باکرہ اور نفسیاتی مسائل
(1)
ایک سہ پہر مجھے اپنے کلینک کے سٹاف روم میں شوخ و چنچل سوشل ورکر نینسی ملی تو میں نے بے اختیار پوچھا
’آج تو تم کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی ہو۔ کوئی خوش خبری ہے تو مجھے بھی بتاؤ‘
نینسی نے فورا مجھے اپنا بایاں ہاتھ دکھایا جس میں ایک قیمتی ہیرے کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ کہنے لگی ’مارک نے ایک گھٹنے پر جھک کر پچھلے ویک اینڈ پر مجھے پروپوز کیا ہے‘
’مبارک ہو۔ مٹھائی کب کھلاؤ گی‘
’جب آپ چاہیں‘
جب میں اپنے کمرے میں آیا تو میں نے سوچا کہ کینیڈا میں ملنے والی تمام عورتوں میں نینسی وہ واحد لڑکی تھی جو چوبیس سال کی ہوتے ہوئے بھی باکرہ تھی۔
چند ماہ پہلے جب نینسی سے میرا تعارف ہوا تھا تو وہ قدرے شرمیلی تھی لیکن آہستہ آہستہ جب اس کا مجھ پر اعتبار و اعتماد بڑھا تو اپنے دل کی باتیں بتانے لگی۔ ایک دن اس نے چائے کے وقفے کے دوران بتایا
’ مارک میرا پہلا بوائے فرینڈ ہے۔ ہم تین سال سے ڈیٹنگ کر رہے ہیں۔‘
’تو اب تک شادی کیوں نہیں کی؟‘
’ ہم دونوں ایک گھر کے لیے رقم جمع کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں شادی کے بعد نئے گھر میں منتقل ہو جائیں۔‘
۔ ۔ ۔
(2)
ایک دن لنچ کے وقفے کے دوران نینسی نے مجھ سے پوچھا
ڈاکٹر فیصل آپ کی شادی کو کتنے برس ہو گئے؟ ’
’ پندرہ سال‘
’ کیا آپ کی شادی ارینجڈ شادی تھی؟‘
’نہیں محبت کی شادی تھی۔ ہم دونوں البرٹا کی یونیورسٹی میں ہم جماعت تھے۔ ہماری دوستی ہوئی پھر محبت ہوئی پھر شادی ہوئی اور پھر دو بچے ہوئے۔ دو بیٹیاں‘
پھر اس کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ پھیل گئی اور کہنے لگی۔
’ آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھوں؟‘
’ پوچھ لو‘
’ کیا شادی کے وقت آپ دونوں ورجن تھے؟‘
’ نہیں۔‘
’کیا آپ نے شادی کی رات کا انتظار نہیں کیا؟‘
’نہیں۔ ہماری ہمبستری کے لیے محبت ہی کافی تھی‘
’ میں تو شادی کی رات کا انتظار کروں گی‘ نینسی نے بڑے فخر سے کہا
’ تو کیا تم مارک کے ساتھ ہمبستری نہیں کرتی‘
’نہیں بالکل نہیں۔ میں باکرہ ہوں‘
’کیا ایک دوسرے کا ہاتھ نہیں پکڑتے‘
’ ہاتھ تو پکڑتے ہیں‘
’ اور بوس و کنار؟‘
’ وہ بھی کرتے ہیں؟‘
’ ایک دوسرے کو بے لباس نہیں کرتے؟‘
’بس آدھا۔ مارک کو سب کچھ کرنے کی اجازت ہے بس میری سکرٹ کو چھونے کی اجازت نہیں۔ اس کے لیے اسے انتظار کرنا ہوگا‘
’نینسی تمہیں مردوں کی نفسیات کے بارے میں ایک بات بتاؤں؟
’بتائیں‘
’ اکثر مرد انتہا پسند ہوتے ہیں۔ یا تو عورت کو بالکل چھونا نہیں چاہتے اور اگر بوس و کنار کر لیں ننگے بدن کو دیکھ لیں تو پھر وہ ہمبستری بھی کرنا چاہتے ہیں؟
’ اور اگر اس کا موقع نہ ملے تو؟‘
’ بہت سے مرد نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ انتظار نہیں کر سکتے۔‘
’ لیکن میری خواہش ہے کہ وہ انتظار کرے۔ چھ ماہ اور انتظار کرے۔ سہاگ رات کا انتظار کرے‘
’کیا تم مارک سے محبت نہیں کرتی؟‘
’ بہت پیار کرتی ہوں حد سے زیادہ پیار‘
’ تو پھر ہمبستری کیوں نہیں کرتی؟‘
’ کیونکہ میں کیتھولک ہوں۔ اور کیتھولک شادی سے پہلے ہمبستری نہیں کرتے‘
پھر میں نے ہنستے ہوئے پوچھا
’نینسی کیا تم تانترک روایت سے واقف ہو؟
’ نہیں اس کا کیا فلسفہ ہے؟ وہ کیتھولک فلسفے سے کیسے مختلف ہے؟
’ کیتھولک روایت میں جنس گناہ ہے اور تانترک روایت میں جنس ثواب۔ تانترک روایت کے پیروکار اورگیزم سے نروان حاصل کرتے ہیں۔ جنس انہیں خدا کے قریب لے جاتی ہے‘
’ڈاکٹر فیصل آپ مذاق کر رہے ہیں‘
’نہیں میں سچ بول رہا ہوں‘
’ میں آج شام گوگل کروں گی اور تانترک روایت کو جانوں گی‘
۔ ۔
(3)
ایک صبح نینسی نے بتایا کہ شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی ہے۔ ہال بک ہو گیا ہے۔ اس نے شادی کے لیے ویڈنگ ڈریس خرید لیا ہے اور ہنی مون کے لیے ڈومینیکن ریپبلک میں ساحل سمندر پر کمرہ بھی ریزرو کروا لیا ہے۔
پھر اس نے شادی کے لیے چھ ہفتے کی چھٹی لی تا کہ ہنی مون سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکے۔
میں نے اسے مبارکباد پیش کی
۔ ۔ ۔
(4)
شادی کے بعد ایک ہفتہ گزر گیا
دو ہفتے گزر گئے
چار ہفتے گزر گئے
نینسی کی کوئی خبر نہ آئی
چھ ہفتے کی چھٹیاں گزر گئیں۔
نینسی واپس نہ آئی۔ بلکہ اس کا استعفیٰ آ گیا۔
میں نے بہت سے لوگوں سے پوچھا لیکن سب کے ہونٹوں پر خاموشی تھی۔ ایک گمبھیر سی خاموشی۔
۔ ۔ ۔
(5)
شادی کے چھ ماہ بعد مجھے نینسی ایک پارٹی میں مل گئی۔
اسے دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔
ہنستا کھیلتا مسکراتا شوخ و چنچل چہرہ مرجھا سا گیا تھا۔
میں اسے کافی دیر تک دور سے دیکھتا رہا۔
ڈنر کے بعد میں نے کہا ’نینسی میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں‘
’جی ضرور‘
اور ہم دونوں گھر کے پیچھے باغ میں چہل قدمی کرنے لگے۔
میں نے کہا ’نینسی تم دکھی دکھائی دے رہی ہو‘
’ ہاں میں غمزدہ ہوں‘ اس نے اقرار کیا
’ابھی تو تمہاری شادی کو چند ماہ ہی ہوئے ہیں۔ اتنی اداسی کیوں۔ ابھی تو تم ہنی مون کے دور سے گزر رہی ہو‘
اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہا ’ہنی مون تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا‘
’وہ کیوں؟‘ میں متجسس تھا
’آپ کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی‘
’ وہ کیسے؟‘ میں گہری سوچ میں ڈوب گیا
’ شادی کو پانچ ماہ اور تیرہ دن ہو گئے ہیں اور میں اب تک باکرہ ہوں۔‘
۔ ۔


