EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

حافظ سعید کے گھر کے قریب بم حملہ: ایف اے ٹی ایف اجلاس کے موقع پر ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ پر حملے کی کوشش، معاملہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفتیشی ذرائع نے صحافی شاہد اسلم کو بتایا کہ حملہ آور کا شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتا لگایا گیا اور ان کی گاڑی موٹروے سے لاہور داخل ہونے سے لے کر جائے وقوعہ پر کھڑی کرنے تک کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز صبح 11 بجے کے قریب ایک کار بم حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم تین افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی ہوئے، اس بم حملے کی تفتیش کی ذمہ داری پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کو سونپی گئی ہے۔

حملے میں مبینہ طور پر ملوث شخص کی شناخت ہونے کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے لاہور ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ کراچی کی پرواز پر سوار ہونے جا رہا تھا۔

اب تک کسی تنظیم کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ تاہم دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جسے ٹائمڈ ڈیوائس کے ذریعے اڑا دیا گیا۔

اس خبر پر سرکاری موقف جاننے کے لیے پنجاب کے وزیر قانون، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) اور پنجاب پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی سہیل سکھیرا سے رابطہ کیا گیا تاہم اُن کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

لاہور

Getty Images

گاڑی کی ملکیت

تفتیشی ٹیموں کو بدھ کے روز ہونے والے دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور ان افراد کا سراغ ملا ہے جن کے استعمال میں یہ گاڑی ماضی میں رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی چھ سے سات مختلف افراد نے ’اوپن لیٹر‘ پر حاصل کی اس لیے سرکاری طور پر اس کی ملکیت اب بھی پہلے مالک کے نام ہے کیونکہ جن لوگوں کے زیر استعمال یہ گاڑی رہی انھوں نے اس کو باقاعدہ اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروایا۔

سی ٹی ڈی کے تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی کے پہلے مالک کا تعلق حافظ آباد سے ہے جبکہ یہ 2009 سے اب تک جن لوگوں کی ملکیت میں رہی ہے ان میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور ایک وکیل بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق انھپیں معلوم ہوا ہے کہ گاڑی کے آخری مالک نے اسے دو روز قبل حملہ آور کے حوالے کیا تھا۔

گاڑی کا سراغ شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملا۔ سیف سٹی اتھارٹی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی ’موٹروے کے ذریعے بابو صابو انٹر چینج سے بدھ کی صبح 9:40 پر لاہور میں داخل ہوئی جسے سیف سٹی کے مختلف کیمروں میں جوہر ٹاؤن کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔‘

حکام کے مطابق گاڑی کو پہلے ڈاکٹرز ہسپتال تک جاتے دیکھا جاتا ہے اور پھر وہاں سے واپس مڑ کر وہ مولانا شوکت علی روڈ پر واقع سوسائٹی میں حافظ سعید کے گھر کے قریب جاتی نظر آتی ہے۔

جائے وقوعہ

BBC

کیا حملہ آور اس سے آگے جا ہی نہیں سکتا تھا؟

بورڈ آف ریونیو سوسائٹی، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ محمد سعید کا یہ گھر تقریبا 15 سال قبل تعمیر ہوا تھا اور وہاں تک جانے کے لیے تین مختلف راستے یا گلیاں ہیں جہاں پر پولیس اور ان کے اپنے سکیورٹی اہلکار مسلسل تعینات ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق حافظ سعید کے گھر تک جانے والی مرکزی گلی میں دو پولیس چیک پوسٹیں ہیں جن میں سے ایک بالکل حافظ سعید کے گھر کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ ان کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر لگی پہلی چیک پوسٹ کے قریب ہوا کیونکہ ڈرائیور گاڑی اس سے آگے لے جا ہی نہیں سکتا تھا۔

ان کے مطابق ’جہاں دھماکہ ہوا وہاں اور حافظ سعید کے گھر کے درمیان محض 100 سے 150 میٹر کا فاصلہ ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ٹکرے 500 میٹر دور تک سے ملے، جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


ہماری نامہ نگار نے کیا دیکھا؟

ترہب اصغر، بی بی سی اردو، لاہور

بدھ کو جب دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی تو غیر معمولی اقدامات دیکھنے کو ملے۔ میں نے اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات کی کوریج کی ہے لیکن اس دن ماحول کچھ الگ ہی تھا۔

جب میں بورڈ آف ریوینیو سوسائٹی پہنچی تو دیکھا کہ وہاں کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کی بھی سختی سے چیکنگ کی جا رہی ہے۔

میں نے ایک پولیس افسر سے پوچھا کہ خیریت تو ہے، صحافیوں کے لیے بھی اتنی سختی؟’

وہ بولے ‘میڈیم، حافظ سعید بھی تو ہیں۔۔۔ سمجھا کریں۔’

اگرچہ یہ جگہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر واقع ہے تاہم یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔ اس کے آس پاس مارکیٹیں بھی موجود ہیں۔

لیکن حافظ سعید کے گھر کو جانے والے تینوں راستے مکمل طور پر بند تھے۔ سی ٹی ڈی، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری وہاں موجود تھی اور شامیانے لگا کر گلیوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔ ہمیں جائے وقوعہ تک رسائی تو حاصل تھی لیکن رپورٹرز کو سو میڑ کے فاصلے پر موجود حافظ سعید کے گھر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سوسائٹی کے داخلی راستے

BBC

ایسے اقدامات عموماً جائے وقوعہ پر شواہد کی حفاظت کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں تاہم اس کے برعکس بدھ کو دھماکے کی جگہ پر کچھ آمد و رفت جاری تھی۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے طنزیہ انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ حافظ صاحب کے گھر کی گلی کو تو ایسے بند کیا گیا ہے جیسے وہ واقعی ہی اپنے گھر میں موجود ہوں۔

حافظ سعید کے گھر کے باہر جماعت الدعوة کے سیکورٹی رضاکار بھی موجود تھے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ گھر میں خیریت تو ہے، حافظ صاحب اور گھر والے اور ان کا گھر تو محفوظ ہیں اور کہیں زیادہ نقصان تو نہیں ہوا؟

جواباً کہا گیا کہ ’سب ٹھیک ہے اور کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔۔۔ یہ تو معمولی سا دھماکہ تھا۔‘

جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی نے حافظ سعید کا نام لیے بغیر اس بات کی تصدیق کی کہ دھماکے کے مقام کے قریب ایک ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ یعنی ایک اہم ہدف کا گھر موجود تھا اور اس کارروائی میں بیرونی ہاتھ نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی دشمن ملک کی ایجنسیاں ایسی کاروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔


کیا حافظ سعید ‘ہائی ویلیو ٹارگٹ’ ہیں؟

یاد رہے کہ حافظ سعید اس وقت جیل میں مختلف مقدمات میں سزا بھگت رہے ہیں جن میں دہشت گردی سمیت دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات شامل ہیں۔

انڈیا حافظ سعید پر 2008 کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ ان حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حافظ سعید کئی برسوں سے انڈیا کو مطلوب ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا گیا جبکہ اس سے پہلے انھیں ان کے گھر میں نظر بند اور واچ لسٹ پر بھی ڈالا جا چکا ہے۔

حافظ سعید

Getty Images

اطلاعات کے مطابق جیل میں بھی حافظ سعید کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اداروں کی جانب سے غیر معمولی اقدمات لیے گئے ہیں جبکہ ان کے اور ان کے قریبی ساتھیوں کو یہ ہدایات بھی ہیں کہ وہ سمارٹ فون رکھنے یا ساتھ لے جانے سے گریز کریں۔

عموماۙ جب بھی ایسا کوئی معاملہ ہوتا ہے تو سکیورٹی ادارے ایسے شخص کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیتے ہیں۔ تاہم جیل کے ریکارڈ کے مطابق حافظ سعید کوٹ لکھپت جیل میں ہی موجود ہیں۔

عام طور پر جب بھی کسی مجرم یا ملزم کے لیے کسی گھر کو سب جیل ڈکلیئر کیا جاتا ہے تو متعلقہ صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ باقاعدہ اس کا نوٹیفیکیشن جاری کرتا ہے۔

اس سے قبل 2019 میں بھی ان کے بیٹے طلحہ سعید پر لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایف اے ٹی ایف اجلاس: پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے میں کیا انڈیا ایک رکاوٹ ہے؟

حافظ سعید کے خلاف مقدمات: عالمی دباؤ یا پالیسی میں تبدیلی؟

حافظ سعید کو ’کالعدم تنظیم کے لیے فنڈ اکھٹے کرنے‘ پر مزید سزا

آج کا ایف اے ٹی ایف اجلاس

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ حافظ سعید کی گرفتاری بین الاقوامی دباؤ کے باعث اور پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی ایک کوشش کے تحت کی گئی ہے کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔

2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات لینے میں ناکام رہے ہوں۔

پاکستان اس سے پہلے 2012 سے 2015 تک اس فہرست میں شامل تھا اور اب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کوششیں جاری ہیں جن کا نتیجہ 25 جون کو متوقع ہے۔

جمعہ کو ایف اے ٹی ایف کے پلینیری اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا چاہیے یا نہیں۔

فروری میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو تین اہم ترین سفارشات پوری کرنے پر زور دیا گیا تھا، جن میں دہشت گردوں کو سزا، ان معاملات کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔

ادارے نے پاکستان سے دہشت گردوں کی مالی معاونت پر پابندی کے قانون کے اطلاق کا ثبوت بھی مانگا تھا جس کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت نے مئی میں رپورٹ جمع کی جس میں 12 دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات موجود تھیں۔

اس وقت جاری اجلاس پاکستان کے لیے خاصا اہم ہے کیونکہ امید کی جا رہی ہے کہ چونکہ زیادہ تر سفارشات پر عمل درآمد ہو چکا ہے اس لیے پاکستان سے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ ختم کر دیا جائے گا۔

تو کیا حافظ سعید کی رہائش گاہ پر حملہ انھیں خبروں میں واپس لانے کی کوشش تھی یا کسی بیرونی طاقت کا پاکستان کو پیغام؟ اس حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس بارے میں تمام تجزیے قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19934 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp