کیا میں ٹربل میکر تھی؟
حکم ملا تھا کہ میں اور ڈاکٹر نیلم شاہ میڈم کے دربار میں حاضر ہوں۔ میں جانتی تھی کہ ہمیں کس لئے طلب کیا گیا ہے لیکن ڈاکٹر نیلم شاہ کی موجودگی سے دل کو ڈھارس تھی کہ معاملہ تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ سے آگے نہیں بڑھے گا آخر ڈاکٹر نیلم شاہ ایک قد اور سیاسی شخصیت کی صاحبزادی تھیں۔
”تم واقعی ٹربل میکر ہو جب سے تم اس ڈپارٹمنٹ میں آئی ہو عجیب و غریب واقعات ہونے لگے ہیں۔“
میں ان کے ٹربل میکر کہنے کو پیار کا انداز سمجھتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ جب سے میں نے ہسپتال کے اس یونٹ کو جوائن کیا تھا ہر روز کچھ انہونا ہوجاتا۔ اس وارڈ میں وارد ہونے کے پہلے ہی ہفتے میں ایک آٹھ سالہ بچی اپنے بہنوئی کے جنسی تشدد کا شکار ہو کر ناگفتہ بہ حالت میں داخل ہوئی تھی۔ گائناکولوجسٹ، آرتھوپیڈیشن اور اپتھیلمووجسٹ نے مل کر اس بچی کے ریختہ و شکستہ جسم کو تو کسی طرح رفو کر دیا تھی لیکن اس کی روح پر اور اس کی نفسیات پر پڑنے والے اثرات کا تصور بھی روح فرسا تھا۔ ہر بات کو تماشا بنا دینے والے کچھ صحافیوں نے اپنا چورن بیچنے کے لئے اس واقعے کو بھی خوب مسالے دار بنا کر اچھالا تھا۔ وارڈ بھانت بھانت کے اینکرز اور کیمرہ مینوں سے مچھلی بازار بنا ہوا تھا۔ ایک مشہور نیوز چینل کا اینکر بچی کی والدہ سے پوچھ رہا تھا ”جب یہ بچی درد سے کراہتی ہے تو آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہے؟ کیا آپ بڑی بیٹی کے لئے اپنے داماد کو معاف کردیں گی یا سزا دلوائیں گی، ؟ ،“
اور میں نے اس فاتر العقل اینکر کو اس کی لائی ہوئی گڑیا سمیت کمرے سے نکال دیا تھا۔ میڈم کو علم ہوا تو سر پکڑ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے بچی کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر کے اسے ان قابوچی ہمدردوں سے محفوظ کر دیا تھا۔
اس کے کچھ عرصے بعد بچے بدلنے کا واقعہ ہو گیا تھا۔ دو ہم نام خواتین لیبر روم میں ولادت کے عمل سے گزر رہی تھیں۔ ڈاکٹر نویدہ نے بچہ نرس کے حوالے کرتے ہوئے صائمہ انور سے کہا ”مبارک ہو بیٹا ہوا ہے“ ، صائمہ انور کے ہاں شادی کے دس سال بعد حمل ٹھہرا تھا۔ وہ تو مایوس ہو چلی تھی کہ اللہ کا کرم ہو گیا۔ پردے کے دوسری طرف میں نے نوجوان صائمہ ارشد کی پہلی ولادت مکمل کی اور نوزائیدہ کو اپنی مددگار نرس کے سپرد کیا۔
دونوں نرسوں نے فوراً ہی اپنے اپنے نومولود کے ہاتھ میں شناختی چوڑی پہنا دی۔ جن پر ان کی ماؤں کے نام لکھے تھے دنیا میں یہی ایک مقام ہے جہاں بچے اپنی ماں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آیا نے دروازے کے باہر جاکر صائمہ کی آواز لگائی اور بچے کے کپڑے طلب کیے ۔ ایسا اس نے دو بار کیا۔ بچوں کو تیار کر کے اس نے ماؤں کے ساتھ لٹا دیا۔ دو بجے وہ ڈیوٹی ختم کر کے چلی گئ۔
معمول کے ایوننگ راؤنڈ پر صائمہ انور نے ڈاکٹر نویدہ سے کہا
، ”ڈاکٹر صاحبہ آپ نے تو کہا تھا بیٹا ہوا ہے لیکن یہ تو بیٹی ہے“
ڈاکٹر نویدہ نے کہا ”ہاں مجھے اچھی طرح یاد ہے تمہارا بیٹا ہوا تھا“ اس نے جلدی سے آئی ڈی بینڈ چیک کیا اس پر بے بی آف صائمہ ارشد لکھا تھا دو بستر چھوڑ کر صائمہ ارشد کے پنگھوڑے میں لیٹے شیرخوار کے آئی ڈی بینڈ پر بے بی آف صائمہ انور لکھا تھا۔ بات واضح تھی کہ آیا نے کپڑے پہناتے وقت غلطی کی تھی۔ دونوں خواتین کو یہ بات سمجھائی گئی۔ ماؤں کی سمجھ میں تو بات آ گئی لیکن صائمہ ارشد کی ساس نے تو فیل مچا دیا۔ وہ کسی صورت یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ اس کے ہاں پوتا نہیں ہوتی پیدا ہوئی ہے۔
اس نے واویلا کیا وہ تو خاندان بھر میں پوتے کے لڈو بھی بٹوا چکی ہے۔ اسے پورا یقین تھا کہ یہ سب صائمہ انور اور اسپتال کے عملے کی ملی بھگت ہے۔ ارباب حل و عقد نے سلجھانے کی بہت کوشش کی لیکن قصہ رفع دفع نہ ہوا۔ بلکہ صائمہ ارشد کے سسرالیوں نے اخبار والوں کو بھی اطلاع دے دی۔ معاملہ اسپتال کے ڈائریکٹر تک جا پہنچا۔ اخر سائنٹیفک ٹیسٹ کی بنیاد پر لڑکا اس کی اصل ماں صائمہ انور کے حوالے کر دیا گیا صائمہ ارشد کی ساس صاحبہ اب بھی دل سے قائل نہ تھیں۔ خدا جانے اس بچی کو کبھی اپنا سمجھا بھی گیا یا نہیں۔
تیسرا واقعہ ربیکا کا تھا۔ سولہ سالہ ربیکا کسی نوجوان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر گھر سے فرار ہو گئی تھی۔ لڑکا کورٹ میرج کر کے پنجاب لے گیا۔ وہاں اس پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ ٹوٹے کہ الامان۔ کسی طرح وہاں سے نکل کر واپس گھر پہنچی تو دہلیز پر ہی گر کر بے ہوش ہو گئی۔ ماں باپ کا غصہ آدھ موئی بچی کو دیکھ کر کیسے باقی رہ سکتا تھا۔ ہسپتال لے کر آئے تو میں نے معائنہ کر کے انہیں بتایا کہ خون کی شدید کمی کی وجہ سے ماں اور بچے کی جان کو خطرہ ہے۔ کئی بوتلیں انتقال خون کے بعد اس کی حالت سنبھلی اور اس نے ایک ناقص وزن کے بچے کو جنم دیا۔ جسے نگہداشت کے لئے نرسری میں داخل کر دیا گیا۔ ربیکا کے والدین اسے تو معاف کر چکے تھے مگر بچے کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ پھر ایک دن وہ بچہ پراسرار طور پر نرسری سے غائب ہو گیا۔
اور اب تازہ ترین واقعہ ویک اینڈ پر ہوا تھا۔ لیبر روم فل تھا لیکن میری توجہ اس ٹین ایجرز غیر شادی شدہ حاملہ لڑکی پر تھی جو اونچی ہیل کا سینڈل پہن کر تک ٹک کرتی لیبر روم میں آئی تھی۔ اسپتال کے پیچھے ہی اس کا گھر تھا۔ وہ بہن کو ساتھ لئے باپ سے گردے کے درد کا بہانہ کر کے اسپتال آئی تھی۔ وہ عجیب لا ابالی، غیر محتاط، نڈر اور بے باک لڑکی تھی۔ اس نے بڑے پرسکون انداز میں بتایا کہ اس کے شکم میں کسی امیر زادے کی محبت بارآور ہے۔ گو یہ میرا فرض منصبی نہیں تھا مگر تجسس کے تحت میں نے پوچھا ”، یہ سب کسے اور کہاں ہوا“
”، اس کے فلیٹ میں“
”تم وہاں کیسے پہنچیں“
”اس کی بائیک پر“ وہ بے نیازی سے بولی جیسے بائیک پر اسکول۔ جانے کی بات کر رہی ہو۔
”تمہیں جاتے ہوئے ڈر نہیں لگا“ ،
”اس نے کہا تھا مجھ سے پیار کرتا ہے اور شادی کرے گا“ ،
”تمہارے گھر والوں کو حمل کا اندازہ نہیں ہوا؟“
”سردیاں ہیں ناں بڑا سا سوئیٹر پہنے رکھتی تھی اماں تو مر چکی ہیں ابا اتنے غور سے نہیں دیکھتے اور بہن کو معلوم ہے۔“
”تم نے اس شخص کو بتایا تھا“
”کیسے بتاتی اس نے فون اٹھا نا ہی بند کر دیا تھا۔ میسیج کیا تو سم۔ ہی بدل دی۔ رابطہ ہی نہیں ہوتا تھا۔
”۔ تم۔ اس کے گھر چلی جاتیں“ ،
”گئی تھی فلیٹ بند تھا“ (امیر زادوں کے یہ فلیٹ بس اسی طرح کے کاموں کے لئے ہوتے ہیں، )
”تم نے کسی سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مدد نہیں لی“ ،
”نہیں۔“ ، وہ اس بے پروائی سے بولی جیسے یہ بات اتنی ہی معمولی ہو۔
چند گھنٹوں میں اس نے ایک نہایت خوبصورت بچی کو جنم دیا
”تمہاری بچی تو شہزادی گل بکاؤلی کی طرح حسین ہے“ میں نے بچی اس کے پہلو میں لٹاتے ہوئے کہا
”کاش گل۔ بکاولی کا کوئی جن اسے اٹھا کر لے جائے“ ، اس نے ٹھٹھا لگا کر کہا۔
”کیسی بات کرتی ہو،“ میں نے پیار سے گھرکا
”، میں اسے گھر نہیں لے جا سکتی،“ میں اس کے لہجے سے اس کے ارادے کو نہ بھانپ سکی۔
____________________
”ڈاکٹر صاحب وہ لڑکی بچی چھوڑ کر ہسپتال سے بھاگ گئی۔“ آیا ڈیوٹی روم کے دروازے پر کھڑی اطلاع دے رہی تھی ”
کیا مطلب ہے۔ دیکھو ذرا یہیں کہیں ہوگی، ”
”ڈاکٹر صاحب وہ باتھ روم کا کہہ کر کوریڈور میں گئی اور واپس نہیں آئی میں نے سب جگہ چیک کر لیا ہے وہ کہیں نہیں ہے“
بچی بھوکی سی لک رہی تھی۔ اس کے لئے دودھ اور فیڈر کا بندوبست کیا گیا۔ ساری جونیئر ڈاکٹر بچی کے گرد جمع تھیں۔ مین نے آن کال۔ کنسلٹنٹ ڈاکٹر نیلم شاہ کو فون کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا اتوار ہے ذرا دن چڑھنے کے بعد انتظامیہ اور ایدھی سنٹر سے رابطہ کریں گی۔ سات بجے کے قریب ہاؤس افسر رملہ نے کہا
”، میرے شوہر کے دوست بے اولاد ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہیں آجکل بچہ گود لینے کے ارادے سے آئے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بچی اڈاپٹ کرنا چاہتے ہیں
”انہیں بچی کے بارے میں پوری بات بتائی ہے“
”جی انہوں نے فتوی بھی لے لیا ہے مفتی صاحب کا کہنا ہے بچی کے والدین کا عمل حرام تھا بچی نہیں،“
”دل افروز تھی یہ بات کہ ایسے بالغ النظر مفتی بھی ہمارے ہاں وجود رکھتے ہیں اور ایسے فراخ دل لوگ بھی جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی بچی کے طلب گار تھے“
میں نے ڈاکٹر نیلم شاہ کو پھر ڈسٹرب کرتے ہوئے ساری بات ان کے گوش گزار کی۔ انہوں نے کچھ دیر غور خوض کے بعد اجازت دے دی۔
میں وہ لمحہ تصور میں لاتے ہوئے سرشاری کی کیفیت محسوس کرتی ہوں جب سرفراز صاحب اپنی بیگم کے ساتھ لدے پھندے ڈیوٹی روم میں داخل ہوئے۔ اتوار کا دن ہونے کے باوجود جانے کہاں سے انہوں نے نوزائیدہ کا اتنا سارا سامان خرید ڈالا تھا۔ گود میں لیتے ہوئے بیگم سرفراز کی آنکھوں سے ڈھیر سارا شبنم ٹپک کر بچی کے گلاب رخساروں پر موتی کی مانند ٹھہر گیا تھا۔
”میں اس کا نام ’نعمت‘ رکھوں گی“ انہوں نے بچی کو سرفراز صاحب کی گود میں منتقل کرتے ہوئے کہا۔
بچی کی ماں نے تو جن کی تمنا کی تھی لیکن ایک فرشتہ بچی کو لے گیا۔
اور آج اسی سلسلے میں میڈم نے مجھے اور ڈاکٹر نیلم شاہ کو طلب کیا تھا۔ مجھے پھٹکارنے کے بعد وہ ڈاکٹر نیلم کی طرف متوجہ ہوئیں۔ ”نیلم تم نے کیسے اجازت دی۔ تمہیں اندازہ ہے اس کی لیگل امپلیکیشن ہو سکتی ہیں۔ یہ ہمارا کام نہیں کہ لاوارث بچے بانٹنے پھریں۔ ہمارا کام صرف انتظامیہ کو مطلع کرنا تھا، بس۔ اگر خدانخواستہ یہ بات اخبار والوں کے ہاتھ لگ گئی تو غضب ہو جائے گا وہ تو پر کا کوا بناتے ہیں لکھ دیں گے ہمارے وارڈ میں بچے فروخت کیے جاتے ہیں۔
میڈم کے مدلل اور دوراندیش نکات سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا یوں بھی عذر گناہ بدتر از گناہ است اس لئے میں نے اور ڈاکٹر نیلم شاہ نے معذرت کی اور آئندہ محتاط رہنے کا وعدہ کر کے آفس سے نکل آئے۔
چند ہی دن گزرے تھے۔ میں چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے گھر پہنچی تو کھڑکی سے پچھلی گلی میں لوگوں کا اژدھام دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ یہ پتلی گلی سوسائٹی سے ملحقہ کچی آبادی کی طرف نکلتی تھی۔ کراچی میں تقریباً ہر سوسائٹی کے عقب میں ایک کچی بستی ہے جہاں سے گھریلو ملازمین کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس پاس کے گھروں کی منڈیروں سے خواتین جھانک رہی تھیں ان ہی میں سے ایک نے بتایا۔ ”گٹر کے ڈھکن پر ایک نومولود بچے کی لاش پڑی۔ ہے“ ،
میں پچھلا دروازہ کھول کر گلی میں نکلی۔ ٹھٹھرتی سردی میں گورا چٹا خوبصورت معصوم بچہ الف برہنہ حالت میں گٹر کے ڈھکن پر آنکھیں موندے سو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں کاسنی ہو رہے تھے۔ اس مقام سے دس منٹ کی واک پر رحمت شیریں کے سامنے ایدھی کا جھولا رکھا تھا جس پر لکھا ہے ”، کوڑے پر نہ پھینکیں اس جھولے میں ڈال دیں“ ،
اس شقی القلبی پر میرا دل مغموم اور فہم موقوف تھا۔ کسی نے پولیس کو اطلاع کردی تھی۔ سپاہی پہنچ گئے تھے۔ کہتے ہیں ناں مجرم ہمیشہ نشانی چھوڑ جاتا ہے۔ شتابی کپڑے تو اتار دیے گئے مگر اس کے ہاتھ پر بندھا آئی ڈی بینڈ رہ گیا تھا۔ اس پر میرے ہسپتال کا نام اور تاریخ ولادت پچھلے روز کی تھی۔ میں نے آئی ڈی بینڈ سے ماں کا نام لے کر ہاسپٹل فون کیا۔ رجسٹر سے تصدیق ہو گئی یہ بچہ ہمارے وارڈ میں میری ہی ڈیوٹی کے دوران پیدا ہوا تھا۔
اور ایڈریس ملحقہ کچی بستی کا تھا۔ میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی یہ سفاک ماں کس بستر پر تھی کیا اس کی شکل عام ماؤں جیسی تھی یا پھر کہانیوں والی چڑیلوں جیسی دکھتی تھی۔ کیا کسی نے اس کی مڑی ہوئی لمبی ناک پر غور نہیں کیا تھا اور اسٹرپس (stirrups) میں ڈالتے ہوئے اس کے الٹے پیر نظر نہیں آئے تھے یا پھر شاید میں غلطی پر ہوں یہ کام۔ ماں کا نہیں ہو سکتا یہ اس کے وارثوں نے زبردستی کیا ہوگا۔ اس سے تو اچھا تھا وہ یہ بچہ ہسپتال میں ہی چھوڑ جاتی۔ میں اور ڈاکٹر نیلم شاہ میڈم۔ کی ڈانٹ سن لیتے، بھلے سے میڈم۔ مجھے ٹربل میکر کہہ دیتیں پر بچہ تو زندہ رہتا۔ شاید اس وقت کسی بے اولاد کی گود میں ہمک رہا ہوتا۔


