EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کرونا ویکسین اور بے بنیاد پروپیگنڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال 2019 کے آخری مہینوں میں انسانی معاشرے کو ایک ایسے مہلک وائرس کا سامنا کرنا پڑا جس نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا اور لوگوں کی تمام تر سماجی اور مذہبی زندگی کو انتہائی بری طرح متاثر کیا۔ مجموعی طور پر اب تک 179 ملین افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً 3.9 ملین افراد جان کی بازی ہار گئے۔ دنیا بھر میں پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں لوگوں کی معاشی حالت بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستان میں بھی یہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔

اب تک ایک اندازے کے مطابق 945 k سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں اور تقریباً 22 k لوگ اس مہلک وائرس کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال نے پاکستان کے معاشی حالات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ IPSOS کے ایک سروے کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے ہر 10 میں سے 6 پاکستانیوں کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2020 اسی شدید دباؤ اور تناؤ میں گزرا لیکن سال 2021 کرونا ویکسین کی تیاری کی نوید لے کر آیا۔ ایک سال کے قلیل عرصے میں کورونا کی ویکسین کی تیاری طبی ماہرین کا ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے جبکہ ماضی میں وبائی امراض کی ویکسین کے لیے کئی سال انتظار کرنا پڑتا رہا ہے۔

مثال کے طور پر چیچک کی ویکسین 3300 سال بعد تیار ہوئی جب کہ پولیو کی ویکسین کے لیے دنیا کو 3350 سال انتظار کرنا پڑا۔ اور یہ دونوں انتہائی مہلک بیماریاں تھیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ چیچک سے متاثر ہونے والے ہر دس میں سے تین افراد کی موت یقینی تھی۔ لیکن اس وقت دنیا ان مہلک بیماریوں سے تقریباً محفوظ ہو چکی ہے اور یہ سب کچھ ویکسین کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ماضی میں ویکسین کے استعمال کے کامیاب تجربے کے باوجود پاکستان میں بعض لوگ ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں۔ مثلاً ہر 10 میں سے 3 پاکستانی کرونا ویکسین کے مخالف ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ کو کوڈ۔ 19 اور اس کی ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن افواہیں ہیں۔ جنہیں ایک باقاعدہ مہم کی صورت میں پھیلایا جا رہا ہے۔ ان بے بنیاد افواہوں کی وجہ سے عوام الناس کرونا ویکسین لگوانے سے ہچکچا رہے ہیں۔

چند سال قبل پولیو ویکسین کے حوالے سے ایک لغو، بے بنیاد اور بے سروپا ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر چلا گیا جس کی وجہ سے 2019 میں پولیو کے لیے چلائی گئی مہم بری طرح متاثر ہوئی اور تقریباً 2 ملین بچوں کو ویکسین نا لگائی جا سکی۔ اس پروپیگنڈے کے نتیجے میں پولیو سے پاک پاکستان کی مہم کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2018 میں ملکی سطح پر پولیو کے صرف 18 کیس تھے جبکہ 2019 میں ان کی تعداد 147 ہو گئی۔

یہ سب کچھ اس ویڈیو کی وجہ سے ہوا جو غلط، خود ساختہ اور بے سروپا باتوں پر مشتمل تھی۔ اس وقت حکومت تو لوگوں کو کرونا ویکسین لگوانے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کر رہی ہے لیکن بعض لوگ ابھی بھی اس کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 فیصد لوگ ابھی بھی ویکسین کی مخالفت میں ہیں۔ اور اس کی وجہ غلط اور بے بنیاد افواہوں کا طومار ہے۔ اس ضمن میں پہلی بے نا معقول بات یہ ہے کہ چونکہ یہ تمام ویکسینز بہت کم عرصے میں تیار کی گئی ہیں لہٰذا یہ بے سود ہیں لیکن یہ انتہائی بے عقلی بات ہے۔

طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے ویکسین کی تیاری کے حوالے سے تمام مراحل بتدریج طے کیے ہیں اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مکمل تجربات کیے ہیں اور اس بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ویکسین مہلک وائرس کے مقابلے کے لئے ہمارے جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بناتی ہے۔ اس حوالے سے دوسری لغو بات یہ ہے کہ ویکسین کے ذریعے جسم میں مائیکرو چپ لگا دی جائے گی جس سے ہر شخص کی نگرانی کی جائے گی لیکن اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔

تیسری زبان زد عام افواہ یہ ہے کہ یہ ویکسین ایسے اجزاء سے تیار کی گئی ہے جنہیں اسلام میں حرام قرار دیا گیا لہذا ویکسین لگوانے والے افراد کے ڈی این اے میں تبدیلیاں پیدا ہو جائیں گی نتیجتاً آنے والی نسلیں اسلام دشمن ہوں گی۔ تاہم ان لغویات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور ان میں سے کسی بھی بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

کرونا وائرس کے حوالے سے اس طرح کی بے بنیاد قیاس آرائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ دونوں سپر پاورز امریکہ اور چین ابتدا میں ہی ایسے لغو الزام ایک دوسرے پر لگا چکے ہیں۔ امریکہ نے اسے چائنیز وائرس کا نام دیا تو چین نے امریکہ کو کرونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس طرح کی باتوں نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ کرو نا ایک بیرونی سازش ہے جو غیر ملکی طاقتوں نے اپنے مخصوص مفادات کو حاصل کرنے کے لئے تیار کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 64 فیصد پاکستانیوں کا یہ خیال ہے کہ کرونا اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا کہ اس کے بارے میں دعوے کیے جاتے ہیں۔ ان مفروضات کے علاوہ جس چیز نے لوگوں میں ویکسین مخالف رویہ پیدا کیا ہے وہ کرونا وائرس کے حوالے سے من گھڑت ویڈیوز ہیں۔

پاکستان میں تقریباً 46 ملین افراد سوشل میڈیا کے صارف ہیں جن میں سب تعلیم یافتہ اور باشعور نہیں ہیں اور ان میں سے اکثر سوچے سمجھے بغیر ان ویڈیوز سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں ویکسینیشن کے عمل میں میں تیزی آ رہی ہے تاہم اس کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک مجموعی آبادی کے صرف ایک 1.53 فیصد کی مکمل ویکسینیشن ہوئی ہے۔ اگر پاکستان اس سال کے آخر تک مجموعی آبادی کے 70 فیصد کو ویکسین لگانے کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے تو ان خطرات کو سامنے رکھنا چاہیے جو 2019 میں پولیو ورکرز کو گمراہ کن پروپیگنڈے کی صورت میں درپیش ہوئے اور ابھی سے ان کا سدباب کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ویکسین کے حوالے سے غلط افواہوں اور جھوٹی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔

حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر طبقے کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائے۔ ہر مسلک کے سکالرز اور دینی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی تقریروں اور تحریروں سے لوگوں کو ویکسینیشن کے حوالے سے شعور اور آگاہی دیں۔ اس سے لوگوں میں ویکسینیشن کے حوالے سے غلط آرا اور منفی رویے ختم ہوں گے اور ان میں اس کی ضرورت اور اہمیت کا احساس پیدا ہوگا۔ مزید برآں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو آگے آنا چاہیے اور اپنے طریقہ کار سے لوگوں کو آگاہی دینی چاہیے۔ اس حوالے سے آخری بات یہ ہے کہ ہمیں ہر صورت لوگوں کو شعور دینا ہے کہ ویکسینیشن سے نہ صرف وہ خود محفوظ رہیں گے بلکہ وہ زندگی کو معمول پر لانے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے