تخلیقی تخریب اور مذہبی مدارس

اسی اصول کو سماج کے مختلف اداروں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ غلامی ایک دور میں سماج کا ناگزیر ادارہ تھا مگر جب مشینوں نے انسانوں کا کام سنبھالا تو اس کی ضرورت باقی نہ رہی اور پوری دنیا سے یہ ادارہ مٹ گیا۔
اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیں تو دو ادارے ماضی کا قصہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک قبائلی یا جاگیرداری نظام اور دوسرے مذہب سے جڑے ادارے۔
جاگیرداری کا متبادل سرمایہ داری کی صورت میں سامنے آیا ہے جبکہ مذہبی اداروں کا متبادل تخصیصی علوم کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
مذہبی ادارے ماضی میں فرد اور سماج سے جڑے تمام سوالات کے جواب مہیا کرتے رہے ہیں۔ لیکن جدید علوم نے ایک ایک کر کے ان کے ہاتھ سے زیادہ تر شعبے چھین لیے ہیں۔
نفسیات، معاشیات، عمرانیات، سیاسیات، فلسفہ، تاریخ اور دیگر علوم پر ماضی میں مذہبی اداروں کی اجارہ داری رہی ہے۔ اب یہ سیکولر تخصیصی علوم کی صورت میں اپنا الگ مقام حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے مشاہدے اور تجزیے کے ذریعے نتائج پر پہنچتے ہیں۔ کسی مذہبی کتب کا حوالہ انہیں اپنے دائرے میں مقید نہیں رکھ سکتا۔
مسلمان معاشروں میں پاکٹس کی صورت میں قبائلی اور جاگیرداری نظام موجود ہے۔ جہاں بھی اس فرسودہ ادارہ قائم ہے وہاں تاریخ کی تخریبی قوتیں بھی کارفرما ہیں۔
مشرق وسطیٰ، افغانستان، افریقہ کے کئی اہم ممالک اور پاکستان کا قبائلی علاقہ اس کی واضح مثالیں ہیں جو ایک طویل تخریبی عمل سے یا تو گزر چکے ہیں یا پھر ابھی تک گزر رہے ہیں۔ جب تک اس نظام کو سرمایہ دارانہ نظام میں پوری طرح نہیں بدل دیا جاتا، اس وقت تک یہاں مسائل سلگتے رہیں گے۔
مذہبی اداروں کی بھی یہی صورتحال ہے۔ ہمارے مدارس ہوں، اخوان المسلمون کی فکر ہو، مولانا مودودی کے نظریات ہوں یا جاوید احمد غامدی کے اجتہادات، یہ تمام تاریخی عمل کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ مدارس سے لے کر جدید اسلامی مفکرین فرد اور سماج سے جڑے ہر مسئلے پر رائے دے رہے ہیں۔ وہ علم سیاست پر بھی رائے زنی کرتے ہیں، معیشت میں بھی مہارت دکھاتے ہیں، نفسیات پر بھی بات کرتے ہیں، عمرانیات سے جڑے تمام موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں اور فلسفے کو بھی رد کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا۔
ابھی تک مسلمانوں کے کلچر میں تخصیصی علوم کا رجحان جنم نہیں لے سکا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پوری دنیا میں سماجی علوم کے ماہرین جنم لے رہے ہیں اور نت نئے نظریات پیش کر رہے ہیں، وہاں مسلمانوں کا دامن اس سے خالی ہے۔
تاریخی عمل سے نابلد اور اس کے یکسر مخالف سمت میں چلنے والے یہ ادارے اگر اپنی اصلاح نہیں کرتے تو ان کا متروک ہو جانا نوشتہ دیوار ہے۔
جس طرح قبائلی اور جاگیرداری نظام پر مبنی معاشرے جنگ و جدل یا انتشار کی کیفیت سے گزر رہے ہیں، اسی طرح مدارس میں بھی تخریب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
یہ جو ویڈیوز کا معاملہ سامنے آیا ہے، یہ اسی تخریبی عمل کی ایک نشانی ہے۔ ابھی مزید تخریب سامنے آئے گی۔ جس مسلمان معاشرے میں خوشحالی آئے گی، وہاں پر مدارس اجتماعی زندگی سے کٹ جائیں گے اور مغربی کلیسا کی طرح سماج پر ان کا اثر باقی نہیں رہے گا۔
ممکن ہے کہ بعض ممالک میں کچھ عرصہ یہ اپنی انتشار پھیلانے کی صلاحیت کے زور پر اہمیت برقرار رکھ سکیں لیکن آخرکار انہیں شکست ہی ہو گی۔
مدارس نے اپنی اہمیت قائم رکھنی ہے تو انہیں بھی تخصیصی مضامین کی طرف جانا ہو گا۔ مدرسے میں کوئی سیاسیات کا علم حاصل کر رہا ہو، کسی کی توجہ عمرانیات کی طرف ہو، کوئی معیشت کی طرف توجہ دے رہا ہو تو کسی کا شعبہ فلسفہ ہو۔
اس تخصیصی علم کے دوران انہیں تمام جدید نظریات سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی یہ ادارہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا۔
ہمیں تو کوئی امید نہیں کہ مدارس اس طرف راغب ہوں گے۔ بظاہر رومن کلیسا کی طرح انہوں نے بھی تاریخی قوتوں کے سامنے بند باندھنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ ان کا انجام بھی رومن کلیسا جیسا ہی ہو گا۔ تاہم اس عمل میں نئی نسل کو اسلام سے بھی دور کر بیٹھیں گے جیسا کہ مغرب میں ہو چکا ہے۔

