آخری آم یا آخری فصل
میں اس وقت ملتان کی بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے دس کلومیٹر دور بوسن ٹاؤن کی ایک یونین کونسل جھوک وینس میں آم کے باغ میں کھڑا ہوں یہ اس علاقے کے بڑے باغوں میں سی ایک ہے جس کا رقبہ کم از کم 50 ایکڑ سے زیادہ ہے چاروں اطراف میں سینکڑوں آم کے درخت ہیں جن میں سے بعض کی عمر ایک سو سال سے بھی زیادہ ہے۔ زیادہ تر آم ابھی درختوں پر ہی ہیں مگر مالی نے درخت پر سے نسبتاً چند پکے آم اتار کر ہمیں کھانے کے واسطے دیے ہیں جنھیں ٹیوب ویل سے نکلتے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔
دوسری جانب کھانا تیار کیا جا رہا ہے جس میں بیسن کی روٹی، آم کی چٹنی، چاٹی کی لسی اور اچار کے علاوہ بکرے کی کڑھائی بھی ہے جو یہیں کوئلوں پر بنائی گئی ہے۔ باغ میں ہمارے بیٹھنے کے لئے رنگین پایوں والی چارپائیاں جن پر بے حد رنگین اور خوشنما چادریں بچھائی گئی ہیں اور سرخ رنگ کے گول تکیے بھی بچھائے گئے ہیں ہماری استراحت کے لئے سامان مکمل فراہم کیا جا چکا ہے اور کھانے کے بعد ان توڑے گئے تازے تازے آموں سے ہماری تواضع کی جانی ہے، مگر ان سب سے پہلے میزبان کے اصرار پر ہمیں قریب بہتی چھوٹی سی نہر میں نہانا بھی ہے جس میں شدید ٹھنڈا پانی اپنی مکمل روانی کے ساتھ بہہ رہا ہے اور گرمی کے اس موسم میں شدید گرمی کے باوجود اس ٹھنڈے پانی میں اترتے ہوئے نا جانے کیوں مجھے ایک انجانا سا خوف محسوس ہو رہا ہے۔
شیخ سعدی نے کہا تھا کہ چہار چیز از تحفہ ملتان /گور گدا گرما گورستان اور یہ حقیقت تب سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے مٹی کے شدید جھکڑوں میں ہزاروں قدیمی قبروں کے بیچ فقیروں کی طویل قطاریں اور اس پر شدید گرمی کا موسم ایسا ہی ہے ملتان۔ مگر اب تو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پورے پاکستان کا موسم کم وبیش ایسا ہی ہے جیسا کہ ملتان کا ہے۔ مگر باقی علاقوں کی نسبت ملتان کی گرمی ایک فائدہ یہ ہے کہ جتنی گرمی اتنی مٹھاس جتنی حدت اتنی چاشنی مگر یہ سب شہر میں یا یہاں کے لوگوں میں نہیں بلکہ یہاں کی مشہور سوغات ”آم“ میں ہوتی ہے ملتان کے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر ملتان میں گرمی نہ پڑے تو آم پھیکا ہو جائے گا اس لیے گرمی کا ملتان میں ہونا لازم قرار دیا جاتا ہے۔
صرف ملتان اور اس کے گردونواح میں آم کی 70 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن کی تقسیم دو طریقوں سے کی جاتی ہے ایک کاٹھا اور دوسرا قلمی ہوتا ہے۔ ہر وہ آم جو گٹھلی سے درخت بنے وہ کاٹھا کہلاتا ہے اور اسی کاٹھے درخت کو کاٹ کر اگر اس پر کسی کی بھی قلم لگادی جائے تو وہ قلمی کہلاتا ہے کاٹھے آم کی مشہور قسموں میں شیر پنجاب، سرخا، سنگلاسیا، طوطا پری، من بھاونہ، دیسی قابل ذکر ہیں اور قلمی آموں میں چونسہ، دسہری، سنڈھڑی، انور لٹور، مشہور ہیں ان کے علاوہ قلمی آموں میں لیٹ موسم کے سفید چونسہ اور کالا چونسہ بھی خاصے مشہور ہیں ان تمام آموں میں دیسی شیر پنجاب ایک ایسا آم ہے جو سائز میں خاصا بڑا ہوتا ہے مگر ذائقے میں انتہائی بد ہوتا ہے اور اس کا سائز اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اگر درخت سے گر کر کسی کے سر پر لگے تو انتہائی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اسی لیے لوگ اس درخت کے نیچے رات کو سوتے نہیں ہیں۔
آم کے ایک چھوٹے درخت سے 600 کلوگرام تک آم پیدا ہوتے ہیں جبکہ ایک مکمل اور بڑا درخت 40 من یعنی 1600 کلو تک آم کا پھل پیدا کرتا ہے عرف عام میں اگر دس کلوگرام کی ایک پیٹی ہو تو ایسے ایک درخت سے 160 پیٹیاں آرام سے نکل آئیں اور ایک ایکڑ میں ایسے 60 درخت ہوتے ہیں جن سے اوسطا ”96000 سے ایک لاکھ کلوگرام تک آم کی پیداوار ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ درختوں کے درمیان رہ جانے والی جگہ میں گندم یا دوسری اجناس لگا کر پیداوار حاصل کی جاتی ہے مگر زراعت میں ترقی کے بعد اب ایک ایکٹر میں 60 کی بجائے 90 درخت لگائے جا رہے ہیں جن کا مقصد زیادہ پیداوار کا حصول ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔
ان تمام باتوں سے پرے ہم بات کر رہے تھے بوسن ٹاؤن کے علاقے جھوک وینس کے آم کے باغ میں کھانے سے پہلے نہر کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کی جسے پس پشت ڈال کر میں شدید بھوک کے ہاتھوں یرغمال ہو کر کھانے کی سمت بڑھ چکا تھا جبکہ میرے میزبان ساجد رضا تھہیم جو ایک وکیل ہونے کے علاوہ سیاسی رہنماء بھی ہیں نہر میں اتر چکے تھے اور میرے ساتھ لاہور سے شامل سفر دوست مبشر بخاری صاحب بھی اس وقت نہر میں ہی کہیں موجود تھے لہذاء ان حضرات کی غیرموجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اس دیسی قسم کے باورچی خانے کے اندر موجود تھا جہاں کھانے کی چیزیں بہت حد تک پکائی جا چکی تھیں اور ان کی کوالٹی کو پرکھنے کے لئے مجھے کم از کم ہر چیز کو ایک بار ضرور چکھنا تھا سو میں اپنے کام میں لگ چکا تھا یہ سب کھانے ساجد بھائی کے ملازم چاچا رشید نے تیار کیے تھے اور اس وقت وہ تندور میں گرم گرم روٹیاں لگا نا شروع ہوچکے تھے اور میں ان سے گپیں مار رہا تھا اچانک باتیں کرتے کرتے چاچا رشید کی آنکھیں بھیگ گئیں اور انھوں نے بتایا کہ یہ باغ اس فصل کے بعد کاٹ دیا جائے گا اور ہمیں حکم مل چکا ہے کہ اپنے مکانات خالی کر دو کیونکہ یہاں سوسائٹی بن رہی ہے اب ان درختوں کو کاٹ کر یہاں عالیشان گھر بنیں گے روتے روتے انھوں نے کہا کہ اب اس عمر میں اپنے بچوں کو لے کر میں کدھر جاؤں ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دونوں صاحبان نہا کر آ گئے اور کھانا دسترخوان پر چن دیا گیا اسی قدرتی ماحول میں کھانا کھایا گیا اور پھر ہم تھوڑی دیر کے لئے سو گئے شام کو ہماری شہر واپسی تھی واپس جانے سے پہلے میں ابھی اس علاقے میں مزید پھرنا چاہتا تھا تاکہ ان باغات کو دیکھوں سو اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں دائیں بائیں ہر طرف گاڑی کو موڑتا رہا راستے میں کئی جگہ کچھ بورڈ آویزاں نظر آئے جن پر لکھا تھا کہ علاقہ خریدا جا چکا ہے چلتے چلتے ہم ایک چوپال پر جا پہنچے جہاں بہت سے لوگ جمع تھے سلام دعا کے بعد لوگوں نے بتانا شروع کیا کہ یہ سارا علاقہ ڈی ایچ اے نے خرید لیا ہے اب اس سارے علاقے کے باغات کو کاٹ دیا جائے گا اور یہاں ماڈرن سوسائٹیاں بنیں گی جن میں لوگ رہیں گے ان لوگوں سے مل کر دل اداس سا ہو گیا۔
انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق ملتان بوسن ٹاؤن کے ارد گرد کے علاقوں میں سے اب تک 1750 ایکٹر زرعی اراضی کو ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی خرید چکی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق اس کا ہدف 5000 ایکٹر تک ہے یہ تمام رقبہ مختلف باغات اور زرعی زمین پر مشتمل ہے جس پر نشانات لگائے جا چکے ہیں اس موسم کی فصل اترنے کے بعد یہاں درختوں کی کٹائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا اس وقت دس مرلے کی فائل کی قیمت 35 سے 40 لاکھ تک ہے جبکہ مکمل پلاٹ کی قیمت ابھی طے ہونا باقی ہے اس تمام علاقے میں ایک لاکھ سے زائد آبادی بھی ہے جن کا تمام دار و مدار انھی باغات میں کام کاج کر کے حاصل ہونے والی رقم پر ہے یہ سب لوگ مستعاری پر کام کرتے ہیں یعنی زمین کا مالک کوئی اور ہے یہ اسے اپنے محنت میں حصہ دیتے ہیں جیسے پٹے پر زمین لے کر کام کیا جات ہے ان زمینوں کے مالکان باغات بیچ کر اپنی جیب بھر چکے ہیں ان مزاروں کو حکم نامہ سنایا جا چکا ہے کہ ستمبر سے پہلے پہلے اپنا بندوبست کرلو، یہ لوگ کہاں جائیں گے اس کے بارے میں کوئی سوال بھی نہیں کر سکتا۔
ترقی بہت ضروری ہے مگر صرف گھر بنانے سے ترقی نہیں ہوتی اور بھی بہت سے عوامل ہوتے ہیں مگر ان تمام باتوں سے الگ میں اس بات سے خاصا پریشان تھا کہ ساری خوبصورتی صرف چند ماہ کی مہمان رہ گئی ہے آم کے پرانے درخت بل کھاتی پگڈنڈیاں اور ان کے درمیان سے بہتی ٹھنڈے پانی کی نہر درختوں کے سائے میں خوبصورت ہٹ نما گھر رنگین چارپائیاں سب رونقیں صرف چند مہینوں میں ختم ہونے والی ہیں اس باغ سے میں نے اپنی زندگی کا یہ آخری آم کھایا ہے اب اس درخت سے مجھے میٹھا آم کبھی نہیں ملے گا افسوس سا ہو رہا ہے اور ڈر بھی لگ رہا ہے کہ ہم قدرت سے جو چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اس کی قیمت مجھے یا میری اگلی نسل کو نا چکانی پڑے اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان شدید ترین قحط کی طرف بڑھ چکا ہوگا پانی کی شدید قلت ہمارے مختلف علاقوں میں ہونا شروع ہو چکی ہے اور ایسے میں ہمیں سوسائٹیاں بنانے کا جو خبط طاری ہے اس سے تمام گرینری آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے جس سے موسمی تغیرات رونماء ہو رہے ہیں ایسے میں کون ہے جو ہمیں اس مشکل سے نکالنے کے لئے کچھ کر سکتا ہے یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں۔



