قیدی گدھا اور خشک ہوتی ہوئی قلم کی روشنائی


کوئی دو سال سے عوام کو پیچھے لگا کر جس انداز سے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے ان کو بیچ منجھدار چھوڑا اس سے ہمارے سیاسی نظام کے بودے پن اور سیاسی لیڈرشپ کے معمولی اہداف پر سمجھوتے اور کمزوریوں کا پتہ لگتا ہے۔ حکومت کرنے اور غریب عوام کے پیسے سے شاہانہ عیاشیاں کرنے کی خواہش ہر سیاستدان کو ہے لیکن عوام کی مصیبتوں کی خاطر جیل کی صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں۔ اگر کبھی عوام کو اپنے پیچھے لگا کر یہ جمہوریت گریز قوتوں کے خلاف پریشر بڑھا بھی دے تو اچانک اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور سہولیات کے بدلے میں ان کا اعتماد بیچ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔

ہمارے اکثر سیاسی لیڈران کے اپنے اندرونی تضادات اور کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے یہ بے حیثیت ہو کر بلیک میل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ صاف ستھرے کردار اور زندہ ضمیر کے مالک ہوتے تو ایک باچہ خان، ایک صمد خان ایک نیلسن منڈیلا بھی عشروں پر محیط جیلیں کاٹ کر کبھی بلیک میل نہیں ہوئے۔ جبکہ ان کے ساتھ تو لاکھوں پیروکار، جاگتا ہوا سوشل میڈیا اور عالمی سول سوسائٹی ہم قدم ہے۔ آج کون جانتا ہے ان ججوں جیل حکام پولیس افسران، حکومتی کارندوں اور مخالفین کو جنہوں نے مذکورہ رہنماؤں کو سزائیں اور تکالیف دیں؟ وہ خود اور ان کی اولادیں تاریخ کے سامنے اتنا شرمندہ ہیں کہ معاشرے میں بے نام رہنا پسند کرتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یہی جیلیں اور مصائب کاٹنے والے آج بھی حریت فکر اور مزاحمت کے استعارے ہیں۔

موجودہ حکومت جس طرح مانگے تانگے کی معمولی سی اکثریت پر کھڑی ہے اس کے کیا اوقات ہیں؟ لیکن دوسری طرف جو اس کے مخالفین ہیں جس کی سرخیل پی ڈی ایم ہے ان کی کیا اوقات ہیں، وہ احتجاجی تحریک چلانے والوں نے خوب ثابت کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی اور اے این پی نے ان سے الگ ہو کر جو حاصل کیا، وہ بھی محض کسی صوبے میں کچھ سیٹیں اور پرانے حریفوں اور حلیفوں کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کی ”یقین دہانی“ ہے۔ دوسری طرف مولانا صاحب اپنے ”باغیوں“ کو جیلوں میں ٹھونس کر نئی تاریخیں اور پرانی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ محمود خان اچکزئی، اپنے مرے ہوئے جرنیل کے جنازے میں کھڑے ہو کر ”گرمی“ کم ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں، جبکہ نون لیگ ایک دن حزب اختلاف تو دوسرے دن حزب اقتدار بن کر ڈبل رول میں اپنی سلطنت دولت اور چمڑی بچا رہی ہے۔ عوام، مہنگائی، بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن گئی بھاڑ میں۔

عمران خان اور اس کو لانے والے نئی صف بندیاں کر رہے ہیں۔ ایسٹبلشمنٹ پر بین الاقوامی بوجھ بڑھ جائے تو اس سے جان چھڑانے کی خاطر وہ فوراً ہمسایوں کے ساتھ تجارت شروع کرنے کی سمری پیش کر دیتی ہے اور دوسرے دن ”ایسٹبلشمنٹ مخالف حکومت“ وہی سمری ردی کی ٹوکری میں ڈال کر انہیں کہیں منہ دکھانے کی قابل نہیں چھوڑتی۔ ایسٹبلشمنٹ پر اپنے پرانے وعدوں اور اردوں تلے دب جائے اور چین کے ساتھ دوستی اور طالبان کے ساتھ پارٹنر شپ خطرے میں پڑتی نظر آئے تو امریکہ کے ساتھ مشرف دور کے معاہدے کو قابل عمل بنا کر اڈے دینے پر رضامندی کا اظہار کردے لیکن دوسرے دن ”باغی وزیراعظم“ ایسٹبلشمنٹ کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کھلم کھلا انکار کر کے ڈنکے کے چوٹ پر کہہ دے، ایبسولوٹلی ناٹ۔

قرائن بتا رہے ہیں کہ ایسٹبلشمنٹ اور حکومت لمبی اننگز کھیلنے کی تیاری میں ہیں۔ کیونکہ ایک سال پہلے حکومت اور ان کو لانے والے دونوں ”ولن“ تھے اور حزب اختلاف ہیرو کا کردار ادا کر رہی تھی، لیکن اب حزب اختلاف کو معمولی اور غیر اہم کرداروں کی صورت میں فلیش بیک میں گاہے بگاہے دکھایا جا رہا ہے۔ اور ایسٹبلشمنٹ حکومت کے ساتھ مل کر آپس میں ملٹی رول کردار ادا کرتی ہوئی کبھی ولن اور کبھی ہیرو کا کردار نبھا رہی ہیں۔ دونوں کے کرداروں میں بہت شیڈز ہیں۔ ملٹی شیڈز کردار لکھنے والے ماہر لکھاری بہت ورسٹائل اور شاندار اداکاروں کے لئے لکھتے ہیں، لمحہ لمحہ رنگ بدلتے موڈ بدلتے ہوئے مناظر، ناقابل تصور اختتامیے کی طرف بڑھتی کہانی، جس کو دیکھتے ہوئے ناظرین ٹینشن کے مارے سارے ناخن چبا ڈالتے ہیں۔

اگر حزب اختلاف جلد اپنے کرداروں پر نظر ثانی کرنے پر تیار نہیں ہوگی تو پھر پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں کی طرح ان کے کردار، ہدایت کار اور پروڈیوسر کی مرضی سے اچانک امریکہ بھیج دیے جا سکتے ہیں۔ (پی ٹی وی کے پرانے ڈراموں میں پروڈیوسر اداکار سے ناراض ہوجاتا تو اس کا کردار ختم کر کے اگلی قسط میں کسی کردار سے کھلوا دیتا کہ وہ امریکہ چلا گیا) ۔

بین الاقوامی حالات کے پیش نظر جو علاقائی صف بندیاں ہو رہی ہیں ان صف بندیوں کے لئے کے لئے ٹیم کی سلیکشن آخری مراحل میں ہے۔ ”ایٹمی اسلحے کی پیشکش“ بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بہترین انسینٹیو ہے۔ جس کی وجہ سے کشمیر پر فریقین کے درمیان کوئی قابل قبول ”حل“ عین متوقع ہے۔ جب بہت دفعہ نا نا نا کی تکرار کی جائے تو وہ آنا آنا آنا سنائی دینے لگتا ہے۔ امریکہ کو انکار کرنا ممکن ہی نہیں کیونکہ ہم ہمارے مالی مفادات ہمارے خاندان اور ہمارے بچوں کا مستقبل امریکہ کی دنیا میں محفوظ ہے، چین ہمیں مال و منال سے نوازے بھی تو نہ ماضی کے نواز شریف نہ مشرف اور نہ آج کے سول عسکری اور حکومتی کرتا دھرتا ریٹائرڈ ہو کر چین میں رہنے پر تیار ہیں۔

پرجنگ (purging) کے تطہیری عمل سے گزرنے کے بعد جو فیصلے کیے جائیں گے اس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے بعد ، بڑوں کے لئے بڑے عہدے اور بڑی تحفظ کا بندوبست کیا جائے گا۔ عہدوں میں توسیع کے مقاصد ایوب کے دور سے لے کر ضیاء مشرف اور کیانی تک ایک ہی تاریخ کی حامل ہیں، یعنی جمہوریت کی کم از کم دس سالہ لیز۔

آخر کیا مصیبت آئی تھی کہ شاندار کیریئر کا حامل ایک شخص لیڈ کرتے کرتے اچانک قطار کے اختتامی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو کر آگے بڑھنے سے انکار کردے؟

دو بوڑھے ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، ایک راہگیر نے ان سے قہقہے لگانے کی وجہ پوچھ لی۔ ایک بوڑھے نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے کہا: کہ پاکستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ ساری قوم ایک گدھے کے ساتھ جیل میں ڈال دی جائے۔ راہگیر نے حیرت سے پوچھا، کہ گدھے کو کیوں؟

اس پر پہلے بوڑھے نے دوسرے سے کہا، دیکھا، میں نہیں کہتا تھا کہ قوم کا خیال کسی کو نہیں سب کو گدھے کی فکر ہے۔

امریکی اڈوں کی خبر عام ہونے پر میں نے فیس بک وال پر پوسٹ لکھی کہ اصل خبر یہ نہیں کہ امریکہ کو اڈے مل رہے ہیں اصل خبر یہ ہے کہ ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر عوام کا حق حکمرانی چھین کر جمہوریت دس سالہ لیز پر دے دی جائے گی۔

یقین کریں جس طرح ہر کسی کو جیل میں جانے والی پوری قوم کی نہیں صرف گدھے کی فکر تھی اسی طرح ہر کسی کو سی پیک، چینی ناراضگی، چینی اجازت اور چینی مفادات کی فکر تھی۔ جمہوریت کی طرف توجہ دلانے پر بھی اچھے خاصے دانشوروں نے لکھا کہ یہاں پہلے کون سی جمہوریت تھی؟

شدید گرمی، بجلی کے اضافی پیداوار کے باوجود بدترین لوڈ شیڈنگ، بے پناہ حبس، تازہ ہوا کے بند ہونے کا خدشہ، حکومتی برداشت کی بند ہوتی ہوئی کھڑکی اور قلم کی خشک ہوتی ہوئی روشنائی کے باوجود اتنا کچھ لکھنا اور چھپنا غنیمت ہے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani