EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ریپ اور جنسی زیادتیوں کے معاملات میں یہ ”تعصب“ کیسا اور کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منور علی شاہد (جرمنی) پاکستان کے وزیر اعظم ایک امریکی صحافی کو سیاسی انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں ریپ کے واقعات کو خواتین کے لباس سے جوڑتے ہوئے متنازعہ بات کہہ کر ایک بار پھر تنقید اور تعریف کی زد میں ہیں۔ تعریف تو لازمی بات ہے وہی کر رہے ہوں گے جو عقل کی بجائے جذبات اور اندھی عقیدت میں سوچتے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ جبکہ تنقید کرنے والے پی ایم کے بیان کو زمینی اور معاشرتی حقائق اور سچ کے منافی قرار دیتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی ایک بار وہ اسی قسم کا بیان دے کر متنازعہ شہرت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کسی نے ایک کمنٹ میں خوب کہا ہے کہ ستر سال کے لگ بھگ عمر میں بھی اگر ابھی مردانہ جذبات قابو میں نہیں ہیں تو پھر اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب ”آتش جواں تھا“ ؟ بقول پی ایم کے مغرب کو ان سے زیادہ کوئی اور نہیں جانتا، تو پھر ان کو یہ بھی مان لینا چاہیے کہ وہ بھی اپنے پاکستانی معاشرے کو بھی جاننے اور پہچاننے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، کیونکہ وہ دور انہوں نے پاکستانی معاشرے میں گزارا ہی نہیں ہے جو ان کو یہاں گزارنا چاہیے تھا ورنہ پھر آج ایسی باتیں نہ کرتے۔

معاشرہ مغربی ہو یا مشرقی، ہر جگہ جرم، جرم ہی رہتا ہے۔ ریپ، جبری جنسی زیادتی اگر مغرب میں ہوتی ہے تو وہاں یہ قتل سے زیادہ سنگین جرائم تصور کیے جاتے ہیں اور معاشرہ ان جرائم کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے فوری انصاف اور سزا کی امید رکھتا ہے اور مجرم اپنے منطقی انجام تک پہنچتا بھی ہے، وہاں لباس ایسے دقیانوسی بہانے نہیں تراشے جاتے بلکہ فعل کو جرم کی نگاہ سے ہی دیکھا جاتا ہے اور مجرم کو کڑی سزا دی جاتی ہے۔

کاش کہ آپ بھی انٹرویو میں کڑی سزا دینے کا کہہ کر اسلامی عدل نظام کی عالمی سطح پر پذیرائی کراتے لیکن آپ نے ایک سنہری موقع کھو دیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بھیانک حرکتوں کو جرائم کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا؟ ریپ، جنسی زیادتیاں کیا گھناؤنے جرائم نہیں ہیں؟ کیا یہ سماجی برائیاں نہیں ہیں جو اسلامی پاکستانی معاشرے میں پنپ اور پھل پھول چکی ہیں۔ ملکی قانون، آئین ان کی بالکل اجازت نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود گزشتہ کئی دہائیوں میں سینکڑوں بار مکمل کپڑوں میں چلتی پھرتی بچی، گاڑی میں بیٹھی خاتون، گھر کی چار دیواری کے اندر مسلم پاکستانی خاتون، خانہ خدا کے اندر اسلامی تعلیم کے لئے جانے والی بچیاں، کبھی یونیورسٹی کے اندر، کہیں بھی عورت، لڑکی جب جنسی زیادتی کا شکار ہو چکی ہیں ہے تو کیا سبھی کی وجوہات ”لباس“ تھا؟

نہیں بالکل نہیں جناب وزیر اعظم، ایسا بالکل نہیں ہے۔ آپ معاشرتی زمینی حقائق سے نظریں مت چرائیں اور تسلیم کریں کہ پاکستانی معاشرہ اب انسانی معاشرہ کم اور جنگل زیادہ لگتا ہے جہاں ہر طاقتور کمزور کو ہڑپ کرنے کا ہی سوچتا رہتا ہے۔ جنسی جرائم کی پھل پھولنے کی وجوہات میں۔ جناب وزیر اعظم، اس کی وجہ ”لباس“ ہرگز نہیں بلکہ قانون کا ”بانجھ پن“ ہے جس کے علاج کی اشد ضرورت ہے، وہ ”مردہ قوانین“ ہیں، سوئے ہوئے انسانی ضمیر ہیں، قومی سلامتی اداروں میں مذہبی و سیاسی اثر و رسوخ اور عدل و پولیس کی اندرونی ”کمزوریاں“ ہیں جن کو کبھی بھی کسی حکومت اور ادارے کو ٹھیک کرنے کی نہ ہمت ہوئی، نہ توفیق ملی، بس وقت ٹپاؤ تے مٹی پاؤ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ ”اپنے ہی دیس میں مسلم پاکستانی بچی، عورت“ غیر محفوظ ہو چکی ہے اور اس کی وجہ بھی اس مظلوم کو قرار دیتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں ایک عورت کیسا بھی لباس پہن کر چلے پھرے، لیکن اس کی حفاظت ریاست، حکومت اور ملکی اداروں کی ہے۔ لباس کی طرف دھیان دینے کی بجائے ”جرم“ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ریپ، جنسی زیادتی ایسے گھناؤنے جرائم کی طرفداری کی تمام وجوہات قابل نفرت ہیں۔ گھناونے جرم کو کسی لباس سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ جرم بس جرم ہے، خواہ کرنے والا کوئی بھی ہو اور کہیں بھی کرے، وہ ناقابل معافی ہے۔

جناب وزیر اعظم، کبھی وقت نکال کر بانی پاکستان محمد علی جناح کی دستور ساز اسمبلی میں کی گئی وہ تاریخ ساز تقریر پڑھ لیں جس میں انہوں نے مستقبل کی حکومتوں کو کچھ نصائح کیے تھے اور کچھ سماجی برائیوں اور حکومت کی اولین ذمہ داریوں کی نشاندہی کی تھی۔ بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ ”حکومت کا پہلا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال کی حفاظت ہو سکے۔“ ۔ جناب وزیر اعظم، تبدیلی کا جو نعرہ آپ نے لگا رکھا ہے اس کی پاسداری کریں، جس مدینہ ریاست کا علم آپ نے ہاتھ اٹھا رکھا ہے اس کی تعظیم کریں اور پاکستانی معاشرے میں ہونے والے ہر قسم کے غیر قانونی، غیر اسلامی رویے اور جرم کو صرف اور صرف ”جرم“ ہی تسلیم کریں، اس کو کسی لباس، کسی مذہب، کسی عقیدہ، کسی جنس، سے نہ جوڑیں بلکہ جرم کو جرم ہی رہنے دیں اور جرم ہی سمجھیں، اسی کلچر کو معاشرے میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ آپ نے یورپ میں یہی دیکھا ہوگا، وہی قانون کی بالادستی کے مناظر اپنے پاکستانی معاشرے میں بھی دکھائیں تو یقین کریں کہ دنیا میں بھی ”اسلامی فوبیا“ میں کمی ہونا شروع ہو جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے