بلوچستان کی پسماندگی میں سیاسی پارٹیوں کا کردار


زمانہ طالب علمی کے چھ سال پنجاب میں گزارے۔ اس دوران لاہور کو روز ترقی کرتے دیکھا۔ میٹرو بس پروجیکٹ، شہر میں بڑےفلائی اوورز، انڈر پاس اور بہت سے میگا تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کو مکمل ہوتے اور لاہور کے انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی آتے دیکھی۔ اس وقت لاہور سے کراچی اور کراچی سے تربت بذریعہ بس یا گاڑی سفر کرتا تھا تو دوران سفر پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں سے گزرتا تھا۔ شہروں کی خوبصورتی، کلچر، طرز زندگی، حکمرانوں کی کارکردگی اور عوام کے حالت زار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس دوران پنجاب کو ترقی کرتے ہوئے دیکھا مگر بلوچستان کو سیاسی سماجی معاشی بلکہ ہر لحاظ سے زوال پذیر ہوتے دیکھا۔ لاہور سے جب تربت پہنچتا تھا تو شہر کی خستہ حال سڑکیں، ٹوٹی پھوٹی انفراسٹرکچر اور بے ترتیب سیوریج دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وقت ایک صدی پیچھے چلا گیا ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ بلوچستان اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ یہ سوال مجھ سمیت کئی بلوچ نوجوانوں کے ذہن میں ہے۔ عوام کی فلاح اور معاشرے کی ترقی تمام سیاسی پارٹیوں کی مشترکہ مقاصد ہیں مگر جب یہ پارٹیاں اقتدار میں آتی ہیں تو اپنے اصل مقصد اور منشور سے منہ پھیر لیتی ہیں۔ تمام حکومتوں کے لئے عوام کی معیار زندگی بہتر بنانا اولین ترجیح ہے مگر یہ ترجیح یا خواہش کی تکمیل بلوچستان میں ممکن نہ ہو سکی۔ موجودہ وزیراعلی سمیت بلوچستان میں ایسے کئی سیاسی حضرات موجود ہیں جو نسل در نسل وزارت اعلی اور دوسرے اہم وزارت پر براجمان رہ چکے ہیں لیکن ان کے حلقہ انتخاب کسی تباہ حال اور جنگ زدہ علاقے کی منظر کشی کرتے ہیں۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ بلوچستان کی تباہ حالی کا براہ راست ذمہ دار وفاق کی استبدادی طرز کے پالیسیاں ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ طاقت کے دیوتاؤں کے پسندیدہ بلوچ سیاسی قیادت اس میں برابر کے شریک ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو یا این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز میں کمی، بلوچستان کی سیاسی قیادت کی خاموشی کا نتیجہ آج بلوچستان کے باسی بھگت رہے ہیں۔ موروثی سیاست، جاگیردارانہ نظام آج بھی بلوچستان کی سیاست پر حاوی ہے۔ مقتدر قوت پس پردہ کھیل اور سازشوں سے باز رہے تو بلوچستان کی باشعور عوام ان جدی پشتی نام نہاد عوامی نمائندوں کی سیاست پر اجارہ داری، قبائلی اور جاگیرداری نظام کے تابوت میں آخری کیل خود ٹھوک دیں گے۔

بلوچستان کے عوامی اور سیاسی مسائل کو ایک عوامی سیاسی پارٹی ہی حل کر سکتی ہے۔ اس کی واضح مثال نیشنل پارٹی کا دور حکومت ہے۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ جب ایک مسلسل سیاسی جدوجہد کے بعد بلوچستان کے پہلے مڈل کلاس وزیراعلی بنے تو انہوں نے مڈل کلاس اور غریب طبقے کی خواہشات، ترجیحات اور مطالبات کو سمجھ کر ان پر کام کیا۔ کیونکہ وہ بلوچستان کے تاریخ کا پہلے وزیراعلی تھے جن کا تعلق نہ ہی سابق حکمرانوں کے کسی شاہی ریاستی خاندان سے تھا اور نہ کسی قبیلے کے سردار اور نواب تھے۔

وہ عام لوگوں کی نمائندگی کر رہے تھے حالانکہ اس وقت بلوچستان کے امن و امان کے حالات اس طرح تھے کہ پورا بلوچستان علاقہ ممنوعہ سمجھا جاتا تھا مگر ڈاکٹر مالک نے اقتدار سنبھالتے ہی سرکاری حمایت یافتہ مسلح اسکوارڈز میں ایک حد تک کمی کی۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا کر مستقبل کے حکومتوں کو وژن دیا کہ بلوچستان کو کیسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ڈھائی سال دور اقتدار میں تربت شہر کا نقشہ بدل دیا۔

بلوچستان کو میڈیکل کالجز، لا کالج اور یونیورسٹیز دے کر یہ پیغام دیا کہ ایک تعلیم یافتہ نسل ہی بلوچستان کے ترقی کی ضامن ہے۔ تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا اور میرٹ پالیسی کو مستحکم کیا۔ پہلی بار بلوچستان کے غریب عوام کو یقین ہونے لگا تھا کہ بلوچستان میں کوئی ایک ایسی سیاسی پارٹی اور قیادت ہے جو عام طبقہ کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور ان پر کام بھی کرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ڈھائی سالوں میں بلوچستان کے سیاسی سماجی تعلیمی بلکہ مجموعی صورتحال میں اتنی بہتری لائے جو دوسری پارٹیوں کے سیاسی قیادت جو نسل در نسل بلوچستان کے وزیراعلی بننے کے بعد بھی نہ کر پائے۔

ان سیاسی صاحبان کی سیاست وزارت کی کرسی اور چند مراعات کے گرد گھومتی ہے۔ عام طبقہ کے مسائل، مطالبات اور ترجیحات سے بے خبر ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ مقتدر قوتیں ان کے لیے راتوں رات نہ صرف پارٹی بناتی ہیں بلکہ انتخابات جتوا کر اقتدار کا مالک بھی بنا دیتی ہیں۔ اس پورے کھیل میں عوام کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ سیاستدان عوام کے بارے میں فکر مند نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی واضح مثال بلوچستان عوامی پارٹی اور موجودہ بلوچستان حکومت ہے۔ جو الیکشن سے چند ماہ قبل معرض وجود میں آئی۔ الیکشن جیت گئی اور اقتدار بھی مل گیا مگر موجودہ حکومت طویل المدتی سرمایہ کاری، عوامی اجتماعی مفادات کی خاطر پالیسی سازی کرنے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے۔ صوبے کے بے روزگار نوجوان بدستور بے روزگار ہیں۔ تعلیم اور صحت کا برا حال ہے۔ عام آدمی بڑی مشکل سے زندگی کی گاڑی کھینچ رہا ہے۔ مگر موجودہ حکمران شکم سیری کے باوجود ان کے چہروں پر بھوک اور طلب کی سنولاہٹ بکھری ہوئی ہے۔

موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ بلوچستان کے اصل پالیسی میکرز اور طاقت کے دیوتا یہ فیصلہ کر لیں کہ بلوچستان کو یونہی چلانا ہے یا منصفانہ سیاسی اور معاشی حقوق کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہے۔ سیاسی و معاشی ترقی کے لئے لازم ہے کہ یہاں اختیار، اقتدار کے کھیل میں شریک کھلاڑیوں کے ہاتھ دینے کی بجائے عوام کو مکمل آزادی دے کہ وہ قومی ترقی کے لیے فیصلہ سازی میں شریک رہیں۔ جب تک بلوچستان کے عوام کا سیاسی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا تب تک فیصلہ سازی پر اختیار اور وسائل پر اجارہ داری کی موجودہ ترتیب کو دوام ملتا رہے گا جس سے بلوچستان سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہوتا رہے گا اور سیاسی و معاشی طور پر غیر مستحکم ایک صوبہ پاکستان کی مستحکم سیاست و معیشت کی راہ میں ہمیشہ حائل رہے گا

Facebook Comments HS