افلاطون، جمہوریت اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی تحریریں حقیقت کی عکاسی کرتیں ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یقینا، ایسے لوگ دور اندیش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ حساس طبعیت کے مالک بھی ہوتے ہیں اور شاید اسی لئے ایسے لوگ دنیا میں کوئی کارنامہ دکھا کر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

آج سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے، یونان کے مشہور فلسفی، افلاطون نے جمہوریت کا جو نقشہ کھینچا تھا اس کی ایک قسم پاکستانی جمہوریت کی شکل میں نظر آتی ہے۔ گویا، اگر یوں کہا جائے کے افلاطون نے پاکستانی جمہوریت کا عکس بہت دکھا دیا تھا، تو بے جا نہ ہوگا۔

اپنی شہرہ آفاق تصنیف، جمہوریہ (ریپبلک) ، میں افلاطون نے طرز حکمرانی کی جو اشکال بیان کیں ہیں ان میں جمہوریت اور جمہوری حکمرانوں کو نچلے درجے پر رکھا گیا ہے۔ افلاطون نے ایسا کیوں کیا؟ آئیے جانتے ہیں۔

ڈیموکریسی کو سب سے بدترین طرز حکمرانی لکھتے ہوئے افلاطون کہتا ہے کہ جمہوری حکومتیں تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور مساوی برتاؤ کا وعدہ کرتے ہوں عوام کو چند سرکش حکمرانوں کے ہجوم کے سامنے پھینک دیتیں ہیں۔ یعنی حکمرانوں یا لیڈروں کا ایک ایسا سرکش ہجوم جس کے ہر فرد کا مقصد اور دلچسپی اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل اور ذاتی فائدہ ہوتا ہے جس کے حصول کے لئے یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بس ایک نظر ان کی پرتعیش زندگی ڈالنے سے یہ افلاطون کا یہ دعویٰ کم سے کم پاکستان میں سچ ثابت ہو ہی جائے گا۔

افلاطون کا جمہوری حکمرانوں کے بارے میں سرکش ہجوم کا بیانہ دل ہلا دینے والی بات لگتی ہے۔ تو لیجیے ایک سرکش سابق ایم پی اے کی مثال ہی لے لیتے ہیں جنھوں نے اپنی سرکشی کی مثال ایک آن ڈیوٹی پولیس اہلکار کو سر عام اپنی گاڑی تلے کچل کر قائم کیں۔ اگر آپ ڈھونڈنے نکلیں گے تو آپ کو ہر اینٹ کے نیچے ایسی سینکڑوں مثالیں مل جائیں گی۔ ویسے کراچی میں بھی ایک سر کردہ سرکش جمہوری لیڈر نے خواب مراعتوں کا مزہ چکھا اور آخر میں چھومنتر ہو گیا۔ اور عوام کو کیا ملا؟ ایک نہ تواں خواب!

افلاطون ڈیموکریٹک لیڈروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ جمہوری حکمران اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں جن کا ذوق اور نیکوں سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ دراصل عوامی خدمات ذوق اور نیک نیتی کے بغیر ناممکن ہیں۔ نیکی کا تعلق انسان کی تربیت اور طبعیت سے ہے۔ اگر کردار میں ابتداء ہی سے نیکی کی کاشت نہ کی جائے تو لاکھ کوشش کے باوجود انسان کے لیے نیک عمل کی طرف راغب ہونا مشکل ہی نہی بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔

افلاطون کی جمہوری طرز حکمرانی پر تنقید کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستان کی مختصر جمہوری تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم یہ ہوگا جمہوری حکومت کے ادوار میں پاکستانی عوام نے بہت رنج و الم اٹھائے ہیں جبکہ اس کے برعکس حکمرانوں نے جتنے عیش کیے، اس کی مثال دوسری جمہوری حکومتوں میں نہیں ملتیں۔ جمہوری حکومتی اداروں میں ہمیشہ سے ہی جھوٹ، بدعنوانی، مکر، فریب اور دھوکے دہی کا بازار گرم رہا ہے۔ جگہ جگہ اور ہر موڑ پر رشوت عام رہی ہے اور عوام ذلیل و خوار ہوتی دکھائی دی ہے۔

کبھی عوام گھنٹوں اپنے منتخب کئیے ہوئے حکمرانوں کے پر تعیش قافلوں کے گزرنے کے انتظار میں سڑکوں پر اپنا خون جلاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو کبھی آٹے کی حصول کے لئے یوٹیلٹی اسٹور اور خیراتی اداروں پر اپنی عزت نفس کا سودا کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو کبھی ہسپتالوں کا چکر لگاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ اور کبھی انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کے آسرے پر اپنی جوانی اور اور عمر دونوں گنوا دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

میں افلاطون کے جمہوری حکومت اور حکمرانوں سے متعلق نظریات سے بالکل متفق نہیں، پر جب نظر اپنے ارد گرد پڑتی ہے تو میں شرمندگی سے اپنا چہرہ اپنے ہی گریبان میں چھپا لیتا ہو کیوں کہ بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments