سبی میں شدت پسندوں کے حملے میں پانچ ایف سی اہلکار ہلاک، بلوچستان میں ایف سی پر بڑھتے حملوں کی وجوہات کیا ہیں؟


سیکورٹی فورسز
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں شدت پسندوں کے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دستے پر حملے کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سبی کے علاقے سنگن میں شدت پسندوں نے ایف سی کی پیٹرولنگ پارٹی کو نشانہ بنایا جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق ’فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گردوں کا بھی بھاری جانی و مالی نقصان ہوا جبکہ دہشت گردوں کے فرار کا راستہ روکنے اور گرفتاریوں کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں حوالدار ظفر علی خان، لانس نائیک ہدایت اللہ، لانس نائیک ناصر عباس، لانس نائیک بشیر احمد اور سپاہی نور اللہ شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ظفر علی خان، ہدایت اللہ اور نور اللہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ہے جبکہ ناصر عباس کا تعلق پنجاب کے شہر بھکر اور بشیر احمد کا تعلق نصیر آباد سے ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’چند عناصر دشمن انٹیلیجنس ایجنسیز کی مدد سے ایسے بزدلانہ حملے کر کے بلوچستان کے امن و خوشحالی کو سبوتاژ نہیں کر سکتے اور سکیورٹی فورسز جان کی قربانی دے کر دشمنوں کے عزائم ناکام بنائیں گے۔‘

خیال رہے کہ حالیہ چند ماہ میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار مارے گئے تھے۔ جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں ’سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے‘ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ افعانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے حملہ اُس وقت کیا جب ایف سی کے جوان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔ ’دہشت گردوں نے حملہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے مانزاکئی سیکٹر میں ایف سی پوسٹ پر کیا۔‘

سکیورٹی فورسز

یاد رہے کہ رواں برس اپریل کے آخر میں صوبہ بلوچستان میں افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ میں پاکستانی سرحدی فورسز نے افغان فوج کی ایک امریکی ساختہ ’ہم وی‘ گاڑی کو ایک جھڑپ کے دوران تحویل میں لے لیا تھا۔

بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 26 اپریل کو پاکستانی فورسز سرحد پر حسب معمول باڑ لگانے کے عمل میں مصروف تھیں کہ وہاں افغان فورسز نے موقع پر پہنچ کر سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

رواں برس 12 فروری کو خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے باجوڑ میں افغانستان کے اندر سے شدت پسندوں کی جانب سے داغے گئے راکٹوں کے باعث پانچ سالہ بچی ہلاک جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ برس 14 اکتوبر 2020 کو قبائلی علاقے باجوڑ میں پاکستان افغانستان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ‘سرحد پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ’ کے نتیجے میں پاکستان کی فوج کے ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرے زخمی ہو گئے تھے۔

اسی طرح 22 ستمبر 2020 کو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان لبریشن آرمی کب اور کیسے وجود میں آئی

پاک، افغان سرحد پر باڑ لگانے والی ٹیم پر فائرنگ، چار ایف سی اہلکار ہلاک: آئی ایس پی آر

بلوچستان: ہرنائی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، سات ہلاک

ان حملوں کے پیچھے بظاہر تحریک طالبان پاکستان کا ہاتھ ہے

پاکستان کی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ایف سی کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان ہے۔‘

ان کے مطابق ’انڈیا کا بھی مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان کی سرحدیں مشکلات میں رہیں۔‘

سیکورٹی فورسز

ان کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایک بدنظمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے ساتھ سخت زیادتیاں ہوئیں ہیں جس کے نتیجے میں اب ایسے اندرونی عناصر بھی پیدا ہو گئے ہیں کہ جو ایسے عزائم کو مدد فراہم کرتے ہیں۔‘

سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسود کے مطابق افغانستان کی صورتحال خود اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اب وہاں خانہ جنگی بڑھ رہی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔

انھوں نے تجویز دی کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنے اہلکاروں کو مسلح کرنا ہو گا، سرحدوں کو محفوظ بنانا ہو گا اور سرحد کے اُس طرف سے آنے والوں پر کڑی انٹیلیجنس اور نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp