EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈرم سرکل: امریکہ کا موسیقار قبیلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی قوم موسیقی کی بڑی دلدادہ ہے۔ امریکہ کے موسیقاروں نے دنیائے موسیقی میں نئے رجحان متعارف کروائے۔ امریکہ کے کئی گلوکار آج بھی لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن کر دھڑکتے ہیں۔ امریکہ والوں کی میوزک سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر امریکی شہری کے گھر میں بجانے کو کوئی نہ کوئی، چھوٹا بڑا ساز یا سازینہ ضرور موجود رہتا ہے۔ چاہے وہ گیٹار ہو، ڈرم سیٹ ہو، افریقی ڈھول ڈی جنبے ہو، بانسری یا پھر شمالی یا جنوبی امریکہ کے روایتی آلات موسیقی ہوں۔

امریکہ کے سکولوں میں میوزک کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں اور موسیقی کے آلات سکھانے کے لیے ایک ماہر استاد کی خدمات بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ سائنسی بنیادوں پر استوار ہونے والے امریکی معاشرے میں موسیقی کا اس قدر لگاؤ بھلا محسوس ہوتا ہے۔ شاید یہ میوزک سے لگاؤ کا کمال ہے جس نے امریکہ کے لوگوں کو سنبھال رکھا ہے ورنہ تو اتنی تیز اور مشینی زندگی میں ایک انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر پاگل ہی ہو جائے۔

امریکہ میں جہاں بہت سی میوزیکل سوسائٹیز متحرک ہیں اور ماڈرن میوزک کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں وہاں موسیقی کی ایک قدیم روایت پر عمل پیرا ہونے والا قبیلہ بھی موجود ہے۔ آپ اسے امریکہ کا موسیقار قبیلہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ لوگ قبائلی طرز زندگی کی طرح آپس میں جڑے ہوتے ہیں مگر ان میں ہر ایک اپنے عمل میں آزاد ہوتا ہے۔ اس قبیل کے لوگ، امریکہ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں پھیلے ہوئے ہیں، وہ ہفتے میں ایک مرتبہ، کسی شام یا ٹھنڈی دھوپ والے دن، مل کر، موسیقی کی محفل کی ایک رسم ادا کرتے ہیں جسے امریکہ میں ڈرم سرکل کہا جا تا ہے۔

ڈرم سرکل، موسیقی کی ایک ایسی محفل کا نام ہے جس میں شامل ہونے والے تمام موسیقار، ایک دائرے کی شکل میں بیٹھتے ہیں اور اپنے اپنے ڈرم بجاتے ہیں۔ ڈرم سرکل، موسیقی کی ایک ایسی کھلی محفل ہوتی ہے جہاں سب کو شامل ہونے اور اظہار کرنے کی اجازت حاصل ہوتی ہے۔ وہاں کوئی چھوٹا، کوئی بڑا نہیں ہوتا۔ کسی قسم کی جنسی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ ڈرم سرکل میں شامل ہونے والے اکثر لوگ اپنا کوئی نہ کوئی آلہ موسیقی ساتھ لاتے ہیں۔ سب حاضرین ایک دائرے میں بیٹھتے ہیں اور یہ دائرہ ہی ان سب کی برابری اور مساوات کا نشان ہے۔ اس دائرے سے باہر بیٹھنے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن پھر بھی برداشت کیا جاتا ہے۔

ڈرم سرکلز میں ہر نئے آنے والے کو پر تپاک انداز میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ موسیقی کی محفل میں اس کے عملی طور پر شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی تماش بین بن کر نہیں آتا بلکہ ہر آنے والا شامل محفل رہتا ہے اور دوسروں کے لیے خوشی کا سبب بنتا ہے۔ اس موسیقار قبیلے کے لوگ اتنے فراخ دل اور اعلیٰ ظرف رکھنے والے ہوتے ہیں کہ وہ نئے سیکھنے والے کے ڈھول کی بے سری تاپ پر بھی اپنا سر دھنتے ہیں۔ ایسے ہی، جیسے ایک بے وزن شعر کہنے والے شاعر کی حوصلہ افزائی کے لیے واہ واہ کہا جائے۔ اگرچہ بعض اساتذہ کی محفل میں نوجوان شعرا ءکو زبانی طور پر داد تو دی جاتی ہے لیکن زیر لب مسکرا کر ان کی بے پر کی بھی اڑائی جاتی ہے۔ لیکن اس موسیقار قبیلے کی روایات میں یہ بات شامل نہیں۔ وہاں سب کا احترام مقدم رکھا جاتا ہے۔

ڈرم سرکل کا دن، اس موسیقار قبیلے کے لیے ایک تہوار کے دن جیسا ہو تا ہے۔ وہ تہوار جس کا لمبے عرصے تک انتظار کیا جائے۔ ڈرم سرکل والے دن کو عید کے دن جیسا سمجھا جا تا ہے، خوب تیار ہو کر دوسروں کے سامنے آنا، اپنا ڈھول یا چھوٹی ڈھولک، کوئی دف یا کوئی جھنجھنا لے کر میدان میں اترنا، دائرے کی پہلی صف میں جگہ حاصل کرنے کوشش کرنا۔ ماہر ڈھولچیوں کے قریب جگہ حاصل کر نے کی سعی کرنا۔ ڈرم سرکل میں شامل ہر ایک انسان کا رخ ایک دوسرے کی جانب ہو تا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے اپنی آنکھیں ملا سکتا ہے۔ یہاں آنکھوں کے اشاروں کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے اور انہی اشاروں کو دیکھ کر ہی اپنی تال بدلی جاتی ہے یا دوسروں سے اپنی لے ملائی جاتی ہے۔

ڈرم سرکل کے لیے بنایا گیا دائرہ ہی سب کے کھیلنے کا میدان ہوتا ہے۔ جہاں ماہر کھلاڑیوں اور اناڑیوں کو اپنی اپنی کار کردگی دکھانے کے لیے ایک ساتھ آزاد چھوڑ دیا جا تا ہے۔ آزادی سے مراد شتر بے مہار نہیں بلکہ یہاں سب کھیل کے ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں۔ جمہوری طرز پر بنائے گئے وہ ضوابط، جو ہماری حدود کا تعین کرتے ہیں، اپنے آپ پر لگائی گئی کچھ پا بندیاں، وہ پابندی جو ہم خود اپنی ذات پر نافذ کرتے ہیں۔ ایسا ہی ڈرم سرکل میں ہوتا ہے وہاں دوسروں کو سننا پہلی شرط طے پاتی ہے۔ دوسروں کو سن کر اپنی سر یا تال کا آغاز کرنا اور پھر سب کے ساتھ مل کر ایک ردھم، ایک لے پیدا کرنا۔ وہ لے جو سب کو آپس میں جوڑتی ہے اور یہی ڈرم سرکل کا بنیادی مقصد ہوتا ہے کہ انسانوں کو موسیقی کے ذریعے آپس میں جوڑے رکھنا۔

ڈرم سرکل میں ڈھول کی تاپ کا آغاز ہارٹ بیٹ کی طرز پر ہوتا ہے یعنی دل کے دھڑکنے کی طرز پر۔ سب کو باور کروایا جاتا ہے کہ انسان کو سنائی دینے والی پہلی آواز ماں کے دل کی دھڑکن ہوتی ہے اور کسی بھی انسان کے دل کی دھڑکن بہترین موسیقی کا نمونہ ہے۔ اگر یہ دھڑکن بے ربط ہو جائے تو زندگی کی ڈور ٹوٹ جاتی ہے۔ یہی وہ پہلا درس ہوتا ہے جو ڈرم سرکل میں سکھا یا جاتا ہے۔ دوسروں کو سننا ڈرم سرکل کی اولین شرائط میں سے ہے۔

ڈرم سرکلز میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ماہر اور پیشہ ور ڈھولچی کو اپنی سطح سے نیچے آ کر کسی بچونگڑے کی تال میں اپنی تال ملانا پڑتی ہے۔ شاید اسی لیے تو بچے ڈرم سرکل میں بہت خوش نظر آتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں اپنا اظہار کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے گا بجا سکتے ہیں۔ اپنے بڑوں کو ایک ساتھ خوش دیکھ کر ان کی خوشی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈرم سرکل کے دوران کبھی کبھی بچے دائرہ توڑ کر ادھر ادھر بھاگ جاتے ہیں لیکن جلد ہی دائرہ انہیں اپنے حصار میں واپس لے آتا ہے۔

ڈرم سرکل کا انعقاد کرنے والے موسیقار قبیلے کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔ افریقہ کے صحراوں سے شروع ہونے والی یہ رسم بہت قدیم ہے۔ اس کے ماننے والوں اور ان کی نسل کے بیج دنیا کے ہر ملک اور کونے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ انسانی تعصبات کی ہر سطح سے بالا تر ہوتے ہیں۔ ڈرم سرکل کی روایت، انسانی تہذیب کے ابتدائی دنوں میں ہی مستحکم ہو گئی تھی۔ انسانی تہذیب کے ارتقا ء کے وہ دن جب انسان نے ابھی بولنا نہیں سیکھا تھا۔

اس وقت انسانوں کے درمیان ابلاغ کا ذریعہ ہاتھ، آنکھ، سر یا پاؤں کے اشاروں کے ساتھ ساتھ ان کے میٹھے اور تلخ لہجے بھی ہوتے ہوں گے۔ لہجوں کی وہ آواز جو بظاہر لایعنی لگتی ہے لیکن لہجے کا مطلب ہر کوئی سمجھ لیتا ہے۔ وہ مخصوص آواز جو ماں اپنے بچے کو سہلاتے وقت نکالتی ہے جسے لوری سنانا کہتے ہیں، وہ لہجہ جس کا اظہار ایک باپ اپنے بچوں کو ڈرانے کے لیے کرتا ہے اسے غصہ دکھانے کا نام دیا گیا۔

موسیقار قبیلے اور ان کے ڈرم سرکلز کی محفلوں میں، آلات موسیقی کی لے اور ان کی آواز کے زیرو بم کو اپنے اظہار اور دوسرے سے بات کرنے کا ذریعہ بنا یا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو ڈرم سرکل میں اپنے پورے جسم کو اپنی ذات کے اظہار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ کچھ شرکاء جوش میں آ کر ڈھول کی تھاپ پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسے پنجابی میں دھمال بھی کہتے ہیں لیکن دھمال اور ڈرم سرکل میں فرق یہ ہے کہ دھمال میں ایک آدھ ڈھول بجانے والا یا اس کی تاپ پر ناچنے والا ہوتا ہے اور باقی سب تماش بین۔ لیکن ڈرم سرکل میں سبھی بجاتے، گاتے اور ناچتے ہیں۔ وہاں سب شامل حال رہتے ہیں اور تماش بین نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

موسیقار قبیلوں کے کلاسیکل گھرانوں میں اکثر اپنے بچوں کو موسیقی کا فن سکھا یا جا تا ہے۔ وہ بچے اپنے ماں باپ کی نقل کر کے بڑے گلوکار یا موسیقار بنتے ہیں۔ فن موسیقی کو گھر کی دیواروں کے اندر بند رکھا جا تا ہے۔ شاید یہ قبیح رسم بھی آریائی قوم نے ہندوستان میں متعارف کروائی کہ تقدس کے نام پر علم کو محدود کر دو۔ مگر ڈرم سرکل کی محفلوں میں اپنے فن کے اظہار کا کھل کر موقع دیا جاتا ہے۔ سب کو موسیقی سے لطف اندوز ہونے اور سیکھنے کے لیے ایک دوستانہ ماحول فراہم کیا جا تا ہے۔ اس موسیقار قبیلہ کی محفلوں کے آداب پہلے سے متعین کر لیے جاتے ہیں۔ کوئی کسی کا ڈرم نہیں بجا سکتا مگر اس کے مالک کی اجازت سے۔ دائرے کے مرکز میں رکھے گئے آلات موسیقی، سب کے استعمال کے لیے یکساں میسر ہوتے ہیں۔ وہاں سب کا احترام ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہو تا ہے۔

موسیقار قبیلے کی ڈرم سرکل والی روایت کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری خوبصورت دنیا میں بسنے والے سات ارب انسانوں کے درمیان رابطے کا ایک ذریعہ نکالا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی برابری کا درس سیکھنے اور ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کے لیے موسیقی کو ایک وسیلہ بنایا جا سکتا ہے۔ موسیقی بجا طور پر روح کی غذا کہلاتی ہے اور اپنی آفاقی زبان رکھتی ہے۔ اس کی مدد سے انسانوں کے درمیان مستحکم ابلاغ کے لیے ترجمے کی زحمت اٹھا نے سے بھی بچا جا سکتا ہے۔

مختلف زبانیں بولنے اور ثقافتی پس منظر رکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکتا ہے۔ ہر رنگ، ہر نسل اور عمر کے لوگ ایک مقام پر جمع ہو سکتے ہیں۔ ایسی جگہ جہاں ڈرم سرکل کے دائرے کی طرح سب کو برابر سمجھا جائے۔ سب کو اپنی ذات کے اظہار کا موقع ملے اور پھر اپنے وجود اور شناخت کو قائم رکھتے ہوئے ہم سب انسانیت کے بڑے دائرے میں شامل ہو جائیں۔

ڈرم سرکل کا قدیم تصور ایک ایسا سوشل پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں انسانوں کو ایک آفاقی تعلق سے آپس میں جوڑا جا سکے۔ وہ رابطہ اور رشتہ جو ڈرم سرکل کے دوران نظر آتا ہے جب مختلف قسم کی آوازیں، ہر قسم کا شور، ہر طرح کی بولی، ایک ہو جاتی ہے۔ جب ڈرم سرکل اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو ایسا معلوم ہو تا ہے کہ کل کائنات بس ایک ہی آواز میں گم ہے۔ جیسے ”اللہ ہو“ کرنے والوں کی محفل میں ہوتا ہے۔ ان کی محفل میں جب وجد کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب سب کی ”ہو“ کی آواز ایک ہو جاتی ہے۔ گویا ہر شے میں ”ہو ہو“ کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔

ڈرم سرکل اور ”اللہ ہو“ والوں کی محافل میں ایک بنیادی فرق ہے۔ ”اللہ ہو“ والوں کی محفل میں ایک انسان باقی شرکائے محفل کی نسبت اعلٰی درجے پر فائض نظر آتا ہے جسے عرف عام میں شیخ یا مرشد کہتے ہیں۔ وہاں مرشد کی مرضی اور اجازت چلتی ہے لیکن موسیقار قبیلے کی محفلوں میں سب اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ وہاں رہنما کی حیثیت بس ایک سہولت کار کی سی ہوتی ہے جو محفل میں سب کے درمیان ربط قائم رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کر تا ہے۔

ڈرم سرکل کو براعظم افریقہ میں اب بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ وہاں موسیقی کے اس منفرد طریقے کو روحانی ترقی اور ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن امریکہ میں موسیقار قبیلے کو اپنی روایت کو آگے بڑھانے میں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ یہاں ڈیجٹل دور میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کی وجہ سے ڈرم سرکل جیسی محفلوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ لوگوں نے اپنا فارغ وقت گزارنے کے لیے کئی اور مصروفیات ڈھونڈ لی ہیں۔ ڈرم سرکل کا اہتمام کرنے والے کئی سہولت کاروں نے لوگوں کے رویے سے مایوس ہو کر گو شہ نشینی اختیار کر لی ہے۔ ڈرم سرکل کی رسم ترک کرنے والوں میں ایک نام امریکی نوجوان سٹیو کا بھی ہے۔

امریکہ میں موسیقار قبیلے سے تعلق رکھنے والے مسٹر سٹیو کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے جو اپنی جوانی میں ہی اپنے قبیلے کا ایک سردار بن چکا تھا۔ وہ موسیقار قبیلے کے رسم و رواج کی پابندی کر تا تھا۔ ڈرم سرکل کی سرگرمیوں کا اہتمام کر تا اور وہ اپنے قبیلے کے سب لوگوں، چھوٹے بڑوں، مردو زن، جوان اور بوڑھے، گورے اور کالے، سبھی کو اپنے ڈرم سرکل میں آنے کی دعوت عام دیتا۔ سب لوگ اسے اپنا دوست اور رہنما مانتے۔ ہر ایک اس کی سجائی محفل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا لیکن زمانے نے اسے وہ دن بھی دکھایا جب اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں تنگ آ کر آہستہ آہستہ لوگوں نے اس کے ڈرم سر کل میں آنا چھوڑ دیا۔ جلد ہی موسیقار قبیلے کا یہ نوجوان سردار اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرنے لگا۔ وہ کب تک نقار خانے میں اکیلا بیٹھ کر اپنے افریقی ڈھول کو پیٹتا رہتا اور لوگوں کو مل بیٹھنے کی طرف بلاتا۔

لوگوں کے رویوں سے تنگ آ کر آخر کار امریکی موسیقار قبیلے کے اس نوجوان سردار نے اپنے قبیلے کی روایت کو ترک کر دیا۔ اس نے ڈرم سرکل کا اہتمام کر نا چھوڑ کر پہلے پہل مسافرت کی زندگی اختیار کر لی اور پھر ایک کامیاب کاروباری شخص بن گیا۔ اب وہ اپنے قبیلے کی محفلوں کے آداب کا پابند نہیں رہا۔ اب وہ اپنی ذات کو ڈرم سرکل جیسے دائرے میں محدود نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ اب وہ آزاد تھا۔ اس نے جدید میوزک کی کمپوزنگ کے لیے اپنی ایک کمپنی کھول لی جہاں صرف محدود اور خاص مہارت رکھنے والے لوگوں کو کام کرنے کی اجازت تھی۔ اس نے اپنے قبیلے کی روایت کو توڑ ڈالا۔ وہ اپنی سر داری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے قبیلے کے لوگوں نے بھی اب اسے غیر سمجھنا شروع کر دیا اور پھر اپنے موسیقار قبیلے میں اس کا طوطی بولنا بند ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے