سنا تھا احمدیوں سے تعلق رکھنا حرام ہے

یہ واقعہ بدھ کے روز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دل لاہور میں پیش آیا جس میں برطانوی وزیر برائے جنوبی ایشیاء لارڈ طارق احمد صاحب اور برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر صاحب کی وزیر اعظم جناب عمران خان سمیت پاکستانی حکومت کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات ہوئی۔ ان اعلی عہدیداروں میں شامل جناب شیخ رشید جو مجاہد ختم نبوت بھی کہلاتے ہیں، اس کے علاوہ جناب شاہ محمود قریشی، شیری مزاری صاحبہ وغیرہ شامل تھیں۔

ان چند لمحوں کی ملاقات نے پاکستانی علماء کرام جو کہ عالم اسلام کے ٹھیکیدار بھی کہلاتے ہیں ان کی تمام دن رات کی محنت پر پانی پھیر دیا۔ ان کی دن رات کی جدوجہد جس میں قادیانیوں /احمدیوں کو پاکستانی اسلام سے خارج کر دیا تھا اور تمام علماء نے متفقہ طور پر فتویٰ بھی جاری کر دیا تھا کہ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ احمدیوں سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ رکھے۔ یہ بات آج تک ہر روز پاکستان کے کسی نا کسی کونے میں بغیر کسی وقفے تک یاد کروائی جاتی ہے۔ دیواروں پر بھی لکھی جاتی ہے، مسجدوں اور جلوسوں میں بھی دہرائی جاتی ہے کہ احمدی واجب القتل ہیں۔ مگر پھر بھی ہمارے حکمران مشہور زمانہ احمدی جناب لارڈ طارق احمد صاحب سے ملاقات کر رہے ہیں۔

یہ دیکھنے کے بعد ایک پاکستانی احمدی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا عمران خان اور حکومت پاکستان نے لارڈ طارق سے ہاتھ ملا کر وہی غلطی تو نہیں کی جو بانی پاکستان جناب محمد علی جناح نے سر ظفر اللہ خان سے ہاتھ ملا کر غلطی کی تھی! یہ تو حکومت پاکستان کو مسئلہ صرف غریب احمدیوں سے ہے جن کو احمدی ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں ملتی یہ ان کے ان کاروبار نہیں چلنے دیتے۔

یہ پاکستانی حکومت کی کیسی منافقت ہے جہاں لارڈ طارق صاحب کو وی آئی پی پروٹوکول سے نوازا جاتا ہے جب کہ غریب احمدی کو اس دھرتی پر نہ زندہ رہنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی اس دھرتی کی زمین میں اس کو دفن ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

یہ کیسی منافقت ہے جہاں پنجاب پولیس کی مدد سے احمدیوں کی عبادت گاہیں توڑی جا رہی ہیں جب کہ دوسری طرف لارڈ طارق صاحب کو چائے پلائی جا رہی ہے۔

یہ کیسی منافقت ہے جہاں پاکستانی جیلوں میں آج تک درجنوں احمدی صرف اس وجہ سے قید ہیں کیونکہ انہوں نے سماجی میل ملاقات میں ’اسلام و علیکم‘ کہ کر مخاطب کے لئے سلامتی کی دعا دی تھی مگر جناب لارڈ طارق نے پاکستانی میڈیا کے چینل اے آر وائے پر بہت آرام سے ”اسلام و علیکم“ کہ دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words