ہماری زندگیاں اور موٹیویشنل اسپیکرز


گزشتہ کچھ برسوں سے موٹیویشنل اسپیکرز بہت رواج میں ہیں اور جوں جوں ان پروفیشنلز کی تعداد بڑھ رہی ہے توں توں لوگوں میں ڈپریشن، مایوسی اور عدم برداشت کی کیفیات مزید نمو پا رہی ہیں۔ آپ کچھ دیر کو رک کر اس نکتے پر غور کریں تو مجھے شک نہیں یقین ہے کہ آپ میں سے بالخصوص وہ لوگ جو موٹیویشنل اسپیکرز کے ستائے ہوئے ہیں میری بات سے اتفاق کریں گے۔

انہی حضرات کی ایک جدید شکل سوشل میڈیا کے با اثر افراد یعنی انفلوئنسرز ہے۔ ان سب لوگوں نے اپنی اپنی ترکیبوں سے خاص پھکیاں تیار کی ہوئی ہیں اور یہ خوب جانتے ہیں کہ کون سی پھکی کب، کیسے، اور کتنی دینی ہے۔

لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ایک ڈاکٹر کبھی بھی دو مختلف مریضوں کا ایک طرح سے علاج نہیں کر سکتا حتیٰ کہ ایک ہی مرض کے مختلف مریض بھی ہمیشہ صرف ایک نسخے سے صحت یاب نہیں ہوسکتے، بلکہ ان کی عمروں میں فرق اور دیگر عناصر طریقۂ علاج پر اثر انداز ہوتے ہیں، تو ایک موٹیویشنل اسپیکر سینکڑوں یا ہزاروں مختلف الاضلاع افراد پر مشتمل مجمع کو کیونکر اپنی محض ایک، دو گھنٹے کی تقریر سے سارے دکھوں یا ڈپریشن سے نکال سکتا ہے؟

بعض حضرات پہلے پہل تو شہرت سے بے نیاز ہو کر معاشرے کی اصلاح کا بیڑہ اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد نام آوری کا چسکا انہیں ایسا لگتا ہے کہ اپنے ہی پڑھائے سبق اور مثالیں بھول کر یہ شہرت کی تام جھام اور پیسے بنانے کے چکر میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا نقاب اتارا ہے۔ بیشتر حضرات سچ اور جھوٹ کا ملغوبہ تیار کر کے اپنی چرب زبانی سے اپنی زندگی کے عام واقعات میں وزن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزید برآں ”زندگی بدل دینے والا لیکچر“

”سوچ بدل دے زندگی“ ایسے بینرز اور عنوانات جب سماجی رابطے کے مختلف ذرائع پہ درج ہوئے نظر آتے ہیں تو مصائب و آلام میں گھرے لوگ لاشعوری طور پر ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

مگر نہ تو سوچ لمحوں میں بدلتی ہے نہ زندگی دنوں میں۔

آپ کسی کے جوتے میں پاؤں ڈالے بغیر اس کے دکھ درد یا حالات کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ہر انسان آزمائشوں سے سیکھتا ہے۔ دکھ، دھوکا، قربانی ایسے تجربات ہیں جن سے چاہتے نہ چاہتے ہوئے انسان گزرتا ہے اور یہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔

میں نے بہت سے اسپیکرز کو سنا ہے جو اپنی زندگی کے حالات و واقعات کو اس طرح سے بیان کرتے ہیں جیسے انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ مشکلات جھیلی ہیں اور بہت تگ و دو کے بعد وہ ایک خاص مقام تک پہنچ پائے ہیں (یقیناً ایسا ہی ہوتا ہوگا) ۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا دکھ فلانے سے بڑا تھا اور فلانے کا غم ڈھمکانے سے کم ہے۔ ہر انسان جب تکلیف میں ہوتا ہے تو ایک خاص مدت تک کے لیے اس کو اپنا رنج و غم ہی سب سے بڑا لگتا ہے، مقابل کے لیے چاہے وہ معمول ہی بات کی کیوں نہ ہو۔

یہ بات آپ اس طرح سے سمجھ سکتے ہیں کہ ایک کم سن بچے یا بچی کو سبق نہ آنے پر یا کسی اور وجہ سے بھری کلاس میں بے عزت کیا جانا اس کی عزت نفس کی دھجیاں اڑا دیتا ہے اور اس کے لاشعور میں ایسے تضحیک آمیز لمحات بیٹھ جاتے ہیں۔ مگر اسی جماعت کے دوسرے طالب علم کے لیے شاید یہ ڈانٹ ڈپٹ معمول کی بات ہو۔ اسی طرح ایک معاشرے میں رہنے والے ضرورت مند نوجوان کو جب دفتر یا دکان کے ملازمین کے سامنے پھٹکار پڑے تو اسے وہ بھی مجبوراً ہی سہی مگر ہنس کر سہنی پڑتی ہے۔ مگر ہو سکتا ہے اسی جگہ پر کام کرنے والا دوسرا ساتھی ایسی سختی ایک دن بھی برداشت نہ کرپائے۔ ایسے دو مختلف حالات و واقعات کے افراد جن کا طرز زندگی، خاندانی پس منظر اور جن کی تعلیم و تربیت مختلف خطوط پر ہوئی ہو کو آپ کس طرح ایک ہی منجن سنگھا کر بہلا سکتے ہیں۔

چند ایک تو ایسے بھی ہیں جو شروعات میں ”فری آف کوسٹ“ انسانیت کی بھلائی کا پرچار کرنے کے بعد ، آہستہ آہستہ اپنے ”مقصد“ کی طرف آتے ہیں۔ کچھ مفید لنکس کے ذریعے اپنے سحر انگیز ڈیجیٹل فورمز پر بلاتے ہیں اور پھر آن لائن اور فزیکل کورسز کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔

اگرچہ اس بھیڑ چال میں کچھ حضرات ایسے ہیں جو اپنی عمر، تجربے اور علمی بصیرت کی بنا پر بہترین کام کر رہے ہیں۔ مگر آج کے سوشل میڈیائی دور میں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا کے نام نہاد با اثر افراد نے پوری کردی ہے۔ بڑی بڑی باتیں کرنا کتنا آسان ہے۔ اور دوسروں (خواہ عوام ہو یا حکومت، مذہب ہو یا قومیت) کو باتیں کرنا تو اس سے زیادہ بھی آسان ہے۔

کچھ خرد مند حضرات بھی ہیں جو ”معاشرے اور اسلام کو اپنی تقاریر اور سخن کا حصہ بناتے ہیں، ان کی بیشتر باتیں غور و فکر کرنے والوں کے لیے سوچ کے کئی در وا کرتی ہیں، خصوصاً جو لوگ اسلام کو کڑا سمجھتے ہیں یا سختیاں نکالتے ہیں جدید العہد خطیبوں کی باتیں ایسے مصیبت میں پھنسے لوگوں کے لیے روح افزاء ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ مشاہدہ بھی کیا گیا ہے کہ چند حضرات اپنی ذاتی زندگی کے تجربات سے نکلنے والے نتائج اور زاویۂ نظر کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر میں نے ایک موٹیویشنل اسپیکر کو یہ کہتے سنا کہ اسلام میں، دنیا میں مکافات عمل کا کوئی تصور نہیں اور وہ ہر طور اپنی سوچ سے سامعین کو قائل کرنا چاہتا تھا، اس بات سے قطع نظر کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے سینکڑوں یا ہزاروں سامعین میں کوئی ایک یا کتنے ایسے ہوں گے جو اپنی زندگی کے اس مرحلے میں ہوں جو مکافات عمل ہی بھگت رہے ہوں، اس کے مجمع میں کوئی ایک ایسا ہو جو شعور اور احساس ہی کی نہج پر کھڑا ہو، اپنے اصلاحی سفر کی طرف گامزن ہوں اور مقرر کے اقوال زریں سن کر وہیں رک جائے کہ اگر یہ میری سزا نہیں تو پھر یہ کیا ہے۔ اگر مکافات عمل نہ ہو تو پھر شاید ہر کوئی ایک دوسرے سے زیادتی کرے، اپنی اپنی حدوں سے تجاوز کرے کہ دنیا میں تو ہمیں کوئی روک نہیں سکتا یعنی وہاں پر موجود ظالم کو مزید شہ ملے گی اور مظلوم پہلے سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرے گا، اتنا کہ شاید وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔

لہذا کسی انفلوئنسر یا تحریکی خطیب کو سنتے وقت آپ کو بہت باریک بینی سے ہر چیز کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی کے فلسفے یا نظریے کو اپنے اور اللہ کے تعلق پر حاوی نہ ہونے دیں۔

بلکہ کسی کی بات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کی بجائے اپنے حالات و واقعات کا جائزہ لیں اور کسی کے انداز خیال کو یہ سوچ کر رد یا قبول نہ کریں کہ بیان کرنے والا کون ہے ہمیشہ یہ دیکھیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس کے بیان کردہ حقائق آپ کی موجودہ زندگی سے کس حد میل کھاتے ہیں۔

اگر آپ ان برانڈڈ حضرات کی خوبیٔ گفتار سے متاثر ہونے کی بجائے اپنے گھر کے کسی بڑے شخص یعنی بزرگ کے ساتھ بھی تھوڑا وقت گزار لیں تو سو پچاس میں سے چار گر کی باتیں تو وہ آپ کو ضرور بتائیں گے۔ بس آپ کے غور کرنے کی دیر ہے۔ اگر آپ کسی انتہائی ذاتی نوعیت کی پریشانی سے بھی گزر رہے ہیں تو گھر کے کسی ایک فرد سے کم از کم ضرور بات کریں یا کسی دوست کو اعتماد میں لیں۔

مذکورہ بالا نکات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر اسکالر یا اصلاحی خطیب دھوکے باز یا جعلی ہے۔ تیس یا فیصد اپنے پیشے یا مقصد سے مخلص ہوں گے اور لوگوں کے کام آتے ہوں گے ، مگر باقی ستر فیصد کا تعین بھی ہمیں ہی کرنا ہے۔ چاہے وہ روحانی معالج ہو یا معاشرتی و انفرادی اصلاحی مقرر۔ کوئی بھی مکمل طور پر درست یا غلط نہیں ہوتا بالکل اسی طرح جس طرح عام انسان مکمل طور پر گنہگار یا پرہیزگار نہیں ہوتا۔

مقصد تحریر یہ ہے ایک یا دو گھنٹے کی تقریر سننے سے زندگی نہیں بدلتی۔ زندگی عمل سے بدلتی ہے اور عمل سوچ سے۔ مگر یہ تبدیلیاں لمحاتی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے قوت اور غور و فکر درکار ہے، تجربات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ہر انسان کے روحانی ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔

Facebook Comments HS