کیا آپ ٹیکسلا کی علمی تاریخ سے واقف ہیں؟
پاکستان کے دارالخلافہ، اسلام آباد کے شمال مغرب میں 30 کلومیٹر پر مارگلہ کے پہاڑی سلسلے کی ایک شاخ کے پہلو میں واقع ٹیکسلا نامی بستی سے کون واقف نہیں۔
سات لاکھ نفوس پر مشتمل، بیس کلومیٹر لمبی اور دس کلومیٹر چوڑا خطہ زمین، ٹیکسلا پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی ایک تحصیل ہے۔ 1980 ء میں ٹیکسلا کو یونیسکو نے بین الاقوامی قدیم ورثہ کا درجہ دیا کیونکہ یہاں سے اٹھارہ ”سٹوپا“ ۔ دریافت ہوئے تھے۔ جن سے وادی سندھ کی قدیم تہذیبوں کے نشان ملے۔ جن میں گندھارہ اور یونانی تہذیبیں قابل ذکر ہیں۔ مختلف ادوار میں جن قوموں نے ایک ہزار قبل مسیح سے پانچ سو سال بعد مسیح تک ٹیکسلا پر سلطنت قائم کی، ان میں ایرانی، یونانی اور وسط ایشیائی اقوام شامل ہیں۔
یاد رہے کہ اس وقت ٹیکسلا کی عملداری میں افغانستان کا صوبہ جلال آباد، پاکستان کا موجودہ تاریخی شہر پشاور، اٹک اور جنوب میں دریائے جہلم تک کا علاقہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ گوتم بدھ کی ٹیکسلا یاترا، تعلیمات و واقعات بھی ٹیکسلا کی وجہ شہرت بنے۔ اسکندر اعظم کی ٹیکسلا آمد اور سکونت بھی ٹیکسلا کی وجہ شہرت رہے ہیں۔
مگر شاید کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ٹیکسلا انسانی تاریخ کے ایک سنہری دور میں علم و دانش کا گہوارہ بھی رہا ہے۔ آج سے 3000 سال قبل، جب دنیا میں کم ہی لوگ لکھنا اور پڑھنا جانتے ہوں گے ، ٹیکسلا میں علم فلکیات، فلسفے، سیاست اور فن حرب پر کتب لکھی جا رہی تھیں۔ متعدد تاریخی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیکسلا میں دنیا کی اولین یونیورسٹیاں قائم ہوئیں۔ جن میں سب سے پہلی اور بڑی ”ٹیکسلا یونیورسٹی“ تھی۔ جو موجودہ ٹیکسلا میں واقع تھی۔
اس وقت کی دنیا کے طالب علم طویل مسافتیں طے کر کے علم طب، ریاضی فلکیات اور فلسفے جیسے علوم کے حصول کے لیے ٹیکسلا آتے تھے۔ علاوہ ازیں دنیابھر، خصوصاً یونان، ہندوستان، یمن، مصر اور ایران سے طلباء علم کے حصول کے لیے ٹیکسلا کا ہی رخ کرتے تھے۔ ”مگا دھا“ (موجودہ جنوبی بہار) سے بھی علم کے طالب شمالی ہندوستان کی طویل اور دشوار گزار مسافتیں طے کر کے لوگ ٹیکسلا پہنچتے تھے۔ اور ایک وقت میں بیس ہزار کے قریب طلباء ٹیکسلا میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔
ٹیکسلا سے فارغ التحصیل طلباء میں فیثا غورث، چانکیہ، جیواکہ (جس نے بدھا کا علاج بھی کیا تھا، ) نے طب کی تعلیم ٹیکسلا یونیورسٹی سے حاصل کی تھی۔ جیواکہ بدھا کے دور کے واقعات کا چشم دید گواہ بھی تھا، اور ٹیکسلا یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی پہلی کتاب ”ارتھ شاسترہ“ ٹیکسلا میں لکھی گئی۔ یہ کتاب چانکیہ نے لکھی اور ”معاشیات“ پر لکھی گئی اولین کتاب ہے۔
قرائن بتاتے ہیں کہ قدیم ٹیکسلا یونیورسٹی میں آج کے جدید دور کی جامعات کے بر عکس کمرہ ہائے جماعت یا ”ہالز آف سٹڈی“ نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ یونیورسٹی میں پڑھائے جانے والے مضامین کے اساتذہ اپنی رہائش گاہ کے ارد گرد کچھ مکانات تعمیر کر لیتے تھے۔ اور متعلقہ طالب علم ان کوارٹروں میں رہائش پذیر ہو کر مقررہ استاد سے علم حاصل کرتے تھے۔ گویا اساتذہ اپنی رہائش گاہ کے ہی کسی گوشے یا لائبریری میں درس دیتے تھے۔ البتہ عملی نوعیت کے مضامین کے لئے تجربہ گاہوں اور علیحدہ ٰ جگہوں کا بندو بست ہوتا تھا۔ جو ان ہی اساتذہ کی ذمہ داری تھی۔
خوشحال طلباء اپنے اتالیق کو بھاری معاوضے ادا کرنے کے علاوہ اپنے لئے مکانات بھی تعمیر کروا کر ان میں رہتے اور یونیورسٹی کے لئے مزید مکانات تعمیر کروا جاتے تھے۔ جب کہ قلیل وسائل کے حامل طلباء اساتذہ کے گھریلو کام کاج کے علاوہ دیگر طلباء کے لئے کھانا پکانے اور کھیتی باڑی جیسے امور سر انجام دیتے تھے۔
یونیورسٹی پہنچ کر مضمون کا انتخاب طالب علم کی جستجو، رجحان اور استعداد دیکھ کر اساتذہ خود کرتے تھے، ٹیکسلا یونیورسٹی میں امتحانات نہیں ہوتے تھے۔ تعلیم کا عرصہ پانچ سے آٹھ سال ہوتا تھا۔ اور اساتذہ ہی طلباء کی علمی تکمیل کا اعلان کرتے تھے۔ زمینی فاصلے طویل، دشوار گزار اور ذرائع رسل و رسائل اس قدر محدود تھے کہ جو طلباء وطن واپس جا کر اپنے والدین کو زندہ دیکھ لیں وہ خوش قسمت تصور ہوتے تھے۔ اوپر بیان کیے گئے مضامین کے علاوہ، علم طب، روحانیت، مذہب، موسیقی ستارہ شناسی فن تعمیر اور ریاضی جیسے علوم ٹیکسلا یونیورسٹی کے نصاب میں شامل تھے۔
ٹیکسلا آج بھی اپنی صدیوں پرانا علمی وراثت کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ یو۔ ای۔ ٹی، ہائی ٹیک، کام سیٹ، واہ میڈیکل کالج، واہ انجنئیرنگ کالج اور ایک سو سے اوپر تعلیم ادارے اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ٹیکسلا ابھی تک صرف پانچ فیصد دریافت ہوا ہے۔ ملک بھر کی جامعات کو چاہیے کہ طالب علموں سے ٹیکسلا پر ریسرچ مقالے لکھوائیں۔





