چابی والا خدا


ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی بڑی تعداد اپنی زندگی خدا کے شواہد دریا، سمندر، مچھلیوں، بادلوں، چرند پرند اور درختوں میں ڈھونڈنے اور انہیں آیتوں یا ویدوں کی ڈبنگ سے اپنی کامیابی کے طور پر جتلانے میں گزار دیتی ہے جبکہ لوگوں کا دوسرا قدرے چھوٹا گروہ ان شواہد کو جھٹلانے میں اور پہلے گروہ کا مذاق اڑانے میں زندگی گزارتا ہے۔

کوئی مدرسے یا آشرم میں بچے بھنبوڑتے اور مال بٹورتے مولوی یا پنڈت کو خدا کی جنت کا راستہ جانتا ہے تو کوئی ننگے سادھو یا کسی ڈھونگ رچاتے پیر کو خدا کا بیسٹ فرینڈ مان کر کشف کرامات کی دنیا کا اسیر ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے سجدے اور اپنے گھر کی عورتیں، مال و اولاد کی چاہ میں سادھو یا پیر کو آنکھ بند کر کے پیش کر دیتا ہے تاکہ دنیا میں مزے رہیں اور بنا پوچھ گچھ کے ناچتا گاتا جنت میں بھی جا پہنچے۔

کوئی خدا کو کدو یا کھیرے میں تو کوئی جلی ہوئی روٹی میں ڈھونڈتا ہے تو کچھ لوگ ساری کائنات اور اس میں موجود ہر شے یا انتظام کو محض اتفاقی حادثہ اور خدا کو ایک لا یعنی مفروضہ سمجھتے ہیں۔

کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا خدا طاقت، استحصال، اثر و رسوخ رسوخ اور خودنمائی ہے اور وہ خود ہی خدا بن بیٹھے ہیں۔

خدا بیزار ہوں، خدا پرست ہوں یا ناخدا ہوں، لگتا ہے کہ خدا کا سرا کسی کو بھی نہیں ملا ہے۔

اکثر کو تو خدا چاہیے بھی نہیں۔ انہیں تو بس کوئی نہ کوئی جتن کر کے اپنے خدا میں چابی بھرنی ہے تاکہ ان کا چابی سے چلتا خدا ان کی لامحدود خواہشات کی تسکین کا کچھ نہ کچھ ذریعہ بنا رہے۔

اور جو لوگ چار کتابیں زیادہ پڑھ کر اپنی علمیت کو اپنا فخر بنا لیتے ہیں وہ بھی لاکھ کسی کے خدا، اس کی عبادت یا پوجا کا مذاق اڑائیں، اپنی بیزاریوں میں بھی ہوتے تو وہ خدا کی کسی معنویت کے متلاشی ہی ہیں، لیکن انکار کے اتنے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ اپنی علمیت کے فخر میں خدا کے ادراک کے کسی سرے کو قبول نہیں کر پاتے۔

خدا کو اپنے ساتھ، اپنے دل کی دھڑکنوں میں، من سمندر میں محسوس کر کے اسے اپنی ہومو سیپین نیچر سے کچھ آگے کی شناخت، انسان سے دوستی، قدرت سے دوستی، خدمت اور تعمیر کا ذریعہ بنا کر تو دیکھیں۔ کیا پتہ خدا کا تسلی بخش ساتھ مل جائے۔

خدا کو تو کافر میں مومن، تو فاسق میں پاکباز، تو جاہل میں سکالر کے پردے ہٹا کر ڈھونڈیں، شاید ایسا کوئی سرا مل جائے کہ بات بن جائے۔ ورنہ تو ناخدا چابی والے خدا کے ماڈلز اور میناولز حسب ضرورت بناتے اور بیچتے ہی رہے ہیں، آگے بھی دھندہ چلائے رکھیں گے۔

Facebook Comments HS

One thought on “چابی والا خدا

  • 04/01/2022 at 4:10 شام
    Permalink

    واہ۔ بہت خوب

Comments are closed.