EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

دوسری آئینی ترمیم اور ندیم فاروق پراچہ صاحب کا کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئین پاکستان میں کی جانے والی دوسری آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ 1974 میں کی جانے والی اس ترمیم کے ذریعہ آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس ترمیم کے بارے میں مختلف قانون دان، مصنفین اور محققین اپنی اپنی آراء کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں روزنامہ ڈان کی 20 جون کی اشاعت میں مکرم ندیم پراچہ صاحب کا ایک کالم Pandering To Extremists کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس کالم میں اس تحریر کے بارے میں چند گذارشات پیش کی جائیں گی۔ یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ اس کالم میں اس ترمیم کے صحیح یا غلط ہونے کا تجزیہ نہیں کیا جائے گا بلکہ ان چند نکات کا جائزہ لیا جائے گا جو مکرم ندیم پراچہ صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔

اس کالم کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کی تعداد ایک فیصد ہے لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر احمدیوں سے ہونے والے امتیازی سلوک کی تصویروں، ویڈیوز اور معلومات کی بھرمار نظر آتی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ ہر سو پاکستانیوں میں سے ایک پاکستانی احمدی ہے یا ہر ہزار پاکستانیوں میں سے ایک شہری احمدی ہے۔ اگر کوئی ایک شہری بھی امتیازی سلوک کا نشانہ بنتا ہے یا اس کے بنیادی انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں تو یہ قابل مذمت ہے۔ جہاں بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہو وہاں فیصد کے پیمانوں پر پرکھ کر مذمت نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر آج کل ہر سمت سے صحافیوں پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اس ضمن میں کوئی ذی ہوش یہ عذر پیش نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی آبادی میں صحافی حضرات کی تعداد ایک فیصد سے کم ہے اس لئے یہ کوئی تشویشناک بات نہیں ہے۔ اگر کسی ایک صحافی پر بھی حملہ ہوتا ہے تو اس کی مذمت ہونی چاہیے۔

اس کالم میں ندیم پراچہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ رفیع رضا صاحب جو کہ بھٹو صاحب کے دور میں وزیر تھے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب 1974 میں احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہو ئے اور مذہبی جماعتوں نے یہ مطالبہ شروع کیا کہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے کہ کیا احمدی مسلمانوں کا فرقہ ہیں؟ شروع میں ذولفقار علی بھٹو صاحب نے انکار کر دیا کہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے کیونکہ ان کے نزدیک پارلیمنٹ وہ فورم نہیں تھا جس پر مذہبی بحثیں ہوں یا مذہبی فیصلے کئے جائیں۔ لیکن جب 18 مئی کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو وہ بھٹو صاحب مذہبی جماعتوں کے دبائو میں آ گئے اور انہیں مذہبی جماعتوں کا یہ فیصلہ قبول کرنا پڑا کہ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

رفیع رضا صاحب نے اپنی کتاب ذاولفقار علی بھٹو اینڈ پاکستان 1967-1977کے صفحہ 212 اور 213 پر ان واقعات کا ذکر کیا ہے۔ مناسب ہوگا اگر اس حصہ کا تاریخی تجزیہ کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اپریل 1974 میں ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے ایک معمولی واقعہ پر پاکستان میں احمدیوں کے خلاف فسادات شروع ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والا واقعہ اپریل میں نہیں بلکہ 29 مئی کو ہوا تھا۔ اور اسی روز فسادات شروع ہو گئے تھے۔ پھر رفیع رضا صاحب لکھتے ہیں کہ اس بارے میں صحیح واقعات بیان نہ کرنے اور اس سے صحیح طرح نہ نمٹنے کی وجہ سے فسادات بڑھ گئے۔ پھر جب 18 مئی کو بھارت نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو اس سے بھٹو صاحب کی پوزیشن تبدیل ہو گئی اور انہیں یہ اعلان کرنا پڑا کہ اس مسئلہ پر قومی اسمبلی میں بحث ہو گی۔

پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ صحیح تاریخوں پر غور فرمائیں کہ ان فسادات کے آغاز سے قبل ہی بھارت ایٹمی دھماکہ ہو چکا تھا اور یہ مفروضہ درست نہیں کہ پہلے بھٹو صاحب کا موقف تھا کہ اس مسئلہ پر قومی اسمبلی میں بحث نہیں ہونی چاہیے اور پھر بھارت کے ایٹمی دھماکہ کی وجہ سے انہیں یہ قدم اُٹھانا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلہ کے آثار دیر سے نظر آ رہے تھے۔

 سب سے پہلے تو 1973 کے آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے لئے ختم نبوت کا حلف نامہ اُٹھانا ضروری قرار دیا گیا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی آئینی تاریخ میں یہ ایک منفرد واقعہ تھا کہ ان اعلیٰ عہدوں کے حلف ناموں میں عقائد کی تفصیلات شامل کی گئی تھیں۔ اور ان فسادات سے صرف ایک ماہ قبل سعودی عرب میں رابطہ عالم اسلامی کا اجلاس ہوا۔ اور اس میں سعودی نمائندے کے اصرار پر احمدیوں کے خلاف ایک قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے بنیادی نکات یہ تھے کہ اس گروہ کے کفر کا اعلان کیا جائے۔ ان کی سرگرمیوں کا محاسبہ کیا جائے۔ ان کا مکمل اقتصادی معاشرتی اور ثقافتی بائیکاٹ کیا جائے۔ اور ان کی املاک کو ضبط کر کے مسلمان تنظیموں کے حوالے کیا جائے۔ اور اس قرارداد پر پاکستان کے فیڈرل سیکریٹری ٹی ایچ ہاشمی صاحب نے بھی دستخط کئے تھے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فیڈرل سیکریٹری حکومت کی مرضی کے بغیر ایک ایسی قرارداد پر دستخط کر دے جس میں اس کے ملک کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے کا ذکر ہو۔ اور اتفاق ملاحظہ فرمائیں کہ اس کے ایک ماہ کے اندر اندر احمدیوں کے خلاف فسادات بھی شروع ہو گئے۔

اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ بجٹ کی بحث کے دوران تو اس موضوع پر بحث کرنا ممکن نہیں تھا۔ جونہی 30 جون 1974 کو بجٹ پر بحث ختم ہوئی تو اپوزیشن نے احمدیوں کے بارے میں ایک تفصیلی قرارداد پیش کر دی۔ اس قرارداد میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب یہ قرارداد پیش کی گئی تو اس پر وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ حمایت کرتی ہے اور اس قرارداد پر پورے ایوان کی سپیشل کمیٹی قائم کی گئی۔ جس کا نتیجہ 7 ستمبر 1974 کو دوسری آئینی ترمیم کی صورت میں برآمد ہوا۔

آخر میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ترمیم کے کئی سالوں بعد اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب نے ایک سے زیادہ انٹرویو میں یہ اعتراف کیا تھا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کے دبائو کے تحت اور سیاسی اغراض کے لئے کیا گیا تھا۔ اس پس منظر میں یہ دعویٰ کہ بھٹو صاحب نے یہ فیصلہ محض پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے دبائو کے تحت کیا تھا درست معلوم نہیں ہوتا۔

یہ ایک ہر شخص کا حق ہے کہ وہ ایک تاریخی واقعہ کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ صحیح اور مکمل تاریخی حقائق سامنے رکھ کر رائے قائم کی جائے۔

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے