EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈپریشن: تشخیص، علاج اور ماہرینِ علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کالم میں ہم نے بات کی تھی کہ ڈپریشن کیا ہوتا ہے کیسے ہوتا ہے، اس کی علامات کیا ہوتی ہیں۔ اور اب ہم جانیں گے ڈپریشن کی تشخیص، علاج اور ماہرین علاج کے بارے میں۔

سو ڈپریشن کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟ عام طور پر کسی کو ڈپریشن ہو جائے تو وہ ڈرتا ہے کہ اسے پاگلوں کے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے گا، کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

جہاں تک تشخیص کا تعلق ہے۔ ڈپریشن کے حوالے سے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ تو ہے نہیں۔ چنانچہ اس کی درست تشخیص کے لیے طبی ماہرین مریض کی علامات اور کیس ہسٹری پر انحصار کرتے ہیں۔ اور ایسا بالکل نہیں ہے کہ ڈپریشن کے مریض کو پاگلوں کے ڈاکٹر کو دکھانا پڑے۔ اور نفسیاتی معالج سے مشورہ لینے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ کوئی پاگل ہو گیا ہے۔ ڈپریشن کے بہت سارے مریض اپنے فیملی ڈاکٹر کے علاج سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ کی طبیعت اس سے صحیح نہ ہو تو ہو سکتا ہے آپ کو ماہر نفسیات یا نفسیاتی معالج کو دکھانے کی ضرورت پڑے۔ ماہرین نفسیات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سائیکائٹرسٹ اور دوسرا سائیکالوجسٹ۔ اس میں سائیکائٹرسٹ جنھیں ماہر نفسیاتی امراض بھی کہتے ہیں۔ میڈیکل ڈاکٹر ہوتے ہیں اور انہوں نے نفسیاتی امراض کے علاج میں مزید تربیت حاصل کی ہوتی ہے اور وہ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔

جبکہ سائیکالوجسٹ یعنی ماہر نفسیات میڈیکل ڈاکٹر نہیں ہوتے اور وہ عام طور پر سائیکو تھراپی، کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن یعنی بات چیت سے علاج کرتے ہیں۔

ڈپریشن کا علاج نہ کرانے کی صورت میں کیا ہو تا ہے؟

ڈپریشن کا شکار فرد ہمیشہ خود کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتا ہے، جس میں سب سے برا نقصان ’خود کشی‘ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ’خود کشی‘ کی کوشش ڈپریشن کا آخری لیول ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ سال یعنی دو ہزار انیس میں دنیا میں لگ بھگ ساڑھے پندرہ لاکھ افراد نے خود کو موت کے گھاٹ اتار لیا، اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا میں ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے، اور خود کشی پندرہ تا انیس سال کی عمر کے افراد میں موت کی دوسری اہم وجہ بن چکی ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ خودکشیوں کے نوے فیصد واقعات ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ سو اگر آپ کے ڈپریشن نے آپ کے کام، دلچسپیوں، اور رشتہ داروں اور دوستوں سے تعلقات کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، یا آپ کو اس طرح کے خیالات آنے لگے ہیں کہ آپ کے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسرے لوگوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ آپ مر جائیں، تو آپ کو فوراً اپنا علاج کروانے کے لیے اپنے ڈاکٹر یا سائیکائٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس کے علاوہ ڈپریشن کے اور بھی بہت سے دوسرے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ ایک ریسرچ کے مطابق ڈپریشن بعض اوقات سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ مسلسل ذہنی دباؤ کے شکار افراد میں ٹیومر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈپریشن کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے؟

خوش قسمتی سے ڈپریشن ایک قابل علاج مرض ہے۔ اسی سے نوے فیصد مریض مناسب علاج سے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں

ڈپریشن کے علاج کے دو بڑے طریقے ہیں۔ پہلا علاج باتوں یعنی کونسلنگ جسے سائیکو تھراپی بھی کہتے ہیں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اور دوسرا طریقہ علاج ہے اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کے ذریعے۔ آپ کے ڈپریشن کی علامات کی نوعیت، ان کی شدت اور آپ کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کے لیے ادویات کا استعمال زیادہ بہتر ہے یا سائیکو تھراپی۔ پہلے بات کرتے ہیں باتوں کے ذریعے علاج (یعنی سائیکو تھراپی) کی۔ ہلکے اور درمیانی درجے کے ڈپریشن میں سائیکو تھراپی کے استعمال سے طبیعت ٹھیک ہو سکتی ہے۔

ڈپریشن کے مریضوں کو اپنے احساسات اور دل کی باتیں کسی اپنے دوست یا با اعتماد فرد کے ساتھ ڈسکس کرنے سے ڈپریشن میں کمی ہو سکتی ہے۔ بعض دفعہ اپنے احساسات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ماہر نفسیات یا ماہر نفسیاتی امراض (سائیکولوجسٹ یا سائیکاٹرسٹ) سے بات کرنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ سائیکو تھراپی کے ذریعے علاج میں وقت لگتا ہے۔ عام طور سے آپ کو ماہر نفسیات سے ہر ہفتے ایک گھنٹے کے لیے ملنا ہوتا ہے اور اس کا دورانیہ پانچ ہفتوں سے تیس ہفتوں تک ہو سکتا ہے۔

اینٹی ڈپریسنٹ ادویات

اگر آپ کا ڈپریشن شدید ہو یا کافی عرصے سے چل رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا ڈاکٹر آپ کو اینٹی ڈپریسنٹ ادویات تجویز کرے۔ ان ادویات سے اداسی کم ہوتی ہے، زندگی بہتر لگنے لگتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا فائدہ دوا شروع کرنے کے بعد فوراً نظر آنا شروع نہیں ہوتا بلکہ اس میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔

یہ تو تھا ڈپریشن کے علاج، تشخیص اور ماہرین علاج کا ذکر۔ اگلے کالم میں ہم تفصیل سے بتائیں گے ان غذاؤں اور خوراک کے بارے میں جن کے باقاعدہ استعمال سے آپ نا صرف ڈپریشن ہونے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں بلکہ اس کا علاج بھی کامیابی سے کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے