزدیک ایسا جائز تھا۔ سودا نے کہا تھا ”چھینٹ قلمکار برداشت و جبل“ ۔ بہادر شاہ ظفر کا مصرعہ ہے : ”سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویس ہی“ ، مرزا مظہر جان جاناں کا مصرعہ ہے : ”نہایت منہ لگایا ہے سجن نے بیڑۂ پاں کو“ ، مگر ہمارے نزدیک یہ غلط ہے۔ خود میں نے کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔ کیوں؟ شاید ہم ابھی تک اردو زبان کو ایک مکمل طور پر خود مختار زبان نہیں سمجھتے وگرنہ وہ قواعد کے استعمال کے وقت اردو زبان کے الفاظ کو کبھی عربی، فارسی اور ہندی کا نہ سمجھتے۔ اب ہم اردو میں الفاظ کی جمع بناتے ہوئے ”یں“ استعمال کرتے ہیں جیسے ”کتاب“ سے ”کتابیں“ ، ”شراب“ سے ”شرابیں“ ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ”خواب“ سے ”خوابیں“ ، ”جواب“ سے ”جوابں“ کیوں نہیں بناتے؟ تو اس کا سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ جو لفظ مؤنث ہوتا ہے، اس کے ساتھ جمع بناتے ہوئے ”یں“ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکر الفاظ کی جمع اس طرح بنائی قاعدے کے خلاف ہے۔ اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بے شمار لفظ مذکر اور مؤنث دونوں ہوتے ہیں جیسے ”تار“ ۔ اب ”تار“ سے ”تاریں“ بن سکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کچھ الفاظ کیوں مؤنث بھی ہوتے ہیں اور مذکر بھی۔ یہ فرق دراصل دہلی اور لکھنؤ کا ہے۔ جب ہم دہلی اور لکھنؤ کے فرق کی وجہ سے دونوں تذکیر و تانیث تسلیم کر سکتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ ”جواب“ کی جمع ”جوابیں“ بنا لی جائے۔ میرے خیال میں اس عمل سے اردو زبان میں زیادہ وسعت پیدا ہو گی۔ دیکھئے میرے شہر میانوالی کے سب سے بڑے شاعر عربی، فارسی اور اردو کے ایک بڑے عالم سید نصیر شاہ نے کس خوبصورتی سے ”خوابیں“ باندھا تھا:
بیٹھ کے ساحل پر ہم دونوں خوابیں بویا کرتے تھے
ریت کے سینے پر اک بچہ محل اگایا کرتا تھا
دن میں بھی ”خوابیں“ بولا جاتا ہے۔ اردو کے بہت بڑے ادیب قاضی عبد الغفار نے اپنی کتاب ”اس نے کہا“ میں اسے بے تکلف استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ قاضی عبد الغفار وہی ہیں جن کی کتاب ”مجنوں کی ڈائری“ نے بہت سے لوگوں (ساقی فاروقی سمیت) کی ذہنی بلوغت میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ نئے لفظ بنانے کا عمل ہر دور میں ہوتا رہتا ہے۔ جن الفاظ میں قوت ہوتی ہے وہ زندہ رہتے ہیں۔ مردہ الفاظ رفتہ رفتہ متروک ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ان لفظوں کی تشکیل کے وقت قاعدوں کا خیال نہیں رکھا جاتا کیونکہ زبان میں غلطی تو وہ ہوتی ہے جب اسے قبول نہ کر لیا جائے۔ اسی لفظ ”غلطی“ کو لیجیے، قاعدے کی رو سے یہ بھی غلط ہے، مگر اب یہ اردو زبان کا لفظ ہے اور غالب جیسے شاعر نے بھی اسے استعمال کیا ہے :
غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ
لوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
”غلط“ عربی زبان کا مصدر ہے۔ فارسی والے بھی اسے غلط ہی بولتے ہیں۔ ہم اردو والوں نے اس کے ساتھ یائے مصدری کا اضافہ کر دیا جو خلاف قاعدہ ہے۔ اس لئے ”غلطی“ صرف اردو زبان میں رائج ہے اور اردو ہی کا ایک لفظ ہے۔ اسے فارسی زبان کا لفظ سمجھ کر اس کے ساتھ ”ہا“ لگا کر جمع بنانا درست نہیں۔
اسی طرح ”تمازت“ کا لفظ فارسی کے لفظ ”تموز“ سے بنایا ہے اور عربی کے قاعدے سے بنایا جو غلط ہے مگر بڑے بڑے شاعروں نے ”تمازت آفتاب“ باندھا ہے۔ ”نازک“ سے ”نزاکت“ اسی طرح بنا لیا گیا۔ ”رنگ“ بھی فارسی زبان کا لفظ ہے مگر اس سے ”رنگت“ بنا لیا گیا۔ ساقی صاحب نے خود ”فرعون“ کی جمع ”فراعنہ“ کی بجائے ”فراعین“ کی ہے۔ ”عتاب“ تو اسم حاصل مصدر ہے، حاصل مصدر سے دوسرے اسماء نہیں بنتے۔ مصدر ”عتب“ ہے۔ اسی سے ”عاتب“ اور ”معتوب“ اسم فاعل اور اسم مفعول ہوئے۔ جیسے ”حسب“ سے ”حاسب“ اور ”محسوب“ ہیں، ”حساب“ سے نہیں۔ ”حجب“ سے ”حاجب“ اور ”محجوب ’ہیں،“ حجاب ”سے نہیں۔“ گلاب ”بھی تو ہم اردو والوں نے بنایا ہے اور اسے عطف و اضافت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ فارسی میں“ گل ”کے معنی گلاب کا پھول ہیں۔“ لالہ و گل ”اور گلاب گل آب ہے جس کا مفہوم گلاب کا نہیں عرق گل کا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ الفاظ ایک تسلسل کے ساتھ تخلیق ہوتے ہیں۔ یوں کسی کے بنانے سے کوئی لفظ نہیں بنتا لیکن کسی نے تو پہلی بار بنائے ہوں گے۔ میں اتنا جانتا ہوں کہ اگر کوئی ایک ایسا لفظ تخلیق کرتا ہے جس میں خوبصورتی اور چاؤ ہے تو وہ رفتہ رفتہ عام ہو جائے گا۔ یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ لفظ اپنے سفر کے دوران اکثر اوقات اپنا مفہوم بدل لیتے ہیں۔ اب“ مشکور ”کے لفظ کا استعمال عام طور پر درست معنوں میں نہیں ہوتا حتی کہ مولانا شبلی نعمانی نے بھی یہ غلطی کی اور یہ کہا:
آپ کے لطف و کرم سے مجھے انکار نہیں
حلقہ در گوش ہوں، ممنون ہوں، مشکور ہوں میں
اب ”مشکور“ کا یہ مفہوم نہیں۔ اس کا مطلب ستودہ اور پسندیدہ کا ہے جس طرح جعل اللہ سعیکم مشکورا۔ ”راشی“ کا مفہوم بھی اردو زبان میں الٹ ہے۔ ہم رشوت لینے والے کو راشی کہتے ہیں۔ عربی زبان میں رشوت دینے والے کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں رشوت لینے والے کو مرتشی کہتے ہیں۔ ”تردد“ عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں اس کا مفہوم آمدو رفت کا ہے۔ ہم لوگ اسے تشویش کے معنوں میں برتتے ہیں۔ ”تہلکہ“ کا مطلب عربی میں ہلاک ہونا ہے۔ لاتلقوا بایدیکم الی التھلکہ (القرآن) (اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔) ۔ اردو والے اسے دہشت، خوف اور شور کے مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ”شکیل“ لفظ بھی ہم لوگوں کا وضع کردہ ہے۔ ”رسوخ“ عربی میں مضبوطی اور استواری کا مفہوم رکھتا ہے، اردو میں رسائی اور پہنچ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ”رویہ“ کے لفظ کے بارے میں نیاز فتح پوری نے ”مالہ و ماعلیہ“ میں لکھا ہے کہ رویہ کا مطلب غور و فکر کی روش غلط ہے۔ ”سہل“ چٹیل میدان کو کہا جاتا ہے جس میں آسانی کے ساتھ دوڑا جا سکے۔ اردو والوں نے اسے آسان کے مفہوم میں برتنا شروع کر دیا ہے۔ لفظ ”رقیب“ کو دیکھئے فارسی اور اردو شاعری اس پر لعنتوں کے پتھر برسا برسا کر تھک گئی ہے، مگر یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس کے معانی عربی میں نگران و نگہبان کے ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کے پیچھے دو تین صدیاں موجود ہیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ اچھے کاموں میں وقت کا ہاتھ بٹانا چاہیے تاکہ اس کی رفتار تیز ہو سکے۔
اس وقت اردو زبان دنیا کے کئی ممالک میں بولی اور پڑھی جاتی ہے اور اردو کی نئی بستیاں تقریباً جہاں جہاں آباد ہوئیں وہیں وہیں کی زبان اردو پر اثر انداز ہوئی اور اس کی وجہ اردو زبان کے اندر دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت ہے۔ اسی صلاحیت نے بہت کم عرصے میں اردو زبان کو دنیا کی اہم ترین زبانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ مگر اردو زبان جو الفاظ اپنے اندر جذب کرتی ہے مہ اس پر اردو کے قواعد و ضوابط لاگو نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ زبان اس تیزی کے ساتھ اپنے ارتقائی مراحل طے نہیں کر رہی جس تیزی کے ساتھ اسے کرنے چاہئیں۔
ظفر اقبال نے لسانی تشکیلات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس کا دائرہ شاعری کی خوبصورت صنف غزل تک محدود رہا اور اس میں اس کے اکثر تجربات اپنے بھونڈے پن کی وجہ سے مقبولیت حاصل نہ کر سکے لیکن ظفر اقبال کی سوچ کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بات ظفر اقبال سے آگے بڑھائی جائے۔ نئے لفظ تشکیل دیے جائیں اور دوسری زبانوں کے جو لفظ اردو زبان میں در آئے ہیں انہیں اتنی خوبصورتی سے شاعری میں استعمال کیا جائے کہ وہ الفاظ ادب میں جگہ پانے لگ جائیں۔ ممکن ہے یہ مثال کسی کو پسند نہ آئے مگر دے رہا ہوں :
دیکھ! مت بھیج یہ میسج ہمیں موبائل پر
ہم کہیں دور بہت روٹھ کے آئے ہوئے ہیں
ہم نہیں جانتے روبوٹ سے کچھ وصل وصال
ہم ترے چاند پہ شاید نئے آئے ہوئے ہیں
(پتہ نہیں ساقی صاحب! شکریہ یا معذرت، کیوں کہ اتنی بحث کرنے کے باوجود میں نے غزل تو آپ کے حکم کے مطابق مجموعے سے نکال دی ہے) ۔
اس بیچاری غزل پر بھی قیامت گزر گئی ہے۔ ساقی صاحب نے ساری کی ساری کاٹ دی:
یزید زاد الگ، کربلا علیحدہ ہیں
ہمارے اور تمہارے خدا علیحدہ ہیں
نماز جسم میں کعبے کی سمت لازم ہے
نماز عشق کے قبلہ نما علیحدہ ہیں
مرے فراق کے جلتے ہوئے سیہ موسم
تمہی کہو مری جاں! تم سے کیا علیحدہ ہیں
سمجھ رہی ہو محبت میں وصل کو تعبیر
ہمارے خواب، میں کہتا نہ تھا؟ علیحدہ ہیں
ہماری دھج کو نظر بھر کے دیکھتے ہیں لوگ
ہجوم شہر میں ہم کج ادا علیحدہ ہیں
سیاہ بختی ٹپکتی ہے ایک تو چھت سے
ترے ستم مری جان وفا علیحدہ ہیں
اور وجہ یہ تحریر فرمائی ہے : ”یار منصور! ایک تو یہ غزل بھی ردیف کی وجہ سے پسند نہیں آ رہی دوسرا یہ کہ بڑی محنت نظر آ رہی ہے۔ پھر ان ٹکڑوں سے غزل پرانی ہو گئی ہے :“ نماز عشق ”،“ قبلہ نما ”،“ کج ادا ”،“ جان وفا ”۔ میرے خیال ہے غزل نکال ہی دو۔“
ہائے کیا کروں! کہاں جاؤں، کسے بلاؤں؟ یہ ساقی صاحب نے کیا کہہ دیا ہے۔ میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ میرے نزدیک اردو کے جدید ادب کے حوالے سے ان سے زیادہ صائب الرائے شخص (احمد ندیم قاسمی کے علاوہ) شاید اور کوئی نہیں۔ مگر یہاں مجھے یوں احساس ہو رہا ہے کہ ان کے اندر جدت پسندی کا رجحان کٹھ ملائیت تک پہنچ گیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی حد تک یہ اچھی بات بھی ہو مگر یہاں میں اس بات کے خود کو حق میں نہیں کر سکا۔ میرے نزدیک لفظوں کی طرح تراکیب بھی پرانی نہیں ہوا کرتیں۔ ان کا نیا استعمال انہیں نئے مفہوم دے جاتا ہے۔ پھر میری سمجھ میں یہ بھی نہیں آ رہا کہ انہیں اس میں محنت کہاں نظر آ رہی ہے اور اگر اس میں واقعی محنت دکھائی دے رہی ہے تو پھر میرے لئے یہ بات بہت حیرت انگیز ہے، کیونکہ یہ میری ان غزلوں میں سے ایک ہے جو ایک ہی مرتبہ پوری کی پوری نازل ہوئی ہیں۔ (ساقی صاحب! گنتی تو کب کی بھول چکا ہوں، ایک معذرت اور) ۔
اس شعر میں ساقی صاحب نے ”یہ“ اور ”ہے“ کے اردگرد دائرے لگائے ہوئے تھے اور ”یہ“ کی جگہ ”وہ“ اور ”ہے“ کی جگہ ”تھی“ کا لفظ لکھا ہوا تھا:
یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں
سوچتا ہوں کہ پہلے مصرعے میں ساقی صاحب نے زمانہ بدل دیا ہے مگر دوسرے مصرعے کے اندر بھی ایک زمانہ موجود ہے، اس کا کیا ہو گا۔ ممکن ہے ساقی صاحب کے دماغ میں زمانہ حال اور زمانہ ماضی کے ملاپ سے اس شعر میں کوئی خوبصورتی پیدا ہو رہی ہو مگر میرا دماغ ابھی اتنا شارپ نہیں ہوا (ساقی صاحب! ایک اور معذرت) ۔
اس شعر میں ”اے کھڑکیوں کی دوست“ کے اردگرد دائرہ کھنچا ہوا تھا اور اس کے قرب میں یہ لفظ پڑے ہوئے تھے ”راتیں گزر گئیں۔“
شکنوں کے انتظار میں اے کھڑکیوں کی دوست
بوسیدہ ہو گیا مرا بستر پڑے پڑے
میرے نزدیک ”کھڑکیوں کی دوست“ ہی اس شعر کی خوبصورتی ہے، یعنی کھڑکیوں سے نظر آنے والی یا کھڑکیوں سے جھانکنے والی! تیرے آنے سے جو شکنیں نمودار ہو سکتی ہیں، ان کے انتظار میں میرا بستر پڑے پڑے بوسیدہ ہو گیا ہے (ساقی صاحب! ایک معذرت اور) ۔
اس شعر میں دو تبدیلیاں کی ہوئی تھیں :
اک مری خوش بختی ہے جس کے دامن میں
صرف وہی گھڑیال سے ساعت گر جاتی ہے
اس میں انہوں نے پہلے مصرعے میں ”بختی“ کی جگہ ”وقتی“ کا لفظ لگا دیا اور دوسرے مصرعے میں ”صرف وہی“ کی جگہ ”روز کسی“ کے لفظ لگا دیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ”بختی“ سے ”وقتی“ بہتر ہے (ساقی صاحب! شکریہ۔ مگر ”روز کسی“ سے میرے خیال میں شعر کا مضمون کمزور ہو جاتا ہے، سو اس کی معذرت) ۔
اس شعر میں تین تبدیلیاں فرمائی ہوئی تھیں :
کسی سے کی تھی محبت کی بات کیا منصور
کہ ایک مصرعے میں جیسے ہزار سکتے تھے
”کسی سے کی تھی“ کی جگہ لکھا ہوا تھا کہ ”اس سے جب بھی“ ”کیا“ کی جگہ ”کی“ اور دوسرے مصرعے میں ”کہ“ کی جگہ ”ہر“ کا لفظ تحریر تھا، یعنی شعر کو یوں بنا دیا تھا:
کہ اس سے جب بھی محبت کی بات کی منصور
ہر ایک مصرعے میں جیسے ہزار سکتے تھے
اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے شعر کا پہلا مصرع بندش کے لحاظ سے کمزور ہے مگر ساقی صاحب کی اصلاح سے وہ میرا ٹھوک بجا کر بات کرنے کا انداز ختم ہو گیا ہے۔ (ساقی صاحب! ایک اور معذرت) ۔ ویسے تو اس مصرعے کو یوں بھی کہا جا سکتا تھا:
یہ کس طرح سے محبت کی بات کی منصور
اس شعر میں ”جیسے“ کی جگہ پر ”ہر روز“ لکھا ہوا تھا۔
شہر کی آخری خاموش سڑک پر جیسے
میرے مژگاں سے سیہ رات کے غم گرتے ہیں
بے شک ساقی صاحب کے مشورے کے مطابق ”ہر روز“ لگا لینے سے شعر مکمل ہو جاتا ہے مگر مکمل ہو کر ایک بہت ہی عامیانہ سا شعر بن جاتا ہے، جب کہ میں نے شعر میں صرف تشبیہ کو پیش کیا ہے، اس چیز کا ذکر نہیں کیا جسے تشبیہ دی ہے، وہ کچھ بھی ہو سکتی ہے اور یہی اس شعر کی انفرادیت ہے (ساقی صاحب! ایک اور معذرت) ۔
یہ چار غزلیں علیحدہ پن کی ہوئی واپس آئیں اور پہلی غزل کے باہر لکھا ہوا تھا ”ان چار غزلوں نے مجھے پریشان کیا۔ پتہ نہیں تم نے کس بحر میں کیا چکر چلایا ہے۔ دوبارہ پڑھوں گا“ اور اس کے نیچے اس روز کی تاریخ ڈالی گئی ہے۔ پھر اس صفحے پر ایک ہفتہ بعد کی تاریخ پڑی ہوئی ہے اور نیچے لکھا ہوا تھا ”پڑھی ہیں، عمدہ ہیں۔“
ایٹمی آگ میں سوختہ خواب تسخیر کے ہیں
خوف دونوں طرف ایک لمحے کی تاخیر کے ہیں
وقت کی گیلری میں مکمل ہزاروں کی شکلیں
صرف ٹوٹے ہوئے خال و خد میری تصویر کے ہیں
شہر بمبار طیارے مسمار کرتے رہیں گے
شوق دنیا کو تازہ مکانوں کی تعمیر کے ہیں
کیدو رانجھے کا ہم رقص دنیا کے اسٹیج پر ہے
اور ہوٹل کی اک میز پر قہقہے ہیر کے ہیں
ایک مقصد بھری زندگی وقت کی قید میں ہے
پاؤں پابند صدیوں سے منزل کی زنجیر کے ہیں
ایک آواز منصور کاغذ پر پھیلی ہوئی ہے
میرے سناٹے میں شور خاموش تحریر کے ہیں
……
ہجر کو تاپتے تاپتے جسم سڑنے لگا ہے
اس لونگ روم کا وال پیپر اکھڑنے لگا ہے
گھر کے باہر گلی میں بھی بکھرے ہیں پتے خزاں کے
کیسا تنہائی کے پیڑ سے درد جھڑنے لگا ہے
خواب جیسے دریچے میں آتی ہے دوشیزہ کوئی
کچھ دنوں سے مرا چاند پر ہاتھ پڑنے لگا ہے
اک تو، بالشتیے ہم پلازوں کی اونچائی میں ہیں
دوسرا شہر میں آسماں بھی سکڑنے لگا ہے
آندھیاں اور بھی تیز رفتار ہونے لگی ہیں
اب تو یہ لگ رہا ہے کہ خیمہ اکھڑنے لگا ہے
کوئی کمرہ مرے پاؤں پہ اترتا ہی نہیں ہے
سیڑھیاں چلتی چلی جاتی ہیں قالین پہن کر
ہوتے رہتے ہیں جہازوں کے بڑے حادثے لیکن
کرتا رہتا ہوں سفر سورۂ یٰسین پہن کر
نرمگی اس کی ابھر آئی تھی ملبوس سے باہر
کتنی نازک سی سکرٹ آئی تھی نرمین پہن کر
تم مرے ہونٹوں کی کیا پیاس بجھا سکتی ہو وینس
میرا پیاسا ہے بدن آب اباسین پہن کر
……
ساتھ نہ تھا کوئی اپنے ساتھ سے پہلے
دھند تھی دنیا شعور ذات سے پہلے
بزم سخن میں اک تارہ بول پڑا تھا
غم کی تلاوت تھی، حمد و نعت سے پہلے
نیند بھری رات! انتظار کسی کا
ہوتا تھا ترک تعلقات سے پہلے
کہتے ہیں خالی نگر میں رہتی ہیں روحیں
لوٹ ہی جائیں آ گھر کو، رات سے پہلے
کیسا تھا سناٹا تیرے عہد عدم میں
کیسی خموشی تھی پہلی بات سے پہلے
خواب تھے پنہاں شکست زعم میں شاید
فتح کی باتیں کہاں تھیں مات سے پہلے
آخری غزل کے صفحے کے نیچے تحریر تھا ”یہ بحر شاید وہی غالب کی غزل“ طاقت بیداد انتظار ”والی ہے۔ تم نے اپنے کالم میں اس بحر کے سلسلے میں کچھ لکھا تھا مگراس شیطان کی آنت بحر کا نام پھر بھی بھول گیا ہوں۔ اس غزل کے ہر مصرعے کی تقطیع کر کے دوبارہ دیکھ لو۔ مجھے کئی جگہ اٹکنا پڑا ہے۔“
میں بہت حیران ہوا ہوں ساقی صاحب کی یہ بات پڑھ کر انہیں صرف کہیں کہیں اٹکنا پڑا ہے، یعنی کچھ شعر ایسے ہیں جنہیں وہ وزن کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں اور اس وزن کو محسوس بھی کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں تو یہ بات اس بحر میں ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسی بحر نہیں کہ جس کا وزن دماغ میں بیٹھ جائے۔ غالب کی غزل بھی کسی ردھم میں گائی ضرور جا سکتی ہے مگر تت اللفظ پڑھتے ہوئے اس وزن کو اس طرح محسوس نہیں کیا جا سکتا جس طرح باقی اوزان کا احساس ہوتا ہے۔ دراصل یہ بحر منسرح ہے۔ اس کی واضح شکل بحر منسرح مثمن مطوی موقوف/ مکسوف ہے جس میں علامہ اقبال کی یہ غزل ہے :
ہے یہی میری نماز ہے، یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو
غالب نے اسے مجدوع/ منحور بنا دیا یعنی مصرعے کا آخری ”علن“ ڈراپ کر دیا۔ ساقی صاحب نے بھی اس بحر میں ایک غزل کہہ رکھی ہے جو ان کی کتاب ”زندہ پانی سچا“ میں شامل ہے۔ میرے خیال میں کچھ مصرعے وہاں بھی بحث طلب ہیں۔ سوچتا ہوں کہ دونوں غزلوں کی تقطیع کر دوں۔ ممکن ہے اس وزن پر کوئی نئی بحث چھیڑ جائے اور کوئی ایسی صورت سامنے آئے کہ یہ وزن محسوس ہونے لگے۔ پہلے میری غزل۔ غزل کے ہر مصرعے کا وزن یہ ہے :
مفتعلن/ فاعلات/ مفتعلن/ فع
ساتھ نہ تھا/ کوئی اپنے / ساتھ سے پہ/ لے
دھند تھی دن/ یا شعور/ ذات سے پہ/ لے
بزم سخن/ میں اک تارہ/ بول پڑا/ تھا
غم کی تلا/ وت تھی، حمدو/ نعت سے پہ/ لے
نیند بھری/ رات! انت/ ظار کسی/ کا
ہوتا تھا/ اک تعلق/ قات سے پہ/ لے
کہتے ہیں خا/ لی نگر میں / رہتی ہیں رو/ حیں
لوٹ ہی جا/ئیں آ گھر کو/، رات سے پہ/ لے
کیسا تھا سن/ ناٹا تیرے / عہد عدم/ میں
کیسی خمو/ شی تھی پہلی/ بات سے پہ/ لے
خواب تھے پن/ ہاں شکست/ زعم میں شا/ ید
فتح کی با/ تیں کہاں تھیں / مات سے پہ/ لے
ساقی فاروقی کی غزل پیش خدمت ہے :
میں کسی جواز کے حصار میں نہ تھا
میرا شوق میرے اختیار میں نہ تھا
دور نئی طاقتوں نے جنگ لڑی تھی
خوف ابھی روح کے جوار میں نہ تھا
صرف مری ذات سوگوار کھڑی تھی
اور کوئی نیند کے غبار میں نہ تھا
لہر کے قریب مری پیاس پڑی تھی
ابر کوئی شام کے دیار میں نہ تھا
یاد تری تھی کہ مرے دل میں گڑی تھی
درد مرا تھا کسی شمار میں نہ تھا
آئیے اب ان کی غزل کی تقطیع کرتے ہیں۔ ان کی غزل کے ہر مصرع کا وزن بھی وہی ہے، یعنی:
مفتعلن/ فاعلات/ مفتعلن/ فع
میں (جواز) کے ح/ صار میں نہ/ تھا
میرا (شوق) میرے اخت/ یار میں نہ/ تھا
دور نئی/ طاقتوں نے / جنگ لڑی/ تھی
خوف ابھی/ روح کے ج/ وار میں نہ/ تھا
صرف مری/ ذات سوگ/ وار کھڑی/ تھی
اور کوئی/ نیند کے غ/ بار میں نہ/ تھا
لہر کے (قریب) مری/ پیاس پڑی/تھی
ابر کوئی/ شام کے دی/ یار میں نہ/ تھا
یاد تری/ تھی کہ میرے / دل میں گڑی/ تھی
درد مرا/ تھا کسی ش/ مار میں نہ/ تھا
ساقی صاحب کی غزل کے تین مصرعے اس بحر کے مطابق نہیں ہیں۔ مطلع کا پہلا مصرعہ (میں کسی جواز کے ح/ صار میں نہ/ تھا) میں ”جواز“ بروزن ”جاواز“ باندھ دیا گیا ہے اور مطلع کا دوسرا مصرعہ (میرا شوق میرے اختیار میں نہ تھا) میں جہاں انہوں نے ”شوق“ کا لفظ لگایا ہے وہاں ”مفا“ کا وزن ہے یعنی اگر ”شوق“ کی واؤ کو متحرک کر دیا تو مصرعہ وزن میں آ سکتا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ ایک اور مصرعہ (لہر کے قریب مری/ پیاس پڑی/تھی) بھی وزن ہے۔ اس میں بھی ساقی صاحب نے وہی غلطی کی ہے جو مطلع کے پہلے مصرعے میں کی ہے یعنی ”قریب“ کا لفظ بروزن ”قاریب“ باندھ دیا ہے۔ غالب کا یہ مصرعہ بات کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے : ”دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے۔“ اس مصرعے میں ایک غلطی اور بھی ہے کہ جہاں ”میری“ آتا ہے وہاں ”مری“ لکھا ہے۔ یہ ممکن ہے کتابت کی غلطی ہو۔ ساقی صاحب سے جب میں نے اس سلسلے میں بات کی اور کہا ’میرا خیال ہے آپ بڑے لوگوں کی طرح کشادہ دلی سے اپنی غلطی تسلیم کر لیں کیونکہ آپ ایک بڑے آدمی ہیں۔ زندگی میں غلطیاں تو ہوتی رہتی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میری غزل تو اس بحر میں نہیں ہے۔ اس کی بحر تو یہ ہے ”فاعلن مفاعلن مفاعلن مفا“ انہوں نے اس وزن پر اپنی غزل کی تقطیع کر کے مجھے سمجھایا بھی اور لمحہ بھر کے لئے ایک بار پھر مجھے ساقی صاحب کے ساتھ پنجوں کے بل کھڑے ہونے کی اذیت سے گزرنا پڑا۔ مگر پھر سوچ رہا ہوں یہ غزل کس طرح وزن میں ہے؟ اور میں اس وقت ان کی بات کا قائل بھی ہو گیا تھا۔ بچپن ہی سے خاصا کند ذہن ہوں، پھر الجھ گیا۔ ساقی صاحب سے پھر رابطہ کیا تو کہنے لگے ”جن دنوں ضیاء جالندھری میرے پاس آئے ہوئے تھے تو میں نے غزل سناتے ہوئے کہا تھا کہ غالب والی بحر میں غزل شروع کی تھی۔ دو تین مصرعے غلط ہو رہے تھے تو میں نے ہندی شاعروں نرالا اور بنارس والے جے شنکر پرساد کے نقش قلم پر جھند (پنگھل) توڑے ہیں۔ کچھ ماترائیاں گھٹائیاں بڑھائیں ہیں۔“ اب یہ بڑے خانوں والی استادی ساقی صاحب ہی جانیں۔ مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ جس بحر میں کبیر نے دوہے لکھے ہیں اس کے چوبیس ماترے ہیں۔ پہلے حصے میں تیرہ ماترائیاں آتی ہیں اور دوسرے حصے میں گیارہ۔ جہاں تک انہیں گھٹانے اور بڑھانے کی بات ہے تو خسرو وقت استاد ساقی فاروقی ہی بہتر جانتے ہوں گے۔
اس غزل کو ساقی صاحب نے پسند کیا ہے :
تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں!
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں!
خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں!
بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے
یہ جو سنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں!
روکتے ہیں طفلاں کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بدگمان کیسے ہیں!
ق
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں؟
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں؟
کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں؟
کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں؟
گھنٹیاں سی بجتی ہیں؟ ساربان کیسے ہیں؟
چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے؟
خالی خالی، برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں؟
دیکھتا تھا رم جھم سی بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں؟
اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے ہیں منصور؟
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں؟
اس کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”تم نے“ بجوکا ”کو“ لکڑی کے بے زبان لکھ کر مجھے بہت خوش کیا اور مجھے اس قطعے میں اختر شیرانی کی نظم ”او دیس سے آنے والے بتا“ کا لطف بھی آیا۔ ہاں ”طفلاں“ کی بجائے ”دنیا“ لگا دو کہ ”روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے“ تاکہ universality آ جائے ”(شکریہ ساقی صاحب بے شک دنیا کا لفظ لگانے سے مصرعہ بہتر ہو گیا ہے۔ شکر یوں کی گنتی اس لئے چھوڑ دی ہے کہ بیچارے کم ہیں) ۔
جو اشعار ساقی صاحب کو اچھے لگے ہیں ان کے پہلو میں انہوں نے ”واہ“ کا لفظ لکھ دیا ہے۔ وہ اشعار درج کر رہا ہوں جن سے پہلے ”واہ“ لکھا ہوا تھا:
منصور مزاجوں میں بڑا فرق ہے لیکن
اچھا مجھے لگتا ہے بس اپنا اسے کہنا
……
یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں
……
ہے فکر مجھے انجام مرے ہاتھوں سے نہ ہو
آغاز کا کیا ہے اس نے کیا یا میں نے کیا
……
ہر ایک صبح منور ہوئی ترے غم سے
ہر ایک شام فروزاں اداسیوں سے ہوئی
……
مکاں بھی اپنے مکینوں سے اب گریزاں ہیں
گلی بھی خود کو چھپاتی ہے چلنے والوں سے
……
لمحہ بھر کی رفاقت میں ہم لمس ہونے کی کوشش نہ کر
تیرے بستر کا ماضی ہے کیا میں نہیں، میں نہیں جانتا
……
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس! چائے کی پیالی میں
……
منصور کوئی ذات کا تابوت کھول دے
میں مر رہا ہوں اپنے ہی اندر پڑے پڑے
……
فٹ پاتھ بھی درست نہیں مال روڈ کا
ٹوٹے ہوئے ہیں بلب بھی چیرنگ کراس کے
……
کل رات جو کمرے کا بجھایا نہیں ہیٹر
اٹھا تو افق آگ کے شعلوں سے بھرا تھا
……
شاعر بھی عجیب چیز ہے۔ اس میں سب کی پسند ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اب یہ جو شعر انہوں نے پسند کیے ہیں ان میں سے کچھ شعر تو میں تو کتاب سے نکالنے کے بارے میں سوچ رہا تھا، خاص طور پر یہ شعر کہ:
منصور مزاجوں میں بڑا فرق ہے لیکن
اچھا مجھے لگتا ہے بس اپنا اسے کہنا
اس شعر میں مجھے ”بس اپنا“ اچھا نہیں لگتا حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس بات کی اجازت ہے لیکن پسند اپنی اپنی۔ میانوالی سے ملتان جانے والی بسوں کے پیچھے پتہ نہیں کیوں یہی جملہ لکھا ہوا ہوتا تھا۔ کیونکہ مسافروں کی کیا پسند ہو سکتی ہے۔ مجھے شاعری بھی اسی پرانی بس کا سفر لگتی ہے۔ کبھی رک گئی کبھی چل پڑی۔ کبھی گاڑی کی طرح اس کا ”موشن“ بھی ٹوٹ جاتا ہے اور نیا موشن بازار میں بہت مہنگا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں مجھے۔
اور اب وہ اشعار جنہیں ساقی صاحب نے کاٹ دیا ہے کہ انہیں مجموعے میں شامل نہیں ہونا چاہیے :
ڈھونڈنے کے لئے گلیوں میں کوئی عرش نشیں
تیرے جیسے تو فلک سے بڑے آئے ہوئے ہیں
……
جزیرہ تو نہیں منصور دنیا
کسی دو پاؤں کے پتھر پہ میں ہوں
……
اسے رقص گاہ میں دیکھنا کبھی مست مست
مرے دوستو میں اسے غلط نہیں چاہتا
……
روز کس بے انت خزاں کے زرد افق سے
ٹوٹ کے مجھ سے شاخ تمازت گر جاتی ہے
……
گونجا ہے کوئی نام یوں شب کے سکوت میں
مندری بجی ہو جس طر پیتل کے تھال پر
……
اے سٹیچو بشیر بابا کے
بول کیا؟ دید کیا؟ قدم کیا ہے؟
……
اٹھتی ہوئی جوانی میں ممکن ہے موت ہو
آتا ہے خوف پیار کی تازہ رسوم سے
……
سوچ کر کیا شجر قطاروں میں
پارک کے آس پاس اگ آئے
……
اس محبت میں تعلق کی طوالت کا نہ پوچھ
اگ گلی میں سینکڑوں دن کا سفر نازل ہوا
……
ہلکی سی بھی آواز کہیں دل میں نہیں تھی
مسجد کا سپیکر تو صداؤں سے بھرا تھا
اونچائی سے یک لخت کوئی لفٹ گری تھی
اور لوہے کا کمرہ بھی امنگوں سے بھرا تھا
……
ہر انتہا دروغ تھی، دام فریب تھا
اڑتے کہاں تلک یہ پرندے حواس کے
……
نکالنا ہے غلاظت کو بوٹ کے منہ سے
یہ اپنے ملک کا ناسور پھوڑنا ہے مجھے
……
سوچا کہ منتظر ہے مرا کون شہر میں
دیکھا تو شام ہو گئی پھر گھر پڑے پڑے
……
فتح مندی کی خبر آتی ہے واشنگٹن سے
اور اسامہ ترے ہر روز علم گرتے ہیں
……
لپک کے بھاگ بھری نے کسی کو چوم لیا
گھٹا کی بات جو روہی کی پیاسیوں سے ہوئی
……
کیدو رانجھے کا ہم رقص دنیا کے اسٹیج پر ہے
اور ہوٹل کی اک میز پر قہقہے ہیر کے ہیں
……
منصور اختیار کی وحشت کے سامنے
یہ جبر کائنات، یہ تقدیر کیا ہوئی
……
جو ابھی ہونا ہے، پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
……
میرے پاؤں میں ہے اشکوں کے سمندر کا سفر
کیوں جہازوں کی اڑانیں یاد آتی ہیں مجھے
……
چلنے سے پہلے قیامت کے سفر پر منصور
یاد کی پوٹلی میں دیدۂ تر باندھ دیا
گھر سے باہر گلی میں بھی بکھرے ہیں پتے خزاں کے
کیسا تنہائی کے پیڑ سے درد جھڑنے لگا ہے
……
کاغذی چھت سے نگر ڈھانپ رہے تھے دفتر
حاکم شہر کی جادو بھری بارش کیا تھی
……
گھر میں کم پیوٹر کی صرف ایک کھڑکی ہے
ورنہ قیدیوں کے دل ہر گھڑی مسافر ہیں
عرش شک تک جو بھیجا ہے اس خلائی راکٹ میں
گوشت پوست کے کتنے آدمی مسافر ہیں
……
لاء ڈسٹ بن میں پھینک دیا ہست کا مگر
قانون بود ہم سے معطل نہیں ہوا
……
زمیں پر خیر و شکر کے آخری ٹکراؤ تک مجھ کو
کبھی ہابیل ہونا ہے کبھی قابیل ہونا ہے
……
پڑے ہوئے زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں
……
اگ آگ لگا دیتے ہیں برسات کے دل میں
ہم لوگ سلگتے نہیں تنہا، اسے کہنا
……
ممٹی پہ اس مکان کی کس کا تھا کارٹون
کیوں اینٹ اینٹ میں ہوئی بارود کی دھمال
ان اشعار میں سے کچھ شعر میں نے کاٹ دیے ہیں اور کچھ رہنے دیے۔ سو اس مرتبہ پھر ساقی صاحب سے معذرت بھی اور شکریہ بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے مجموعہ کلام سے ساقی صاحب نے جو غلطیاں نکالی ہیں، ان کی اپنی جگہ پر اہمیت ہے۔ میں نے ساقی صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ زبان و بیان اور قوافی کے حوالے سے ان کے مشورے بھی مانے ہیں مگر مجھ جیسے سر پھرے جو تمام دائرے توڑنے کے در پے ہیں، وہ اپنے بزرگوں کی باتیں کیسے مان سکتے ہیں۔ ایک اہم بات جسے میں بھول ہی گیا کہ کتاب کا نام ”نیند کی نوٹ بک“ بھی ساقی فاروقی کا رکھا ہوا ہے۔ نجانے اس کا شکریہ مجھے ادا کرنا چاہیے یا ان کو۔ یہ تو انہیں یاد ہو گا کہ سلیم احمد نے ان کا یہی مشورہ قبول نہیں کیا تھا۔







